شنو جان کی سیکس جوانی

Monday, December 15, 2025

میرا پتی انڈیان فوجی تھا

 ممی پاپا جس سے میری شادی کرا رھے تھے وہ فوجی تھا کچھ دن بعد ھونے والا پتی اپنے پاپا کے ساتھ مجھے دیکھنے آیا مجھے دیکھتے ھی کہا مجھے پریتی پسند ھے اور اپنے پاپا سے تین دن ہمارے گھر رہنے کی بات کی لڑکے کی بات 


سن ممی پاپا نے کہا کوئی بات نہیں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو جان لیں تم رھے سکتے ھو آنے والے ہفتے میں شادی کر کے لے جانا لڑکے کے پاپا نے کہا ٹھیک ھے پھر اٹھائیس تاریخ کو شادی رکھی گئی ھونے والا سسر اپنے گھر چلا گیا رات کو


لڑکے نے مجھے کچن میں پکڑ لیا چومنے لگا کچھ دیر میں ممی آگئی ہمیں مستی میں دیکھ کر بولی پریتی تم دونوں جاؤ میں برتن دھو لوں گی پھر


اپنے ھونے والے فوجی پتی کو اپنے روم میں لائی فوجی نے مجھے بہت گرم کر دیا میں اپنے کپڑے اتارتی تو منع کرتا کہتا سوہاگ رات کو ھوگا جو ھوگا میں تین دن مجھے بہت گرم کیا بہت کہتی رھی چدائی کرو مگر نہیں مانا لن پکڑتی چومتی پتی بھی چڈی پر میری چُوت چاٹتا پھر شادی ھو گئی پتی اپنے گھر لایا اور میں 


سوہاگ رات کو پتی کا ویٹ کر رھی تھی تو اچانک سوہاگ رات کو پتی انڈیا کے باڈر چلا گیا اور جنگ میں مارا گیا پتی کی لاش گھر لائی گئی میری ممی پاپا بھی آگئے شوہر کی چیتا کو اگنی دینے کے تیسرے دن کو شام میں 


پاپا نے میرے سسر سے مجھے گھر لے جانے کی اجازت مانگی تو سسر نے کہا پریتی اب گھر کی بہوں ھے میں نہیں بھیج سکتا سسر کا بھی اکلوتا بیٹا تھا اور ساس بھی پہلے سے گزری ھوئی تھی ممی مجھے اکیلے میں بولی کے اب تمہارے لیئے تمہارا سسر ھی سب کچھ ھے سسر کی ہر بات ماننا پھر


ممی پاپا چلے گئے کچھ دن بعد سسر نے بتایا کے ھم یہاں سے دوسرے شہر رہنے والے ہیں پھر کچھ دن بعد سسر نے مجھے سامان پیک کرنے کو کہا میں ضروری سامان پیک کر لیئے 


شام کو سسر گھر آیا سسر نے مجھے بلایا میں آئی تو بیٹھنے کو کہا میں صوفے پر بیٹھی تو سسر نے کہا کچھ دیر میں ھم نکلنے والے ہیں دیکھو پریتی میں چاہتا ھوں کے مجھے ساڑھی دےکر کہا تم یہ ساڑھی پہن لو تم سفید ساڑھی نہ پہنو 


جاکر تم تیار ھو جاؤ میں ساڑھی لےکر اپنے روم آئی اور ساڑھی نکال کر دیکھی پیلے کلر کی ساڑھی تھی میں پہن کر آئی سسر مجھے دیکھ کر تعریف کی پھر مجھے گاڑی میں بٹھایا پھر سسر مجھے 


دوسرے شہر ایک گھر میں لایا رات کو سسر نے صرف ایک دم ٹائٹ چڈی پہنی جو سسر کے جسم سے چپکی ھوئی تھی آگے سے چڈی میں سسر کی موٹی جگہ تھی پھر سسر نے


مجھے نائٹی پہننے کو کہا اور باہر سے کھانے کا آڈر دیا سسر نے مجھے کہا کے جانے والا اب واپس نہیں آئے گا یہاں اپنی نئی زندگی کی شروعات کرو


میں دوسرے روم کی طرف جانے لگی تو سسر نے کہا ان روموں میں پنکھا آئی سی نہیں چل رھے کل الیکٹریشن آئے گا تو آج رات ھم ایک روم استعمال کرسکتے ہیں میں بولی ٹھیک ھے پھر میں روم میں آئی ایک دم ٹھنڈا روم تھا میں ننگی ھو گئی اور آئینے پر میری نظر پڑی خود کا ننگا جسم دیکھ کر سوچی پتی بنا کچھ کیئے گزر گیا اور میرا دل بھر آیا میں نائٹی پہن کر آئی 


سسر کھانا لگا رہا تھا میں بولی میں لگاتی ھوں سسر نے مجھے نائٹی میں دیکھ کر میری تعریف کی پھر ھم نے کھانا کھایا سسر کے چہرے پر میری نظر پڑی سسر مجھے بہت پیارا لگ رہا تھا من کرنے لگا سسر کو چوموں مگر کچھ نہیں کیا 


