Tuesday, March 24, 2026

وہ رات نہیں بھولی

 مجھے آج بھی وہ رات نہیں بھولی اس رات میں اپنے چھوٹے بھائی کے قریب ھوئی 


میری ممی تو بہت بوڑھی تھی پاپا کے گزرنے کے بعد تو ہمارے فاقے شروع ھو گئے اور مما کے علاج کیلئے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے ھم پائی پائی کے محتاج ھونے لگے رشتے داروں نے آنا چھوڑ دیا کہیں پیسے نہ مانگ لیں بہت بڑی مشکل سے ہمارے دن رات گزر رھے تھے ایسی غربت میں میری ممی بھی چل بسی پھر تو ہمارے لیئے جینا دشوار ھو گیا بھائی پندرہ سال کا تھا اور میں بیس سال کی تھی غربت میں میری شادی تو کیا کسی نے پسند نہیں کیا میرا بھائی شروع سے ذہن تھا مجھے گھر سے نکلنے کو منع کیا کرتا تھا کیونکہ


میں جوان اور بہت خوبصورت ھوں میرے بڑے مموں سے میرا فگر ھوٹ لگتا ھے میرے 38 سائز کے بڑے مموں سے میں مست لگتی ھوں میری گانڈ موٹی ھے گانڈ کے ھیپ موٹے اور نرم اور لچکدار ہیں 


 بھائی نے پندرہ سال کی عمر میں چھوٹا سا بزنس کیا اور بھائی کو بزنس میں دن بہ دن بہت منافع ھونے لگا اور ہمارے دن اچھے ھونے لگے پانچ سال میں بھائی نے بہت ترقی کی💝


ایک دن ایسا ھوا کے میری ایک پڑوسن سہلی تھی جو کہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ان کے گھر گئی تو گیٹ لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو انٹر ڈور بھی لاک نہیں تھا میں اندر آئی اور میری سہلی مستی میں چیخ رھی تھی میں جاکر دیکھی سہلی ننگی گھوڑی بنی ھے سہلی کا شوہر ننگا چُوت اور گانڈ کی زبردست چدائی کر رہا ھے میں سمجھ گئی کے مستی میں لاک کرنا بھول گئے اس سے پہلے میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا مجھے دیکھنے میں مزہ آنے لگا اور دیکھتی دیکھتی میں گرم ھونے لگی سہلی لن کو چوس لیتی شوہر چوت چاٹتا چدائی کرتا پھر سہلی شوہر کے اوپر آکر سہلی نے زبردست چدائی کی میرا جسم تو آگ کی طرح گرم ھو گیا مجھے سردی کا پتا نہیں چلا بس دیکھتی رھی دونوں فل مستی میں تھے اور میں ان کو دیکھ کر بہت گرم تھی پھر سہلی کے منہ میں فارغ ھوا سہلی پی گئی اور میں چپکے سے واپس اپنے گھر آنے لگی کے راستے میں بارش ھونے لگی میں بھیگ گئیں مگر لن میری آنکھوں کے سامنے چدائی کرتا نظر آنے لگتا میری چُوت بہت گرم تھی گھر آئی تو بارش تیز ھو گئی کپڑے اتار کر آئنے کے سامنے کھڑی ھو گئی خود کو ننگی دیکھی اپنے بڑے مموں کو دبایا چوما چوسا تو آفس سے بھائی آیا ڈور بیل بجی میں نائٹی پہن کر باہر آئی بھائی تو پورا بھیگ گیا تھا میں نے بھائی کو ٹاول سے صاف کیا پھر کھانا کھا کر اپنے روم میں گیا میں اپنے روم میں آئی سچ میں یار میں بہت گرم تھی سمجھ نہیں آرھی تھی کے کچھ ایسا ھو کے مزہ آجائے بس میں مموں کو دبانے لگی ہلکے ہلکے بادل گرجنے لگے اور بارش مسلسل ھوتی رھی قریب گیارہ بجے کے بعد پھر جو زور زور سے ایسے بادل گرجے کے میرا کلیجہ پھٹنے کو آیا مجھے ایسا لگ رہا تھا کے بادل میرے اوپر گرنے والا ھے اور میں بادل کی گرج سے بہت ڈر گئی اور بھائی کو چیخ کر آوازیں دیتی ھوئی اپنے روم سے باہر بھاگ کر چھوٹے بھائی کے روم میں آئی بھائی رضائی میں تھا سر باہر نکال کر کہا دیدی کیا ھو گیا ھے میں بھائی کو دیکھی اور ٹھنڈ بھی بہت تھی ٹھنڈ اور ڈر سے میں کانپنے لگی پھر زور سے بادل گرجہ اور میں جلدی سے بھائی کی رضائی میں گھس گئی اور بھائی سے پوری چپک گئی بھائی کو باھوں میں بھر لیا اور بادل بہت گرجنے لگے بھائی صرف چڈی میں تھا میں نے لمبی نائٹی ڈوری والی پہنی تھی ڈر کے مارے میری ٹانگیں بھائی کی ٹانگوں میں تھی میری چُوت بھائی کے سوئے لن سے دبی ھوئی تھی میں بہت کانپ رھی تھی کچھ دیر میں بھائی نے مجھے باھوں میں بھر لیا میرے بڑے ممے بھائی کے سینے میں دبے ھوئے تھے کچھ دیر بعد بھائی کی چڈی میں بھائی کا لن کھڑا ھونے لگا شاید بھائی گرم ھو گیا تھا میری کمر کو سہلانے لگا مجھے دبانے لگا بھائی کے اس طرح کرنے سے مجھے مزے کی گرمی ھو رھی تھی میں بھی بھائی کو اپنی باھوں میں دبانے لگی پھر میری چُوت پر بھائی کا لن فل کھڑا ھو گیا جب بھائی کا لن میری چُوت پر دبا تو میرے اندر ایک گرمی کی چنگاری اٹھی اور مجھے گرم کر دیا بھائی لن رگڑتا میرے مموں کو دبانے لگا میں مستی میں آرھی تھی مجھے کپکپی تو ختم ھو گئی مگر گرمی چڑھ گئی میں نے نائٹی کی ڈوری کھولی تو بھائی میرے مموں کو چوسنے لگا میں نے بھائی کی چڈی میں ہاتھ ڈال کر لن پکڑ کر سہلانے لگی اتنی دیر میں بھائی میرے اوپر آگیا اور تھوک لگا کر پورا لن میری چوت میں ڈال دیا مجھے درد بلکل نہیں ھوا مجھے بہت اچھا فیل ھوا پھر چدائی میں ھم مگن ھو گئے ایک دوسرے کو چومنے لگے بارش ختم ھو گئی ہمیں رضائی میں گرمی ھونے لگی پھر رضائی ہٹائی تو ھم دونوں ننگے مست تھے یہ لمحہ ہماری زندگی کا ایک خاص حصہ بن گیا بیڈ کی چادر خون سے بھر گئی بہت دیر تک ھم لگے رھے بڑی مشکل سے ھم فارغ ھوئے تو ہمیں نیند آگئی اس کے بعد


 

ایک رات ایسا ھوا

 ایک رات میں نے بھتیجے کو ننگی فلم دیکھتے مٹھ مارتے پکڑ لیا


میرا نام انجلی ھے میرے تین بیٹے دو بیٹی ہیں تین بیٹے اور ایک بیٹی شادی کرکے دوسرے ملک سیٹل ھو گئے چھوٹی بیٹی میرے ساتھ رہتی ھے میرے سسر ساس کے دو بیٹے ہیں بڑا بیٹا میرا پتی ھے اور دیور بھی شادی شدہ ھے اور ان کا ایک بیٹا چودا سال کا ھے


بچوں کی شادی کے بعد پتی تو مجھے ٹائم بڑی مشکل سے دیتے کبھی تو میں مہنوں پیاسی رھے جاتی ھم سسرساس کے ساتھ رہتے تھے سندیپ جب چودا سال کا ھوا تو سالگرہ کی پھر سالگرہ کی رات کو کھانے کے بعد سب سو گئے تو مجھے نیند نہیں آرھی تھی بیٹی کو روم میں دیکھی تو سو رھی تھی پھر میں شوہر کے بھتیجے سندیپ کے روم کا ڈور کھول کر دیکھی تو سندیپ ننگا ھے اور موبائل پر شاید ننگی فلم دیکھ کر لن کی مٹھی مار رہا تھا اور بہت گرم تھا 


میں سندیپ کا موٹا لمبا لن دیکھتے ھی گرم ھو گئی سوچی سب سو رھے ہیں سندیپ گرم ھے تو مجھے ہمیشہ کیلئے فائیدہ اٹھا لینا چاھئے موقعہ بھی اچھا ھے 


میں آرام سے اندر آکر ڈور لاک کرکے سندیپ کے پاس کھڑی ھو گئی سندیپ ننگی فلم دیکھنے میں مست تھا اور لن کو مٹھ مار رہا تھا کچھ دیر بعد اچانک سندیپ نے مجھے دیکھا تو اپنے اوپر چادر لےلی چادر کو لن تمبوں بنے کھڑا تھا 


سندیپ نے گھبراتے کہا انجلی چچی کسی کو نہ بتانا میں بولی نہیں بتاؤں گی لیکن تم جو دیکھ رھے تھے میں لن کو پکڑ کر سہلاتی بولی وہ میرے ساتھ کروں سندیپ کے منہ میں منہ دیا سندیپ نے مجھے باھوں میں بھر کر چومتے مجھے نیچے کیا اور چادر ہٹاکر میرے اوپر آگیا اور مجھے چومنے لگا مموں کو دبانے لگا میں مزے سے نائٹی کی ڈوری کھولی سندیپ نے میرے مموں کو نکال کر چوسنے دبانے لگا میں تو مست ھو گئی میرے مموں کی تعریف کی پھر کچھ دیر میری چُوت کو چاٹتا رہا پھر میری چُوت میں لن ڈال کر زبردست چدائی کی اور صبح تک مجھے نہیں چھوڑا آخر میں خود چھڑا کر بولی سب اٹھنے والے ہیں بولا چچی رات کو کروں گا میں بولی ٹھیک ھے کسی کو بتانا نہیں ورنہ وبال کھڑا ھو جائے گا بولا چچی کسی کو نہیں بتاؤں گا میں بولی ہر روز رات کو کیا کریں گے سندیپ نے کہا ٹھیک ھے چچی پھر سب کے سونے کے بعد صبح تک چدائی کرتے اور ایک مہنہ ھو گیا سندیپ بہت اچھی چدائی کرتا میں تو سندیپ کی دیوانی ھو گئی سندیپ تو سب کے سامنے پیچھے سے میرے ھیپ دباتا موقعہ دیکھتے ھی مجھے چودنے لگ جاتا شلوار لاسٹک کی تھی کچن میں بہت چدائی کرتا مجھے تو سندیپ کی ان حرکتوں سے بہت مزہ آتا لن کھڑا رہتا سندیپ کی ممی اپنی ممی کے گھر جاکر وقت گزارتی تھی بیٹی پڑھائی ٹوشن میں اور سندیپ اور میں بہت چدائی کرتے ایک رات سندیپ نے میری گانڈ پھاڑ دی مجھے درد بہت ھوا برداش کیا پھر سندیپ میری چُوت اؤر گانڈ کی خوب چدائی کرتا اور میں سندیپ کے لن سے پریگننٹ ھو گئی کچھ دن بعد پتی آگیا پتی کو مست مزے دیئے پھر پتی کام سے چلا گیا پھر کچھ دن بعد پتی کو پریگننٹ کا بتائی تو خوش ھو گیا بولا جن لو گرانا نہیں پھر وقت گزرنے کے ساتھ میرا بڑا پیٹ ھو گیا اور مجھے بیٹا ھوا میری بیٹی جوان ھو گئی تو ساس نے سندیپ سے شادی کرنے کو کہا اور بات ھو گئی 


ایک رات سندیپ نے کہا تم ماں بیٹی کو ایک ساتھ چودوں گا میں بول دیتی چود لینا جیسے تم چاھو گے مگر بیٹی نے صاف انکار کر دیا بیٹی کا یار تھا چدائی بھی کرتی تھی مگر ساس بہت خفا ھو گئی جب بیٹی نے کورٹ میرج کرکے آئی بتاکر چلی گئی میں بھی سندیپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اس کے بعد تو سندیپ میری چُدائی بہت کرتا 


