Tuesday, December 30, 2025

بیٹی تین مہینے کی پریگننٹ تھی

 بیٹی تین مہینے کی پریگننٹ تھی


بیٹی سے میں پوچھی کے کس نے پریگننٹ کیا ھے بولی ابو نے مجھے شوہر پر بہت غصہ آیا من میں بولی رات کو اب میں بھی بیٹے سے کروں گی شوہر کو ایسا نہیں کرنا چاھیئے تھا 


ویسے بھی میرا بیٹا مجھے بہت گرم رکھتا تھا کچن میں مجھے چھوڑتا نہیں تھا اپنا لن رگڑتا رہتا اور میرے بڑے مموں کو دباتا بانھوں میں بھر کر دباتا مجھے چومتا میں بیٹے کا چڈی پر لن پکڑ لیتی اور مٹھ بھی مار دیتی جب شوہر رات کو گھر نہیں ھوتا تو بیٹا میرے روم میں آجاتا اور مجھے بہت مست کر دیتا بیٹا میرے ساتھ سو جاتا جب بیٹا میرے ساتھ میرے روم بیڈ پر ھوتا تو کبھی بیٹا مجھے اپنے اوپر کرتا کبھی مجھے نیچے کرتا کبھی میری ٹانگیں اوپر کر کے شلوار پر میری چُوت پر لن رگڑتا میں


اوپر ھوتی تو بیٹے کے لن پر اپنی چُوت بہت رگڑتی اور میں بیٹے کو چومتی بیٹے کے ھونٹ زبان چوستی بیٹے کو صرف کپڑوں کے اوپر اوپر سب کچھ کرنے دیتی بیٹا میری شلوار پر میری چُوت بہت چاٹتا چومتا قمیض پر میرے مموں کو بہت دباتا چومتا میرے چہرے کو چومتا میرے ھونٹوں کو چوستا میری زبان چوستا میں فارغ ھو جاتی میری شلوار گیلی ھو جاتی پھر بیٹا کبھی چڈی اور برا تب پہنتی جب بیٹا بہت گرم ھوتا یا میں گرم ھوتی بیٹا مجھے الٹا کر دیتا 


اور میری موٹی گانڈ کے موٹے ھیپ میں لن رگڑتا جب کبھی میں بہت گرم ھوتی تو بیٹے کو پتلی چڈی پہنے کو بولتی اور چڈی کے ساتھ بیٹے کے لن کو منہ لےکر چوستی بیٹا فارغ ھوتا تو لن کا پانی چڈی سے باہر نکلتا تو میں سارا پی جاتی 


 مجھے شوہر پر غصہ اس لیئے تھا کے شوہر سے میری بات یہ ھوئی تھی کے شوہر جب بیٹی کی چدائی کرے گا تو مجھے بتا کر کرے گا اگر میں بیٹے سے چدائی کروں گی تو شوہر کو بتا کر کروں گی مگر شوہر نے کر لیا مجھے غصہ اس بات کا تھا آج ویسے بھی ماں کا دن 


تھا اور میں بیٹے کو گفٹ میں چدائی سے خوش کروں پھر رات کو بیٹا میرے روم میں آیا اور مجھے ایک نائٹی گفٹ کی ساتھ میں کارٹ بھی تھا بولا امی ھیپی مادرس ڈے ھے تو آپ میرے لیئے یہ پہنو گی میں 


بولی کیوں نہیں ابھی پہن کر آتی ھوں میں واشروم جاکر پہنی میرا سارا بدن ننگا آرہا تھا میں باہر آئی بیٹے نے دیکھ کر تعریف کی مجھے چومنے لگا مموں کو دبایا پھر بولا امی وہ کارٹ پڑھو میں کارٹ اٹھاکر پڑی لکھا تھا امی آپ کو ماں کا 


دن مبارک ھو کیا ھم کپڑے اتار کر کرسکتے ہیں میں مسکرا کر بولی اف میرا بیٹا جو کرنا ھے کر لو پھر پھر بیٹے نے مجھے چومتے چومتے ننگا کر دیا مجھے چومتا دباتا ھوا میری چُوت چاٹنے لگا میں بہت گرم ھو گئی اور بیٹے کا لن چوسنے لگی پھر میں گھوڑی بنی اور بیٹا چدائی کرنے لگا میں چار بار فارغ ھوئی بیٹا دو بار فارغ 


ھوا اس کے بعد بیٹا اور میں روز روم میں چدائی کرتے کچن میں مجھے چھوڑتا نہیں تھا بس چدائی کرتا رہتا ایک دن کچن میں بیٹی آئی بہت گرم تھی اور بھائی سے لیپٹ گئی بولی مجھے چدائی کرنی ھے میں بولی تم روم میں چلے جاؤ 


میں کھانا بنالوں پھر بیٹا بیٹی روم چلے گئے کھانا بن گیا تو دونوں آگئے بیٹا آتے ھی میری چُوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا میں بولی ابھی من نہیں بھرا بولا امی آپ سے نہیں بھرتا بہت مزہ ھے آپ میں پتا نہیں ابو آپ سے دور کیوں ھے میں بولی بیٹا وہ ھم سب کیلئے کمائی کرتا ھے تم 


ھو نہ میرے پاس بیٹا بولتا ابھی جو مزہ تجھ میں ھے پتا نہیں میری بہن میں نہیں ھے ایک مہنہ بیٹے سے چدائی کی پھر ماہواری شروع ھو گئی ختم ھوئی تو بیٹے کے لن سے پریگننٹ ھو گئی ایک ہفتہ ھوا تھا شوہر بھی آگیا میں شوہر پر بہت غصہ ھوئی کے تم نے بنا بتائے کیوں کیا یہاں تک کے 


اسے پریگننٹ کر دیا شوہر نے کہا یار پتا ھے کیا ھوا تھا اس رات تم سوئی تھی تو بیٹی ننگی آکر مجھے چومنے لگی میرا لن چوسنے لگی بولی ابو چدائی کرو میں نے کہا تمہاری امی کو بتائے بنا کیسے کروں مگر بیٹی گرم تھی بولی امی کو میں نہیں بتاؤں گی چدائی کرو میں نے کہا تیرے روم میں چلتے ہیں بس پھر سیل کھول کر چدائی کرتا رہا اور پریگننٹ 


ھو گئی شوہر نے کہا تم بیٹے سے کرلو میں مسکرا کر بولی کر لیا ھے جب پتا چلا بیٹی پریگننٹ ھے اسی رات کر لیا 


۔۔۔۔۔بقیہ حصہ کمنٹ کریں۔۔۔۔ 

شوہر ایک ہفتے کیلئے جارہا ھے تم آجایا کرنا

 شادی کرکے میں اپنے پتی کے ساتھ دوسرے شہر کے فلیٹ میں رہتی تھی سامنے نئی شادی شدہ میاں بیوی مسلم رہتے تھے ان کی شادی کو ایک مہنہ ھوا تھا اور ہم ایک دن پہلے آئے تھے یہاں پتا چلا پتی


بہت سیکسی ھے پتی نے روم میں پروجیکٹ لگایا ھوا تھا پتی مجھے ننگی فلمیں بہت دیکھاتا تھا پھر ھم ویسے کرتے جیسے فلم میں کرتے تھے 


ایک دن میں شاپنگ کرنے گئی بھوک لگی تو میں پیزہ لینے کھڑی تھی تو وہ سامنے والا آگیا مجھے کہا آپ ہمارے سامنے والے فلیٹ میں رہتی ھوں نہ میں بولی جی بلکل بولا میرا نام عامر ھے میں بولی 


میرا نام مادھوی ھے عامر نے میری تعریف کر دی اور ساتھ میں دوستی کرنے کا بھی بول دیا کے آرام سے سوچ کر بتانا میں شرم کے مارے پیزہ کھایا نہیں گھر لےکر آگئی سوچنے


لگی عامر کے بارے میں ویسے عامر صحت مند ھونے کے ساتھ کیوٹ بھی تھا مجھے پہلے سے اچھا لگتا تھا لیکن اب اس نے دوستی کا بول دیا میں تھوڑی پریشان ھو گئی کے آخر کیا کروں پتی ننگی فلمیں دیکھا کر مجھے گرم بہت کر دیتا تھا 


ایک رات شوہر نے بتایا کے وہ ایک ہفتے کیلئے باہر جا رہا ھے اپنا خیال رکھنا میں بولی جلدی آنے کی کوشش کرنا پھر لیٹ کر میری میں عامر کا سوچنے لگی صبح پتی آفس چلا گیا میں ڈور پر تھی اچانک 


عامر نکلا مجھے دیکھا میں نے آنے کا اشارہ کیا اندر آیا میں نے ڈور بند کیا پہلے نمبر سیو کیا میں بولی تین دن بعد شوہر ایک ہفتے کیلئے جارہا ھے تم آجایا کرنا عامر بولا میری بیوی بھی میکے جانا چاہتی ھے ایک ہفتے کیلئے میں اس دن اسے چھوڑ اؤں گا میں بولی ہاں یہ ٹھیک ھے میں نے عامر کو باھوں میں کر چومنے لگی بولی 


مجھے تم بہت پسند ھو عامر نے کہا مجھے تم بھی تم پسند ھو عامر میرے مموں کو نکال کر چوسنے لگا میں بولی عامر میں بہت گرم ھوں یار بولا پھر تو بہت مزہ آئے گا عامر بولا میری میٹنگ ھے میں بولی ٹھیک ھے پھر چلا گیا اف عامر کے ساتھ کچھ دیر میں اتنا مزہ 


آیا مجھے میں بہت خوش ھو گئی پھر پتی جانے والا تھا عامر اپنی بیوی کو چھوڑ کر آیا پتی بھی چلا گیا پتی کی فلیٹ اڑی تو مجھے کال پر بتایا پھر میں تیار ھو گئی اور


عامر کو میسج کیا کے آجاؤ پھر عامر نے میسج کیا ڈور کھولو میں عامر کو اندر لائی اور چومنے لگی عامر مجھے چومنے لگا پھر عامر کو اپنے روم میں لائی ھم بیڈ پر ایک دوسری کی باھوں میں لوٹ پوٹ ھو گئے اچانک پروجیکٹ کے رموز کے بٹن پر میرے ہاتھ سے دب گیا 


اور ننگی فلم چلنے لگی اف عامر نے مجھے بہت پیار کیا اور ننگی کر دیا پھر دبانے چومنے چوسنے چاٹنے لگا پھر میں عامر کا لن دیکھیں تو بہت لمبا موٹا تھا تب سمجھ آیا کے شوہر کا بہت چھوٹا اور پتلا ھے عامر کا لن دیکھ کر میں بہت گرم ھو گئی اور پتی کے سیوا عامر پہلا مرد تھا جس کا لن دیکھی میں لن چوستی ایک گھنٹہ لگی رھی مستی میں عامر فارغ نہیں ھوا پتی ھوتا تو چار پانچ بار فارغ ھو جاتا 


پھر عامر نے مجھے گھوڑی بنایا اور میری چُوت میں لن ڈالنے لگا بڑی مشکل سے عامر کا لن میری چُوت میں گیا پھر عامر نے ایسی چدائی کی کے میں فارغ ھو گئی پھر مجھے عامر نے سیدھا لیٹا کر چدائی کی پھر میں فارغ ھو گئی عامر نے مجھے اپنے وپر کیا میں تو پٹخ پٹخ کرکے چدائی کرنے لگی بہت دیر بعد فارغ ھو گئی عامر فارغ نہیں ھو رہا لن ایک دم ٹائٹ کھڑا تھا میں تو فل مزے میں تھی اور چدائی کرتے شام ھو گئی عامر میری چوت میں فارغ ھوا لن کے پانی سے میری چوت بھر گئی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیکسٹ پارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سہلی سے پتا چلا کے میرا بھائی جوان ھو گیا ھے

سہلی سے پتا چلا کے میرا بھائی جوان ھو گیا ھے

میں اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں رہتی تھی میری امی ابو اور بھائی گاؤں میں رہتے میری شادی کو بارہ سال ھو گئے تھے پیسہ دولت سب کچھ تھا مگر چدائی کیلئے میں بہت ترس جاتی تھی کیونکہ شوہر تو پیسوں کے چکر میں بزنس کے کام سے ہمشہ ملک سے باہر رہتا 


 اور میں گھر میں اکیلی رہتی تھی یہاں میری ایک لڑکی دوست بن گئی تھی جس کے ساتھ میں اپنا وقت گزارتی تھی ہماری گہری دوستی بھی ھو گئی تھی ایک دن سہلی کو 


میں بولی یار تم کو تو پتا ھے میرا شوہر ملک سے باہر رہتا ھے میں بہت چدائی کیلئے ترس گئی ھوں اور بہت گرم رہتی ھوں اور چدائی کیلئے ترستی ھوں میرا بچہ بھی نہیں ھے جس کے وقت پاس ھوتا یار تم مجٹکوئی لڑکا دوست بنا دو تو


سہلی  بولی ارے یار یہ کیا بات ھے پھر سہلی نے اپنے دوست کو ایک رات میرے گھر بھیج دیا ساری رات میں لڑکے کے ساتھ چدائی کرتی رھی پھر دوسرے دن دوسرا لڑکا تیسرے دن تیسرا لڑکا اور اس طرح ایک کے بعد ایک ہر نیئو لڑکے سے چدائی کرنے لگی اور اسی طرح مجھے چدائی کرتی ایک مہنہ ھوگیا کبھی کوئی نہیں ملتا تھا جب کوئی نہیں ملتا تھا تو میں بہت گرم ھو جاتی 


ایک ہفتے بعد سہلی کو کوئی لڑکا ملا تو مجھے بولی لڑکا بھیج دوں میں بولی ہاں یار بہت گرم ھوں پھر رات کو لڑکا آیا میں لڑکے کے ساتھ ننگی تھی اور ھم ایک دوسرے کو چوسنے چاٹنے مست ھو گئے اور میرے فون پر بار بار کال آرھی تھی اور میں بلکل مستی


 میں تھی اور فون بہت بجتا رہا آخر میں تنگ ھوکر فون اٹھا کر ھیلو کیا تو آگے کوئی آدمی بولا کے آپ کے ابو اور امی کی ایسیڈنڈ میں موت ھو گئی ھے اور آپ کا دس سال کا بھائی بھی بہت زخمی حالت میں ھے یہ سن کر میرے تو پاؤں تلے


