ایک رات ہمارے گھر چھ چور آگئے ابو اور بھائی کو ایک روم میں بند کر دیا دو چور ابو اور بھائی کے ساتھ رھے چار چور
مجھے امی کو بھابھی کو اور بھابھی کی بارہ سال کی بیٹی کو اور ھم چاروں کو ایک روم میں لائے ہمیں بولے ہمارے ساتھ کھل کر سیکس کرو نہیں کیا تو تم سب کو مار کر چلے جائیں گے امی بولی ہمیں نہیں مارنا تم جو چاہتے ھو ھم کرتی ہیں ان میں سے ایک امی کو باھوں میں بھر کر بولا ابھی بھی کمال ھو چومنے لگا دوسرا مجھے چومنے لگا تیسرا بھابھی کو چومنے لگا چوتھا میری بھتیجی کو چومنے لگا ھم سب کو ننگی کیا میں بھابھی امی گرم ھو گئی اور یہ چاروں ننگے ھو گئے
ایک تو بھابھی کی بیٹی کو ننگی کرکے چوت چاٹنے لگا باری باری بچی کو چومتے ہمیں چود رھے تھے دو فارغ ھوئے تو دوسرے دو آگئے پر امی کو اس نے نہیں چھوڑا باقی ہمیں چود رھے تھے امی والا چور صرف امی کو چود رہا تھا
امی کو بولتا جو تجھ میں مزہ ھے ایسا مزہ کسی میں نہیں ملا ایک تو بچی کی گانڈ میں لن ڈالنے لگا بھابھی نے منع کیا کے میری گانڈ مار لو میری بیٹی کی نہ مارو تو امی کے چور نے اپنے چور سے کہا بچی سے صرف رومانس کرو اور اس کی ماں کی گانڈ مار لو بھابھی کی گانڈ مارنے لگا بھابھی تو گانڈ میں لیتی تھی میرے والے نے مجھے گھوڑی بنا کر میری گانڈ میں پورا لن ڈال دیا اف ایسا لگا کسی نے کوئی جلتا ھوا لوہے کا موٹا راڈ میری گانڈ میں ڈال دیا ھے
میری گانڈ کی تیز تیز چدائی کرنے لگا بہت دیر بعد پھر چوت اور گانڈ کی ایک ساتھ چدائی کرنے لگا مجھے مزہ آنے لگا درد ختم ھوتا ختم ھو گیا بھابھی کی بیٹی ان کے لن چوستی کوئی اس کے منہ میں فارغ ھو جاتا کوئی ہمارے منہ میں امی بھی گانڈ مروا رھی تھی
چھ بندوں نے چھ چھ بار ہماری چدائی کی ھم چارو مزے سے کر رھی تھی پھر صبح کے نو بج گئے پھر امی والے چور نے ہمیں کہا تم جاکر ناشتہ بناؤ اپنے چورو سے کہا تم وھی جاکر کروں اور یہاں نہیں آنا ابھی اس کے ساتھ دل نہیں بھرا امی کو بولا تجھ میں بہت مزہ ھے
مجھے بھابھی کو اور بچی کو کچن میں لائے امی چور کے ساتھ روم میں اکیلی رھے گئی بچی کو میز پر لیٹا دیا بچی کے ساتھ سیکس کرنے لگے اور ھم ناشتہ بنا رھی تھی پیچھے سے ہماری چدائی کر رھے تھے
بھابھی کان میں بولی مجھے بہت مزہ آرہا ھے میں بولی مجھے بھی پھر ناشتہ تیار ھوا ھم سب ننگے تھے پر وہ امی کو چدائی کرتا اٹھا کر لایا امی بھی اس کے ساتھ مست تھی پھر وہ کرسی پر بیٹھا اور امی کی چوت میں لن ڈال کر امی کو امی گود میں بیٹھایا
امی تو اسے بہت پیار کر رھی تھی اسے ناشتہ کرا رھی تھی ایک نے بچی کو اپنی گود میں بیٹھا کر بچی سے مستی کرنے لگا بچی میں بھابھی امی بہت گرم تھی سب ہماری تعریف کرتے امی ھم سے زیادہ گرم تھی
پھر سب نے ناشتہ کیا ایک ایک کو نہلاتے چدائی کی مجھے جس کا لن پسند آیا اسے بولی مجھ سے دوستی کر لو بولا ٹھیک ھے
بوس کو نہیں بتانا پھر مجھے نمبر دیا پھر سب نے اور ھم نے کپڑے پہن لیئے پھر چور چلے گئے
پھر ھم نے جاکر ابو اور بھائی کو کھولا دونوں سمجھ گئے کے ھم سب کی چدائی ھوئی ھے بھائی نے بیٹی کا پوچھا تو بھابھی نے کہا بچی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ھوا
بھائی نے کہا ابو تھانے میں رپورٹ کریں ابو بولا بیٹا ابھی تو ھم کو پتا ھے رپورٹ کی تو سب کو پتا چلے گا طرح طرح کے سوالات ھونگے بہتر ھے یہ بات بھول جاؤ کے کچھ ھوا نہیں ھے تو بھائی نے مان لیا
دوسرے دن بھائی اور ابو آفس چلے گئے بھتیجی اسکول چلی گئی امی میں بھابھی کچن میں کھانا بنا رھی تھی بھابھی امی سے بولی چوروں کے بوس
نے تو آپ کو چھوڑا ھی نہیں آپ اسے پسند آگئی تھی میں بولی ہاں امی لگتا ھے آپ اسے پسند آگئی تھی پھر بھابھی اپنی بیٹی کا بولنے لگی کے چھوٹی بچی کو بھی نہیں چھوڑا امی بولی ایک بات بولوں بھابھی بولی ہاں بولو
امی نے کہا مجھے تو بہت مزہ آیا بھابھی بولی مزہ تو مجھے بھی بہت آیا میں بولی میں تو پہلی کیا تو بہت مزہ آیا بھابھی بولی میری بیٹی کو بھی مزہ آرہا تھا
ایک رات میں بہت گرم تھی چور کو کال کی آجاؤں بہت گرم ھوں بولا آرہا ھو پھر آیا چھپ کر میں اپنے روم میں لائی اور چدائی شروع کر دی صبح تک چدائی کی جب اسے باہر چھوڑنے آئی تو بھابھی نے دیکھ لیا بولی یہ تو وھی ھے
بھابھی بتایا کے اس دن نمبر لیا تھا بھابھی بولی اب میں کروں گی میں بولی ٹھیک ھے پھر بھابھی روم لےگئی کچھ دیر بعد امی اگئی اتنی دیر میں امی چور کے ساتھ آگئی میں نے امی کو بتائی کے میں نے نمبر لیا تھا اور رات کو آیا ھے
امی اس سے بولی تمہارا باس کہاں ھے بولا وہ گھر پر ھے میں امی سے بولی تم کروگی
امی بولی نہیں رات کو اسے بلایا ھے کسی کو بتانا نہیں پھر رات کو امی نے اسے بلایا میں اور بھابھی بہت گرم تھی بھابھی اپنے روم چلی گئی
امی باہر آئی تو امی سے بولی امی ایک بار تو کرنے دو امی بچ بولی ٹھیک ھے جاکر کرلے میں چدائی کرنے آئی بہت مزے کی چدائی کی میں باہر آئی تو بھابھی چلی گئی میں آکر سو گئی
بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر شیر کیا جائے گا
No comments:
Post a Comment