اور اس بات کا ساس اور سندیپ کی ممی کو پتا چل گیا تو ساس نے گھر کی بات کو دبا لیا اور پتیوں سے بچ کر رہنے کو بولی پھر تو سندیپ بہت سیکسی اور شرارتی ھو گیا کسی کو نہ دیکھتا نہ ڈر نہ خوف اپنی ممی یا دادی کے سامنے مجھے بہت گرم کر دیتا  ساس مجھے جانے کو کہتی پھر سندیپ روم میں چدائی کرتا 


ایک دن ساس نے بتایا کے گاؤں میں شادی ھے تم چلوگی میں نے بہانہ بناکر انکار کر دیا تو بولی اچھا سندیپ بھی گھر ھوگا اس کے ایگزام آرھے ہیں بولی تمہارا سسر میں اور سندیپ کی ممی جائیں گے ہمیں ایک ہفتہ لگے گا تم سندیپ کے کھانے پینے کا خیال رکھنا میں بولی آپ فکر نہ کریں 


میں نے سیکسی ڈریس آڈر کر دی اور مجھے مل گئی پھر جب جانے والے تھے سندیپ بٹھانے کا رہا تھا مجھ سے کہا چچی تیار رہنا میں نے کالج سے چھٹی لےلی ھے دن رات تمہاری چدائی کروں گا بس تیار رہنا میں بولی ایسا تیار ھونگی کے تم دیکھتے رھے جاؤ گے پھر چلے گئے میں چھوٹے بیٹے کو دودھ کا فیٹر بناکر منہ میں دے کر واشروم میں چوت کے بال صاف کرکے نہاکر پھر میکپ کیا اور ننگی ڈریس پہنی سارا بدن ننگا نظر آرہا تھا میرے بڑے مموں کو نپلیں باہر تھی پھر سندیپ آیا مجھے دیکھ کر تعریف کرتے مجھے اٹھا کر روم میں لایا میں اور سندیپ مست ھو گئے سندیپ نے بتایا کے آج کیپسول کھایا ھے میں بولی تم پہلے دیر سے فارغ ھوتے ھو پھر کیپسول کیوں کھایا تو سندیپ نے کہا کھڑا رھے گا اور میں چودتا رھوں گا ھم ایک گھنٹہ سے چدائی کر رھے تھے کچھ دیر بعد بیل بجی پھر بیل بجی اور بجتی رھی سندیپ نے آج مجھے فل مست کیا ھوا تھا کچھ دیر بعد میرے فان کی بیل بجنے لگی کھا تھا منجو بیٹی کی کال تھی میں سیکس آھو اور سیسکاریوں سے ھیلو کیا تو بیٹی منجو نے کہا ممی کب سے ڈور بیل بجا رھی ھوں باہر کھڑی ھوں سندیپ سے بولی منجو آئی ھے میں جلدی میں نائٹی پہن کر بنا چہرہ دیکھے ڈور کھولی تو منجو مجھے دیکھنے لگی ھم اندر آئے 


منجو بولی ممی لگتا ھے میں کباب میں ہڈی آگئی ھوں میں مسکرا کر بولی نہیں کیا ھوا ایسے کیوں بول رھی ھو بولی ممی دادی دادا کہاں ہیں میں بولی سب شادی پر گاؤں گئے ہیں بولی ممی آپ اکیلی ھو میں نے کہا نہیں سندیپ اور میں ھیں تو منجو نے کہا اچھا تو یہ بات ھے پھر بولی ممی آپ اور سندیپ سیکس کر رھے تھے میں بولی بلکل نہیں کہا ممی آپ صاف جھوٹ بول رھی ھو میں بولی بھلا میں جھوٹ کیوں بولوں گی تو منجو مجھے آئینے کے سامنے کھڑی کرکے بولی خود کو دیکھو میں دیکھی تو میری


سرخی سب بکھری ھوئی تھی چہرے پر پھیلے ھوئی تھی آئنے میں دیکھی سندیپ چڈی پہنے روم ڈور سے باہر نکلا چڈی میں لن کھڑا تھا چہرے پر میری سرخی لگی ھوئی تھی منجو نے کہا دیکھو اس کتنا فل ٹائٹ کھڑا ھے اس کے چہرے پر بھی سرخی ھے سندیپ منجو سے ھیلو ھائے کرکے پھر روم میں چلا گیا منجو صوفے پر بیٹھی میں پاس جاکر بیٹھ گئی منجو بولی اب بتاؤ میں کچھ بولنے والی تھی کی سندیپ کی آواز آئی چچی میں منجو سے بولی آتی ھوں منجو مسکرانے لگی میں روم میں آئی سندیپ نے مجھے گھوڑی بناکر میری نائٹی اوپر کر کے میری چُوت کی چدائی کرنے لگا میں بولی منجو آئی ھے ابھی ویٹ کرو مگر سندیپ زبردست چدائی کر رہا تھا پھر میری گانڈ چودنے لگا میں بولی چھوڑو میں منجو نے جانا ھوگا سندیپ نے کہا چچی مجھ سے صبر نہیں ھو رہا میں سندیپ کو چوم کر بولی ابھی منجو چلی جائے گی پھر کریں گے مجھے چھوڑ کر کہا جلدی سے آنا میں آئی تو منجو مسکرانے لگی بولی ممی اب بتا دو میں بولی ہاں کر رھی تھی تمہارے پاپا کو وقت کہاں ملتا ھے اور سندیپ سے رلیشن ھو گیا پوچھتی رھی مجھے چومتی دباتی رھی میں سب بتاکر بولی اپنے پاپا اور بھائیوں کو نہیں بتانا


منجو بولی میں نہیں بتاؤں گی لیکن مجھے بھی سندیپ سے کرنے دو میں بولی تم کروگی بولی ہاں نہیں تو مجھے بھی اپنے ساتھ کرنے دو میں بولی اچھا کب جاؤ گی منجو نے کہا میں تو کچھ دن رہنے آئی ھوں بولو تو چلی جاتی ھوں میں بولی اچھا پھر ایسا کریں کے تم سندیپ سے کرو میں کھانا بناتی ھوں پھر مل کر کریں گی بولی ٹھیک ھے منجو جارھی تھی سندیپ کا ڈور بند کرکے گئی تو میں آکر تھوڑا ڈور کھول کر دیکھنے لگی


منجو اور سندیپ ننگے ایک دوسرے کو چومے جارھے تھے سندیپ نے کہا تمہاری گانڈ کھلے گا اور تمہیں درد بھی نہیں ھوگا منجو بہت گرم تھی پھر منجو لن چوسنے لگی پھر اپنی چُوت سندیپ کے منہ پر رکھ کر لن چوسنے لگی اور سندیپ منجو کی چُوت چاٹ رہا تھا پھر منجو سندیپ کے اوپر چدائی کرنے لگی بہت رفتار سے چدائی کر رھی تھی اور کہتی سندیپ مجھے پتا ھوتا تمہارا لن اتنا مست ھے کے میری ممی دہونی ھے تو میں تجھ سے شادی کرتی پھر میں آکر کھانا بنانے لگی اور بہت گرم تھی ویسے بھی سندیپ نے کیپسول کھایا ھوا ھے ایک گھنٹے بعد منجو ننگی کچن میں آئی اور مجھے چومنے لگی بولی تم جاؤ بلا رہا ھے میں بنالوں گی میں آتی سندیپ پر چڑھ گئی چومنے لگی مستی میں آگئی اور آوازیں نکالنے لگی میں فارغ ھوئی تو سندیپ میری چوت میں فارغ ھو گیا میرے بچے کی رونے کی آواز آئی میں باہر آئی تو منجو نے اٹھا لیا تھا میں منجو کو بولی کے یہ سندیپ کا ھے پھر سندیپ کچن میں آیا اور باری باری چدائی کرنے لگا ساتھ میں ھم نے کھانا بنا لیا کھانا کھاتے منجو سے بولی سسرال فیملی میں کوئی تم لائن دیتا ھے 


منجو مسکرا کر بولی ہاں ممی ایک نہیں تین مجھ پر ٹھرکی ہیں میں بولی کون کون بولی پہلا تو میرا سسر ھے دوسرا ساس کا بھائی تیسرا نند کا پتی میں بولی پھر کیا سوچی منجو بولی  کچھ نہیں بس ابھی جب میں یہاں آنے کیلئے نکلنے لگی تو ساس کے بھائی نے میری گانڈ کا ھیپ دبا دیا تھا ابھی گرم ھو گئی تھی پھر یہاں تو ماحول کچھ اور تھا 


پھر کھانا کھاکر سندیپ نے منجو اور میری بہت چدائی کرتا رہا صبح کے نو بج گئے ھم بیہوش ھوکر سو گئے پھر میری بھوک سے آنکھ کھلی تو میں کھانا اور ناشتہ بنانے لگی پھر بنا کر دونوں کو اٹھاکر ناشتہ کرایا سندیپ کسی کام سے باہر چلا گیا منجو مجھے پیار کرنے لگی پھر ھم صوفے پر آکر سیکس کرتی مست ھو گئی منجو بولی ممی ایک کالج کی سہلی سے کرتی تھی مزہ آتا ھے پھر ھم فارغ ھوئی تو منجو کو ساس کے بھائی کی کال آئی کہا ایک بار کرنے دو منجو نے سائز پوچھا بولا سات انچ ھے تم جہاں بولو میں آتا ھوں منجو بولی اچھا تم مجھے ممی کے گھر سے لےلو میں بولی کہاں جاؤ گی میں تو کھانا بنایا ھے منجو بولی پھر میں بولی کہیں جانے کی ضرورت نہیں ھے تمھارا روم ھے اس میں لے جانا بولی سندیپ میں بولی میں اسے دیکھ لوں گی پھر سندیپ آیا تو انکت آگیا میں نے سندیپ سے بات کی تو کہا ٹھیک ھے

پتی نے شادی کرلی

 میری شادی کو تین سال ھو گئے پتی نے دوسرے ملک میں شادی کی ھوئی تھی پتی تو آتا نہیں تھا میں سسرال میں رہتی تھی مجھے زندگی کا سکون نہیں مل رہا تھا میں اپنی زندگی کو گرم مصالحے کا تڑکا لگانا چاہتی تھی مگر سسرال میں ایسا ممکن نہیں تھا اور میں بہت ھی مایوس ھو گئی سسرال کے گھر میں فضول رہتی تھی ممی سے بہت بار بولی مجھے طلاق چاھیئے مگر ممی ہمیشہ مجھے منع کرتی رھی ایک دن مجھے اسپتال سے کال آئی لیڈی ڈاکٹر تھی اور ممی کی طبیعت خراب تھی تو میں نے سوچ لیا کے اب واپس نہیں آؤں گی ساس کو بتا دیا کے اب میں واپس نہیں آؤں گی اور میں دوسرے شہر میں ممی کے گھر آئی گاڑی کھڑی کی اور اسپتال قریب تھا میں پیدل چلی گئی لیڈی ڈاکٹر سے ملی اور ممی کو گھر لے جانے کا بولی اور آرام زیادہ کرنے کا بولی پھر ممی کو گھر لائی ممی کے روم میں سلایا میں اپنے پرانے روم میں آئی بہت گرم تھی سوچ رھی تھی کے کاش کوئی مل جائے کچھ دیر بعد ڈور بیل بجی تو میں ڈور کھولی تو