زمین نکل گئی میں جلدی سے فلیٹ سے گاؤں گئی اور بھائی کو دیکھی بھالی بہت زیادہ زخمی تھا امی ابو مر گئے تھے امی ابو کو دفناکر بھائی کو اپنے گھر لائی میرا چھوٹا بھائی بہت پیارا تھا میں بھائی کا بہت خیال رکھتی اسکول پڑھاتی میری کوئی اولاد بھی نہیں تھی اب صرف میرا بھائی تھا اور بھائی کا میرے سوا کوئی نہیں تھا اور پھر بھائی 

جوان بھی ھو رہا تھا اور جب 


کوئی مجھے لڑکا مل جاتا تو میں چدائی بہت کرتی تھی میری دوست لیسبن تھی میرے ساتھ سیکس بھی کرتی تھی میری دوست نے ایک دن بتایا کے وہ اپنے بیٹے کا لیتی ھے میں سن کر بولی تو بہت مزے کرتی ھے اسی طرح وقت 


گزرتا چلا اور میرا بھائی چودا سال کا جوان ھو گیا صحت مند بھی تھا مجھے چدائی کرنے کیلئے مرد نہیں ملتا تھا میں بہت گرم رہنے لگی ایک دن میری سہلی کچھ دیر کیلئے میرے گھر آئی اسے میں اپنی گرمی کا بتائی سہلی بولی 


تیرا بھائی گھر میں جوان ھے تو کیوں تڑپتی ھے اپنے بھائی سے کر میں بولی تم کسی طرح سے بھائی کا بتاؤ کے اس کا کتنا بڑا ھے اور ٹائمنگ کیا ھے دوست بولی یہ تو میں بتا دوں گی پھر کچھ دن بعد میری سہلی گھر آئی بولی میں اپنی


 بیٹی کو بولی کے تمہارے بیٹے کو چدائی کیلئے بلائے وہ آیا دونوں چدائی کرنے لگے میں صرف تیسرے بھائی کا لن دیکھنے کیلئے اندر آئی تو مجھے بھی تیرے بھائی نے چود دیا سہلی بولی یار تیرے بھائی کا لن بہت بڑا ھے اور موٹا بھی بہت ھے اور ٹائمنگ تو بس نہ پوچھو وہ تو فارغ ھی نہیں ھوتا بس تیرے بھائی کو بڑی مشکل سے فارغ کرنا پڑتا ھے اور ھم ماں بیٹی پر تمہارا بھائی بھاری پڑ گیا تھا پھر سہلی بولی یار میں تو کہتی ھوں تم اپنے بھائی سے کر لو کسی اور کی ضرورت ہے ھی تمہیں نہیں رھے گی دیر نہ کر ایسا نہ ھو تیرا بھائی کسی لڑکی کے پیار میں نہ پڑ جائے پھر میری سہلی چلی گئی میں


سہلی کی باتیں سن کر میں بہت گرم ھو گئی اور سوچی کیوں نہ آج رات کو بھائی سے چدائی کر لیتی ھوں پندرہ دنوں سے کوئی لڑکا نہیں ملا تھا میری چُوت کے بال بھی بڑے ھو گئے تھے چُوت کے بال 


صاف کرنے لگی میری چُوت میں بہت گرمی ھو گئی تو میں اپنی چُوت میں انگلی کرتی چُوت کے بال صاف کیئے پھر میں میکپ کرکے ننگی نائٹی پہن لی اور کھانا گرم کرنے لگی 


بھائی کو کھانے کیلے آواز دی بھائی آیا تو مجھے ننگی نائٹی میں دیکھنے لگا اور میری تعریف کی میں بولی مجھے تو سہلی سے پتا چلا کے میرا بھائی جوان ھو گیا ھے بھائی نے کہا کون ماں بیٹی میں بولی بھولا نہیں بن سچ بتا لڑکی کا نام لےکر بولی تم اس کے گھر میں اس کی چدائی کر رھے تھے اس لڑکی کی ماں تمہارا دیکھنے آئی تم نے اسے بھی چود دیا بھائی بولا وہ اچھا ہاں آپی میں بہت گرم ھو گیا تھا میں بولی وہ بول رھی تھی تم مشکل سے فارغ ھوتے ھو


کہا پتا نہیں آپی میں بولی اچھا ٹھیک ھے دیکھو تمہارا بہنوئی تو ھوتا نہیں ھے میں باہر منہ مار مار کر تھک گئی ھوں کبھی کوئی ملتا بھی ھے 


تو مشکل سے بھائی کو بولی میں سوچ رھی تھی تم سے اب کیا کروں گی اب کسی اور سے نہیں کروں گی بھائی تو سن کر بہت خوش ھو گیا پھر میں بھائی کو چومنے لگی اور بھائی مجھے گھوڑی بنا کر چدائی کرنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا بہت دیر بعد میں فارغ ھو گئی پھر بھائی مجھے روم بیڈ پر لایا اور چدائی کرنے لگا بہت دیر بعد پھر میں فارغ ھو گئی اف مجھے تو ایسا لن چاہیئے تھا جو فارغ نہ ھوتا ھو


میں تین بار فارغ ھو گئی مگر بھائی ٹس سے مس نہ ھوا چدائی کرتا رہا میں بولی مجھے بھوک لگی ھے کھانا کھاکر پھر کریں بولا ٹھیک ھے


کھانے کے بعد پھر صبح کے دس بج گئے بھائی دو بار میری چُوت میں فارغ ھوا پھر ھم سو گئے اور دن کے تین بجے اٹھے بھائی کا لن فل کھڑا تھا میں آرام سے اوپر آکر اپنی چوت میں لن لےکر سلوسلو چدائی کرتی بھائی کو چومنے لگی بھائی جب جاگا تو میں بولی اجاؤ کچن میں تم چدائی کرنا میں ناشتہ کھانا بناؤں گی 


پھر کچن میں چدائی کرتی ناشتہ بنایا کھاکر میں بھائی کو روم لائی زبردست چدائی کرکے میں آکر کھانا بنانے لگی بھائی فارغ نہیں ھوا تھا بھائی کا لن کھڑا رہتا اور میری چدائی کرتا رہتا کچھ دن بعد مجھے ماہواری شروع ھو گئی پھر ختم ھوئی چدائی کی تو میں پریگننٹ ھو گئی میں بہت خوش ھو کر بھائی کو بولی تیرے بچے کی ماں بننے والی ھوں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی نیکسٹ پارٹ۔۔۔۔۔۔۔

پتی نے کہا تم اپنی دیدی سے بھانجے کی بات کرو

 میرے پتی نے کہا تم اپنی دیدی سے بھانجے کی بات کرو


میری شادی کو دس سال ھو گئے بچہ نہیں ھوا پتی نے اپنا اور میرا ٹیسٹ کرایا تو پتی مجھے بچہ نہیں دے سکتا تھا 


مگر پتی چدائی بہت کرتا تھا میں جب کنواری تھی تو مجھے ننگی فلمیں دیکھاتا تھا شادی کے بعد بھی ھم ننگی فلمیں بہت دیکھتے تھے زیادہ تر فیملی چدائی کی فلمیں دیکھتے تھے اسی طرح دس ھو گئے مگر بچہ نہ ھوا تو شوہر اور میں نے ٹیسٹ کرایا تو پتی میں خرابی تھی پتی کو بولی کے مجھے بچہ چاھیئے پتی نے


 کہا تم بتاؤ کیا کریں پھر میں بولی کسی سے دوستی کر لیتی ھوں پتی بولا یار میں نہیں چاہتا کے تم کو کوئی چودے میں بولی تم بتاؤ میں پتی کو بہت زیادہ خوش کرنے لگی سوچتی کسی نہ کسی کا تو لےکر رھوں گی کچھ دن بعد 


ایک رات چدائی کے دوران پتی نے کہا تم اگر باہر کرو گی تو بدنامی ھوگی ھو سکتا ھے کل کو وہ بلیک میل بھی کر سکتا ھے میں بولی تم بتاؤ پھر میں کیا کروں پتی نے کہا میرے پاس ایک آئیڈیا ھے اس سے بدنامی بھی نہیں ھوگی اور گھر کی بات گھر میں رھے گی میں بولی بتاؤ پھر مجھے بتاؤ


پتی نے کہا تم اپنی دیدی سے میری اپنی اور بھانجے کی ساری باتیں کھل کر بتاؤ نہ مانے تو پاؤں پڑ جاؤ آنسوں تک نکال کر رو دو پھر مان جائے گی دیکھو اس طرح بھانجے سے تم کرو گی تو گھر کی بات گھر میں رھے گی اور میں بولی ٹھیک ھے میں منوا کر رھونگی 


پھر شوہر نے مجھے ننگی نائٹی لےکر دی بولا کے جب بھانجے کو لائیں گے تو یہ پہن لینا اور اور رات کو کام کر لینا میں بولی اتنا جلدی بولا اور کیا سب ھم نے تیاریاں کی اور


 گاؤں آئے سب سے ملی بھانجے کو دیکھ دیکھ کر میں بہت گرم رھی پھر رات کو سب کھانا کھا کر چلے گئے میں اور دیدی بیٹھی باتیں کر رھی تھی 


میں دیدی سے کہا دیدی ہماری شادی کو دس سال ھو گئے ہیں مگر بچہ ابھی تک نہیں ھوا پھر پتی اور میں ٹیسٹ کرایا تو پتی مجھے بچہ نہیں دے سکتا میں تو بہت پریشان ھوں


پتی سے بولی کے میں کسی سے دوستی کرتی ھوں بچہ مل جائے گا مگر پتی نہیں مانتا

دیدی میں رونے لگی ساتھ میں دیدی کی بھی آنکھیں بھر گئی 


میں بولی دیدی بس اب میں ساری امیدیں آپ سے لگا کر آئی ھوں دیدی بولی اس میں تیری میں کیا ھیلپ کر سکتی ھوں میں بولی آپ ھی ہیں جو سب کچھ کر سکتی ہیں مجھے بچہ ھو جائے دیدی بولی اچھا بولا مجھے کیا کرنا ھوگا میں بولی اپنے چھوٹے بیٹے کو میرے ساتھ بھیج دو دیدی بولی یار وہ ابھی بچہ ھے


 میں نے دیدی کے پیر پکڑ کر رونے لگی بولی دیدی پلز مان جاؤ اس طرح گھر کی بات گھر میں رھے جائے گی پھر دیدی بولی اچھا ٹھیک ھے پر خیال رکھنا میں بولی میں سینے سے لگا کر رکھوں گی دیدی بولی وہ تو رکھے گی کمزور نہ ھو جائے میں یہ بول رھی ھوں میں بولی دیدی آپ فکر نہ کریں میں پورا اپنے بھانجے کا خیال رکھوں گی دیدی بولی 


ایک راز کی بات بتاؤں میں بولی ہاں بتاؤ دیدی آٹھ کر میرے ساتھ بیٹھ کر بولی یہاں نہیں دوسرے روم میں چل کر بتاتی ھوں میں بولی دیدی مجھے لگتا ھے آپ کا موڈ بن گیا ھے دیدی بولی یار پھر تم چلی جاؤ گی میں بولی ہاں


پھر ھم دوسرے روم میں آئیں دیدی نے ڈور لاک کیا ھم بیڈ پر بیٹھیں میری دیدی مجھے اپنی بانھوں میں بھر کر چومنے لگی میرے مموں کو دبانے لگی میں دیدی کو چومتی بولی بتاؤ تو


دیدی بولی یار میرے بیٹے کا لن بہت زیادہ لمبا اور موٹا ھے میں بولی سچی بولی ہاں یار میں بولی دیدی تم نے دیکھا کیا بولی ہاں میں بولی کیسے دیدی بولی ایک رات میں بیٹے کے پاس سے گزری سوچی دیکھوں سو رہا ھے یا جاگ رہا ھے میں آرام سے ڈور کھول کر۔دیکھی تو بیٹا لن نکال کر مٹھ 


مار رہا تھا اور موبائل پر ننگی فلم دیکھ رہا تھا میری اف نکل گئی دیدی کے بڑے مموں کو دباتی میں دیدی سے بولی چدائی کی دیدی بولی یار بیٹا ھے میں بولی لن پسند آیا دیدی بولی پسند تو بہت آیا میں اف کہے کر دیدی کی نائٹی کی ڈوری کھول دی دیدی بولی مگر بیٹا ھے کیا کر سکتی تھی دیدی میرے مموں کو نائٹی سے نکل کر دباتی مجھے بولی خیال رکھنا کہیں تیری چوت پھٹ نہ جائے ہنسنے لگی میں 


بولی اف دیدی پھٹتی ھے تو پھٹنے دے دیدی بولی جا اب جاکے مزے کرنا دیدی نے اپنی نائٹی اتار کر میرے مموں کو چوسنے لگی میں بولی دیدی ججو چدائی کیسی کرتا ھے دیدی بولی یار پہلے فارغ ھو


 جاتا ھے میں بولی پھر کیسے پانی نکالتی ھو دیدی مسکرانے لگی میں دیدی کی چُوت کے آس پاس چومنے لگی دیدی اف سی کرتی بولی کوئی اور بھی ھے میں بولی بتاؤ کون ھے دیدی مجھے اپنے بڑے مموں کو چسوانے لگی اور دیدی بولی


         دیور سے چدائی 


 کرتی ھوں میں بولی واہ رے دیدی تیرے تو مزے ہیں میں دیدی کو بانھوں میں بھر کر دیدی کو نیچے کرکے میں دیدی کے اوپر آگئی اور میں نے اپنی نائٹی اتار کر دیدی کے بڑے مموں کو دباتی بولی دیدی کیسے ھوا یہ سب دیدی کے بڑے مموں کو چوسنے لگی 


دیدی بولی ایک رات دیور کی پتنی میکے گئی ھوئی تھی گھر میں دیور تھا تو میں  دیور کے روم میں ننگی اندر آئی تو دیور سے بولی بہت پیاسی ھوں پھر دیور سے کیا بولی تین سال سے مجھے خوش کر رہا ھے میں دیدی کو چومتی پیٹ پر آئی


دیدی بولی ایک اور بھی ھے میں بولی اچھا کون ھے وہ دیدی میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی دیدی بولی نیچے جاؤ تھوڑا میں چومنے


لگی دیدی میرے چہرے پر ہاتھ پھیرتی بولی اس سے ابھی شروع ھوا ھے میں بولی کون ھے دیدی بولی وہ سسر ھے میں بولی سسر دیدی مسکرا کر بولی ہاں یار میں بولی دیدی کیسے ھوا یہ سب دیدی بولی 


