Tuesday, March 24, 2026

ممی کی کمی کو پورا۔کیا

 میری ممی کو گزرے چھ مہینے ھو گئے ان چھ مہنو میں میں نے پاپا کے ھونٹوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی پاپا کو ہمیشہ اداس دیکھتی تو مجھے بہت تکلیف ھوتی آخر میں نے ٹھان لی کے پاپا کیلئے ممی کی کمی کو میں پورا کروں گی میں پاپا کیلئے کھانا بناکر پھر واشروم آکر اپنی چُوت کے بال صاف کیئے پھر نہاکر میکپ کرکے تیار ھوئی تو پاپا بھی آفس سے آیا اور کھانا کھاکر اپنے روم گیا کچھ دیر بعد میں بھی پاپا کے روم میں آکر پاپا سے بولی پاپا آپ سے ایک بات کرنی ھے پاپا نے کہا بتاؤ میں بولی آپ کے ساتھ بیٹھ کر بتاتی ھوں میں بیڈ پر آکر پاپا کے ساتھ بیٹھی پاپا نے کہا بولو میں بولی پہلے وعدہ کرو آپ انکار نہیں کرو گے پاپا نے کہا ٹھیک ھے بتاؤ میں بولی پاپا میں ممی کی کمی کو پورا کرنا چاہتی ھوں پاپا نے کہا بیٹی ھو تم میں بولی پاپا مجھے آپ کو اس طرح اداس نہیں دیکھا جاتا پلز مان جائیے پاپا نے کہا بیٹی کسی کو پتا چلو تو میں بولی پاپا ھم دو کے سیوا گھر میں کوئی نہیں ھے کسی کو کیسے پتا چلے گا پاپا نے کہا بیٹی پھر بھی میں پاپا کی گال پر ہاتھ رکھ پاپا کا چہرہ اپنی طرف کیا اور پاپا کے ھونٹوں کو چمہ کرکے بولی مان جاؤ پاپا بولنے لگا یہ ٹھیک نہیں ھے بیٹی میں اٹھ کر پاپا کے سوئے لن پر بیٹھ کر پاپا کو چومتی بولی پاپا سب ٹھیک ھو جائے گا اپنی گانڈ ہلانے لگی پاپا بھی گرم ھو رہا تھا میں نائٹی اتار دی ننگی ھو گئی پاپا کے ہاتھوں کو اپنے بڑے مموں پر رکھ کر دبانے لگی پاپا کا لن کھڑا ھونے لگا اور پاپا میرے مموں کو سلوسلو دبانے لگا میں ایک مما پاپا کے منہ میں دیا پاپا چوسنے لگا اور پھر ھم مست ھو گئے پاپا کے لن کو بہت چوسا پھر پاپا نے میری چُوت بہت چاٹی پھر میری سیل کھولی بیڈ کی چادر خون سے بھر گئی اس کے بعد پاپا بہت خوش رہنے لگا اور چدائی بھی مست کرتا ایک رات پاپا نے گانڈ کی فرمائش کی تو میں نے گانڈ کی سیل کھلوائی اس کے بعد میں اور پاپا بہت چدائی کرتے ساتھ سوتے تھے 

No comments:

Post a Comment