سامنے پڑوسی فیملی تھی ایک لڑکا پندرہ سال کا اور ایک چھوٹی بچی اور ان کے ممی پاپا تھے میری ممی کا پوچھنے آئے تھے میں ان کو بیٹھا کر کولڈرنک لائی اور پھر ممی کو دیکھایا اور سب پوچھ کر پڑوسن بولی کسی چیز کی ھیلپ ھو تو بتانا لڑکے کا نام ارجن تھا اور مجھے دیکھے جارہا تھا میں بھی نظریں ملا لیتی مسکرا دیتی پھر جانے کیلئے اٹھے تو میں ارجن سے بولی مجھے کچھ داوائیاں منگوانی ہیں تم لا دو گے بولا لاتا ھوں ارجن کے گھر والے چلے گئے میں پرچی دی کچھ دیر بعد لایا ارجن صوفے پر بیٹھا تھا میں داوائیاں ممی کے روم میں رکھ کر آئی اور ارجن کہا یہاں آنا میں اپنے روم میں لائی ارجن کو بیٹھنے کو بولی ارجن بیڈ پر بیٹھا میں ارجن کے ساتھ بیٹھی اور بہت گرم تھی میری چُوت بہت ٹائٹ اور گرم تھی بولی ارجن میری شادی کو دس ھونے والے ہیں مگر پتی نہ آیا نہ کوئی جواب آیا ھے میرا کوئی دوست بھی نہیں ھے مجھے تم بہت اچھے لگے ھو تو تم سے باتیں کر رھی ھوں کسی کو بتاؤ گے تو نہیں ارجن نے کہا فکر نہ کریں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا میں بولی میں سسرال چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے آئی ھوں کیا تم میرے دوست بنو گے ارجن نے کہا ہاں دوست بنوں گا پھر میں بولی ارجن میں بہت گرم ھوں کہے کر ارجن کے منہ میں منہ دیا ارجن بھی چوسنے لگا اور مجھے باھوں میں بھر لیا مجھے مزہ آرہا تھا میں نے ارجن کا لن پکڑ لیا بہت موٹا لمبا تھا ارجن میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میرے منہ سے ارجن نے اپنا منہ نکال کر کہا اب میں تم کو پیار کروں گا میں چوم کر بولی کرو پیار ارجن نے میری نائٹی اتار کر میرے بڑے مموں کو چوسنے دبانے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں ارجن کا کھڑے لن کو سہلا رھی تھی پھر ارجن نے مجھے لیٹا کر میرے اوپر آکر مجھے میرے ھونٹ زبان بڑے مموں کو چوسنے دبانے چومنے لگا میں ارجن کو باھوں میں بھر کر مستی میں پیار کر رھی تھی دس سال بعد مجھے زندگی کا مزہ مل رہا تھا ارجن مجھے چومتا ھوا میری چڈی پر میری چُوت کو چومنے چاٹنے لگا پھر میری چڈی اتار کر میری چُوت کو بس مستی میں چاٹتا رہا ایسا مزہ تو مجھے پتی نے بھی نہیں دیا نہ ھی پتی نے کبھی مموں کو چوسا دبایا ارجن نے مجھے مست کیا ھوا تھا بہت دیر بعد ارجن میری چُوت کو چاٹتا رہا پھر میرے اوپر آکر مجھے باھوں میں بھر کر مجھے اپنے اوپر کیا اور کہا اب تم اپنی مستی دیھاؤ میں مستی میں ارجن کو چومتی ھوئی ارجن کے لن کو چوسنے لگی اور بہت دیر تک لن چوستی رھی پھر میں گھوڑی بن کر بولی چدائی کرو ارجن میری چوت میں لن ڈالنے لگا مجھے مزہ آرہا تھا پھر ارجن نے بہت چدائی کی جھٹکے لگاکر چدائی کی پھر مجھے اوپر آنے کو کہا میں ارجن کے اوپر آکر چدائی کی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی ارجن چدائی کرتا رہا اور صبح ھو گئی ارجن چدائی کرنے میں مست تھا میری چُوت میں فارغ ھوا کہا نیند آرھی ھے میں بولی یہی سو جاؤ پھر سو گیا میں نائٹی پہن کر ممی کو دیکھ کر ارجن کے ساتھ سو گئی دوپہر میں اٹھی ارجن تو ننگا لیٹا تھا لن کھڑا تھا ارجن پیارا لگ رہا تھا میں ارجن کے ھونٹوں کی چمی لی لن کو سہلایا کچھ دیر چوس کر پھر ناشتہ بناکر ممی کو کراکر داوائی دےکر روم میں ناشتہ لائی لن فل کھڑا تھا نائٹی اتار کر اپنی چُوت میں لن لےکر چدائی کرنے لگی کچھ دیر بعد ارجن آٹھ گیا خوب چدائی کی میں بولی پہلے ناشتہ کر لو پھر چدائی کر لینا پھر ناشتہ کے بعد دن بھر چدائی کرتے رھے ارجن گیا ھی نہیں رات بھر چدائی کی اسی طرح ارجن ایک ہفتہ میرے ساتھ دن رات پھر رات کو گھر گیا مجھے نیند نہیں آرھی تھی ارجن کی کال آئی کہا آؤں میں بولی آجاؤ 


ارجن آیا تو میں ڈور کھول کر اندر روم میں لائی ارجن کو مستی میں چومنے لگی ارجن نے کہا مجھے گانڈ چودنے دوگی میں مسکرا کر بولی چود لو کہا درد ھوگا میں بولی تمہارے لیئے سہے لوں گی پھر ارجن نے میری گانڈ کی سیل کھول دی اس کے بعد ارجن سے بہت چدائی کرتی جب پیرڈ آتے تو ارجن میرے مموں اور منہ میں فارغ ھوتا ارجن کے لن کا پانی بھی پیتی ارجن سے کرتی کرتی تین مہینے ھو گئے بس ہر روز دن رات بہت چدائی کرتے میں ارجن کے لن سے پریگنٹ ھو گئی ارجن کو بتایا تو ارجن ناراض ھونے لگا ابوشن کرانے کا بولا میں بولی اسے میں جنم دوں گی خود پرورش کروں گی  میں اور ارجن چدائی کرتے ہیں یہ بات ارجن کے گھر والوں کو پتا چل گئی مجھے تو کچھ نہیں بولے ارجن سے بولے شادی کر لوں لیکن ارجن کچھ نہ کہتا بس رات ھم چدائی میں مست کرتے پھر میرا بڑا پیٹ ھونے لگا اور ارجن دوسرے ملک چلا گیا پھر مجھے بیٹا ھوا جب بیٹا بھاگنے دوڑنے لگا میں پھر سے پہلے سے زیادہ گرم ھو گئی تھی اپنی چُوت کا بہت رس نکالتی کھیرے بہت استعمال کرتی لن کیلئے ترس گئی ایک دن بیٹے کے ساتھ شاپنگ کر رھی تھی تو بیٹے کو گاڑی سے ایک مرد نے بچایا میرا موڈ بن گیا میری تعریف کی تو میں بولی کیا آپ میرے ساتھ کچھ وقت گزار سکتے ھو کہا جی بلکل پھر میں اسے گھر لائی بیٹے کو روم میں جانے کا بولی چلا گیا پھر میں اسے اپنے روم میں لائی میں اسے باھوں میں بھر کر بولی میں بہت گرم ھوں مجھے ٹھنڈا کر دو بس پھر ھم ننگے ھو گئے اور دو گھنٹے تک چدائی کی انکل کو بار بار پتنی کی کال آرھی تھی جانے کا بولا میں بولی کاش تم میرے ساتھ رہتے تو انکل نے کہا میرا ایک دوست ھے اس کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ھے اپنے پاس رکھو اور مزے کرو میں بولی ٹھیک ھے رات کو بھیج دو بولا ٹھیک ھے میں ابھی کال کر کے آنانے کا بولتا ھوں کال کی اور کہا تمہارا رہنے کا بندوست ھو گیا ایڈریس دیا پھر چلا گیا میں جلدی سے تیار ھو گئی ایک گھنٹہ بعد آگیا پہلے اسے روم لائی چدائی کی پھر کھانا کھاکر صبح تک چدائی کی پھر شام کو انکل نے کہا میں آرہا ھوں میں بولی آجاؤں پھر دونوں کے ساتھ چدائی کی اسی طرح ایک سال لڑکا رہا پھر چلا گیا پھر سے میں مستی میں کچھ دن گزرے پھر میں شاپنگ کرنے گئی تو تین لڑکے مجھے لائین دینے لگے میں بولی جگہ ھے تو چلو پھر مجھے بلڈنگ میں لائے اور تینوں سے چدائی کی پھر گھر آئی




ایک بار پھر میں لن لینے کو ترس رھی تھی اور بہت گرم رہتی تھی اور بہت بور رہتی تھی کوئی مل ھی نہیں رہا تھا


 سنیل بھی تیرا سال کا ھوگیا اور سردیوں کے دن تھے بہت ٹھنڈ بھی تھی ایک رات میں بہت گرم اور بہت بور تھی تو سوچی سنیل بیٹے سے باتیں کروں میں سنیل کے روم میں آئی تو سنیل رضائی میں تھا میرے آنے کی آہٹ سن کر سنیل نے رضائی سے باہر سر نکال کر دیکھا میں مسکرا کو بولتی ھوئی رضائی میں آئی سنیل آج میں بہت بور ھوں سنیل صرف چڈی میں تھا میں نائٹی میں تھی ٹھنڈ بہت تھی میں سنیل کو باھوں میں بھر کر چوم کر بولی بیٹا مجھ سے باتیں کرو 


پھر ھم باتیں کرتے رھے میں پہلے ممی کی طرح پیار کر رھی تھی پھر اچانک میں گرم ھو گئی 


وہ ایسے کہ سنیل سیدھا لیٹا تھا اور میری بانھوں میں تھا سنیل کے سینے پر میرا ایک مما دبا ھوا تھا اور دوسرا مما سنیل کے کندھے میں دبا ھوا تھا اور 


میں سنیل کے سینے پر ہاتھ پھیرتی سنیل کو چومتی باتیں کرتی اچانک میرا ہاتھ سنیل کے کھڑے لن سے ٹکرا گیا میں گرم ھو گئی میں سمجھ گئی سنیل گرم ھو گیا ھے اس لیئے لن کھڑا ھو گیا


 میں نے نائٹی کی ڈوری کھول دی سنیل کو بولی سنیل بیٹا مجھے باھوں میں بھر کر دباؤ سینل میری طرف ھوا اور مجھے باھوں میں بھر خوب دبانے لگا میں مستی میں سنیل کو دباتی چومنے لگی اور میں بولی سنیل اپنی ٹانگوں کو میری ٹانگوں میں کروں سنیل لن آگے نہیں کر رہا تھا میں آگے ھوکر اپنی چُوت سنیل کے لن سے لگا دی میری چُوتڑوں میں سنیل کا لن گھس گیا میں مستی میں اپنی چُوت کو لن سے مسلنے لگی میں نے نائٹی کے دونوں پہلو ہٹاکر بولی سنیل ممی کو پیار کرو ممی بہت گرم ھے سنیل سلوسلو لن رگڑنے لگا میں مستی میں سنیل کی چڈی میں ہاتھ ڈال کر لن پکڑ کر سہلانے لگی اور سنیل مستی میں میرے مموں کو چوسنے لگا میں مستی میں سنیل کے لن کو اپنی چُوت کے سوراخ میں ٹوپہ اندر کرنے لگی تو سیل نے آرام سے پورا لن اندر کیا پھر مست چدائی کی میں تو بہت مستی میں تھی سنیل مجھے دوسری طرف کیا اور میری گانڈ میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا پھر میری چُوت گانڈ کی مست چدائی کی میں فارغ ھوئی تو سنیل میری چُوت میں فارغ ھو گیا


اس کے بعد سنیل بس میری چدائی بہت کرتا میں منع کرتی کے اتنی چدائی نہ کیا کرو کمزور ھو جاؤں گے مگر سنیل میری سنتا نہیں جب سنیل گھر ھوتا تو میکپ میں تیار رہتی سنیل مجھے تیار دیکھ کر مستی آجاتا اور چدائی کرتا رہتا میں بھی سنیل کو طاقتور چیزی کھلاتی جب سے سنیل بیٹے کا لن لیا ھے میں دوسروں کے لن بھول گئی سنیل کے لن سے پریگننٹ ھو گئی 

لیسبن ماسی

 میرے گھر میں ماسی کام کرتی تھی میں ماسی سے مساج کراتی تھی جسم کو دبواتی تھی ماسی آنٹی تھی میرے دو بچے تھے ایک بیٹا اور بیٹے سے بڑی ایک بیٹی ھے بیٹی کا نام زرینہ اور بیٹے کا نام منو ھے میرا شوہر گھر کم رہتا تھا کچھ ھی دنوں میں ماسی مجھ سے زیادہ فری ھو گئی ایک دن ماسی کو بولی میری مساج کرو ماسی بولی باجی ایک بات بولوں برا نہ منانہ میں نے کہا بولو کہا باجی آپ کا شوہر آپ کو وقت نہیں دیتا تو مساج کے ساتھ میں آپ کو سکون دے سکتی ھوں میں بولی ماسی لن کے بنا کیا سکون ماسی نے کہا باجی ایک بار کرکے دیکھ لو مزہ نہ آئے تو نہ کرنا میں بولی ماسی ٹھیک ھے ویسے میں بہت گرم ھوں ماسی بولی سب سکون آجائے گا ایک بار آزما لو میں بولی اچھا پھر شروع کرو پھر ماسی مجھے چومتی مموں کو دباتی میری چُوت کو سہلاتی مست کر دیا میں ماسی کو چوم لگی میں بولی اوف ماسی بہت مزہ آرہا ھے ماسی بولی آگے تو بہت مزہ آنے والا ھے پھر ماسی نے مجھے ننگا کیا اور میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگی ماسی بھی ننگی ھو گئی میں ماسی کے مموں کو دبانے چوسنے لگی پھر ماسی نے میری چُوت بہت چاٹی کے میری مستی میں چیخیں نکلنے لگی آخر میری چُوت کا رس نکل گیا مجھے بہت سکون آیا اس کے بعد جب موڈ ھوتا ماسی سے کر لیتی ماسی کو سہلی کی طرح صاف ستھرا رکھتی