سسر کی گرم مستیاں


بہت مزہ کرتی ہیں ایک رات مجھے سسر نے دیور کے ساتھ دیکھ لیا صبح کو میں کچن میں کھڑی ناشتہ بناتی سوچ رھی تھی کے رات کو دیور نے بہت اچھی چدائی کی میں کچن میں بہت گرم تھی کے سسر نے مجھے پیچھے سے بانھوں میں بھر لیا میں سمجھی دیور ھے سسر میرے بڑے مموں کو دباتے میری ھیپ 


میں لن رگڑنے لگا میرے گال چومنے لگا کچھ دیر بعد میں سیدھی ھوئی تو دیکھی پتا چلا کے یہ سسر ھے تو میں ہٹ گئی تو سسر نے پھر پکڑ لیا سسر کا لن ایک دم فل ٹائٹ کھڑا تھا مجھے بانھوں میں بھر چومنے لگا میں بولی چھوڑیں کوئی دیکھ لے گا مگر سسر فل مستی میں تھا میرے


میرے مموں کو نکال کر چوسنے لگا اتنی دیر میں ساس کے آنے کی آہٹ ھوئی سسر نے چڈی سے لن نکالا ھوا تھا چڈی میں لن اندر کرکے گلاس میں پانی بھرنے لگا ساس کچن میں آگئی سسر چلا گیا پھر دوپہر 


میں ساس سو گئی میں اس روم کی صفائی کر رھی تھی تو سسر آگیا میرے اوپر چڑھ گیا بولا بہو تم بہت ھوٹ ھو یار کپڑوں کے اوپر اوپر مجھے بہت گرم کر دیا پھر اچانک اپنے فون کی رنگ سن کر گیا


میں بہت گرم ھو گئی پھر شام کو سسر نے مجھے پکڑ لیا مجھے چومنے دبانے لگا پھر ساس کی آواز سن کر مجھے چھوڑ دیا پھر رات کو روم آیا


 سسر نے کہا رات کو میں نے تمہیں بیٹے کے ساتھ چدائی کرتی سب دیکھ لیا تھا پھر بولا میں تجھے خوش رکھوں گا مان جاؤ میں کچھ نہیں بولی پھر تم اگئے میں بولی میرے پتی سے کرو گی دیدی بولی مانے گا میں بولی کیوں نہیں مانے گا میں بولی دیدی جگہ ھے تو بتاؤ میں پتی سے بات کروں تو دیدی بولی ہاں یار جگہ تو ھے تم بات کرو پھر 


پتی ایر لائن کی تین ٹکٹ کرا کر آیا میں پتی کو دیدی سے چدائی کا بولی پتی ویسے میری دیدی کو پسند کرتا تھا تو سن کر بہت خوش ھو گیا پھر سارا دن دیدی میرے پتی سے چُدائی ھی کرتی رھی 


پھر میں کھانا گرم کر رھی تھی کے دیدی آگئی میں بولی دیدی مزہ آیا دیدی بولی ہاں یار بہت مزہ آیا دیدی کو بولی دیدی صبح کے چار بجے کی فلیٹ ھے دیدی ھم کو صبح جلدی اٹھنا ھوگا میں سو گئی


 صبح کو تین بجے تیار ھو گئے دیدی نے بتایا کے رات کو سسر نے مجھے گرم کر دیا اور میں نے بھی سسر سے چدائی کر لی


 پھر ھم ایئرپورٹ آئے اور صبح کو ھم دس بجے اپنے شہر میں بھانجے کے ساتھ اپنے گھر آئے اور دن کو ھم نے آرام کیا پتی نے چدائی کی اور مجھے کہا 


آج رات کو بھانجے سے کرلو اور چوت کے بال بھی صاف کرکے تیار ھوکر نیو والی نائٹی پہن لینا میں بولی ٹھیک ھے شوہر نے کہا کھانا باہر سے آڈر کرتے ہیں میں نے کہا ٹھیک ھے میں بہت گرم تھی دیدی نے بتایا تھا کے لن بہت موٹا لمبا ھے کھانا آیا پھر ھم نے کھانا کھایا


میں بھانجے سے بولی تم سونا نہیں چائے لاؤں گی ھم باتیں کرینگے بھانجا بولا ٹھیک ھے میں اپنے روم میں آکر تیار ھونے لگی اور چوت کے بال صاف کرکے ننگی بیٹھ کر میکپ کرنے لگی میری چُوت


 بہت زیادہ گرم تھی مث پتی کو دیکھی تو پتی دوسری طرف منہ کر کے لیٹا ھوا تھا میں نے کچھ دیر تیز تیز اپنی چوت میں انگلی کی مجھ سے برداش نہیں ھو رہا تھا تو میں جلدی سے میکپ کرکے ننگی نائٹی پہنی میرا سارا جسم ننگا بلکل صاف نظر آرہا تھا میں کچن آکر چائے بناکر بھانجے کے


ڈور کو کھول کر دیکھی بھانجا چڈی سے لن نکال کر موبائل پر کچھ دیکھتا ھوا لن کی مٹھ مارہا تھا بھانجے کا لن واقعی زیادہ لمبا موٹا تھا میں تو دیکھ کر بہت خوش ھو گئی کے بھانجہ تو پہلے سے گرم ھے ابھی میرا کام آسان ھو جائے گا میں اندر آئی تو مجھے دیکھ


کر بھانجے نے جلدی سے اپنے لن پر چادر ڈال کر پھر مجھے دیکھا میں بھانجے کو مسکراتی دیکھ کر آرھی تھی بھانجا تو بس مجھے دیکھتا رہا میں چائے کو ٹیبل پر رکھتی بولی روھیت کیا دیکھ رھے تھے بھانجا بولا کچھ نہیں وہ میں اور میں بھانجے کے ساتھ بیٹھ کر چادر پر بھانجے کے کھڑے لن کو پکڑ لیا بھانجا چونک گیا میں مسکرا کر لن کو


 مٹھ مارتی بولی تمہاری میں ھیلپ کر دوں بھانجے نے سر ہلا کر دبی ھوئی آواز میں کہا ہاں میں بولی چادر تو ہٹادو بھانجے نے جلدی سے چادر ہٹا دی چڈی میں بھانجے کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا میں اف کرکے پھر لن کو پکڑ کر بولی چڈی سے نکال لوں بھانجے نے ہاں میں سر ہلایا میں نے لن کو چڈی سے نکال کر دیکھی تو


 میرے پتی کے لن سے زیادہ موٹا لمبا لن روھیت کا تھا میں بولی تم نے لن تو بہت مزے کا رکھا ھے کیا میں چوس لوں بولا ہاں میں بولی آگے ھو جاؤ میں کھڑی ھوکر بال باندھنے لگی روھیت شرما رہا تھا میں بھانجے سے بولی روھیت یار


شرماؤ نہیں انجوائے کرو اور میرا ساتھ دو پھر میں نائٹی اتار کر ننگی ھو گئی بھانجے نے اف خالہ بول کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے اوپر گرایا میں بھانجے کے اوپر آگئی بھانجے نے مجھے بانھوں میں بھر کر چومتے کہا خالہ تمہارا فگر بہت ھوٹ ھے 


تم بہت خوبصورت ھو میں تو بہت گرم تھی اور بھانجے کو مستی میں چومنے لگی بھانجے کے لن کو بہت چوستی رھی پھر بھانجے نے میری چُوت بہت چاٹی پھر میں 


گھوڑی بن گئی بھانجا میری چُوت میں لن ڈالنے لگا لن میری چُوت میں نہیں جا رہا تھا بھانجے نے کہا خالہ ابھی تک سیل پیک ھو کیا میں نے کہا تمہارا موٹا ھے میری چُوت بچی ھے جوان کر دو میں نے بھانجے کو لوشن دے کر بولی


یہ لے دونوں پر لگاؤ تین گنوں گی تو ھم مل کر دھکا لگائیں گے بولا ہاں ٹھیک ھے پھر لوشن لن چوت پر لگا کر میری گرم چوت کے سوراخ پر لن کا ٹوپہ اندر کرنے لگا جب تھوڑا آگے گیا تو مجھ سے برداش 


نہیں ھوا دھکا لگانے کا بولی میں بولی ایک دو تین کہا تو ھم نے مل کر دھکا لگایا تو بھانجے کا لن پورا اندر چلا گیا اف پھر جو بھانجے نے چدائی کی مجھے بہت مزہ آرہا تھا بھانجے نے مجھے چار بار فارغ کیا اور خود دو بار فارغ ھوا جب دوسری بار فارغ ھوا تو 


میں نے بھانجے کے لن کا پانی پیا اس کے بعد ھم ننگے ساتھ میں سو گئے روھیت کے موٹے لمبے لن سے مجھے بہت مزہ آیا پھر صبح کو پتی کیلئے ناشتہ بنایا پتی کچن میں آیا پتی کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا پوچھا کے رات کو کام ھوا میں شرما کر بولی ہاں ھو گیا شوہر سن کر 


بہت خوش ھو گیا بولا میں کچھ دن بعد آؤں گا باہر جارہا ھوں میں بولی ٹھیک ھے پتی نے کہا بھانجے کو اتنا خوش رکھنا کے سب کو بھول جائے صرف تمہیں یاد رکھے میں بولی ایسا ھی ھوگا آپ فکر نہ کریں پتی بہت گرم تھا مجھے اپنی گود میں بیٹھنے کو کہا پتی نے لن اوپر کیا میں اپنی چُوت میں لن لےکر پتی کی گود


میں بیٹھ گئی اور پتی کو ناشتہ کرانے لگی ساتھ میں اوپر نیچے بھی میں جو رھی تھی پتی بولا اب تو تیرے مزے ہیں گھر میں دو لن سے مزے کیا کروں گی پتی نے ناشتہ کر


 کے مجھے اٹھاکر روم میں لایا اور زبردست چدائی کی پھر نہا دھو کر چلا گیا میں نہا دھو کر تیار ھو گئی گھر میں روھیت اور میرے سوا کوئی نہیں تھا میں میکپ کرکے ننگی کچن میں آئی اور بھانجے کیلئے ناشتہ بنانے لگی کچھ دیر بعد بھانجا چڈی پہنے کچن میں آیا 


مجھے ننگی دیکھ کر کہا خالو کہاں ہیں میں بولی وہ کچھ دن کیلئے باہر چلا گیا ھے بھانجے نے اپنی چڈی اتار دی اور مجھے پکڑ کر چومنے لگا 




کچھ دن بعد پتی آیا میں اور روھیت چدائی کر رھے تھے تو ڈور بیل بجی میں مستی میں تھی پھر فون کی رنگ بجی پتی کی کال تھی پتی نے کہا میں آگیا ھوں ڈور کھولو میں بولی آرھی ھوں کال اینڈ کی مگر روھیت چھوڑ نہیں رہا تھا


روھیت بہت گرم تھا بولا بس کچھ دیر کچھ دیر کرتے کرتے آدھا گھنٹہ ھو گیا میں اٹھنے لگی تو روھیت نے مجھے گھوڑی بنا دیا میرا بھی جانے کو من نہیں تھا باہر پتی ویٹ کر رہا تھا لیکن پتی نے نہ کال کی نہ گھنٹی بجائی بخارا ایک گھنٹہ باہر کھڑا رہا روھیت میری چُوت میں فارغ ھو گیا میں بولی باہر پتی کھڑا ھے 


رات کو کر لینا ابھی تمہارا خالو گرم ھوگا کر لے گا تو پھر تم کچن میں کرتے رہنا پھر ڈور کھولی پتی مجھے چومنے لگا 


بولا جلدی روم میں آؤ پھر میں گئی پتی نے زبردست چدائی کی فارغ ھوا تو کہا میں سو رہا ھوں رات کو جگانا کچھ دن بعد مجھے پھر دوسرے ملک جانا ھے سو گیا میں روھیت 


کے پاس آئی روھیت چدائی کرنے لگا روھیت جب چدائی کرتا تو پتا چلتا کے لن اندر باہر ھو رہا ھے روھیت کے لمبے موٹے لن سے مجھے بہت مزہ آتا 


پھر کچھ دن بعد میری چوت میں کپڑے آگئے میں نے روھیت کے لن کا پانی بہت پیا مزہ آیا پھر روھیت کے لن سے میں پریگننٹ ھو گئی روھیت کو ساری باتیں بتائیں کے تجھے کیسے ھم لائے پھر میں نے دیدی کو بتائی بولی میں ساتویں مہینے میں آؤں گی 


جب گھر میں پتی ھوتا تو میں دونوں سے مست چدائی کرتی شوہر بولتا لگتا ھے روھیت کا لن موٹا ھے میں بولی وہ کیسے کہا تیری چُوت بہت کھلی ھو گئی ھے میں مسکرانے لگی پتی نے کہا سچ بتا روھیت کا موٹا ھے نہ میں مسکرا کر بولی ہاں 


پتی نے کہا لمبا کتنا ھے تو میں بولی 9 انچ ھے بولا مزہ آتا ھے میں بولی بہت مزہ آتا ھے پتی نے کہا روھیت تمہارے بچوں کا پاپا ھے اسے دور نہیں جانے دی


پھر مجھے 7 مہنے ھوئے میرا پیٹ بڑا ھو گیا میری دیدی آگئی رات کو دیدی میرے پتی کے ساتھ سو گئی میں روھیت کے ساتھ سوتی تھی روھیت نے کہا ایک بات بتاؤں میں بولی ہاں بولا میری ممی میرے چاچو سے چدائی کرتی ھے اس رات ممی میرے دادا سے چدائی کر رھی تھی ابھی خالو سے کر رھی ھے میں بولی تم نے ممی کو ننگی دیکھا تھا چدائی کرتی روھیت بولا ہاں میں روز دیکھتا تھا میں بولی کیوں بولا دیکھنے کا مزہ آتا تھا میں نے کہا ممی کو بولا ہاں میں چوم 


کر بولی تمہیں اپنی ممی کا ننگا جسم پسند ھے بولا ہاں یار میں بولی کبھی ممی کو چودنے کا من کیا بولا ہاں یار بہت من کرتا تھا مگر ممی تھی ڈر لگتا تھا مگر جب ممی کچن میں کھڑی کھانا بنا رھی ھوتی تو ممی کی گانڈ سے لن لگا کر کھڑا ھو جاتا تھا کچھ دیر سلوسلو لن کی حرکت کرتا ممی کے بڑے مموں کو دبا لیتا


 مگر مما مجھے بیٹھنے کو بول دیتی میں بولی گر ممی کو چودنے کا موقعہ ملے تو چدائی کرو گے بولا ہاں کروں گا مگر کیسے میں بولی اگر میں کروا دوں تو بولا سچی میں بولی


