ابو ہر روز امی کی چدائی کرتا میں دیکھ کر بہت گرم ھو جاتی تھی ابو سے چدائی کرنے کا میرا من بہت کرتا تھا
ابو کا لن مجھے بہت پسند تھا من کرتا کبھی موقعہ ملا تو ابو کے لن سے بہت میرے کروں گی ابو امی چیخیں نکال دیتا تھا امی کی آوازیں سن کر میں چھپ کر چدائی دیکھتی تھی
بہت بار ابو کے لن کے نام کی چوت کا رس نکالی تھی پر میں موقعہ کی تلاش میں تھی بڑے دنوں بعد مجھے موقعہ ملا تھا جسے میں گوانا نہیں چاہتی تھی ھوا ایسا کے ایک دن
امی کو کال آئی کے اس کا بھائی بہت بمار ھے امی کا بھائی غریب تھا تو امی اپنے بھائی کا علاج کرانے کیلئے امی ماموں کے ہاں کچھ دن کیلئے چلی گئی میں بہت خوش ھوئی کے آخر مجھے موقعہ مل ھی گیا اور میرا من آیا کے موقعہ اچھا ھے رات کو کھانے کے بعد ابو کو اتنا گرم کر دو گی کے بس چدائی کرنے لگ جائے پھر رات کو ابو آفس سے گھر آیا ابو کو دیکھ کر میں بہت گرم ھو گئی ابو نے امی کا پوچھا چلی گئی میں بولی ہاں چلی گئی ابو نے کہا کھانا لگا دو میں نے کھانا لگایا اور ھم کھانا کھانے لگے ابو کھانا کھا کر اپنے روم چلا گیا میں اٹھی
میں بہت گرم تھی اور ابو کے روم میں آئی آبو کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی ابو کو چومنے لگی ابو نے کہا بیٹا کیا ھو گیا ھے
میں بولی ابو مجھے کرنا ھے آبو بولا کیا کرنا ھے میں بولی وہ جو آپ امی کے ساتھ کرتے ھوں بولا نہیں میں بولی کیوں کوئی وجہ بولا نہیں تو نہیں
میں بولی میں تو کروں گی بولا بیٹی نہیں میں بولی میرے ساتھ کرنے میں کیا ھے کیا میں آپ کو اچھی نہیں لگتی آبو کے اوپر آکر اپنی نائٹی اتار دی اور ابو کے لن پر اپنی چوت ہلانے لگی ابو نائٹی اٹھا کر بولا بیٹی یہ اچھی بات نہیں ھے اسے پہن لو میں نے اپنے دونوں مموں کو ابو کے منہ میں دیتی بولی ابو چوسو مگر ابو نے نہیں بول کر اپنا منہ ہٹادیا ابو سے پوچھی کے ابو آپ کیوں نہیں کر رھے کہا تم بیٹی ھو یار میں بولی تو کیا ھوا اندر نہیں جائے گا کیا بولا وہ بات نہیں ھے میں آبو کے ھونٹ چوسنے لگی اور نیچے سے آبو کا لن بھی کھڑا ھو گیا من میں بہت خوش ھوئی کے ابو گرم ھو گیا ھے میں بولی ابو کرو میں امی کو نہیں بتاؤں گی اور نہ ھی کسی اور کو بتاؤں گی
آبو نے مجھے باھوں میں بھر لیا میں ابو کو بولی میرا کرنے کو بہت من ھے آپ کا بھی کھڑا ھو گیا ھے ابو نے کہا ٹھیک ھے تم امی کو نہیں بتانا میں بولی
بول رھی ھوں کے امی تو کیا کسی کو نہیں بتاؤں گی ابو بولا تم بہت پیاری ھو پھر آبو نے میری چُوت کی سیل کھولی ابو کو میں نے آفس نہیں جانے دیا ابو سے دن رات چدائی کرتی رھی پندرہ دن بعد امی اگئی
بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر شیر کیا جائے گا
No comments:
Post a Comment