ماسی کی چوت چاٹی

 

ایک دن صبح کو ماسی کی چُوت چاٹنے کو بہت من کر رہا تھا میں سوچی بچے ناشتہ کرکے سکول چلے جائینگے تو پھر ماسی کی چُوت چاٹوں گی میں ماسی کو آواز دی ماسی جب آئی تو میں کچن میں تھی ماسی نے کہا جی باجی میں بولی بچے ابھی سکول جائنگے تو میں تمہاری چُوت چاٹوں گی ماسی بولی ٹھیک ھے میں نے کہا تم میرے روم میں جاؤں نہا کر مکیپ کے ساتھ تیار ھو جاؤ اور الماری میں ایک ڈریس ھے وہ پہن لینا اور روم میں رہنا بچے جائنگے تو میں آؤ گی پھر ماسی چلی گئی میں ناشتہ بنانے لگی ناشتہ بن گیا تو بچے ناشتہ کرکے سکول چلے گئے میں بہت گرم تھی اور پہلی بار ماسی کی چُوت چاٹنے والی تھی بچے گئے تو میں روم میں آئی اور ماسی بہت ھوٹ لگ رھی تھی پہلے تو ھم نے پیار کیا مموں کو دبایا چوسا پھر میں ماسی کی چُوت دیکھی بہت پیاری چُوت تھی چُوت مجھے بہت پسند آئی ماسی سے بولی ماسی تمہاری چُوت بہت پیاری ھے ماسی کی چُوت میں چومنے لگی ماسی کی چُوت کی مہک نے مجھے مست کر دیا ماسی کی چُوت کو چاٹنے لگی نمکین چُوت تھی پھر میں مستی میں مست ھوکر چوت چاٹنے لگی مجھے چُوت چاٹنے کا اتنا مزہ آرہا تھا کے میں کیا بتاؤں کے میں ماسی کی چُوت پر اپنا چہرہ مثلنے لگی ماسی فارغ ھو گئی سارا چُوت کا رس چاٹ گی پہلی بار کیا اور مجھے مزہ آگیا  اس کے بعد میں ماسی کی چُوت بہت چاٹنے لگ گئی جب تک چُوت نہ چاٹتی مجھے مزہ نہیں آتا تھا جب چُوت چاٹتی تو مجھے بہت مزہ آتا میں مستی میں ھوتی ماسی 


کھیرا لیا


ایک دن ماسی اور میں مست سیکس کر رھی تھی تو ماسی بولی باجی ایک طریقے سے آپ لن جیسا مزہ لے سکتی ھو میں بولی وہ کیسے ماسی بولی باجی کھیرے سے میں بولی سچ میں لن جیسا مزہ بولی ہاں فریج میں دیکھا کھیرے نہیں تھے میں بولی چل کر سامان لاتی ہیں کھیرے بھی لیتی آئنگی پھر ھم نے دوسرا سامان لےکر کھیرے لینے لگی تو ماسی نے موٹے لمبے کھیرے اٹھاکر دوکان والے کو دیتی گئی پھر لےکر گھر آئی سامان رکھ کر ھم روم میں آئیں میں ننگی ھو گئی لیٹ گئی ماسی میری چُوت میں کھیرا اندر باہر کرنے لگی اوف مجھے بہتزہ آیا میں فارغ ھوئی تو ماسی کو گھوڑی بناکر چُوت چاٹی پھر ماسی نے سب سے پڑا کھیرا دیا میں بولی اتنا بڑا لےلو گی ماسی بولی ہاں باجی گانڈ میں بھی لے سکتی ھوں پھر ماسی کی چُوت میں کھیرا اندر باہر کرنے لگی ماسی فارغ ھوئی تو ماسی کی چُوت کا رس میں چاٹ گئی اس کے بعد ماسی اور میں بہت مزے کرتی ماسی نے بتایا کے وہ اپنی سہلی سے کرتی تھی سہلی کی امی سہلی سے کرتی تھی اسی طرح میں اور ماسی بہت سیکس کرتی تین سال بعد ماسی چلی گئی کچھ دن بعد میں بہت گرم ھو گئی بہت من کرتا سوچتی کوئی لڑکی نہیں ھے 


بیٹی سے سیکس


ایک دن میں اپنی بیٹی کو پیار کر رھی تھی من میں آیا کے کیوں نہ زرینہ سے کروں میں زرینہ کو مستی میں چومنے لگی میں بولی زرینہ کیسا لگ رہا ھے زرینہ نے کہا امی بہت مزہ آرہا ھے میں بولی آج امی زرینہ کو بہت پیار کرے گی پھر زرینہ کو ننگی کرکے میں ننگی ھو گئی زرینہ کی چوت بہت پیاری تھی میں چاٹنے لگی میں بولی میری چاٹو پھر ھم چوتیں چاٹ کر فارغ ھوئی اس کے بعد میں زرینہ کو ساتھ سلاتی اور بیٹا چودا سال کا تھا اور ہمیں سیکس کرتی دیکھ لیتا تھا زرینہ سو گئی اور منو کے روم میں آئی تو منو لن کی مٹھی مار رہا تھا موٹا لمبا لن دیکھ کر میں گرم ھو گئی اور منو کے ساتھ بیٹھ کر منو کو چومتی لن پکڑ کر سہلانے لگی منو مستی میں میرے مموں کو دبانے لگا میں اوپر آکر چُوت میں لن لے کر چدائی کرنے لگی میں فارغ ھوئی تو منو نے مجھے ساری رات نہیں چھوڑا مجھے مزہ بہت آیا اور منو کے ساتھ ننگی نیند آگئی صبح زرینہ نے مجھے جگایا میں ننگی منو کی باھوں میں تھی منو میری باھوں میں تھا منو کا لن میری چُوتڑوں میں کھڑا تھا ھم ننگے سو رھے تھے زرینہ نے جب اٹھایا تو میں اٹھی ننگی زرینہ دیکھ رھی تھی منو سیدھا لیٹا تو لن کھڑا تھا زرینہ لن دیکھ رھی تھی میں اٹھ کر لن پر چادر دی زرینہ کو کچن میں لائی زرینہ گرم تھی مجھے چومنے لگی بولی امی مجھے بھی کرنے دو میں بولی کس سے بولی منو سے میں بولی ابھی تو سو رہا ھے صبح آٹھ بجے سویا ھے زرینہ نے دیکھ لیا تھا کے میں منو سے چدائی کی زرینہ سے سیکس کرتی تھی اس لیئے زرینہ کو منع نہ کر پائی تو زرینہ نے کہا تو کوئی بات نہیں میں مستی میں جاگ جائے گا میں بولی سیل کھلی ھے کہا نہیں میں بولی پھر ھم ناشتہ بناکر کھاکر پھر ساتھ میں سیل کھلوا لینا مل کر کریں گی زرینہ خوش ھوکر مجھے چومنے لگی اور ناشتہ بنایا منو آیا ناشتہ کیا پھر زرینہ نے منو سے چدائی کی منو مجھے اور زرینہ کو بہت چدائی کرتا زرینہ 

ممی کی کمی کو پورا۔کیا

 میری ممی کو گزرے چھ مہینے ھو گئے ان چھ مہنو میں میں نے پاپا کے ھونٹوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی پاپا کو ہمیشہ اداس دیکھتی تو مجھے بہت تکلیف ھوتی آخر میں نے ٹھان لی کے پاپا کیلئے ممی کی کمی کو میں پورا کروں گی میں پاپا کیلئے کھانا بناکر پھر واشروم آکر اپنی چُوت کے بال صاف کیئے پھر نہاکر میکپ کرکے تیار ھوئی تو پاپا بھی آفس سے آیا اور کھانا کھاکر اپنے روم گیا کچھ دیر بعد میں بھی پاپا کے روم میں آکر پاپا سے بولی پاپا آپ سے ایک بات کرنی ھے پاپا نے کہا بتاؤ میں بولی آپ کے ساتھ بیٹھ کر بتاتی ھوں میں بیڈ پر آکر پاپا کے ساتھ بیٹھی پاپا نے کہا بولو میں بولی پہلے وعدہ کرو آپ انکار نہیں کرو گے پاپا نے کہا ٹھیک ھے بتاؤ میں بولی پاپا میں ممی کی کمی کو پورا کرنا چاہتی ھوں پاپا نے کہا بیٹی ھو تم میں بولی پاپا مجھے آپ کو اس طرح اداس نہیں دیکھا جاتا پلز مان جائیے پاپا نے کہا بیٹی کسی کو پتا چلو تو میں بولی پاپا ھم دو کے سیوا گھر میں کوئی نہیں ھے کسی کو کیسے پتا چلے گا پاپا نے کہا بیٹی پھر بھی میں پاپا کی گال پر ہاتھ رکھ پاپا کا چہرہ اپنی طرف کیا اور پاپا کے ھونٹوں کو چمہ کرکے بولی مان جاؤ پاپا بولنے لگا یہ ٹھیک نہیں ھے بیٹی میں اٹھ کر پاپا کے سوئے لن پر بیٹھ کر پاپا کو چومتی بولی پاپا سب ٹھیک ھو جائے گا اپنی گانڈ ہلانے لگی پاپا بھی گرم ھو رہا تھا میں نائٹی اتار دی ننگی ھو گئی پاپا کے ہاتھوں کو اپنے بڑے مموں پر رکھ کر دبانے لگی پاپا کا لن کھڑا ھونے لگا اور پاپا میرے مموں کو سلوسلو دبانے لگا میں ایک مما پاپا کے منہ میں دیا پاپا چوسنے لگا اور پھر ھم مست ھو گئے پاپا کے لن کو بہت چوسا پھر پاپا نے میری چُوت بہت چاٹی پھر میری سیل کھولی بیڈ کی چادر خون سے بھر گئی اس کے بعد پاپا بہت خوش رہنے لگا اور چدائی بھی مست کرتا ایک رات پاپا نے گانڈ کی فرمائش کی تو میں نے گانڈ کی سیل کھلوائی اس کے بعد میں اور پاپا بہت چدائی کرتے ساتھ سوتے تھے 