 ہاں یار بولا پھر کچھ کرو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑ کے جاؤں گا اگر تم نے خالو اور میرے سوا کسی اور کیا تو چلا جاؤں گا میں بولی یار مجھے تم 


سے محبت ھو گئی ھے تم میری زندگی ھو بس اور کوئی نہیں پھر صبح کو شوہر آفس گیا تو روھیت کالج چلا گیا دیدی میرے پاس آئی بولی تم کو پیار کرنا ھے میں بولی چلو


دیدی اور چومتی چومتی ننگی ھو گئی دیدی میری چُوت کا سوراخ دیکھ کر بولی تیری چُوت تو بہت کھلی ھے یار میں بولی یہ سب روھیت کا کمال ھے دیدی بولی مزہ آتا ھے میں بولی ہاں دیدی بہت مزہ آتا ھے 


دیدی کو بولی دیدی ایک بات بتاؤں دیدی بولی ہاں بتاؤ دیدی میری چُوت چاٹنے لگی میں بولی دیدی روھیت آپ سے چدائی کرنا چاہتا ھے دیدی بولی سچی میں بولی ہاں دیدی روھیت نے مجھے خود بتایا ھے


کے تم گھر میں جس سے چدائی کرتی تھی روھیت تمہیں چھپ کر دیکھتا تھا روھیت کو آپ کا جسم بہت پسند ھے آپ کے نام کی مٹھ مارتا تھا دیدی مستی میں میری چُوت چاٹ رھی تھی 


میں روھیت سے بولی کے تم کو موقعہ ملے تو ممی کو چودو گے بولا ہاں مگر کیسے ھوگا میں نے بول دیا کے میں کراؤں گی میری چُوت نے رس چھوڑ دیا دیدی میری چُوت کا رس چاٹ کر میرے اوپر آکر مجھے چومنے لگی میں بولی دیدی آپ


روھیت سے کرلو دیدی بولی ٹھیک ھے اگر تم بولتی ھو تو کر لیتی ھوں میں دیدی کو بولی تم تیار ھو جاؤ روھیت آنے والا ھوگا دیدی تیار ھوئی میں نے فل ننگی نائٹی لائی تھی دیدی کو پہنا دی دیدی کمال کی ھوٹ لگ رھی تھی ڈور کے ساتھ کرسی رکھ دی


دیدی سے میں بولی دیدی جب روھیت آئے تو تم روم میں چلی جانا دیدی کو لوشن دے کر بولی دیدی یہ لوشن لگا کر اپنی چُوت اور لن پر لگانا تب لن اندر جائے گا روھیت آئے گا 


میں بھیج دوں گی پھر روھیت نے ڈور بیل بجائی دیدی کو بولی روھیت آیا ھے تم جاؤ تو دیدی روم چلی گئی میں ڈور کھولی روھیت اندر آیا اور  مجھے چومنے لگا میں بولی روھیت تمہاری ممی چدائی کیلئے مان گئی ھے دیدی روم 


میں تیار بیٹھی ھے اور دیدی بہت گرم ھے اور ہاں دیدی کو لوشن دیا ھے جب تک دیدی بس نہ بولے تب تک چھوڑنا نہیں میں نے روھیت کے کپڑے اتار کر ننگا کیا کچھ دیر روھیت نے میری چدائی کی میں بولی اب چلو پھر روھیت کو میں روم ڈور کے پاس آئی روھیت کو بولی کرسی یہاں لگاؤ بولا دیکھو گی میں مسکرا کر بولی ہاں مگر دیدی کو نہیں بتانا بولا ٹھیک ھے میں کرسی پر بیٹھ گئی روھیت اندر گیا 


دیدی روھیت کو دیکھ کر کھڑی ھو گئی روھیت ننگا اندر گیا روھیت کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا دیدی روھیت سے لیپٹ کر بولی اف میرا بیٹا 


پتی کی کال اٹینڈ کی بولا میرے کپڑے لےکر باہر آؤ میں آرہا ھو کچھ دن کیلئے باہر جارہا ھوں پھر میں پتی کے کپڑے لےکر پہنچی تو باہر سے پتی اندر آیا مجھے چومنے لگا 


میرے مموں کو دبانے لگا پتی بہت گرم تھا میں بولی آپ بہت گرم ھو کرلو بولا ٹائم نہیں ھے اندر جانے کا میں بولی آپ بہت گرم ھو آپ کو ایسے نہیں بھیج سکتی ساتھ سرون کواٹر تھا میں بولی یہاں آجاؤ پھر میں ننگی ھو گئی پتی مجھے پیار 


کیا پھر میں جھک گئی پتی چدائی کی ھم فارغ ھوئے پھر پتی چلا گیا میں نائٹی پہن کر اندر آئی تو دیدی کچن میں ننگی تھی دیدی کو چومتی میں پوچھی دیدی روھیت کے لن کا مزہ آتا دیدی خوش ھوکر


مجھے چوم کر بولی یار بہت مزہ آیا پتا چلتا ھے کے چُوت میں لن ھے میں بولی روھیت کو کہیں لے جانے کا ارادہ تو نہیں دیدی مجھے کرسی پر بیٹھا کر مجھے چومتی بولی 


پاگل ھو کیا روھیت تمہارا ھے اگر پہلے روھیت سے کر لیتی تو شاید نہ بھیجتی اب روھیت تمہیں دے دیا ھے تو بس تمہارا ھے دیدی میری چُوت چاٹنے لگی میں بولی پتی کچھ دن کیلئے باہر گیا رات کو ھم مل کر کرینگی دیدی بولی ٹھیک 


اتنی دیر میں روھیت ننگا آگیا دیدی گھوڑی بن کر میری چُوت چاٹ رھی تھی روھیت نے دیدی کی چُوت میں لن ڈال دیا دیدی کی مستی میں اف نکل گئی روھیت چدائی کر رہا تھا کچھ دیر بعد دیدی روھیت سے 


بولی بیٹا ابھی اپنی جان کو کرو بہت گرم ھے میں چائے بناتی ھوں دیدی اپنی چُوت سے لن نکال کر کھڑی ھوئی اور چائے بنانے لگی روھیت کرسی پر بیٹھا لن کھڑا کیا میں روھیت کی طرف منہ کرکے اپنی چُوت میں لن لےکر اوپر نیچے ھونے لگی روھیت نے کہا 


اس طرح تو تم تھک جاؤ گی پھر اٹھ کر اوپر ھونے والی کرسی لایا مجھے بیٹھا کر پھر اپنے لن کے برابر تک اوپر کیا پھر روھیت نے زبردست چدائی کرنے لگا دیدی بھی مجھے چوم رھی تھی دیدی نے چائے بناکر رکھی کچھ دیر بعد میں فارغ ھو گئی پھر ھم نے چائے پی پھر چائے پی کر دیدی کھانا بنانے لگی روھیت کبھی دیدی کی چدائی کرتا کبھی میری 


پھر رات کو صبح تک روھیت میں دیدی مل کر چدائی کی اور پتی کے آنے تک پتی دیدی کی چُوت کھلی دیکھ کر بولا روھیت سے کر رھی ھو بولی ہاں آسی طرح وقت گزرنے لگا


مجھے بیٹی ھوئی جب بیٹی تین مہینے کی ھوئی تو دیدی چلی گئی تو روھیت نے کہا میری جان آج گانڈ دوگی میں مسکرا کر بولی ہاں یار روھیت 


نے کہا یار تم میری پتنی بنو سوہاگ رات کریں اور گانڈ کی سیل کھولوں میں بولی جیسے تم کہوں پھر ھم شادی کی شاپنگ کی اور روھیت نے منگل ستر بھی لیا اور ھم گھر کو آئے 


میں تیار ھوکر دلہن کے کپڑے پہن لیئے روھیت بھی تیار ھو گیا پھر روھیت نے میرے گلے میں منگل ستر ڈال کر میری مانگ میں سندور بھر کر کہا اب تم صرف میرا منگل ستر پہنا کرو اور سندور بھی میں لگاؤں گا پھر کہا لوشن رکھا ھے میں بولی ہاں دراز سے بڑی 


بڑی بوتل دی پہلے ھم چومتے چومتے ننگے ھو گئے پھر روھیت نے مجھے الٹی ھوکر گانڈ اوپر کرنے کو کہا میں الٹی لیٹ کر گانڈ اوپر کی کچھ دیر 


روھیت نے میری چُوت کو بہت چاٹتا رہا اور گانڈ میں انگلی سے لوشن اندر کرتا رہا پھر میں گانڈ میں لن ڈالنے لگا جیسے جیسے لن اندر جارہا تھا مجھے درد بڑھتا جا رہا تھا میں نے روھیت کو محسوس نہیں ھونے دیا درد کی کیفیت کو سیکس آواز نکالتی رھی پھر 


روھیت نے زور کا دھکا لگایا پورا لن میری گانڈ میں چلا گیا مجھے بہت درد ھوا روھیت نے دس منٹ تک بنا رکے زبردست تیز تیز رفتار سے میری گانڈ مارتا رہا پھر گانڈ سے لن نکال کر میری چوت میں ڈال کر چدائی کرنے لگا پھر میری چُوت سے لن نکال کر میری گانڈ چدائی کرنے لگا اور اسی طرح لگا رہا مجھے پتا نہیں چلا کے درد کب ختم ھوا 


اس کے بعد روھیت میری گانڈ اور چوت کی بہت چدائی کرتا روھیت نے اور میں بہت مزے سے چدائی کرتے تھے جب پتی ھوتا تب مزہ بہت آتا ایک دن پتی نے کہا یار ایسا کریں ھم تینوں مل کر کریں میں بولی 


ٹھیک ھے میں روھیت سے پوچھ کر بتاؤں گی بولا جاکر بولو اور لانا میں بولی اچھا بول کر لاتی ھو میں روھیت کے روم میں آئی اور روھیت کو پتی کی بات بولی روھیت نے کہا تم کو کہتی ھوں میں بولی 


یار میرے دو پتی ھو کر لیتے ہیں بولا چلو پھر ھم روم میں آئے تو آگے سے پتی نے مجھے کھڑے کھڑے بانھوں میں بھر کر چومنے لگا روھیت مجھے پیچھے سے چومنے لگا پھر پتی


نے میری نائٹی اتار کر کہا ھم تجھے اٹھاتے ہیں تم میری کمر میں ٹانگیں پھنسا لینا پھر دونوں نے مجھے اٹھایا میں نے پتی کی کمر میں ٹانگیں پھنسا لی پتی میری چُوت میں لن ڈالا روھیت نے میری گانڈ میں لن ڈالا اور دونوں مجھے اوپر نیچے کرنے لگے میری چُوت اؤر گانڈ میں دونوں کے لن اندر باہر ھوتے ھوئے مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں مستی میں بولتی اف مجھے بہت مزہ آرہا ھے میں فل مستی میں تھی آدھا گھنٹہ لگا تار دونوں کھڑے کھڑے چدائی کرتے رھے پھر ھم بیڈ 


پر آئے میں بیچ میں لیٹی پتی میرے پیچھے روھیت آگے میری چُوت گانڈ میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگے میں روھیت کو چومتی بولتی روھیت بہت مزہ آرہا ھے یار تیز تیز کرو جھٹکے لگاؤ بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی تو پتی میری گانڈ 


میں فارغ ھوا پتی واشروم گیا تو روھیت نے مجھے گھوڑی بنا کر زبردست چدائی کرنے لگا میں مستی میں آوازیں نکلنے لگیں کچھ دیر بعد پتی میرے آگے لیٹ گیا میں لن چوسنے لگی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی پتی میرے منہ میں فارغ 


ھوا میں پی گئی پتی نے کہا مجھے سونا ھے روھیت مجھے اٹھا کر اپنے روم میں لایا 


پائیا دیکھو بلکل لن کی طرح ھے

 شوہر کے گزرنے کے دو مہنے بعد ایک رات کو میں بیڈ پر بیٹھی تھی تو میری نظر بیڈ کے پائے پر پڑ گئی تو مجھے شوہر کی وہ رات یاد آگئی میں اور شوہر 


چدائی سے فارغ ھوکر پیار کر رھے تھے تو شوہر نے بیڈ کے پائے کا کہا بشراں یہ پائیا دیکھو بلکل لن کی طرح ھے اور ٹوپہ ھے نیچے بھی سات انچ لمبا موٹا ھے مجھے کہا اٹھو میں اٹھی بولا گھوڑی بن کر اسے اپنی چوت میں لو میں چوت رکھ کر اندر لیتی پورا لیا پھر شوہر نے میرے لک کو پکڑ کر اوپر نیچے کرنے لگا اف پائیا میری چوت میں اندر باہر ھو رہا تھا اور مجھے مزہ بہت آرہا تھا کچھ دیر میں فارغ ھو گئی میری چُوت سے رس نکلنے لگا 


پھر میں اٹھ کر پائے کو چوم کر بولی اب تو ھی مزے دے گا شوہر کی نشانی ھے تو میں جلدی سے لاک لگا کر ننگی ھو گئی اور پائے کو چوت میں اندر باہر کرنے لگی بہت دیر تک لگی رھی مزہ بہت آرہا تھا پھر فارغ ھوئی لیٹ گئی پھر گرم ھو گئی پھر کرکے سو گئی اس کے بعد روز کرنے لگی ایک رات ڈور کو لاک کرنا بھول گی کیونکہ میں مستی میں لگی تھی کے چھوٹا دیور آگیا میں پائیا چوت سے نکال کر ہٹ گئی دیور بولا ھم دونوں کسی کو نہیں بتائے گے


پھر دیور سے چدائی کی پھر کبھی کبھی دیور سے کر لیتی مہنہ ھو گیا ایک رات بڑا دیور آگیا بولا چھوٹے کو دیتی ھے مجھے بھی دے میں بولی اس نے تجھے بتایا ھے بولا نہیں رات کو میں نے تم کو دیکھ لیا تھا پھر میں نے بڑے دیور سے 


چدائی کی پھر کچھ دن گزرے تو ایک رات چھوٹے دیور نے کہا بھائی سے بھی کرتی ھے میں بولی ہاں پھر کبھی اس سے تو کبھی اس سے ایک اور مہنہ دونوں کے ساتھ ھو گیا ایک رات میں چھوٹے اور بڑے سے الگ الگ بات کی کے تم دونوں 


کو پتا تو ھے پھر مل کر ھم تینوں کریں مان گئے پھر ھم تینوں مست رہتے ایک مہنیہ بعد ایک رات بڑا دیور میرے آگے لن نکال کر لیٹا تھا میں گھوڑی بنی اس کا لن چوس رھی تھی اور چھوٹا دیور میری چدائی کر رہا تھا پھر دونوں دیورانیاں اندر آگئی میں چادر لپیٹ کر بیٹھ گئی دونوں ننگے 