گھر میں ھم دو ھی تھے کھانا کھاتی سسر کو دیکھتی گرم ھونے لگی اور خود پر کنٹرول پر کنٹرول کر رھی تھی کھانا کھاکر سسر اپنے روم چلا گیا 


میں برتن دھوکر روم میں آئی سسر دوسری طرف منہ کر کے لیٹا ھوا تھا میں بیڈ پر لیٹ گئی اور بہت گرم ھو گئی میں 


سسر کو دیکھتی سسر میری طرف کمر کرکے سو رہا تھا میں سسر کے قریب ھوتی ھوتی پیچھے سے سسر کو چپک گئی 


اور میں بہت گرم ھو گئی اور سسر کو دبانے لگی اور سسر کی کمر کو چومنے لگی کچھ دیر بعد میں نے سسر کو اپنی طرف کیا تو سسر نے میری طرف منہ کیا اور مجھے دیکھا میں مست بھری نظروں سے سسر کو دیکھنے لگی


 سسر نے میرے ھونٹ کو چوما بس میں سسر کے منہ میں اپنا منہ دیا اور ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے میں فل مستی میں آگئی سسر بھی فل مستی میں آگیا سسر نے میری نائٹی اتار کر پھینک دی 


میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں بھی سسر کو مستی میں چوم رھی تھی چڈی میں سسر کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا پھر میں سسر کے اوپر آکر سسر کو چومتی سسر کی چڈی پر آئی اور چڈی پر سسر کے لن کو چومنے لگی پھر سسر کا لن نکال کر چومتی چومتی لن منہ میں لےکر چوسنے لگی


سسر مجھے چومتا رہا کچھ دیر بعد سسر نے مجھے نیچے کیا اور مجھے چومتا چومتا میری چُوت کو چاٹنے لگا اف میں فل مزے میں تھی کچھ دیر بعد سسر میری چُوت میں لن ڈالنے لگا اور ایک دم پورا لن اندر ڈال دیا پھر سسر نے زبردست چدائی کی بہت دیر تک سسر 


چدائی کرتا رہا میں فارغ ھو گئی سسر مستی میں تھا سسر نے مجھے گھوڑی بناکر چدائی کرنے لگا میں مستی میں اپنی گانڈ آگے پیچھے کرنے لگی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی تو سسر نے مجھے اپنے اوپر کیا میری چوت پھر گرم ھو گئی سسر نیچے سے میں اوپر سے چدائی کر رھی تھی بہت دیر 


بعد میری چُوت نے پھر رس چھوڑ دیا میں سسر کے اوپر گر گئی سسر نے کچھ دیر نیچے سے چدائی کی پھر سسر میری چوت میں فارغ ھو گیا سسر کا لن میری چوت بیڈ کی چادر خون سے بھری تھی مجھے بہت مزہ آیا سسر کے ساتھ سسر لن دھونے گیا میں بیڈ کی چادر نکالی سسر آیا تو میں اپنی چُوت دھوکر آئی تو سسر ننگا تھا سسر کا لن فل مستی میں کھڑا تھا میں پھر سسر پر


چڑھ گئی اور صبح تک ھم چدائی کرکے ساتھ میں ننگے سو گئے مجھے سکون آگیا صبح آنکھ کھلی تو مجھے ممی کی بات یاد آئی کے اب سسر ھی میرا سب کچھ ھے 


پھر دن میں ممی کی کال آئی ممی صرف یہ پوچھی کے تم دونوں میں کچھ ھوا کے نہیں میں بولی ہاں ممی رات کو سب کچھ ھو گیا ممی بولی چلو اچھا ھوا پھر ممی بولی 


سسر کے لن سے میں پریگننٹ ھو گئی مجھے بیٹا ھوا بیٹا جب جوان ھوا تو سسر بہت بوڑھا ھو گیا بیٹا مجھے بہت گرم کر دیتا تھا میرا من کرتا


میں نے امی سے بات کی سسر کا کھڑا نہیں ھوتا بیٹا مجھے گرم کر دیتا ھے امی بولی تم کیا سوچتی ھوں میں نے کہا کبھی سوچتی ھوں بیٹے سے کر لوں امی بولی ویسے کسی کو پتا نہیں چلے گا ویسے بھی


آج کل یہ ھو رہا ھے تم تو ابھی جوان ھوں بیٹے سے بچے پیدا کر لینا شوہر تو اب ناکارہ ھے کال ختم کی تو میں تیار ھوئی


بہت گرم تھی بیٹے کا لن بھی موٹا لمبا لگتا تھا جب کبھی میرے ھیپ میں کھڑا لن گھسیڑ دیتا تھا پھر بیٹا آگیا مجھے میکپ میں دیکھ کر چومنے لگا میں چپ کرکے کھڑی رھی بیٹا سمجھ گیا کے میں مان گئی ھوں مجھے اٹھاکر روم میں لایا اور صبح تک چدائی کی اس کے بعد تو بیٹا اور میں بہت چدائی کرتے 



No comments:

Post a Comment