میں بہت ھوٹ تھی

 ایک دن میں ننگی فلمیں دیکھ کر بہت گرم تھی اور گھر میں بھی کوئی نہیں تھا تو پڑوسیوں کا لڑکا سمر دس سال کا تھا اور اچانک سمر گھر آیا میں ننگی فلم دیکھ رھی تھی اور ننگی تھی ڈور بیل بجی مجھے غصہ بہت آیا کے پتا نہیں کون بیوقوف آگیا میں نائٹی پہن کر ڈور کھولی تو سامنے سمر کھڑا تھا سمر  کو دیکھ کر میں پہلے سے زیادہ گرم ھو گئی اور سمر سے سیکس کرنے کا خیال آیا من میں آیا بچہ ھے میں سکھا دوں گی تو سمر کو میں اپنے روم لے گئی میرا جسم ایک دم گرم تھا میں بولی سمر کیا میں تم کو پیار کر سکتی ھوں سمر نے کہا ہاں ممی پاپا کی طرح میں بولی وہ کیسے کہا ممی پاپا ننگے ھوکر پیار کرتے ہیں میں بولی تم دیکھتے ھو کیا کہا ہاں چھپ کر دیکھ لیتا ھوں میں سمر کو چوم کر بولی ہاں بلکل تمہاری ممی کی طرح پیار کریں کہا ہاں کپڑے اتار کر ویسے کریں میں بولی کسی کو بتاؤ گے تو نہیں کہا کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا میں بولی ٹھیک ھے میں سمر کے منہ میں منہ دیا اور ھم ایک دوسرے کی ھونٹوں اور زبانوں کو چوسنے لگے سمر کے ہاتھوں کو اپنے بڑے مموں پر رکھ کر۔ بولی دباؤ سمر میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میں مستی آگئی سمر نے کہا کپڑے اتارو میں نائٹی اتار کر ننگی ھو گئی سمر سے بولی کیسی لگ رھی ھوں سمر نے کہا بہت سیکسی لگ رھی ھو میں نے کہا تم کپڑے اتارو تو سمر بھی ننگا ھو گیا سمر کی بڑی للی ٹائٹ کھڑی تھی میں سمر کی للی کو سہلاتی للی کی تعریف کی اور چوسنے لگی سمر کی للی کو چوسنے میں مجھے بہت مزہ آرہا تھا اور سمر کی بڑی اور موٹی للی بہت مزے کی تھی سمر کو بھی مزہ آرہا تھا میں للی کو کچھ دیر چوستی رھی پھر سمر نے کہا تمہاری چوت چاٹوں میں بولی ہاں میں اپنی ٹانگیں کھول کر چُوت سامنے کرکے لیٹ گئی سمر میری چوت کو دیکھ کر ہاتھ لگا کر کہا چوت تو بہت مزے کی ھے پھر سمر میری چوت کو مست چاٹنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا یہ سیکس میرا پہلا تھا اور میں مست مستی میں تھی بہت دیر تک میری چُوت چاٹتا اور انگلی کرتا رہا سمر نے کہا چدائی کروں میں بولی کرو میں اور سمر ننگے تھے اور گھر میں ہمارے سیوا کوئی نہیں تھا میری تو مستی میں چیخیں نکلنے لگی سمر زبردست چدائی کر رہا تھا چار انچ کی للی اور موٹی تھی ایسے جیسے لن ھو میری چُوت سے خون نکلنے لگا پھر میں سمر کو لٹا کر سمر کے اوپر آکر اپنی چُوت میں للی لےکر مست چدائی کرنے لگی سمر کے منہ میں مموں کو دیتی سمر دباتے چوسنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا لیکن ڈور کی گھنی بجنے لگی گھر والے آگئے تھے ھم نے جلدی سے کپڑے پہنے اور میں ڈور کھولی سب اپنے اپنے روم چلے گئے سمر کو اپنے روم میں لائی سمر اور میں پیار کرنے لگے سمر کو بولی مزہ آرہا ھے کہا بہت مزہ آرہا میں بولی ابھی سب گھر میں ہیں ھم ننگے پیار نہیں کر سکتے تو تم رات کو آسکتے ھو کیا ہاں میں ممی کو بولوں گا تمہارے بھائی کے ساتھ سوؤں گا میں بولی ہاں یہ ٹھیک ھے گھر میں دیکھ کر مجھے چوما کرو بولا ٹھیک ھے پھر ھم روم آئے میں کھانا سب کیلئے گرم کرنی لگی ساتھ سمر سے مزے بھی کر رھی تھی سمر نے میری چُوت کی سیل کھول دی حالانکہ سمر ابھی بچہ تھا پھر رات کو سمر آگیا پھر میں اور سمر ننگے ھو کر تیکن بجے تک سیکس چدائی کی سمر نے میری چُوت کا رس تین بار نکالا اسی طرح کچھ دن چھوڑ کے سمر کو رات میں بولا لیتی اور ھم مزے کرنے لگے ایک رات سمر نے کہا رات کو میں نے دیکھا ممی تو پاپا کا لن گانڈ میں لےکر کروا رھی تھی میں مسکرا کر بولی جیسے دل کرے ویسے کرو پھر گانڈ کی مست چدائی کی درد کا تو پتا نہیں چلا اس کے بعد سمر اور میں بہت چدائی کرتے اس بات کا میری ممی کو پتا چل گیا ایک رات جب سب سو گئے تو سمر کیلئے میں کھانا لے گئی اور ڈور لاک کرنا بھول گئی میں سمر کے اوپر چدائی کر رھی تھی اور ممی آگئی غصہ کیا اور سمر کو جانے کو بولی میں بولی ممی صبح چلا جائے گا خیر ممی بولی بچہ ھے تم بچے سے میں بولی ممی بس ھو گیا 


ممی بولی تمہاری شادی کراتی ھوں ممی نے کہا بچہ ھے اس کی للی سے کیا ھو گا میں بولی  بس ممی ھو گیا ممی نے نظر رکھنی شروع کر دی اور سمر کو منع کر دیا پھر ایک دن ممی نے مجھے شادی کا بتائی میں خوش ھو گئی کے جی بھر کے چدائی کیا کروں گی پھر لڑکے والے آئے لڑکا اچھا تھا مگر اکلوتا تھا پراپرٹی دے رھے تھے لڑکا کچھ مینٹل تھا بس سمجھ کا سکرو ٹھیلا تھا 


میری شادی ھو گئی 

شوہر نے کہا ڈور لاک کر لینا

 ایک رات شوہر نے میری چوت میں جیسے لن ڈالا تو شوہر فارع ھو گیا مجھے غصہ آیا میں غصے سے بولی بار بار ڈالتے ھی فارغ ھو جاتے ھو ہٹو اب شوہر نے کہا کیوں میں بولی تمہارے چھوٹے بھائی کے پاس جاتی ھوں شوہر نے کہا ٹھیک ھے جاؤ مگر ڈور لاک کر لینا کوئی دیکھنے نہ میں بولی بچی کا خیال رکھنا شوہر نے کہا ٹھیک ھے پھر میں چھوٹے دیور کے روم میں آئی دیور رضائی لیئے ھوئے تھا مجھے دیکھ کر کہا بھابھی آپ میں بھولی تمہارے بھائی سے لڑکر آئی ھوں تمہارے ساتھ سو جاؤں دیور نے کہا ٹھیک ھے میری وہ چڈی اٹھا دو میں بولی تم بنا چڈی کے سو رھے ھو کہا ہاں بھابھی عادت ھے میں بولی ہاں یار میری بھی یہ عادت ھے کپڑے اتار کر سوتی ھوں میں نائٹی اتاری دیور چونک گیا میں رضائی میں آکر دیور کو باھوں میں بھر کر بولی میں تمہیں پسند ھوں دیور گرم ھو گیا مجھے باھوں بھر کر دباتے چومتے کہا بھابھی مجھے تم بہت پسند ھو من کرتا تمہیں پیار کروں میں نے دیور کے لن کو پکڑ لیا بولی تمہارے بھائی کا تو کھڑا نہیں ھوتا کیا تم مجھے خوش نہیں کر پاتا تم خوش رکھو گے اپنی بھابھی کو دیور میرے اوپر آکر رضائی ہٹاکر میری چوت دیکھ کر تاریخ پھر چومنے لگا مجھے مزہ آرہا تھا پھر چوت کو بہت چاٹا شوہر ایسا نہیں کرتا تھا پہلی بار مجھے چوت چٹوانے کا پتا چلا اور مجھے بہت مزہ آرہا تھا 



دیور نے مجھے باھوں میں بھر کر اوپر کیا میں مستی میں تیز تیز چدائی کرتی دیور کو چوم رھی تھی دیور مجھے میرے مموں کو دباتا تو میرا دودھ نکلنے لگتا دیور کے لن نے مجھے مست کیا ھوا تھا کہ



اتنی دیر میں ڈور نوک ھوا اور شوہر نے آواز دے کر کہا بچی اٹھ گئی ھے اسے لے جاؤ میں بولی آرھی ھوں دیور نے کہا بھابھی بہت مزہ آرہا ھے نہ جاؤ میں نے کہا بچی اٹھا کر آتی ھوں ساری رات کرنا بولا ٹھیک ھے میں نائٹی پہنی دیور مجھے چومے جارہا تھا پھر میں اپنے روم آئی تو شوہر نے پکڑ لیا کہا مموں سے مجھے فارغ کروں بچی سو رھی ھے میں بولی ٹھیک ھے لیٹ جاؤ میں اپنے دونوں مموں میں شوہر کا لن لےکر تھوک ڈال کر لن پر مموں کو مسلنے لگی کچھ ھی دیر میں شوہر کے لن کا پانی نکلا تو شوہر نے کہا اب تم جا سکتی ھو میں مموں کو دھو کر دیور کے پاس آئی دیور نے کہا بچی نہیں لائی میں بولی تیرا بھائی گرم تھا پھر دیور میں صبح تک چدآئی کرکے میں اپنے روم آئی شوہر آفس جانے کیلئے واشروم میں تھا میں دوسری طرف منہ کرکے لیٹی تھی پیچھے سے شوہر نے میری چوت میں لن ڈال کر تین چھکوں میں لن کو پانی میری چوت میں نکل گیا لن ڈالے لیٹا رہا 



پھر جب میری آنکھ کھلی تو میں چوت دھوکر لیٹ گئی مجھے نیند آگئی پھر میری چوت میں لن اندر باہر ھو رہا دیور چدائی کر رہا تھا میں پوچھی تمہارا بھائی کہا آفس گیا دو گھنٹے تک دیور نے مجھے خوش کیا پھر ناشتہ بنایا اور کھایا 



ایک رات شوہر کیپسول کھاکر آگیا مجھے بلکل پتا نہیں تھا شوہر نے بہت چدائی کی مجھے چھوڑا ھی نہیں جب بڑی مشکل سے فارغ ھوتا تو میں دیور کے ساتھ شروع ھو جاتی اسی طرح ساری رات میں مزے کرتی رھی مجھے بہت مزہ آیا پھر شوہر کو کیپسول کھانے کو بولتی دو دن جب چھٹی ھوتی تب بہت مزہ آتا 



ایک رات شوہر کو بولی ھم تینو مل کر کریں شوہر نے کہا چھوٹے کو تم منا لو میں بولی ٹھیک پھر دیور سے بات کی پہلے تو کہا میں بڑے بھائی کے ساتھ تمہیں کیسے چود سکتا ھوں میں بولی میری خاطر کر لوں تیرا بھائی تو مان گیا پھر مان گیا پھر دونوں کے ساتھ بہت مزہ آیا دونوں کا لن باری باری چوت میں لیتی دونوں مجھے بہت خوش کر رھے تھے اور اس رات میں پریگننٹ ھو گئی اس بات کا سسر کو پتا چل گیا وہ بھی ساس نے دیور کے ساتھ دیکھ لیا تھا تو شوہر نے کہا میں نے کہا ھے تو ساس نے سسر کو بتا دیا تھا ایک دن سسر نے میری گانڈ پر ہاتھ پھیرا سمجھ گئی کے سسر مجھ پر گرم ھے میں سسر کو دیکھ کر مسکرائی سسر نے مجھے باھوں میں بھر لیا میں بولی یہاں کوئی دیکھ لے گا اوپر چلو میں آتی ھو سسر اوپر گیا میں اوپر گئی سسر نے مجھے مست کر دیا مجھے بہت مزہ آیا پھر ھم نیچے آگئے شوہر نے کہا پاپا سے کرکے آرھی ھو میں نے کہا اس نے مجھے گرم کر دیا تھا شوہر نے کہا پاپا بھی بہت چودو ھے میں نے کہا تمہارا باپ بوڑھا ھے لیکن اس کا لن جوان ھے شوہر گرم ھوکر چدائی کی اسی طرح گھر میں تین سے مزے کرنے لگی 

شرابی بھائی

 امیں پانچ مہینے سے طلاق لے کر گھر بیٹھی تھی اور بہت گرم بھی رہتی تھی


 میں کسی کا بھی لن لینا چاہتی تھی میں یہ بھی چاہتی تھی کے میری بدنامی نہ ھو مگر غیر مرد سے ڈر بھی لگتا تھا کہیں مجھے بدنام نہ کر دے اور میں گرم بھی بہت رہتی تھی میرے شوہر نے سوہاگ رات کے بعد مجھے کبھی بھی ٹچ تک نہیں کیا تھا اور آخر مجھے طلاق دے کر کہا میں دوسری سے شادی کرنا چاہتا ھوں میں بھی گھر آکر رہنے لگی سوہاگ رات کو شوہر نے بتی بند کی اور میری شلوار سے چوت نکال کر میری سیل کھول دی پھر صبح تک بنا چومے صرف چدائی کرتا جب میری چوت میں فارغ ھوتا تو کچھ دیر باہر جاتا پھر آکر چدائی کرتا یقین جانو مجھے بہت مزہ آرہا تھا من میں تھا اب تو شوہر روز چدائی کرے گا باقی کا مجھے پتا نہیں تھا شوہر نے نہ مجھے چوما نہ مموں کو دبایا کچھ نہیں بس میری چوت میں لن ڈال کر بہت دیر تک چدائی کرتا اسی طرح میں بھی فارغ بہت بار ھوئی جب شوہر چدائی کر کے باہر جاتا تو میں ویٹ کرتی جب آتا تو چوت نکال لیتی صبح جب شوہر چدائی کرکے گیا تو پھر نہ ٹچ ھوا طلاق لے کر میں بہت غم زدہ تھی،