اٹھے اور اپنی بیویوں کو لے کر گئے کچھ دیر بعد جاکر دونوں کو دیکھی چدائی کر رھے تھے میں آکر پائے سے فارغ ھوکر سو گئی کچھ دن بعد ممی پاپا بھائی آگئے اور سسر نے کہا تم اب اپنے گھر جاکر رھوں 


میں بولی میرا بیڈ میرے ساتھ جائے گا ورنہ میں نہیں جاؤں گی پاپا بولا بشراں بیڈ دوسرا لےلینا چھوٹا دیور بولا انکل اس بیڈ کے ساتھ بھابھی کے شوہر کی یادیں ہیں تو پاپا نے کہا ٹھیک ھے لے لو پھر میں دوسرے شہر اپنے گھر آئی 


بھائی نے بیڈ لگا کر دیا میں کچن میں آئی ممی سے تیل مانگی پھر تیل لاکر ڈور لاک کرکے پائے کو تیل لگا کر چوت میں لےکر بہت مزے سے چوت کا رس نکال کر باہر آئی


جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلا پارٹ کیلئے کمنٹ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ھوسٹل سے لیسبن بن گئی

 میری ممی کے گزرنے کے بعد میرے پاپا نے دوسری شادی کر لی مجھے دوسری مما بلکل پسند نہیں تھی اور مما کا چھوٹا بیٹا بھی تھا دوسرے شوہر سے میں ہر وقت مما بچاری سے لڑتی رہتی تھی مما کے بیٹے کو کچھ نہیں کہتی تھی مگر مما سے بہت جھگڑا کرتی تھی پاپا نے مجھے گرلز ہوسٹل بھیج دیا میں بھی جوانی کی دھلیز پر قدم رکھ رھی تھی 


میرے ساتھ ایک اور بھی لڑکی رہتی تھی اس کا نام ریتو تھا ویسے تو ریتو بہت پیاری تھی بڑے مموں سے فگر کمال کا لگتا تھا میرے چھوٹے چھوٹے مموں کا ابھار تھا سارا دن پڑھائی رات کو ریتو چلی جاتی 


مجھے کچھ دن ھوئے تھے ریتو سے اچھی دوستی ھو گئی ایک بار ریتو میں لینچ کر رھی تھی تو ریتو کی ایک دوست آگئی بولی کیا ریتو آج کل بلاتی نہیں ھو ریتو بولی میرا بولی روم میں اب یہ رہتی ھے وہ 


مجھ سے بولی اگر میں ریتو سے ملنے آؤں تو آپ کو برا تو نہیں لگے گا میں بولی مجھے برا کیوں لگے گا بولی پھر رات کو میں آسکتی ھوں میں بولی آپ کی مرضی پھر ریتو کو بولی تم بتاؤ ریتو بولی میں میسج کرکے بتاؤں گی پھر رات 


کو ریتو بولی ھم جو کریں تم برا مت ماننا میں بولی ایسا کیا کروگی بولی لیسبن مجھے پتا نہیں تھا کے لیسبن کیا بلا ھے میں بولی ہاں تم لیسبن کرو پھر ریتو نے اسے میسج کیا 


ریتو نہانے گئی نہاکر ننگی آئی آئینے کے سامنے بیٹھ کر مموں کو دبایا پھر میکپ کرنے لگی میں بولی رات کو میکپ کر رھی ھو کہیں جاؤ گی کیا بولی نہیں یار دوست آنے والی ھے ھم لیسبن کرینگی میں بولی یہ لیسبن کیا ھے بولی کچھ دیر میں سمجھ جاؤ گی پھر کچھ 


ریتو میکپ کرکے ننگی پتلی جالی والی ڈریس پہنی پوری ننگی لگ رھی تھی مگر بہت ھوٹ لگ رھی کچھ دیر بعد 


لڑکی آئی ڈور بند کرکے وھی چومنے لگی لڑکی بولی آج تیری چوت کا رس نکال کر چاٹ جاؤں گی ریتو بولی یار میں بہت گرم ھوں لڑکی بولی ساری گرمی ختم کرنے تو آئی ھوں پھر بیڈ پر آئی چومتی ھوئی میں دیکھ رھی تھی اور میری دیکھتی ھی دیکھتے دونوں ننگی ھو گئی میں سمجھنے لگی کے یہ لیسبن ھے کیا خیر 


لڑکی نے ریتو کی بہت چوت چاٹتی رھی آخر ریتو فارغ ھو گئی پھر لڑکی کو ریتو نے فارغ کیا پھر دونوں آپس میں اپنی چُوتیں رگڑنے لگی ساری رات لگیں رھی مجھے نیند آگئی 


دوسری رات پھر آنٹی آئی ریتو کو بہت پیار کیا مجھے آنٹی بہت پسند آئی اسی طرح ایک ہفتہ تک ریتو سے روز لڑکی کوئی نہ کوئی آتی تھی


ایک رات ریتو جانے کیلئے تیار ھو رھی تھی میں بولی آج نہیں جاؤ بولی تم کرو پھر میں بولی ہاں کرتی ھوں ریتو مجھے چومنے لگی بولی میں منع کرتی ھوں پھر منع کیا بولی ساری تجھے مزے دوں


گی ریتو بولی تم تیار ھو جاؤ پھر ننگی ڈریس دی بولی یہ پہن لی ریتو نے مجھے چوم چوم کر گرم کر دیا ریتو بولی جب تک تم تیار ھو میں آتی ھوں پھر میں میکپ کرکے ڈریس پہنی اتنی دیر میں ریتو 


آگئی مجھے دیکھ کر بولی یار تم تو بہت ھونٹ لگ رھی ھو


رات میں ریتو سے سیکس کیا دن مجھے ماہواری شروع ھو گئی 


 پھر صبح کو میری ماہواری ختم ھو گئی میں بہت گرم تھی سوچی رات کو ریتو کو بتاؤں گی مگر لینچ کے دوران ریتو کو ٹیچر الگ لے گئی کچھ دیر بعد ریتو آکر مجھے بولی یار رات کو میں نہیں آؤں گی ٹیچر نے بلایا ھے پھر ریتو آٹھ کر چلی گئی اچانک میرے سامنے آنٹی بولی بہت پیاری ھو من کرتا ھے کھا جاؤ بولی کھا جاؤ آنٹی بولی سچی میں بولی ہاں یار رات کو آسکتی ھو اکیلی ھوں بولی ٹھیک ھے میں آجاؤں گی میں بولی کسی کو بتانا نہیں بولی ٹھیک ھے بولی ریتو نہیں ھوگی میں بولی وہ ٹیچر کے ساتھ ھوگی پھر آنثی نے مجھے پتلی اور جالی والی ڈریس دےکر بولی یہ پہن لینا میکپ کرکے تیار ھو جانا 


رات کو میں چُوت کے بال صاف کرکے نہاکر میکپ کرکے ڈریس پہنی میرے ممے چوت گانڈ صاف نظر آرھے تھے پھر کچھ دیر بعد آنٹی آئی میں تیار تھی آنتی مجھے دیکھ کر بولی بہت ھوٹ لگ رھی ھو 


مجھے بانھوں میں بھر کر چومنے لگی میرے چھوٹے مموں کو دبانے لگی مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں آنٹی کے بڑے مموں کو دبانے لگی آنٹی ننگی ھو گئی میں آنٹی کے بڑے مموں کو چوستی چومتی دباتی آنٹی سے منہ ھونٹ زبان چوسنے لگے آنٹی بہت گرم ھو گئی اور مجھے بیڈ پر لیٹا کر بولی اب دیکھ ڈریس کیسے


پھاڑتی ھوں میری مموں کی جگہ آنٹی نےڈریس پھاڑ کر میرے مموں کو بہت دبانے چوسنے لگی میں بھی فل مستی میں تھی آنٹی کی چوت بہت دیر تک چاٹی پھر آنتی نے میری چوت کی جگہ ڈریس پھاڑ دی اور میری چوت کو چاٹنے لگی اف مجھے تو مزہ ھی مزہ آرہا تھا پھر آنٹی نے مجھے گھوڑی بناکر میری گانڈ تک ڈریس پھاڑ دی پھر میری چوت گانڈ کو چاٹنے لگی چوت گانڈ میں انگلی کرنے لگی بہت دیر بعد میری چوت سے پہلا رس نکلا آنٹی چاٹ کر کھا گئی پھر آنٹی اپنی چوت کا بولی آنٹی کی چوت اور گانڈ کا سوراخ بڑا تھا بولی پورا ہاتھ اندر کرو میں پورا ہاتھ آنٹی کی چوت میں اندر باہری تیز تیز کیا کچھ دیر بعد آٹنی فارغ ھو گئی پھر میں پوچھی تمہاری اتنی کھلی کیوں ھے


آنٹی بولی میں بھائی بیٹے سے بھی چدائی کرتی ھوں میں بولی ہیں سچی بولی ہاں ریتو بھی میرے بیٹے سے کر لیتی ھے میں بولی بھائی سے کیسے کیا مجھے بولی تیرا بھائی ھے میں جھوٹ بولی کے نہیں ھے


آنٹی بولی میری ایک دوست یہاں کام کرتی تھی اور میرے گھر آتی اور مجھ سے سیکس کرتی تھی ساری ساری رات سیکس کرتی ایک رات ھم نے سیکس شروع کیا تو بھائی اندر آگیا ہمیں ننگی سکس کرتی دیکھ کر چلا گیا تو میری دوست بولی تیرا بھائی اب نہیں چھوڑے گا تم جانو تیرا بھائی جانے میں تو چلی پھر وہ چلی گئی میں اسے چھوڑ کر اپنے روم میں آئی بہت گرم تھی ننگی ھو گئی اور ڈور لاک کرنا بھول گئی اور میں اپنی چُوت میں انگلی کرتی مموں کو دباتی چوسنے لگی کچھ دیر بعد بھائی ننگا روم میں آیا 


میں بھائی کا ننگا لن کھڑا دیکھ کر مستی میں آئی بھائی مجھے چومنے لگا میں نے کہا کسی بتانا نہیں بولا نہیں بتاؤں گا پھر میری سیل کھولی اس کے بعد میں بھائی سے دن رات بہت چدائی کرنے لگی پھر


ایک رات بھائی نے اپنے دوست کا ذکر کیا کے وہ دیوانہ ھے تیرا میں بولی پھر کسی رات لےکر آؤ بولا ھم تینوں مل کرینگے میں دو بار کرکے سونے جاؤں گا تم لگی رہنا میں بولی ٹھیک ھے پھر بھائی لڑکے کو لایا بھائی کرکے اپنے روم چلا گیا لڑکے نے کہا مجھ سے شادی کرلے بھائی سے کرتی رہنا میں بولی ٹھیک ھے پھر میری شادی ھو گئی پھر بھائی اور شوہر کے ساتھ مل کر کرتی تھی پھر بھائی کی شادی ھو گئی بھائی چلا گیا میرا بیٹا ھوگیا مجھے یہاں نوکری مل گئی پھر جب گھر جاتی تو بیٹے سے سیکس کرتی جب جوان ھوا تو چدائی 


کرتی ھوں میں بولی یار تم تو بہت مزے کرتی ھوں پھر اس کے صبح ھم سو گئی پھر آنٹی چلی گئی پھر ریتوں کو بتائی ریتو بولی آنٹی کو بلائیں میں بولی ہاں پھر اس طرح پورے ہاسٹل کی لڑکیوں ٹیچر سب سے سیکس کرتی میرے بڑے ممے ھو گئے میں بیس سال کی ھوکر میں اپنے گھر واپس آئی 


پہلے مجھے مما اچھی نہیں لگتی تھی اب مجھے اچھی لگنے لگی میرا سوتیلا بھائی چودا سال سے اوپر کا تھا مجھے آنٹی کی باتیں یاد آتی اور سیکس یاد آتا میں بہت گرم ھو جاتی اور مما کی تعریف کرتی مما کو چومتی رہتی مما سے پچھلی غلتیوں کی سوری کی کہتی رہتی تھی 


ویسے مما مجھے سگی بیٹی کی طرح پیار کرتی تھی پہلے میں مما کا دل توڑ دیتی تھی اب مما کو بہت پیار کرتی چومتی ھوں مما کو بانھوں میں بھر کر چومتی مما کو بھی مزہ آتا میں مما کے مموں کو دبانا شروع کر دیا کبھی مما


گرم ھو جاتی تھی مجھے کہتی نہ کر یار میں گرم ھو جاتی ھوں پھر میں مما کو بہت گرم کر دیتی ایک دن مما بولی بہت آگ لگا دیتی ھو میں بولی آگ بجھانا بھی آتا ھے بجھا دوں


مما بولی کیسے میں بولی روم میں چلو پھر ھم روم بیڈ پر آئی میں مما کو مستی میں چومنے لگی مموں کو دبانے لگی مما بہت گرم ھو گئی پھر مما کی نائٹی اتار کر دی مما ننگی ھو گئی میں بھی ننگی ھو گئی 


مما کو بہت چومی مموں کو چوسی دبائی پھر مما کی مستی میں چوت چاٹنے لگی مجھے بڑے دنوں بعد چوت چاٹنے کو ملی بہت دیر بعد مما کی چُوت نے رس چھوڑ دیا میں سارا رس چاٹ گئی مما سے بولی مزہ آیا مما بولی بہت مزہ آیا پھر دن میں مما اور میں بہت سیکس کرتی کبھی رات کو بھی کر لیتیں ایک رات 


میں بھائی کے روم میں آئی بھائی کو چومنے لگی اور بھائی شرما رہا تھا میں نے چومتی ھوئی اوپر آگئی بھائی کا لن کھڑا ھو گیا میں لن کو پیار کیا پھر بھائی کو چوت چاٹنے کو بولی بھائی نے چوت چاٹتے بولا چودنے دو گی میں 


بولی ہاں چود لو کسی کو بتانا نہیں بولا نہیں بتاؤں گا پھر میری چُوت کی سیل کھول کر بہت چدائی کی فارغ ھوکر چادر چینج کی خون لگا تھا چوت دھوئی بھائی نے لن دھویا پھر صبح تک چدائی کی اور ھم ننگے سو گئے اور مما نے


آواز دی تو میری آنکھ کھل گئی کپڑے پہن کر میں نیچے آئی مما بولی کہیں رات کو بھائی سے تو نہیں کر لیا میں مسکرا کر بولی بھائی نہیں ھے میرا فرینڈ ھے مما بولی پاگل ایسے 


