شنو جان کی سیکس جوانی

Monday, December 15, 2025

پاپا کچن میں آکر پیچھے سے مجھے پکڑ لیا

 ایک صبح کو میں کچن میں سب کیلئے ناشتہ بنا رھی تھی


پاپا کچن میں آکر پیچھے سے مجھے پکڑ لیا اپنا لن میری گانڈ کے ھیپ میں رگڑتے مجھے باھوں میں بھر کر میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میں جلدی سے ہٹ گئی پاپا نے مجھے پھر پکڑ لیا پاپا نے اپنی چڈی سے لن نکال لیا میں کچن سے باہر 


آئی تو پاپا نے پھر پکڑ لیا مجھے باھوں میں دباتے چومنے لگا پاپا فل گرم تھا ممی سو رھی تھی میں نے کہا پاپا نہیں کرو پلز آپ کا بہت بڑا ھے پاپا بولا کچھ دیر کرنے دو میں بولی نہیں آپ پاپا ھو 


بولا سگا پاپا تو نہیں ھوں میں بولی پلز نہ کرو پاپا بولا کب سے طلاق لےکر گھر میں ھو گرم نہیں ھوتی پاپا نے مجھے اٹھا لیا میں کوشش کی لیکن پاپا کی پکڑ نہ چھڑا سکی پاپا مجھے روم میں لایا مجھے بہت دبایا چوسا چوما کے آخر میں گرم ھو گئی اور پاپا کا ساتھ دینے لگی 


پھر پاپا نے زبردست چدائی کی میں فارغ ھوئی تو پاپا بھی فارغ ھو گیا اور چڈی پہن کر جانے لگا میں نے پکڑ کر کہا آگ لگا کر بھاگ رہا ھے میں چڑھ گئی زبردست چدائی کی ہمیں بہت ٹائم ھو گیا تو ممی نے مجھے آواز دی جلدی سے ھم الگ ھوئے کپڑے پہن کر میں باہر آئی ممی کچن میں تھی 


مل کر ناشتہ بنانے لگی کچھ دیر بعد پاپا کچن میں آیا اور ممی کو چومنے لگا ممی میرا بولتی کے بیٹی کھڑی ھے لیکن ممی کو کیا پتا کے بیٹی ابھی پاپا سے چدائی کرکے آئی ھے


پاپا نے امی کے مموں کو نکال دیا دبانے لگا میں دیکھ کر ناشتہ بنا رھی تھی پاپا میری گانڈ چوت کو سہلا لیتا انگلی کر دیتا مجھے چوم لیتا امی کی چوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا میں ممی مجھے بولی کچھ دیر میں آتی ھوں پاپا امی کو اٹھا کر روم میں لے گیا ممی کی چیخیں تھی یہاں میں بہت گرم تھی 


شادی سے پہلے پاپا مجھے بہت بار اپنا لن چسوایا کرتا تھا پھر کالج کے لڑکے سے میری چدائی ھو گئی اور اس بات کا پاپا کو پتا چل گیا تھا ایک رات ممی جلدی سو گئی پاپا روم میں آیا 


میں سمجھی لن چسوائے گا مگر پاپا میری چدائی کرکے چلا گیا پھر لڑکے سے میری شادی ھو گئی ایک مہینے بعد دیور نے


مجھے پکڑ لیا میں بہت گرم تھی اور مان گئی کیونکہ شوہر چدائی میں کمزور تھا دیور کے ساتھ میں دن رات چدائی کرتی ایک دن شوہر نے دیکھ لیا اور 


مجھے طلاق دے کر گھر راوانہ کر دیا میری صحت پر کچھ فرق نہ پڑا میں طلاق لےکر گھر آگئی اسی دن پاپا آفس کے کام سے باہر جانے والا تھا ممی پاپا کو طلاق کا بتایا پاپا کچھ دن کیلئے چلا گیا اور ایک مہنہ بعد 


گھر آیا رات کو ممی نے پاپا کو چھوڑا نہیں صبح مجھ پر آیا میں اس کے بعد پاپا سے میں بہت مزے سے چدائی کرتی


ایک رات ممی نے دیکھ لیا بس پھر تو ممی نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا مجھے تو بہت ماری بولی شادی کی تو دیور سے شروع ھو گئی کالج میں شروع ھو گئی اب ممی کے شوہر سے شروع ھو گئی مر جا رنڈی بھڑوی ممی نے مجھے بہت مارا پیٹا میری آنکھیں سوج گئی ناک سے خون بہنے لگا پاپا کو گھر سے نکال دیا آفس کال کرکے پاپا کی پابندی کر دی کچھ دن میں روم میں درد سے مرتی رھی پھر میری ساری سوجن ختم ھو گئی ایک دن ممی بولی آج سے تو آفس سمبھال جو کرنا ھے کر مجھے ایک گھر کا ایڈریس دے کر بولی جاکر وھی اکیلی رھے جتنے مردو سے ملو لیکن شادی ضرور کرنا خبر دار پھر سے پاپا


کے ساتھ ملی تو میں تجھے گولی مار دوں گی خود کو بھی گولی مار دوں گی میں نے ممی سے معافی مانگی لیکن ممی نے معاف نہیں کیا بولی دفع ھوجا 


میں کیا کرتی میرے ابو کے مرنے کے بعد ممی نے پاپا سے شادی کی پاپا نے مجھے گود میں بیٹھا بیٹھا کر نیچے سے لن کھڑا کر دیتا تھا میں اس وقت انجان تھی اس وجہ سے پاپا نے بھی میرا فائیدہ اٹھایا 


شادی میں شوہر خوش نہیں کر پاتا تھا میں بہت گرم تھی دیور نے پکڑا تو میں گرم ھو گئی میں سیکس کر بیٹھی


میں بھی غصے سے دوسرے گھر میں رہنے لگی اور آفس جانے لگی ممی بھی آفس آتی تھی پہلے تو سب پاپا دیکھتے تھے اب ہمیں پتا چلا کے کمپنی نقصان میں چل رھی ھے پھر ممی نے آفس میں میٹنگ رکھی 


امی ہر بات میں تعنہ مارتی کے ھم دوسرے کام تو باآسانی کرتے ہیں یہی تم آفس میں دھیان لگاؤ میں ممی کی باتیں سمجھتی تھی آخر ممی اور میں نے آفس کو ٹاپ پر پہنچا دیا ممی نے پاپا سے طلاق لےلی 


اور ممی نے تیسری شادی کرلی ایک دن میں بہت غمزدہ تھی امی سے بات کرنے کیلئے پھر


میں نے گھر کیلئے ایک نوکرانی رکھ لی اور اسی طرح نوکرانی میری دوست بن گئی میں نوکرانی سے ہر بات شیر کرنے لگی کبھی کبھی نوکرانی کے گلے مل کر رو لیتی تھی نوکرانی دن رات میرے ساتھ گھر رہتی تھی

No comments:

Post a Comment