میرا بھائی مجھ سے ایک سال بڑا ھے اور میرا بھائی شرابی تھا شراب بہت پیتا تھا اس شراب کی وجہ سے بھائی کو بیوی چھوڑ گئی تھی گھر میں صرف ممی بھائی اور میں تھے میں اپنا غم بھلانے کیلئے گھر سنبھال لیا بھائی آفس جاتا تھا ممی بوڑھی تھی اپنے روم میں رہتی تھی،



 جب رات کو آفس سے بھائی گھر آتا تو شراب کے نشے میں ٹن ھوتا میں سہارا دے کر اسے بیڈ پر سلاتی دیتی مجھے ایک مہنہ ھو گیا بھائی نشے میں ھوتا تو میں بھائی کے ایک بازو کو اپنے کندھے پر رکھتی اور بائی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر روم بیڈ پر سلاتی بھائی کا خیال رکھتی، 

1


ایک رات بھی شراب کے نشے میں ٹن تھا میں سہارا دے کر روم میں لائی بھائی نے مجھے باھوں دبا لیا اور باھوں میں بھر کر دباتا مجھے چومنے لگا میں مسکراتی کھڑی رھی


وہ اس لیئے کہ بھائی کو نشے میں دیکھتی تو افسوس ھوتا اور وقت گزرتا رہا ہر رات کو بھائی شراب پی کر آتا اور میں بھائی کو روم میں لاتی بھائی نشے میں ھوتا تھا بھائی جو کچھ میرے ساتھ کرتا صبح اسے یاد نہیں رہتا تھا میں بھی منع نہیں کر پاتی تھی،

2


 ایک رات بھائی شراب پی کر آیا میں سہارا دےکر اسے روم میں لائی بھائی نے مجھے بیڈ پر لیٹا کر میرے اوپر آیا مجھے بہت چوما میرے ھونٹوں کو بہت چوما اور میرے مموں کو دبایا میں نے بھائی کو منع نہیں کیا بس جلدی سے نیچے سے نکل گئی مجھے یہ سین بار بار یاد آتا رہا صبح میں بھائی کو یاد نہیں رہا ناشتہ کیا آفس چلا گیا ٹھنڈ بھی تھی

3


 ایک رات بھائی شراب کے نشے میں آیا میں سہارا دے کر روم میں لائی بھائی کو بیڈ پر لیٹا کر اوپر رضائی دی تو بھائی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے رضائی میں قابو کیا اور بہت چوما چوسا میرے اوپر آگیا میرے مموں کو نکال کر چوسنے دبانے لگا میں کچھ دیر پڑی رھی بھائی میری شلوار اتارنے لگا تو میں نے رضائی سے ٹانگیں باہر کی اور موقعہ پاتے ہیں میں نکل گئی بھائی رضائی میں پڑا رہا میں اپنے مموں کو بلوز میں کیا قمیض سہی کی بال سہی کرکے بھائی کو دیکھی بھائی کو نیند آگئی تھی میں اپنے روم میں آکر سو گئی اور اسی طرح بھائی شراب پی کر آتا 


4


ایک رات بھائی کو روم میں لائی تو بھائی میری گانڈ کے ھیپ کو دبا کر کہا بہت پال کر رکھی ھو بھائی کی یہ بات سن کر میری ہنسی نکل گئی بھائی کو بیڈ پر بٹھائی تو بھائی نے مجھے پکڑ کر اپنی باھوں میں بھر کر مجھے اپنی گود میں بٹھایا نیچے سے بھائی کا کھڑا تھا بھائی میرا چہرہ چومے جارہا تھا میں چپ تھی صرف نکلنے کا موقعہ ملا تو میں اٹھ کر کھڑی ھو بولی بھائی اب لیٹ جاؤ بھائی لیٹ گیا میں اپنے روم میں آگئی سو گئی 


 جو بھی بھائی میرے ساتھ کرتا تھا نہ ھی مجھے برا لگتا نہ ھی بھائی کو منع کرتی نہ شکایت کرتی لیکن یہ سین مجھے کچھ کرنے پر تڑپاتے اور میں سوچنے لگی مگر سمجھ نہیں آتی کے کیا کروں بھائی کو منع نہیں کرتی تھی کہیں بھائی کو برا نہ لگے نہ ڈانٹنے کو من کرتا بس موقعہ ملتا تو نکل جاتی تھی

5


 ایک رات بھائی شراب پی کر آیا میں روم میں لائی بھائی نے مجھے لن نکال کر دیکھایا کہا بہت بھوکا ھے بھائی کا لن بہت موٹا لمبا تھا اور بہت ھی پیارا تھا بھائی کے لن کو دیکھ کر میں چونک گئی بھائی نے میرا ہاتھ پکڑ میرے ہاتھ میں دیا میں دبانے لگی بھائی اپنی قمیض اتار کر مجھے باھوں میں بھرنے والا تھا تو میں ہستی ھوئی آٹھ گئی ڈور بند کرکے باہر آکر میں اپنے روم میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی اور میں من میں سوچنے لگی کیا کرو بھائی نے لن کا کہا بہت بھوکا ھے یہ سوچتی میرا ہاتھ میری چوت پر آیا چوت کو سہلاتی من میں بولی چوت تو میری بھی بھوکی ھے مجھے نیند آگئی اور میں سو گئی


6


ایک دن شام کو ایسا ھوا کے میں اپنی چُوت کے بال صاف کر رھی تھی بھائی کی وہ بات یاد آگئی، جب بھائی نے مجھے اپنا لن دیکھا کر کہا بہت بھوکا ھے تو میں نے چوت کے بال صاف کرتی اپنی چوت میں انگلی ڈال کر من میں بولی میری بھی تو بہت بھوکی ھے بال صاف کرکے اپنی چکنی پنک چوت کو آئینے میں دیکھ کر بولی میری بھی تو بہت بھوکی ھے من میں آیا کے بھائی کو نشے یاد نہیں رہتا تو کیا کروں من میں آیا کے آج صرف نائٹی پہنوں آگے جو ھوگا دیکھا جائے گا چوت میں کچھ دیر انگلی کی پھر نہاکر روم میں آکر اپنی نائٹی پہن لی اور ڈوری نہیں باندھی من میں آیا کے میکپ بھی کرلوں بھائی کو اچھا لگے گا میں میکپ کیا سرخی لگا گرم بھی تھی میں بھائی کا بےصبری سے انتظار کر رھی تھی


 کچھ دیر ڈور کی گھنٹی بجی میں خوش ھوکر ڈور کھولی بھائی ڈور سے ٹیک لگا کر شراب کے نشے میں آنکھیں بند کیئے کھڑا تھا بھائی کا ایک بازوں میں اپنے کندھے پر رکھ کر دوسرا ہاتھ بھائی کی کمر میں کر کر اندر لائی ڈور بند کیا


7


 بھائی نے مجھے دیکھ کر کہا بہت پیاری لگ رھی ھو میرے ھونٹ چوس لیئے میں نے کہا بھائی روم میں چلو آپ نشے میں ھو کہا میں نشے میں نہیں ھو میرے ننگے مموں کو نائٹی میں پکڑ کر سہلانے لگا میں چلتی ھوئی بھائی کو اپنے روم ڈور کے اندر لائی


بھائی نے مجھے باھوں میں بھر لیا میری گانڈ کے ھیپ دبائے میری چوت میں انگلی کی ھونٹ چوسے مموں کو دبایا چوسا میں ہلتی ہلاتی بھائی کو بیڈ پر لیٹایا تو بھائی مجھے پکڑ کر اپنے اوپر باھوں میں بھر کر خوب چومنے لگا من میں آیا کے بھائی ھی وہ ھے بدنامی نہیں ھو گی اور میری نائٹی اتار کر پھینک دی میں ننگی ھو گئی اور مستی میں تھی پھر بھائی میرے اوپر 



آکر مجھے چومنے لگا ھونٹوں مموں کو چوسنے لگا ایسا پیار مجھے بھائی دے رہا تھا اور میں مزے میں تھی میں تو بھائی کے پیار میں مگن تھی پھر بھائی نے میری چوت چاہئے لگا اوف مجھے ایسا مزہ ملا کے میں بھائی کے پیار کو انجوائے کر رھی تھی قریب آدھے گھنٹے بعد میری چوت کا رس نکلا مگر بھائی میری چوت چاٹتا رہا اور بھائی بھی ننگا ھو گئی پھر میرے اوپر آیا


مجھے لن دیکھا کر میرے ھونٹوں پر لن پھیرنے لگا اور منہ کھولنے کو کہا میں نے منہ کھولا تو چوسنے کو کہا میں چوسنے لگی پھر میرے مموں کو چودا پھر لن کو کریم لگائی میری چوت کو لگائی پھر میری چوت میں آرام آرام سے پورا لن اندر چلا گیا پھر جو بھائی نے چدائی کی کے مستی میں چیخنے لگی بھائی کو چومنے لگی صبح تک ھم نہ سوئے نو بجے ھم ننگے ساتھ بہؤش ھوکر سو گئے 



اس کے بعد تین دن بھائی آفس نہیں گیا ھم بس چدائی میں مست رھے پھر ھم ساتھ سوتے بہت چدائی کرتے 

Thursday, March 5, 2026

Mom son very hot bedroomvideos


mom son very hot

Mom son hot short

Bedroom hot mom help son

mom and son bedroom kissing

mom son very hot mom

mera beta and bedroom kissing

My son kissed me and I got hot

very hot mom god son

mom aap ke mamon ko dabane se mazah aata he

betay ko mere mame dabane ka mazah aata he

son kissing mom hot

or dabao zor se dabao

Mom and son's hot love

mom kah rahi hai aur jor se dabaao

beta mere mamon ko daba raha tha min garm ho gayi betay se boli or dabao zor se dabao

Beautiful hot mom cut son

tum mere special ladke ho

beta na karo min garm ho jati hon

hot man ki  betay se chudai 

Mom Son ki chama chati

garm mom ki son se  maze

Mom son fuck

aaj donon min dal ke esa karo ke meri chekhain nikal jain


Sunday, February 15, 2026

( ماں اور بیٹے کی رنگین راتیں )

 ( ماں اور بیٹے کی رنگین راتیں )


ھیلو دوستوں میرا نام سیتا ھے

- میری عمر:-30 سال ھے

- میرا قد:4'"فٹ 7 انچ ھے

- میرے مموں کا سائز: 40 ھے  میرا وزن 55 کلو ھے اور😊 میں ایک دم گوری چٹی ھوں میں بہت- خوبصورت ھوں: میرا ھوٹ فگر ھے 😊


میں بہت سیکسی اور گرم مزاج کی عورت ھوں میری چُوت پنک ھے اور میری گانڈ کے ھیپ موٹے موٹے اور نرم ملائم ہیں😊میں,نو انچ کا لن آرام سے لے لیتی ھوں اور میں بہت شوق سے گانڈ مرواتی ھوں اور سیکس کو خوب انجوائے کرتی ھوں میں 35 سے 45 مینٹ میں فارغ ھو جاتی ھوں لیکن میں ہر وقت گرم رہتی ھوں😊


پیارے سے فرینڈز میں تیرا سال سے کچھ اوپر تھی اور میں جوان تھی اور میرے چھوٹے ممے تھے اور پہلی بار مجھے پیرڈ آئے تو میں نے ممی کو بتائی تو میرے پاپا نے ایک شادی شدہ مرد سے میری شادی کرا دی پتی مجھے بہت پیار کرتا اور اپنے لن سے مجھے دن رات خوش کرنے لگا اور اسی طرح تین سال گزرے ان تین سالوں میں پتی سے چدائی کیلئے میں ہر وقت تیار رہتی اور اپنی چوت کو بالوں سے ہمشہ صاف رکھتی😊 


😊 مجھے تو پتا نہیں تھا کے ایک مرد اور عورت سیکس کرتے ہیں لیکن پتی سے میں سیکس بہت سیکھ گئی تھی پتی کا میں لن چوستی اپنی چُوت چٹواتی پتی مجھے اپنے لن سے مست کر دیتا