نہیں ھوتا میں بولی میں تو شادی کروں گی بولی تیرے پآپا کو بتاؤں میں بولی بتا دو میں مما کو چومنے لگی مما بولی اچھا جو کرنا ھے کر مرضی ھے تیری پھر میں شادی کرلی اور ھم الگ رہنے لگے پھر مجھے بیٹا ھوا میں بہت خوش تھی

Sunday, December 21, 2025

ابو کیا کر رھے چھوڑو مجھے میں بیٹی ھوں تمہاری

 میری باجی کی شادی ھوئی کچھ مہینوں میں ابو کے کہنے پر باجی نے طلاق لےلی اور گھر رہنے لگی


اس وقت میں چھوٹی تھی کچھ مہینوں بعد ایک دن میں چائے پینے کیلئے باجی کے پاس کچن میں آئی تو دیکھی باجی کھڑی کھانا بنا رھی ھے ابو نے صرف چڈی پہنی ھے جو بلکل پتلی سی تھی ابو باجی کو پیچھے سے پکڑ کر دھکے لگا رہا ھے باجی بولتی ابو نہ کرو میں تمہاری بیٹی ھو چھوڑو مجھے 


مگر ابو دھکے لگاتا باجی کے مموں کو دباتا دھکے لگانے لگا باجی زور لگا کر ہٹی تو چڈی میں ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا ابو فل مستی میں تھا باجی کو پھر پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر باجی کو چومنے لگا اور گانڈ 


آگے پیچھے کر رہا تھا باجی بولتی ابو بس کرو میرا بولی وہ دیکھ لے گئی ابو نے کہا پھر مان جا باجی بولی نہیں تم ابو ھو پھر باجی زور سے ہٹی اور مجھ سے ٹکرائی مجھے دیکھ کر جھک کے بولی کیا چاھیئے میں ابو پیچھے سے باجی کو لگا ھوا تھا میں بولی چائے باجی ہلتی ھوئی بولی بیٹھو بناتی ھوں میں بیٹھی ابو کا لن کھڑا ھوا تھا باجی کھڑی ھوئی تو ابو باجی کو باھوں میں بھر کر مموں کو دباتا پیچھے دھکے لگا رہا تھا باجی بولی ابو نہ کرو دیکھ رھی ھے باجی چھڑا کر پھر باجی چینی پتی دودھ ڈالنے لگی ابو باجی کو پھر پیچھے سے پکڑ کر ابو باجی کو دیکھے لگاتا چومتا مموں دباتا لن رگڑتا باجی منع کرتی خود کو چھڑاتی بار بار میرا بولتی دیکھ رھی ھے مگر ابو کہاں


سننے والا تھا ابو باجی کو  بولتا مان جا تیری ہر خواہش پوری کروں گا باجی بولتی نہیں آپ ابو ھو مگر ابو باجی سے مزے کرتا رہا مجھے چائے دی میرے ساتھ بیٹھ گئی ابو اپنے روم چلا گیا باجی سے میں پوچھی ابو کیا کر رہا تھا باجی بولی کچھ نہیں ابو کھیل رہا تھا کچھ دیر بعد ابو نے باجی کو آواز دی باجی کی آنکھیں باہر آگئی نہیں گئی پھر ابو نے باجی کو آواز دی اندر آنے کو بلایا مگر باجی پھر بھی  نہیں گئی پھر ابو نے غصے سے


آواز دی تو باجی چلی گئی میں اٹھ کر پیچھے آرھی تھی باجی روم کا ڈور کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئی میں آکر چھپ کر دیکھی ابو نے باجی کو بیڈ پر لیٹا کر اوپر آکر چومنے لگا باجی بار بار ابو کو منع کر رھی تھی ابو بولا تجھے پیسوں کی کبھی کمی نہیں ھونے دوں گا 


تجھے گاڑی بھی لےکر دوں گا بس تم مان جاؤ باجی بولی آپ ابو ھو کسی کو پتا چلا تو پتا ھے کیا ھوگا ابو نے کہا ھم کسی کو گھر کی باتیں بھلا کیوں بتائینگے پاپا باجی کے مموں کو نکال لیا چوسنے لگا باجی ایک دم زور لگا کر نکلی مموں کو اندر کیا ابو نے 


پھر پکڑ لیا باجی بولی پہلے گاڑی لےکر دو پھر کروں گی ابو نے کہا ٹھیک ھے تیار ھوجاؤ ابھی لینے چلو پھر ھم گاڑی لینے گئے باجی نے گاڑی پسند کی ابو نے باجی کے نام گاڑی 


کرائی شوروم والوں نے کل گاڑی پہنچا دینگے کہا پھر ھم گھر آئے ابو نے باجی سے کہا اب تم خوش ھو نہ اب مجھے خوش کرو باجی بولی ابھی گاڑی ملی کہاں ھے ابو نے کہا کل اجائے گی باجی بولی کل دیکھوں گی 


ابو نے باجی کو پکڑ لیا باجی بولی ابو تنگ نہ کرو کل گاڑی آئے گی تو تم کر لینا ابو نے کہا کل پھر تیار ھوکر رہنا باجی بولی ٹھیک ھے پھر شام کو باجی کی گاڑی آگئی باجی بہت خوش ھوئی پھر شام کو ابو آگیا آتے باجی کو چومنے لگا 


باجی ابو کو اب روک نہیں رھی تھی ابو نے کہا آج سے کرو گی نہ باجی بولی ہاں کروں گی ابو نے کہا پیسوں کی فکر نہ کرنا پھر رات کو باجی تیار ھوئی میکپ کیا پھر کھانے کے بعد باجی ابو کے روم گئی بہت دیر بعد میں آکر دیکھی باجی اور ابو ننگے ہیں اور چدائی کر رھے ہیں کبھی ابو باجی کی چوت چاٹ لیتا کبھی باجی لن چوس لیتی اور چدائی میں مست تھے اس کے بعد تو باجی ابو کے ساتھ  ھی سونے لگی لگی پھر باجی ابو کے لن سے پریگنٹ ھو گئی اور باجی کو بیٹا ھوا ابو نے اپنے دوست کے ساتھ شادی کرا دی میں جوان ھو گئی تھی باجی کو دوسرا گھر لےکر دیا باجی اپنے شوھر کے ساتھ دوسرے گھر میں رہنے لگی باجی کو بزنس بھی کھول کر دیا ابو 

جب باجی کو بلاتا تو باجی آجاتی ابو جب کہتے جاؤ تو چلی جاتی ابو باجی کو پیسے بھی دیتا ابو کے پاس پیسہ بہت تھا اور ابھی بھی بہت ھے 


 میں باجی سے زیادہ خوبصورت تھی باجی کے مموں سے میرے بڑے ممے تھے میں کالج میں ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی تو باجی کو بولی میں شادی کرنا چاہتی ھوں ابو کو بتاؤ باجی بولی میں کل آکر بتاؤں گی پھر باجی آئی اور ابو سے چدائی کی میں ویٹ کرنے لگی کب فری ھونگے بہت دیر بعد باجی 


باہر آئی بولی ابو بولتا ھے میری پسند کے لڑکے سے شادی کرو گی ورنہ کچھ نہیں دوں گا شوہر کے گھر میں رہنا میں سن کر چپ ھو گئی اور لڑکے سے کورٹ میرج کر لیا چند مہینوں 


میں سسرال والوں نے مجھے شوہر کے ساتھ گھر سے نکال دیا پھر ھم کرائے پر رہنے لگے نہ کام نہ نوکری اور مکان کا کرایا تک دینے کو نہیں تھا ایک مہنہ تو باجی سے پیسے لےکر کھاتے رھے پھر


باجی نے منع کر دیا اور ابو کا بولی میں ابو کے آگے رونے لگی ابو نے کہا تم نے کورٹ میرج کیا ھے اب تیرا شوہر تجھے بھوکا مار رہا ھے نہ تمہیں تو سسرال والوں نے نکال دیا میں 


بولی ابو میری مدد کرو ابو نے کہا تیرا سارا خرچہ میں اٹھاتا ھوں تم شوہر سے طلاق لےلو ورنہ میرے پاس کبھی نہیں آنا میں روتی ھوئی شوہر کے پاس 


آکر رونے لگی شوہر نے کہا ہمارے لیئے یہ بہتر ھے کے ھم الگ ھو جائیں ہمیں گھر والے قبول نہیں کر رھے میں بولی ٹھیک ھے جیسے تم بولو میں نے ابو سے طلاق کی بات کی تو ابو بولا جگہ بتاؤ میں تمہیں لینے آتا ھوں میں اور شوہر نے طلاق نامے پر سائن کیا لڑکے کو بولی تم چلے جاؤ میرا ابو تمہیں دیکھ کر غصہ ھو جائے گا مالک مکان کو میں کرایا چابی دے دوں گی وہ چلا گیا کچھ دیر بعد ابو آیا مالک مکان کو کرایا چابی دے کر ابو مجھے اپنے گھر لایا تین مہینے 


بعد ایک دن صبح کو کچن میں آٹا گوندھ رھی تھی تو ابو چڈی پہنے کچن میں آیا میری نظر ابو کی چڈی پر پڑی ابو کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا 


کچھ دیر بعد ابو میرے پیچھے سے میری کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میری گانڈ کے ھیپ میں لن رگڑنے لگا میرے ہاتھ آٹے سے بھرے تھے میں چھڑانے کیلئے ہلنے لگی بولتی رھی ابو کیا کر رھے چھوڑو مجھے میں بیٹی ھوں تمہاری ابو کی پکڑ بہت مظبوط تھی ابو نے بہت دیر تک لن رگڑتا رہا میں چھڑانے کیلئے ہلتی رھی پھر ایک دم 


میں ہٹ گئی ابو سے بولی ابو پلز ایسا نہ کرو ابو بولا بیٹی کیا ھوا تمہیں ہر چیز دوں گا پھر میں آٹا گوندھنے لگی پھر ایک دم ابو نے میری لاسٹک کی شلوار نیچے کی میری چُوت میں پورا لن ڈال کر زبردست چدائی کرنے لگا مجھے چھڑانا 


مشکل پڑ گیا کافی دیر بعد ابو کی پکڑ ڈھیلی ھوئی تو میں زور لگا کر ہٹی شلوار اوپر کرکے بھاگی تو ابو نے مجھے صوفے کے پاس پکڑ لیا ابو ننگا 


تھا مجھے صوفے پر لیٹا دیا میری شلوار اوپر کرکے میری چُوت میں لن ڈال چُدائی کرنے لگا ابو نے مجھے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا میرے مموں کو باہر نکال کر دباتا چوستا چدائی کر رہا تھا 


میرے منہ میں منہ دیتا تو میں ہٹا لیتی کچھ دیر بعد ابو نے لن نکالا میں جلدی اٹھ کر بیٹھ گئی شلوار پہن لی ابو بولا ناشتہ بناؤ میں ابو کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی ابھی نہیں کرنا پھر ابو نے کچھ نہیں کیا 


میں روم میں آئی اور باجی کو کال ہر بتایا کے ابو نے ایسا کیا میں رونے لگی باجی بولی تو کیا ھے تم ابو کی بات مان لو میں نے کال کٹ کر دی مجھے  وھی باجی کی پرانی یادیں آنے لگی 


کچھ دن تو ابو نے کچھ نہیں کیا آرام سے آتے جاتے کھانا کھاتے میں شکر کیا کے پھر ایک رات کھانا کھاکر ابو اپنے روم چلا گیا میں برتن دھو کر اپنے روم میں آئی کچھ دیر بعد 


ابو وھی چڈی پہنے روم میں آیا میں دیکھی ابو کا لن کھڑا تھا اب میں کیا کرتی بھاگ کر کہاں جاتی بیٹھی رھی ابو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے چوم کر کہا بیٹی تم کو کیا مسلا ھے بولو گاڑی لےکر دیتا ھوں بزنس کرنے کیلئے پیسا دیتا ھوں یہ گھر بھی تیرے نام کرتا ھوں ضد چھوڑ دے مان جا میں بولی نہیں ابو 


میرے مموں کو دبانے لگا میں ابو کا ہاتھ جھٹک دیا اور میں اپنے دونوں گھٹنوں کو اپنے مموں سے لگا کر دونوں گھٹنو کو ہاتھوں میں زور سے دبا لیا مگر ابو نے نیچے سے میری چُوت کو سہلانے لگا میں نے اپنے پاؤں کی ایڑی کو اپنی چُوت رکھ دیا


مگر ابو سیدھا ھوکر اپنی ٹانگیں پھیلا کر میں اپنے گھٹنوں کو زور سے جپھی ڈالے مموں سے لگائی بیٹھی تھی ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر اپنی گود میں بیٹھایا نیچے سے آبو کا لن کھڑا تھا میری گانڈ میں دبا ھوا تھا ابو نے مجھے زور سے دبایا میری گھنٹے دبنے سے مجھے درد ھوا تو میں اپنی ٹانگیں پھیلائی تو ابو میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھا مجھے گود میں بیٹھایا ھوا تھا مجھے دبانے لگا ابو کے 


سینے میں میرے ممے دب رھے تھے ابو نے میری نائٹی اتار دی میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں منع کرتی رھی مگر ابو کہاں رکنے والا تھا پھر ابو نے مجھے لیٹا دیا اور میری چڈی اتار کر میری چُوت چاٹنے لگا پھر میری چُدائی کرنے لگا میں آنکھیں بند کیئے لیٹی رھی بہت دیر بعد میری چُوت کا پانی نکل گیا ابو نے مجھے زبردستی گھوڑی بنایا میں گانڈ اوپر کرکے لیٹی رھی ابو چدائی کرتا رہا پھر میں فارغ ھوئی تو ابو میری چُوت میں فارغ ھو گیا اور چڈی اٹھا کر ننگا چلا گیا میں اٹھی چادر گیلی ھو گئی چادر ہٹادی چُوت کو دھوکر دوسری چادر بچھا کر لیٹ گئی سوچنے لگی کیا کروں


مجھے نیند آگئی کچھ دن بعد پھر ابو گرم تھا میں سمجھ گئی کے آج رات ابو پھر کرے گا میں موبائل کو ریکارڈ پر لگا بولی میرا ابو میرے ساتھ گناہ کرتا میری مدد کرو میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی کچھ دیر بعد 


ابو ننگا آیا لن کھڑا کیئے میں بولی پلز ابو نہ کرو شرم کرو میں آپ کی بیٹی ھوں ابو چدائی کرنے لگا میں ہٹتی بچتی ابو کی پکڑ مظبوط تھی ابو فارغ ھو کر چلا گیا میں نے دھندلی ویڈیو کرکے فیس بک پر اپلوڈ کر دی پھر کچھ دن بعد باجی کا فون آیا مجھے بہت ڈانٹی میں بھی نہیں مانی 


