ایک صبح کو میں کچن میں سب کیلئے ناشتہ بنا رھی تھی
پاپا کچن میں آکر پیچھے سے مجھے پکڑ لیا اپنا لن میری گانڈ کے ھیپ میں رگڑتے مجھے باھوں میں بھر کر میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میں جلدی سے ہٹ گئی پاپا نے مجھے پھر پکڑ لیا پاپا نے اپنی چڈی سے لن نکال لیا میں کچن سے باہر
آئی تو پاپا نے پھر پکڑ لیا مجھے باھوں میں دباتے چومنے لگا پاپا فل گرم تھا ممی سو رھی تھی میں نے کہا پاپا نہیں کرو پلز آپ کا بہت بڑا ھے پاپا بولا کچھ دیر کرنے دو میں بولی نہیں آپ پاپا ھو
بولا سگا پاپا تو نہیں ھوں میں بولی پلز نہ کرو پاپا بولا کب سے طلاق لےکر گھر میں ھو گرم نہیں ھوتی پاپا نے مجھے اٹھا لیا میں کوشش کی لیکن پاپا کی پکڑ نہ چھڑا سکی پاپا مجھے روم میں لایا مجھے بہت دبایا چوسا چوما کے آخر میں گرم ھو گئی اور پاپا کا ساتھ دینے لگی
پھر پاپا نے زبردست چدائی کی میں فارغ ھوئی تو پاپا بھی فارغ ھو گیا اور چڈی پہن کر جانے لگا میں نے پکڑ کر کہا آگ لگا کر بھاگ رہا ھے میں چڑھ گئی زبردست چدائی کی ہمیں بہت ٹائم ھو گیا تو ممی نے مجھے آواز دی جلدی سے ھم الگ ھوئے کپڑے پہن کر میں باہر آئی ممی کچن میں تھی
مل کر ناشتہ بنانے لگی کچھ دیر بعد پاپا کچن میں آیا اور ممی کو چومنے لگا ممی میرا بولتی کے بیٹی کھڑی ھے لیکن ممی کو کیا پتا کے بیٹی ابھی پاپا سے چدائی کرکے آئی ھے
پاپا نے امی کے مموں کو نکال دیا دبانے لگا میں دیکھ کر ناشتہ بنا رھی تھی پاپا میری گانڈ چوت کو سہلا لیتا انگلی کر دیتا مجھے چوم لیتا امی کی چوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا میں ممی مجھے بولی کچھ دیر میں آتی ھوں پاپا امی کو اٹھا کر روم میں لے گیا ممی کی چیخیں تھی یہاں میں بہت گرم تھی
شادی سے پہلے پاپا مجھے بہت بار اپنا لن چسوایا کرتا تھا پھر کالج کے لڑکے سے میری چدائی ھو گئی اور اس بات کا پاپا کو پتا چل گیا تھا ایک رات ممی جلدی سو گئی پاپا روم میں آیا
میں سمجھی لن چسوائے گا مگر پاپا میری چدائی کرکے چلا گیا پھر لڑکے سے میری شادی ھو گئی ایک مہینے بعد دیور نے
مجھے پکڑ لیا میں بہت گرم تھی اور مان گئی کیونکہ شوہر چدائی میں کمزور تھا دیور کے ساتھ میں دن رات چدائی کرتی ایک دن شوہر نے دیکھ لیا اور
مجھے طلاق دے کر گھر راوانہ کر دیا میری صحت پر کچھ فرق نہ پڑا میں طلاق لےکر گھر آگئی اسی دن پاپا آفس کے کام سے باہر جانے والا تھا ممی پاپا کو طلاق کا بتایا پاپا کچھ دن کیلئے چلا گیا اور ایک مہنہ بعد
گھر آیا رات کو ممی نے پاپا کو چھوڑا نہیں صبح مجھ پر آیا میں اس کے بعد پاپا سے میں بہت مزے سے چدائی کرتی
ایک رات ممی نے دیکھ لیا بس پھر تو ممی نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا مجھے تو بہت ماری بولی شادی کی تو دیور سے شروع ھو گئی کالج میں شروع ھو گئی اب ممی کے شوہر سے شروع ھو گئی مر جا رنڈی بھڑوی ممی نے مجھے بہت مارا پیٹا میری آنکھیں سوج گئی ناک سے خون بہنے لگا پاپا کو گھر سے نکال دیا آفس کال کرکے پاپا کی پابندی کر دی کچھ دن میں روم میں درد سے مرتی رھی پھر میری ساری سوجن ختم ھو گئی ایک دن ممی بولی آج سے تو آفس سمبھال جو کرنا ھے کر مجھے ایک گھر کا ایڈریس دے کر بولی جاکر وھی اکیلی رھے جتنے مردو سے ملو لیکن شادی ضرور کرنا خبر دار پھر سے پاپا
کے ساتھ ملی تو میں تجھے گولی مار دوں گی خود کو بھی گولی مار دوں گی میں نے ممی سے معافی مانگی لیکن ممی نے معاف نہیں کیا بولی دفع ھوجا
میں کیا کرتی میرے ابو کے مرنے کے بعد ممی نے پاپا سے شادی کی پاپا نے مجھے گود میں بیٹھا بیٹھا کر نیچے سے لن کھڑا کر دیتا تھا میں اس وقت انجان تھی اس وجہ سے پاپا نے بھی میرا فائیدہ اٹھایا
شادی میں شوہر خوش نہیں کر پاتا تھا میں بہت گرم تھی دیور نے پکڑا تو میں گرم ھو گئی میں سیکس کر بیٹھی
میں بھی غصے سے دوسرے گھر میں رہنے لگی اور آفس جانے لگی ممی بھی آفس آتی تھی پہلے تو سب پاپا دیکھتے تھے اب ہمیں پتا چلا کے کمپنی نقصان میں چل رھی ھے پھر ممی نے آفس میں میٹنگ رکھی
امی ہر بات میں تعنہ مارتی کے ھم دوسرے کام تو باآسانی کرتے ہیں یہی تم آفس میں دھیان لگاؤ میں ممی کی باتیں سمجھتی تھی آخر ممی اور میں نے آفس کو ٹاپ پر پہنچا دیا ممی نے پاپا سے طلاق لےلی
اور ممی نے تیسری شادی کرلی ایک دن میں بہت غمزدہ تھی امی سے بات کرنے کیلئے پھر
میں نے گھر کیلئے ایک نوکرانی رکھ لی اور اسی طرح نوکرانی میری دوست بن گئی میں نوکرانی سے ہر بات شیر کرنے لگی کبھی کبھی نوکرانی کے گلے مل کر رو لیتی تھی نوکرانی دن رات میرے ساتھ گھر رہتی تھی
No comments:
Post a Comment