ش

شادی کی تیسری رات کو پتی نے مجھے مست کیا ھوا تھا مجھے پتی کے لن سے بہت مزہ آرہا تھا میں پتی کو چوم کر بولی آپ مجھے بہت مزے دیتے ھو پتی نے کہا جب میں گھر ھوں تو تم کپڑے نہیں پہنا کروں میں بولی کیوں کہا تمہارا فگر بنا کپڑوں کے بہت ھوٹ لگتا ھے اس طرح میں بار بار تمہیں مزہ دوں گا میں بولی ٹھیک ھے آج سے نہیں پہنا کروں گی پھر میں ننگی رہتی پتی مست چدائی کرتا 


 پھر جب میں سولہ سال کی ھوئی تو اس رات بہت چدائی کی پھر چدائی کرتے وقت پتی کو کال آئی پتا چلاکر کہآ او نو مجھے بتایا کہ پہلی پتنی بچہ کو جنم دیتے چل بسی پھر ھم اسپتال گئے پتی کے بچہ کو دیکھا بہت ھی پیارا تھا میں نے پتی سے کہا دیکھو کتنا پیارا ھے اب میں اسے ماں سے زیادہ پیار کروں گی پتی نے کہا اب تمہاری مرضی ھے جیسے بھی پروش کرو پھر ھم گھر آئے بچہ رونے لگا میں پتی سے بولی اس کا نام کیا رکھیں پتی نے کہا تم ھی رکھ لو میں نے کہا آج سے اس کا نام راج ھے یہ میرا دل کا راج بیٹا ھے پھر کچھ دیر بعد بچہ بھوک سے رونے لگا اب میرے پہلے سے بڑے ممے تھے میں مموں کو راج کے منہ میں دیا راج چوسنے لگا دودھ نہ آیا تو رونے لگا پھر لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئے تو فیٹر دودھ لکھ کر دیا پھر راج تو راج کرنے لگا اور پتی مصروف رہنے لگا مجھے بھی بچہ نہیں ھو رہا تھا راج سے مجھے بہت محبت ھو گئی وقت کے ساتھ چند سالوں میں پتی نے مجھے نقلی لن لاکر دیا😊

 کے جب پتی نہ ھو تو میں اس سے اپنی ہوس پوری کیا کروں اور لن کو استعمال کرنے کی بہت ساری ننگی ویڈیو لایا پھر پتی مہنو مہنو گھر نہ آتا میں گرم ھوتی پتی کی دی ھوئی ننگی فلمیں دیکھ کر نقلی لن استمعال کرتی پھر نیٹ پر میں ننگی فلمیں دیکھنے لگی راج بھی دس سال کا ھو گیا میں اصلی لن کیلئے ترس جاتی نقلی لن سے دل بھر گیا تھا بہت سوچتی کے کوئی یار بنالوں مگر دل نہیں مانتا تھا راج پڑھنے میں بہت اچھا تھا ایک دن مجھے راج کا خیال آیا کے راج سے کیا کروں مگر سوچتی راج بڑا ھو جائے تو پھر ابھی بچہ ھے کمزور ھو جائے گا پھر پتی سالوں نہ آتا میں بہت گرم تھی رات کو روم میں ننگی ھوتی اور بہت سیکس کرتی تھی راج چودا سال کا ھو گیا تو پتی ایک دن آگیا ہم سے ملا اور صبح جانا بھی تھا 😊


رات کو پتی سے چدائی کر رھی تھی چدائی کرتی اچانک میری نظر ڈور پر پڑی تو راج ڈور سے چھپ کر ہماری چدائی دیکھ رہا تھا اور میں مستی میں تھی پھر راج کو شک ھوا کے میں نے اسے دیکھ لیا ھے تو راج ڈور بند کر کے چلا گیا پتی مستی میں فارغ ھو گیا پتی نے کہا میں سو رہا ھوں میں نائٹی پہن کر راج کے ڈور کے باہر آکر آرام سے میں ڈور کھول کر دیکھی تو راج ننگا بیڈ پر ھے اور اپنے لن کو مٹھ مار رہا تھا میں تو راج کا لن دیکھ کر حیران ھو گئی نو انچ کا موٹا تگڑا لن تھا پتی کا لن چھوٹا چھ انچ کا تھا راج کا لن دیکھ کر میں من میں بولی راج کا تو اپنے پاپا سے بڑا ھے اس کا مطلب ھے راج بڑا ھو گیا ھے اور مجھے راج کا لن اتنا پسند آیا کے میں گرم ھو گئی پھر  میں آکر پتی کو گرم کیا چدائی کی پھر سو گئی اور نیند آگئی پھر صبح راج کالج چلا گیا پھر پتی بھی چلا گیا میں سوچنے لگی کہ اب وہ وقت آگیا ھے اب راج جوان ھو گیا تو آج رات کو راج سے راج کروں گی😊


میں یہ سوچتی بہت گرم ھو گئی اور چوت کے بال صاف کیا راج کیلئے کھانا بنایا راج کیلئے تیار ھوئی میکپ کیا اور ننگی نائٹی پہن لی میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹا جارہا تھا تو میرا راج بیٹا کالج سے گھر آیا میں اکیلی تھی راج نے میری تعریف کی اور پوچھا ممی پایا کہاں ہیں۔ میں نے کہا، "بیٹا، تمہارے پاپا نہیں ہیں، وہ واپس چلا گیا ھے میں لمبے صوفے پر بیٹھ کر راج سے کہا یہاں بیٹھو۔"


راج میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں نے کہا، "راج، تم بڑے ہو گئے ھو، تمہیں کچھ چاھیئے کیا؟"


راج میرے بڑے مموں کو دیکھ کر شرما گیا، لیکن میں بہت گرم تھی اس گرمی نے مجھے حوصلہ دیا۔ میں نے راج کو اپنے قریب ھونے کو کہا قریب ھوا تو میں نے کہا، "راج، تم کتنے بڑے ہو گئے ہو، مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔"


راج میری باتوں سے شرما گیا اور کہا، "ممی، آپ تو میری ممی ہیں، آپ مجھ سے ایسے باتیں کر رہی ہیں۔"


میں نے کہا، "راج، میں تمہاری ممی ہوں، لیکن تمہارے لئے میری محبت صرف ممی کی نہیں، بلکہ ایک عورت کی بھی ہے۔"


راج میری بات سن کر چونکہ اور کہا، "ممی، آپ کیا کہہ رہی ہیں؟" میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا 


میں نے کہا، "راج، میں کہہ رہی ہوں کہ تم میرے لئے بہت خاص ہو، اور میں تمہیں اپنے قریب رکھنا چاہتی ہوں۔"


راج میری باتوں کو غور سے سن رہا تھا راج میرے اور قریب ہو گیا۔ میں نے راج بیٹے کو اپنی بانہوں میں بھر کر گلے لگایا اور راج کو چومتی کہا، "راج بیٹا، تم میرے لئے سب کچھ ہو۔" 


راج بھی مجھے چومنے لگا اور کہا، "ممی، میں بھی آپ کو بہت پیار کرتا ہوں۔"


میں راج کے چہرے کو چومنے لگی اور میں نے کہا، "راج، تم بڑے ہو گئے ہو، اب تمہیں اپنی ممی کی ضرورت نہیں ہے۔"


راج نے کہا، "ممی، آپ کی ضرورت مجھے ہمیشہ رہے گی، آپ میری ممی ہیں۔"


میں نے راج کے ھونٹوں کو چوما اور کہا، "راج بیٹا، ابھی چل کر تم میرے ساتھ سو جاؤ، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔"


راج نے کہا ٹھیک ھے ممی چلیں اور ھم روم میں آئے میں لیٹ گئی راج بھی میرے ساتھ لیٹ گیا۔  میں نے راج کو اپنی باھوں میں بھر کر اپنے قریب کیا اور کہا، "راج بیٹا، تم میرے لئے سب کچھ ہو۔" راج کو اپنی بانہوں میں بھر کر چومنے لگی 


راج میرے ھونٹ چوم کر کہا، "ممی، میں آپ کو کتنا پیار کرتا ہوں۔" من کرتا ھے بس آپ کو پیار کرتا رھوں 


میں نے راج کو زور سے بانھوں میں دباکر چومتی ھوئی کہا، "راج بیٹا، میں بھی تمہیں بہت پیار کرتی ہوں۔" چلو پھر آج ھم ممی بیٹا پیار کریں 

 


میں اور راج ایک دوسرے کو چومنے لگے ، اور ہماری ممی بیٹے کی محبت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ 


میں نے راج کے منہ میں اپنا منہ دیا اور ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے راج کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا اور راج میری چڈی پر میری چُوت پر لن رگڑ رہا تھا ایک ہاتھ سے کبھی میری گانڈ کے ھیپ دباتا تو کبھی میرے مموں کو دباتا ھم ایک دوسرے کے ھونٹ زبان چوسے جا رھے تھے


میں نے کہا راج بیٹا: مجھے تو کل رات کو پتا چلا کے تم جوان ھو گئے ھو ) راج نے کہا وہ کیسے ممی ( میں نے کہا راج رات کو میں اور تیرا پاپا چدائی کر رھے تھے اور تم ہمیں چھپ کر دیکھ رھے تھے جب ھم فارغ ھوئے تو تم چلے گئے تھے 


راج نے کہا ہاں ممی میں دیکھ رہا تھا ( میں نے کہا میں تمہیں دیکھنے تیرے روم آئی تو دیکھی تم لن نکال کر مٹھ مار رھے ھو تمہارا اتنا موٹا لمبا لن دیکھ کر میں خود سے بولی میرا راج جوان ھو گیا ھے مجھے بہت خوشی ھوئی 


راج نے کہا ممی صرف اس رات نہیں میں آپ کو ہر رات دیکھتا ھوں جب تم نقلی لن سے سیکس کرتی تھی ممی مجھے آپ کا ننگا بدن بہت پسند ھے ( میں راج کو چوم کر کہا راج پھر ممی کی نائٹی اتار کر ممی کو جی بھر کر پیار کرو ( راج نے کہا ممی آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا راج میرے اوپر آکر میری نائٹی اتار کر میرے مموں کو چوسنے لگا میں راج کی چڈی میں ہاتھ ڈال کر لن سہلانے لگی راج نے چڈی اتار کر لن دیکھایا


میں راج کا لن ناپ کر دیکھی نو انچ لمبا تھا راج سے بولی راج تیرا لن بہت موٹا لمبا ھے تیرے پاپا کا چھ انچ ھے تمہارا نو انچ ھے راج کے لن کو چوسنے لگی اور بہت دیر تک چوستی رھی پھر بیٹے نے مجھے گھوڑی بناکر کر میری چُوت چاٹنے لگا پھر زبردست چدائی کی بہت دیر بعد میری گانڈ میں لن ڈال دیا مجھے شدید درد ھوا میری چیخ نکل گئی مگر پڑی رھی جب بیٹے نے گانڈ کے ساتھ میری چُوت کی چدائی کی پھر درد کا پتا نہ چلا اور میں مستی میں آگئی بیٹا فل جزبات سے چدائی کر رہا تھا میں مستی میں تھی پھر میرے بڑے مموں کو چودنے لگا پھر لیٹ گیا میں اوپر آکر چدائی کرنے لگی اور ایسی چدائی کی کے میں فارغ ھوئی تو بیٹا میری چُوت میں فارغ ھو گیا میں بیٹے کے اوپر لیٹ گئی 


اس کے بعد میں اور بیٹا ساتھ ننگے سوتے ہر روز رات کو بیٹا مجھے چدائی سے خوش کرتا بیٹے کا لن بہت مزے کا تھا 



ایک رات بیٹا اور میں چدائی میں بہت مست تھے بیٹا بہت زبردست چدائی کر رہا تھا اور مجھے بہت زیادہ مزہ آرہا تھا میں بیٹے کو اپنی سیکسی آوازوں سے اور مست کر رھی تھی میں بیٹے کے اوپر اپنی چُوت میں لن لےکر مست چدائی کر رھی تھی بیٹا میرے بڑے مموں کو چوستا دباتا میں بیٹے کو چومتی چدائی کر رھی تھی بیٹا میری چُوت سے لن نکال کر میری گانڈ میں لن ڈال دیتا میں مستی میں چدائی کرنے لگ جاتی بہت مزہ آرہا تھا اسی طرح راج کے ساتھ چدائی کرتی تین مہینے ھو گئے اور پریگننٹ ھو گئی پھر ابوشن کرایا