اینکر سب میری ویڈیو بناتے میں بتاتی کے ابو کیا کرتا ھے میری باجی ابو کو خوش کرتی ھے ابو کو تھانے دے دیا گیا باجی بولی اب سکون آیا ابو کو تھانے بھیج کر اس طرح تو کسی کو پتا نہیں چلتا تونے اپنے ساتھ میری بھی بدنامی کر دی تمہیں سوائے پچھتاوے کچھ نہیں ملنے والا بڑی مہان بن گئی اپنی اور ہماری بدنامی کرکے پھر کچھ دن گزرے گھر میں کھانا کچھ نہیں راشن نہیں نہ میرے پاس پیسے تھے میں پانی پی کر سو جاتی مجھے چکر آنے لگے میں رونے لگی ایک لڑکی اینکر آئی میں رو پڑی کے میں نے کچھ دنوں سے کھانا نہیں کھایا لڑکی نے کھانا منگوایا میرا انٹرویو لےکر بولی اب تم کیا چاہتی ھو تمہارے ابو کو پھانسی دی جائے پھانسی کا نام سن کر میں کانپ کر بولی پھانسی نہیں میرا ابو ھے مجھے پال پوس کر بڑا کیا ھے اینکر بولی


پھر تم انصاف کیا لینا چاہتی ھو میں بولی بس ابو مجھے تنگ نہ کرے اینکر بولی اگر وہ مان جائے تو اسے چھوڑ دیں میں بولی ہاں بلکل میرا ابو ھے پھر اینکر مجھے ابو سے ملانے لےکر آئی آبو رونے لگا ابو کو روتا دیکھ کر مجھے ابو پر ترس آگیا آخر میرا ابو تھا 


اینکر نے ابو سے قسم لی کے تم دوبارا بیٹی کو تنگ نہیں کروگے ابو نے وعدہ کیا پھر ابو کو چھوڑ دیا ابو گھر آتے ھی بمار ھو گیا باجی بھی آگئی باجی مجھ پر بہت غصہ تھی بولتی کیا ملا تم کو اگر کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اگر تم چپ رہتی تو کیا ھوتا کچھ دیر میں ایمبولینس آئی آبو کو استعمال لے گئے چار گھنٹے بعد ابو کو گھر لائے باجی ساری رات ابو کے ساتھ رھی تین دن میں ابو بلکل ٹھیک ھو گیا اور آفس چلا گیا مجھ سے بات نہیں کرتا تھا میں چپ رہتی تھی 


میں خود اپنے پر شرمندہ تھی کے میں نے یہ کیا کر دیا گھر کی باتیں باہر لائی ابو میری طرف دیکھتا نہیں تھا نہ بات کرتا تھا باجی کو کال کی میں سوری کرتی رونے لگی باجی بولی اچھا اب جو ھوا آگے سے ایسا نہیں کرنا میں بولی ابھی 


ایسا نہیں کروں گی باجی بولی ابو سے سوری کر لے اور اس کو خوش کر دینا ابو مان جائے گا کرے گی ابو سے میں بولی ہاں زندگی بھر کروں گی بولی ٹھیک ھے تیار ھو جانا ابو کی الماری میں نائٹی پڑی ھے میکپ کرکے پہن لینا رات کو ابو کو سوری کرتی گرم کر لینا


میں بولی ٹھیک ھے آپ ناراض تو نہیں ھو باجی بولی ابو مان گیا تو میں بھی مان گئی کال کٹ کر دی سوچ کر میں اٹھی اور واشروم گئی میری چُوت کے بال بڑے ھو گئے تھے چُوت کے بال صاف کرتی مجھے ابو کی پچھلی چدائی چھیڑ چھاڑ لن رگڑنا یاد آیا ابو کا موٹا لمبا طاقتور لن یاد آیا میں گرم ھو


گئی اور اپنی چُوت میں انگلی کرنے لگی بولی اف ابو آج سے میں آپ سے بہت چدائی کیا کروں گی باجی کے سوا کسی کو نہیں بتاؤں گی خیر چُوت کے بال صاف کرکے میں میکپ کیا اور ابو کی الماری میں سے نائٹی نکال کر پہنی تو میں تو ہوری کی پوری ننگی نظر آرھی تھی میں بہت گرم ھو گئی


میرا شوہر جلدی فارغ ھو جاتا تھا میری سیل کھولتے بھی فارغ ھو جاتا تین دن بعد میری سیل کھولی اور فارغ ھو گیا شوہر کو بولی کوئی گولی کھاؤ شوہر گولی کھاتا پھر بھی زیادہ دیر نہ ٹک پاتا تھا شوہر کا لن بھی پتلا اور چھوٹا تھا 


شوہر میری چُوت چاٹ کر مجھے فارغ کر دیتا تھا پہلی بار جب ابو نے لن ڈالا تو ایسا لگا کے واقعی میری چُوت میں لن گیا ھے پھر مجھے صوفے پر جو چدائی کی تھی پھر روم میں چدائی کی وھی نظارے اب مجھے مزے کے لگ رھے تھے میں ابو کا ویٹ کر رھی تھی ابو بہت ناراض بھی تھا مجھے ابو کو آخر منانا بھی تھا 


ڈور بیل بجی میں جاکر ڈور کھولی مسکرا کر ابو کو دیکھی ابو نے مجھے دیکھا تک نہیں ابو اپنے روم کی طرف جا رہا تھا میں ڈور بند کرکے ابو کے آگے آکر آبو کو بانھوں میں بھر 


کر چومتی چومتی ابو سے بولتی ابو سوری یہ میری پہلی اور آخری نادانی سمجھ کر مجھے معاف کر دو مگر ابو مجھ سے ہٹ گیا اور روم میں چلا گیا میں اپنے روم میں آکر 


تھوڑا میکپ سہی کرکے ابو کے روم میں آئی آبو وھی چڈی پہن کر بیٹھا تھا میں آکر ابو





کو بانھوں میں بھر کر چومتی بولنے لگی ابو مجھے معاف کر دو ابو چپ ےتھا میں ابو کو بانھوں میں بھری بھری ابو کی گود میں بیٹھ گئی ابو کے سوئے لن پر اپنی گانڈ ہلاتی ھوئی ابو کو چومتی بولی ابو میں صرف اب آپ سے کیا کروں گی مجھے معاف کر دو اور مان جاؤ ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا ھو گیا میں نے ابو کی چڈی سے لن نکال کر میں اپنی چُوت میں لن لے کر چدائی کرتی ابو کے منہ میں منہ دیا کچھ دیر بعد ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا میں بولی اف ابو سوری اب


دن رات صرف آپ کو خوش رکھوں گی پھر میں نے آبو کی چڈی اتار کر ابو کا لن دیکھی ابو کا لن تو بہت موٹا اور لمبا تھا مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا اور میری چُوت میں فٹ تھا


میں ابو کے لن کو چومنے لگی ابو بھی مستی میں میرے مموں کو دباتا چُوستا چُومتا میں ابو کے لن کو چوپے لگانے لگی مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر میں گھوڑی بن گئی ابو نے ایسی چُدائی کی کے بہت دیر بعد میں فارغ ھو گئی مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا ابو پھر چدائی کرنے لگا پھر میں فارغ ھوئی ابو نے کہا کھانا لگاؤ میں ننگی کچن میں آئی کچھ دیر بعد ابو آیا اور چدائی کرنے لگا میں کھانا گرم کرنے لگی میں پھر فارغ ھو گئی کھانا کھا کر پھر صبح تک چدائی کی ابو کو آفس نہیں گیا میں نے باجی کو بتا دیا کے ابو سے میں نے کر لیا ھے باجی سن کر خوش ھوکر بولی تجھے مزہ آیا میں بولی اف بانی صرف مزہ مجھے نہیں پتا تھا کے ابو کے لن میں اتنا بہت مزہ ھے باجی بولی ہاں یار ابو کا لن بہت مزے کا ھے پھر مجھے ابو کے لن کی ایسی لت لگی کے بس مت پوچھو 


میں ابو کے لن کے بنا نہ رھے پاتی تھی دن رات ابو سے بس چدائی کرتی رہتی ابو کا لن کھڑا رہتا ابو دیر سے فارغ ھوتا 


ایک مہینے بعد مجھے ماہواری شروع ھو گئی میری چُوت پر ابو نے پیڈ لگایا چڈی پہنائی پھر میں ابو کے لن سے مست ھو گئی ابو نے مجھے نیچے کیا میرے اوپر آکر مجھے میرے مموں کو دباتے چوستے کہا


بیٹی گانڈ چودنے دو گی میں بولی ابو چود لینا ماہواری ختم ھو جائے پہلے چوت کی چدائی کرنا ابو نے کہا بیٹی تمہاری گانڈ کھولوں گا اور تجھے درد 


بھی نہیں ھوگا میں بولی سچ میں ابو تو کہا اپنی باجی سے پوچھ لینا پھر ابو کو کچھ سامان لینے جانا تھا ابو کپڑے پہن کر گیا کچھ دیر باجی کی کال آئی میں بولی باجی ابو نے جب تمہاری گانڈ ماری تھی درد 


ھوا تھا باجی بولی ہاں یار مجھے درد نہیں ھوا تھا بولی تم گانڈ دینے والی ھو کیا میں بولی ہاں ابو کی فرمائش ھے باجی بولی آج دو گی میں بولی ابھی تو ماہواری چل رھی ھے ختم ھوگی تب باجی بولی ابو


تمہاری بہت تعریف کرتا ھے میں بولی سچی بولی ہاں میں بولی ابو کیا کہتا ھے بولی ابو کہتا ھے تم بہت خوش رکھتی ھو ٹائم پر دوائیاں دیتی ھوں 


اور بس ابو کو مست رکھتی ھوں ابو تم سے بہت خوش ھے پھر کال ختم کی کچھ دیر بعد ابو آگیا ابو کو بولی آج مجھے لن کا پانی پلاؤ بولا ٹھیک ھے 


پھر ابو کے لن کو بہت گھنٹے چوستی چومتی رھی ابو کے لن کا پانی بہت نکلا میں سارا پانی پی گئی ابو سے بولی صرف کے لن کا پانی پیا ھے اور کسی کا پانی نہیں پیا پھر کچھ دن بعد ماہواری ختم 


ھوئی تو رات کو ابو نے میری گانڈ آرام آرام سے کھول دی پھر گانڈ اور چوت کی چدائی کرتا رہا میں تو دن رات لگی رہتی اور چوت پانی نکالتی 


رہتی اور میں چدائی کرتی رہتی میرا من نہیں بھرتا تھا ابو شروع سے سے حکیمی معجون کشتہ گولیاں کھاتا تھا اس لیئے ابو کا لن ساری ساری رات کھڑا رہتا میں لن سے مست رہتی اور ابو کا تین چار گھنٹے بعد لن سے پانی بہت نکلتا تھا مگر میں بار بار پانی چھوڑ دیتی پھر کچھ دن میری طبیعت خراب ھونے لگی مگر 


میں چدائی کرتی چوت پانی پانی ھوتی رہتی ایک دن کچن میں ابو پیچھے سے میری چوت گانڈ کی زبردست چدائی کر رہا تھا مجھے بہت مزہ آرہا تھا طبیعت بھی خراب تھی مجھے چکر آنے لگے میں گرنے لگی ابو اٹھا کر مجھے روم میں لایا بولا ڈاکٹر کے پاس چلو میں بولی پہلے مجھے فارغ کرو پھر ابو نے مجھے فارغ کیا مجھے 


لیڈی ڈاکٹر کے پاس لایا مجھے کہا تم ابو نہیں کہنا ھم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ھے پھر ڈاکٹر نے چیک کرکے میری طبیعت کا بتایا کے اسے کمزوری آگئی ھے سیکس بہت کرتی ھو تھوڑا کنٹرول کرو میں بولی میں نہیں رھے پاتی 


ڈاکٹر بولی اچھا پھر ایسا کرو میں کچھ داوائیاں لکھ کر دیتی ھو مگر اس میں آپ کو صرف ایک ہفتہ کنٹرول کرنا ھوگا اس کے بعد تم چاھے چوبیس گھنٹے لگی رھوگی گی 


کمزوری نہیں آئے گی ابو سے بولی کے اس کا خیال رکھو کشش کرو ایک ہفتہ تم اسے کنٹرول کرو ورنہ اس کی جان بھی جا سکتی ھے ابو نے کہا میں عمل کروں گا پھر ابو نے 


مجھے ایک ہفتہ کچھ نہیں کرنے دیا باجی بھی مجھے منع کرتی ایک ہفتہ تو ھے پھر کرنا ھے بس ایک ہفتہ مجھے ایک ایک مہینے کا لگتا لگتا آخر ختم ھوا پھر مجھے ماہواری آگئی باجی ہنس کر بولی چلو کوئی بات نہیں ایسا ھو جاتا ھے پھر جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور کچھ دن بعد میں پھر چکر کھانے لگی ڈاکٹر کے پاس گئے تو پتا


چلا میں پریگنٹ ھوں ابو سے بولی مجھے بچہ جننا ھے ابو مان گیا باجی مان گئی 


میں ننگی ھو کر بیٹے کی طرف منہ کرکے لیٹ گئی

 میری بھابھی کا بچہ ھونے والا تھا تو بھائی نے مجھے آنے کو کہا دوسرے شہر میں رہتے تھے میں اپنے بیٹے کو ساتھ لےکر بھائی کے گھر آئی سب سے ملے بھائی کی چار سال کی بیٹی تھی اور بہت پیاری تھی باتیں بھی پیاری پیاری کرتی تھی بھائی کے گھر میں دو روم تھے ایک میں خود رہتے تھے اور مجھے دوسرا روم رہنے کو دیا پھر رات کو ھم سب نے مل کر کھانا کھایا کھانا کھاتے باتیں کی پھر دونوں چلے گئے


صرف میں اور بھابھی بیٹھی تھیں میں بھابھی سے بولی مجھے تم کو پیار کرنا ھے اور تمہاری چُوت کا رس چاٹنا ھے تو بھابھی مجھے ٹیوی روم میں لائی میں اور بھابھی چومنے لگی میں اور بھابھی ننگی ھو گئی بھابھی کو گھوڑی بننے کو بولی بھابھی گھوڑی بنی میں بھابھی کی چوت چاٹنے لگی 