ایک رات راج میرے اوپر تھا اور میری چُوت میں لن ڈالے مجھے باھوں میں بھر کر چدائی کرتے کہا ممی وہ میرا دوست ارون میں بولی ہاں تیرا جگری دوست راج نے کہا ممی آرون آپ کو کیسا لگتا ھے🤭 میں نے کہا آرون اچھا ھے راج نے چدائی تیز کرنے لگا میرے مموں کو بہت دبانے لگا میں مستی میں راج کو چوم لیتی راج نے کہا ممی بس اچھا لگتا ھے میں بولی کیوں کیا بات ھے راج نے سلوسلو چدائی کرتے میرے چہرے کو چومتا کہا ممی آرون آپ کو بہت پسند کرتا ھے میں بولی اچھا پھر راج نے کہا ممی میں آرون سے وعدہ کیا ھے میں بولی کون سا وعدہ راج نے زبردست چدائی کرتے کہا تم سے ملانا ھے میں بولی کیا راج تو راج چدائی کرتے میرے منہ میں منہ دیا میں مستی میں راج کے ھونٹ زبان چوسنے لگی اپنے پاؤ راج کی کمر میں کر کے جھٹکے دینے لگی راج بھی جھٹکے والی مست چدائی کر رہا تھا پھر میرے مموں کو چوسنے لگا کہا ممی میں نے وعدہ کیا ھے میری خاطر میں بولی راج میں کیسے کر سکتی ھوں راج نے کہا ممی صرف ایک بار بس پھر راج نے مجھے اپنے اوپر کیا میں چدائی کرنے لگی راج بیٹے کو چومتی چوستی مستی میں چدائی کی راج نے مجھے باھوں میں بھر چوم کر کہا ممی میں کالج جاؤں گا آرون آئے گا آپ کی مرضی ھے آپ میرے آنے کے بعد چاھوں تو آرون کو نہیں جانے دینا جب بولو گی چلا جائے گا میں بولی پھر ایک شرط پر راج نے کہا بولو میں بولی کالج سے آؤ گے تو ھم تینوں مل کر ایک ساتھ کرینگے راج نے کہا ہاں ممی میں بھی یہی چاہتا تھا کیوں نہ آرون کو ھم اپنے پاس رکھ لیں میں سلوسلو چدائی کرتی بولی پہلے ملنے دو پھر بتاؤں گی راج نے کہا ممی آرون کی معشوقہ تھی چھوڑ گئی میں بولی کیوں بولتی تھی چُوت پھاڑ دیتا ھے میں ہنس کر بولی پاگل تھی پھر میں فارغ ھوکر راج پر گر پڑی راج نے کچھ جھٹکے لگائے فارغ ھو گیا پھر راج نے آرون کو کال کرکے سات بجے آنے کو کہا یہ بتایا کہ  ممی مان گئی ھے پھر راج اور میں پھر چدائی کرنے لگے راج نے کہا ممی آرون تم سے بہت محبت کرتا ھے اسے محبت سے پیش انا میں بولی تم فکر نہ کرو پھر ھم سو گئے صبح میں اٹھ کر تیار ھوکر ناشتا بناکر راج کو اٹھایا پھر آرون آیا راج اندر لایا ھم تینوں نے ناشتہ کیا راج کالج چلا گیا میں برتن دھونے لگی آرون کرسی سے اٹھ کر مجھے پیچھے سے باھوں میں بھر کر چومتا کہا سیتا تم بہت خوبصورت ھو تمہارا فگر لن کھڑا کر دیتا ھے میری گانڈ پر آرون لن رگڑ رہا تھا میں آخری پلیٹ دھوکر سیدھی ھو کر آرون کو باھوں میں بھر کر منہ میں منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے آرون میری گانڈ کے ھیپ دبانے لگا میں نے آرون کی پینٹ سے لن نکال لیا آرون کا لن آٹھ انچ تگڑا موٹا تھا میں خوش ھو کر لن کی تعریف کی پھر نیچے بیٹھ کر لن چوسنے لگی آرون کی پینٹ اتار دی آرون نے میری نائٹی اتار کر مجھے کھڑا کیا اور دیکھ کر تعریف کی مجھے آرون بہت پسند آرہا تھا پھر آرون کو میں روم میں لائی آرون میری چُوت چاٹتے تعریف کرنے لگا پھر چدائی کی میں اتنی فل مستی میں تھی کے پتا نہ چلا کے راج کالج سے گھر روم میں آیا اور ہمیں چدائی میں مست دیکھا مجھے چومنے لگا آرون میرے مموں پر فارغ ھوا تو راج نے میری چُوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا میں تو مست تھی پھر آرون نے میرے مموں سے لن کا پانی صاف کیا اور میرے مموں کو چوسنے لگا راج زبردست چدائی کر رہا تھا اور راج میری چُوت میں فارغ ھوا پھر ھم نے دوپہر کا لینچ کیا پھر ھم تینوں شروع ھو گئے دو مرد دو لن اف میں مستی میں تھی راج سے بولی تم نے مجھے بہت خوشی دی ھے آج سے آرون ہمارے ساتھ رھے گا اس کے بعد میں تو راج آرون سے بہت مزے کرتی اورن میری گانڈ کا دیوانہ تھا راج اور آرون ایک ساتھ میری چُوت گانڈ میں لن ڈال کر چدائی کرتے تو میں بہت مست ھو جاتی اسی طرح کچھ دن گزرے تو اچانک پتی آگیا کسی کام سے کہا کچھ دن رھے کر جاؤں گا آرون کا پوچھا تو راج نے کہا میرا دوست ھے ابھی یورپ جانے والا ھے اس لیئے ابھی میرے ساتھ رہتا ھے پتی کے آنے سے میں تو زیادہ مزے میں آگئی ایک گھر میں تین لن اف پتی چدائی کرکے سو جاتا میں راج کے روم میں آتی راج آرون دونوں زبردست چدائی کرتے میں دونوں کو فارغ کرتی کبھی دونوں کے لن کا پانی پیتی پھر


پتی کو گانڈ دی


دوسری رات پتی مجھے گھوڑی بنا کر چدائی کر رہا تھا تو میں نے ہاتھ پیچھے کرکے پتی کے لن کو اپنی چُوت سے نکال کر اپنی گانڈ میں لن ڈال کر بولی تیز تیز چودو تو پتی زبردست رفتار اور جھٹکوں سے میری گانڈ چودتے کہا گانڈ بھی کھلوا لی ھے میں مسکرا کر بولی اور تیز کرو پتی اور تیز چدائی کرنے لگا اور میری گانڈ میں فارغ ھو گیا پھر پتی نے مجھے باھوں میں بھر کر پیار کرتے کہا سچ بتانا آرون سے گانڈ کھلوائیں ھے میں بولی نہیں وہ تو راج کا دوست ھے ابھی آیا ھے چلا جائے گا تو پتی نے کہا پھر کس سے کھلوائیں میں مسکرا کر بولی بتاؤں گی تو تم برا نہ مان جاؤ پتی نے کہا کہے تم نے راج میں مسکرانے لگی کہا راج سے میں بولی ہاں راج سے پتی نے کہا واہ یہ تو اچھی بات ھے کب سے شروع کیا میں بولی چھ مہینے ھو گئے پتی نے کہا پریگنٹ ھوئی میں نے کہا ہاں دو بار ابوشن کرانا پڑا پتی نے کہا پاگل اب پریگننٹ ھو تو پیدا کر لینا لیکن صرف راج کے ھو باقی تمہاری مرضی میں بولی ٹھیک ھے پتی نے کہا چدائی تو اچھی کرتا ھے میں بولی ہاں مجھے چھوڑتا ھی نہیں پتی نے کہا راج کی صحت کا خیال بھی رکھنا میں بولی دیکھو راج صحت مند ھے راج کی بیوی راج سے خوش رھے گی 


 پھر کچھ دن رھے کر چلا گیا پھر ھم تینوں مل کر سونے لگے جب راج کالج جاتا تو آرون بہت چدائی کرتا میں بھی آرون کو فل مزے دیتی ایک رات کو آرون مجھے گھوڑی بنا کر چود رہا تھا اور راج میرے آگے تھا میں راج کا لن چوس رھی تھی راج نے کہا ممی نیشا آگئی ھے بولو تو کل لائیں میں بولی نیشا تم دونوں سے کرتی ھے راج نے کہا ہاں نیشا اصل میں لیسبن ھے میں بولی اچھا تو پھر اسے لاؤ ایسا مزہ اسے کہیں نہیں ملا ھوگا جیسا تم دونوں میں ھے پھر دوسرے دن شام کو نیشا کو راج لےکر آیا نیشا کیوٹ لڑکی تھی ممے بھی مست تھے مجھے دیکھ کر تعریف کرتی مجھے چومنے لگی راج آرون ہمیں چومنے لگے نیشا نے راج سے کہا تم نے ممی کو بتایا میں نے کہا کیا راج نے کہا ممی وہ نیشا پہلے آپ سے سیکس کرنا چاہتی ھے میں نیشا کو چوم کر بولی ٹھیک ھے تو راج نے کہا ھم دونوں رات کو آئینگے تم مزے کرو پھر دونوں چلے گئے 🔥 نیشا نے کہا روم میں چلیں پھر ھم روم میں آئی پہلے تو ھم نے سیکس کیا پھر باتیں کرنے لگی میں پوچھی تم آرون سے پیار کرتی ھو بولی نہیں تو آپ کو کس نے کہا میں بولی کے راج نے کہا آرون کے سامنے نیشا بولی میں تو راج سے پیار کرتی ھوں ہاں سچ ھے کے میں آرون کی دوست ھوں لیکن پیار تو میں راج سے کرتی ھوں تم راج کی ممی ھوں راج نے بتایا کے وہ ممی کو چودتا ھے میں بھائی سے کیا تھا یہ بات صرف راج اور اب آپ کو پتا ھے پھر راج نے اپنی ممی کا بتایا کے چدائی کرتا ھوں ممی بہت مست ھے بہت مزہ آتا ھے بس آپ کی باتیں سن کر راج مجھے بہت پیارا لگا اور ھم نے کر لیا پھر راج نے آرون کا کہا تو میں نے شرط آپ سے ملنے کی رکھی 

پھر راج اور آرون آگئے پھر ھم چاروں نے مل کر ایک بیڈ پر خوب چدائی کی پھر میں نے پوچھا تو بتایا آرون نے بتایا کے وہ کل یورپ چلا جائے گا پھر صبح راج نیشا کو لےکر چلا گیا میں اور آرون نے بہت چدائی کی میں بولی تم پھر کب آؤگے آرون نے کہا اب شادی کرکے آؤں گا پھر آرون چلا گیا رات کو راج آگیا راج اور میں چدائی کر رھے تھے تو راج کو بولی مجھے بچہ دو پھر مجھے دوسرے دن پیریڈ آگئے پھر راج نیشا کو لایا پھر کچھ دن مجھے پیریڈ آئے تو راج نیشا کو لایا نیشا بھی بہت سیکسی تھی راج کالج گیا تھا نیشا اور میں کچھ میں ننگی چومتی چوستی کھانا بنا رھی تھی میں بولی عورت کا سیکس سے کہا بولی میں ھوسٹل پڑھتی تھی روم میٹ مجھے سیکھایا اس کے بعد کبھی ھم بہت لڑکیاں روم میں سیکس کرتی جس میں ٹیچر گرل بھی ھوتی میری روم میٹ کوشلیا تو پرنسپل سے چدائی کرتی چوت گانڈ مرواتی ایک رات اس روم میں پرنسپل کو روم میں بلا لیا ننگے ھو گئے میں بھی ساتھ شروع ھو گئی اور چوت گانڈ کی سیل کھلوا کر بہت مزے کرتی پھر گھر آئی تو ایک رات بھائی نے مجھے ننگی سیکس کرتے دیکھا تو ننگا میرے روم میں آیا اور ھم نے چدائی کی بس یہ ھوا نیشا مجھے چومنے لگی بولی راج سے شادی کرا دو ھم راج کو بیچ میں سلاؤں گی میں بولی میرا پتی تمہاری چدائی کرے تو بولی آپ خوش تو کوئی بات نہیں ورنہ کبھی نہیں میں نیشا کی شادی کا مان گئی پھر میں پریگننٹ ھو گئی اور بچہ ھونے کے بعد راج نیشا کی شادی کر دی پھر پریگننٹ ھو گئی راج اور نیشا مجھے بہت پیار کرتے ہیں 


مزید آگے کیلئے کمنٹ کریں