بھابھی سے پوچھی ابھی بھی تم بھائی سے چدائی کرتی ھو بولی ہاں یار جب بھائی آتا ھے تو بہت چدائی کرتا مجھے بہت مزہ آتا ھے دونوں کے ساتھ میں پوچھیں دونوں بولی ہاں شوہر اور بھائی میں بولی ایک ساتھ بولی ہاں میں پوچھی وہ کیسے ھوا بھابھی نیچے لیٹ گئی میں بھابھی کے اوپر آکر چومنے لگی بھابھی بولی یہاں 


جب ھم آئے تو شوہر سے بولی مجھے تم اور بھائی ایک ساتھ کرو تو شوہر نے کہا مجھے گانڈ چودنے دے چوت کی سیل تو تم نے بھائی سے کھلوا لی تھی میں بولی اچھا کرلو پھر گانڈ کی سیل کھولی 


بولا ایک مہینے بعد بلا لینا پھر ایک مہینے بعد بلایا پھر دونوں کے ساتھ کرتی تھی تین مہینے بعد بھائی چلا گیا 


پھر بولی ایک دن بیٹی نے مجھے کسی اور کے ساتھ چدائی کرتی دیکھ لیا میں پوچھی وہ کون تھا بھابھی بولی دو دوست ہیں میں بولی اف بھابھی تم تو بہت مزے کرتی ھو بھابھی بولی بیٹی نے اپنے ابو کو بتا دیا وہ سن کر مجھے بہت ڈانٹ دیا کہا بچی سے تو پردہ کیا کرو


بھابھی بولی کے ان میں سے ایک اچھی چدائی کرتا تھا ایک رات میں نے اسے رات رہنے کو بولی شوہر سے اجازت لےکر شوہر چدائی کرکے فارغ ھوتا تو میں اس کے پاس چلی جاتی وہ فارغ ھوتا تو اس کے بعد اسی طرح پھر شوہر نے کہا صبح جلدی کام پر جانا ھے 


میں پوچھی بھائی بیٹی کو پیار کرتا ھے بولی ہاں بیٹی کی چُوت چاٹتا ھے لن چسوایا ھے بھابھی پوچھی تم سناؤ تیرا آبو اب بھی ویسی چدائی کرتا ھے میں بولی نہیں یار ابو بہت بوڑھا ھو گیا ھے اب تو ابو کا لن کھڑا نہیں ھوتا پھر پوچھی داماد سے تو کرتی تھی میں بولی وہ بھی چلے گئے بولی اب کس سے کرتی ھوں میں بولی 


بھابھی اب تک کوئی ملا نہیں بھابھی بولی تم بیٹے سے کرلو بات ختم میں بولی یار کبھی بیٹے نے مجھے اس طرح سے چھوا تک نہیں پوچھی کبھی بیٹے کا کھڑا لن دیکھی میں بولی ہاں وہ تو روز صبح کو دیکھتی ھوں بولی کیسا ھے

میں بولی یار چڈی کے اندر تو بہت موٹا لمبا لگتا ھے بولی کبھی بیٹے کے لن کو پکڑی میری ہنسی نکل گئی میں بولی نہیں یار میں بھابھی کی چُوت مستی میں چاٹ رھی تھی بھابھی بولی یار تم بھائی سے کر لو میں بولی کبھی بھائی نے مجھے پکڑا نہیں ھے کیسے کروں پھر بھابھی کی چُوت نے رسیلا رس چھوڑ دیا میں بھابھی کی چُوت کا سارا رس اندر تک چاٹ گئی بھابھی کو


 نیند آئی تھی میں بھابھی کو کپڑے پہنا کر خود پہن کر بھابھی کو اٹھایا پھر ھم چلتی چلتی چومتی ھوئی بھابھی کے ڈور پر آئی بھابھی اندر چلی گئی میں بہت گرم تھی من کر رہا تھا بس لن مل جائے


 میں اپنے روم میں آئی بیٹے کو دیکھی بیٹا چڈی پہن کر خراٹے لیتا سو رہا تھا مگر بیٹے کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا میں دیکھ کر بولی بیٹا سو رہا ھے اور بیٹے سپاہی جاگ رہا ھے


 پھر میں بیٹے کی طرف کمر کر کے لیٹ گئی سینگل بیڈ تھا اور ھم دو تھے میں لیٹ کر مموں کو دبانے لگی میری چُوت بہت گرم تھی سوچی ایک مما نکال کر چوسوں اتنی دیر میں بیٹا میری طرف ھوا اور بیٹے کا لن میرے ھیپ میں گھس گیا ایک ہاتھ میرے مموں پر رکھا اف 


پھر کچھ جھٹکے لگائے مجھے مزہ آرہا تھا میں نے اپنی گانڈ اور پیچھے کی بیٹے کے لن کا ٹوپا میری چُوت کے ھونٹوں میں رگڑ ھونے لگی مموں کو دبا رہا تھا میں تو فل مزے سے لیٹی رھی بہت دیر تک لن رگڑتا رہا پھر اچانک حرکت بند ھو گئی میں سوچنے لگی بیٹا فارغ 


تو نہیں ھو گیا میں پیچھے سے ہاتھ کرکے بیٹے کی لن کو پکڑ کر چیک کیا تو نہیں نکلا تھا مگر میں مستی میں آگئی آج پہلی رات تھی میں سیدھی ھوکر بیٹے کو باھوں میں بھرا


اپنے چوتڑوں میں بیٹے کا لن لیئے لیٹی بیٹے کو بہت چومی چُوت لن پر رگڑتی رھی بیٹا حرکت نہیں کر رہا تھا بیٹے کے لن کو ہاتھ میں پکڑی بیٹے کا لن بہت موٹا اور لمبا تھا بہت دیر تک بیٹے کے ساتھ مست رھی بہت گرم تھی نیند آگئی 


پھر دن میں بیٹا ماموں کے ساتھ باہر چلا گیا تو بھابھی اور میں نے زبردست سیکس کرکے چُوتوں کا رس نکال کر چاٹی پھر کھانا بنایا پھر بیٹا آگیا میں بہت گرم تھی بھابھی 


بار بولتی کے بیٹے سے کرلو اور بولی کچھ دن میں شوہر کو تین مہینے کی چھٹی ملنے والی ھے پھر تمہاری چدائی کراؤں گی ایک مہینے بعد میرا بھائی بھی آئے گا پھر مل کر کرینگے میں بولی ٹھیک ھے


پھر رات کو میں بھابھی کی بات کو ذہن میں رکھیں بیٹے سے کر لو میں بہت گرم تھی اور سوچی آج رات کو ھی کر لیتی ھوں رات کو کھانا کر 


میں روم میں آئی بیٹا سویا تھا اور بیٹے کا لن بھی سویا تھا میں ننگی ھو کر بیٹے کی طرف منہ کرکے لیٹ گئی میں نے مموں کو سامنے سہی کیا میرا جسم بہت گرم تھا میری چُوت بہت گرم تھی یہ سوچ کر کچھ دیر میں مزہ آنے والا ھے میں نے بیٹے کو 


زور سے چٹی کاٹی میں اپنا ہاتھ لک پر سیدھا رکھ لیا تھوڑی سی آنکھ سے دیکھ رھی تھی زور سے چٹی کاٹنے سے بیٹا اٹھا اور مجھے دیکھا

بس پھر مجھے ننگی کو بس دیکھتا رہا بیٹے کا چڈی میں 


لن کھڑا ھو گیا پھر ڈرتے ڈرتے میرے مموں کو ہاتھ لگایا تھوڑا سا دبایا میں مزے سے پڑی تھی پھر بیٹے نے چڈی سے اپنا لن نکالا میں دیکھ کر بہت گرم ھو گئی کے کچھ دیر میں کام ھونے والا ھے پھر میرے جسم پھر ہاتھ پھیرا میرے ھیپ دبائے پھر میرے ایک ممے کو اٹھا کر چوسنے لگا پھر چڈی اتار دی میں دوسری طرف کروٹ لےکر بیٹے کے لن پر گانڈ دبا دی بیٹا میری چُوت کے ھونٹوں کے بیچ میں لن کا ٹوپہ 


رگڑنے لگا پھر بیٹے کا منہ سے تھوک نکلنے کی آواز آئی پھر تھوک کی آواز آئی اور میری چُوت پر تھوک لگایا میں نے اپنی چُوت کو لن کے نشانے پر سہی کیا پھر بیٹا میری چُوت میں لن کا ٹوپہ ڈال کر اندر باہر کرنے لگا مجھے چومتا مموں کو دباتا چومتا آدھا لن اندر چلا گیا میں نے اپنی گانڈ دھکے سے پیچھے کی بیٹے کا پورا لن میری چُوت میں اندر چلا گیا 


بیٹا تیز تیز چدائی کرنے لگا مجھے چومنے لگا میں ایک ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ کر بیٹے کو چوم کر بولی امی کو 


خوش کردو بولا امی ٹھیک ھے پھر 



صبح کے آٹھ بج گئے بیٹا سو گیا میں چائے بنانے کچن میں آئی اتنے میں بھابھی آگئی مجھے چومنے لگی بولی ٹیوی روم میں چلیں پھر ھم ٹیوی روم میں آکر چومتی ننگی مست ھو گئی میں بھابھی سے


بولی بھابھی ایک بات بتاؤں بولی ہاں میری جان میں بولی رات کو بیٹے سے کر لیا بھابھی سن کر بہت خوش ھوکر مجھے چومتی بولی مزہ آیا میں بولی بھابھی اف مت پوچھو بہت مزہ آیا بھابھی بولی کتنا بڑا ھے میں ہاتھ سے بتائی کے اتنا لما اور موٹا ھے بھابھی مستی 


میں آکر مجھے مست کرنے لگی میں بھابھی کو مست کر رھی تھی بھابھی بولی ٹائمنگ کیا ھے میں بولی یار مت پوچھو میں چار بار فارغ ھوئی تو پھر فارغ ھوا بیٹا ابھی سویا تو میں باہر آئی بھابھی بولی یار


میری بھی چدائی کرا دے میں بولی بھائی کو چھٹی ملنے دو تو پھر کرینگی بولی ٹھیک ھے پھر بہت مزہ آئے گا کچھ دن


بعد بھابھی بولی رات کو تیار رہنا رات کو بھائی کھانا کھا کر چلا گیا بیٹا میری بھابھی کو چومنے لگا بولا مامی چلو نہ بھابھی بولی پہلے تیری امی کو بھیجوں گی پھر میں اور بیٹا بھابھی کو لائے بھابھی بولی پہلے تم اندر جاؤ میں ڈور کھولی اندر آکر ڈور بند کیا 


بھائی اندر چڈی پہنے لیٹا تھا مجھے دیکھ کر اٹھ کے بیٹھ گیا میں بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بھائی کے ساتھ بیٹھ گئی بھائی کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا میں بہت گرم تھی کے آج بھائی سے کروں گی بھائی نے مجھے باھوں میں بھر کر دباتے چومنے لگا اور اپنے سینے پر مجھے لیٹا دیا چومتے کہا باجی سیدھی ھو جاؤ میں سیدھی ھوکر بھائی کے اوپر لیٹ گئی بھائی کے لن کو اپنی چوتڑوں میں لیا بھائی مجھے 


چومتا بولا باجی جب تم نانا سے اور بہنوئی سے اور آنکل سے چدائی کرتی تھی میرا بہت دل کرتا تم سے کرنے کو میں بھائی کو بولی تم بول دیتے کہا باجی مجھے شرم آتی تھی میں بولی اچھا ابھی بھائی کو 


فل مزے دوں گی پھر ھم نے چدائی کی بھائی نے کہا باجی چائے بنا دو میں ننگی باہر آئی ہلکی آنچ پر چائے رکھ کر میں بیٹے اور بھابھی کو دیکھنے آئی بھابھی تو فل مزے سے چدائی کر رھی تھی لن کی بہت تعریف کرتی پھر دن میں بھابھی اور میں نے بیٹے کے ساتھ کیا پھر بیٹا سو گیا تو بھائی کے ساتھ ھم دونوں نے کہا پھر بھائی اور بیٹے نے میری چدائی کی پھر دونوں نے بھابھی کی چدائی کی ایک مہینہ ھو گیا پھر بھابھی کا بھائی آیا ھم تینوں سے کرتی کبھی میں تینوں سے کرتی کبھی بھابھی کرتی کبھی مل کر کرتی پھر بھابھی کا بھائی چلا گیا بھابھی کی طبیعت خراب ھوئی ڈاکٹر کے پاس لے گئے  بولے کل تم لوگ آجانا میں بھائی بیٹا گھر آئے میں دونوں سے شروع ھو گئی پھر صبح دوپہر میں بھابھی کو بیٹا ھوا بھابھی بہت خوش تھی پھر بھابھی کو گھر لائے بھابھی نے 


پہلے میرے بیٹے کو اپنے مموں کا دودھ پینے کو کہا بیٹے نے پیٹ بھر کر دودھ پیا پھر میں نے دودھ پیا بیٹے کا بھابھی لن چوس رھی تھی پھر بھائی نے دودھ پیا پھر بھائی مجھے روم 


میں لایا چدائی کی مزے کی بولا باجی اچھا ھوا تم نے مجھ سے کر لیا بھابھی تمہاری تو ابھی نہیں کر سکتی چدائی کرکے میں کچن اسے پتیلی لےکر بیٹے کے روم میں آئی بیٹا مموں کو چود رہا تھا بیٹھا مجھے دیکھ کر اٹھ کر مجھے گھوڑی بناکر چدائی کرنے لگا 


میں پتیلی میں بھابھی کے مموں کا دودھ نکال رھی تھی آئے بنانے کیلئے آدھی پتلی ھو گئی میری چُوت نے رس چھوڑ دیا میں دودھ لےکر کچن میں آئی پتی چینی ڈال کر چولہے پر رکھی تو بھائی آگیا اور پیچھے سے چدائی کرنے لگا پھر اسی طرح ہمیں تین مہینے ھو گئے بھابھی نے ایک دن دو لڑکوں کو بلایا ھم سارا دن چدائی کی مجھے بہت مزہ آیا ایک دن بھابھی بولی میرا بیٹا بڑا ھوگا تو میں بیٹے سے بہت چدائی کیا کروں گی  


پھر بیٹے کے ساتھ ھم اپنے گھر آئے بیٹے کو بولی اب تم کو بہت پیار کروں گی بیٹے نے کہا گانڈ دو میں بولی کل تیاری کروں گی دن میں کر لینا پھر دن میں بیٹے سے تیل منگوائی اور گانڈ کی سیل کھولی 


۔۔۔۔۔۔نیکسٹ پارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔؟