دیور کی وہ بات سَنایا کی تعریف کی

 




دیور کی وہ بات سَنایا کی تعریف کی

ھیلو دوستوں میرا نام سنایا ھے سَنایا کے معنی ہیں قابلِ فخر، شاندار مجھے شاندار پسند ھے آج میں آپ دوستوں سے اپنے دل کی بات شیئر کرنا چاہتی ہوں

دوستو، شادی سے پہلے میری ایک شرط تھی۔ میں نے صاف کہا تھا کہ شوہر ہمارے گھر رہیں گے۔ میں اپنی ممی پاپا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی

خیر، میری شرط مان لی گئی۔ اور دھوم دھام سے شادی ہو گئی۔ اس وقت ساس سسر، چھوٹا دیور، نند... سب شوہر کی فیملی شادی میں شامل تھے۔

شادی کے دوسرے دن ہی سب واپس اپنے گھر چلے گئے۔ میں اور شوہر اپنے ممی پاپا کے گھر رہ گئے۔

شوہر مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، بہت خیال رکھتے ہیں۔ ان کی محبت اور مزے نے میرا دل جیت لیا۔ میں بھی شوہر سے بہت خوش ہو گئی۔ اور پھر... شوہر سے سچا پیار بھی ہو گیا۔

اسی طرح ایک سال گزر گیا۔ میں شوہر کے ساتھ اپنے ممی پاپا کے گھر مزے کر رہی ہوں اور اسی طرح ایک سال ھو گیا۔


*پھر شوہر نے ایک دن کہا:*  


"چلو اب اپنے گھر چلتے ہیں۔ تمہارے نخرے سب سہیں گے۔ گھر والے تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ پاپا کا بزنس بھی سنبھالنا ہے، سب نقصان میں جا رہا ہے۔ میں نے تمہاری بات مانی... اب ایک بار میری مان کر دیکھو۔"

میں بھی شوہر سے اتنی ہی محبت کرتی تھی جتنی وہ مجھ سے کرتے تھے۔ 

آخر ایک رات میں نے ہاں کر دی۔  


"اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے گھر رہوں تاکہ سب ٹھیک ہو جائے، تو ٹھیک ہے۔ میں تیار ہوں۔"

شوہر یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کی خوشی دیکھ کر میرا دل بھی خوش ہو گیا۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی... ہم سسرال پہنچ گئے۔

ساس بہت سیدھی سادھی ہیں۔ میرے آنے سے وہ بہت خوش تھیں۔ سسر بھی اچھے ہیں۔ نند کی شادی سر پر تھی، ایک سال بعد ہو گئی اور وہ اپنے گھر چلی گئی۔

وقت کے ساتھ میں پیٹ سے ہو گئی۔ پھر اللہ نے بیٹی دی۔ بیٹی کے بعد میرا کانفیڈنس اور گھر میں عزت دونوں بڑھ گئے۔

اسی دوران دیور کالج سے فارغ ہو کر گھر رہنے لگا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ


میرا دیور میرے بڑے مموں کا عاشق ھے مجھے تب پتا چلا جب رات کو میں دیور کے روم ڈور پر آئی تو کسی کے ساتھ کال پر بات کرتے بولا یار جب میں بھابھی کے بڑے مموں کو دیکھتا ھوں تو میں بہت گرم ھو جاتا ھوں بھابھی کے بڑے مموں کو چوسنے دبانے کو بہت من کرتا ھے میں یہ سن کر بہت گرم اور خوش ھوگئی کیونکہ

شوہر نے ھی میرے مموں کو دبا دبا کر اور مساج کر کرکے میرے مموں کو بڑا کر دیا جب میرے ممے بڑے ھو گئے تو شوہر کو اچھے نہیں لگتے تھے ایک تو شوہر مجھے کھلے گلے والے سوٹ شیٹ پہننے کو کہتا میں گھر میں پہنتی تھی لیکن شوہر میرے مموں کو نہ دباتا نہ چوستا تھا لیکن میں اپنے بڑے مموں کو دبوانا اور چسوانا چاہتی جب بیٹی تین مہینے کی ھوئی تو شوہر میں مردانہ کمزوری سی آگئی شوہر جلدی فارغ ھو جاتا تھا میں فارغ نہیں ھو پاتی تھی تو میں اپنی چوت میں انگلی سے کام چلا لیتی تھی

اسی طرح وقت گزارتی تھی شوہر جب جلدی فارغ ھوتا تو میں کہتی کہ میں بہت گرم ھوں تمہارا تو کام ھو گیا میرا نہیں ھوا کبھی شوہر انگلی کرتا کرتا تھک جاتا تو میں اپنی انگلی سے  چُوت کا پانی نکال کر سو جاتی مگر کبھی کسی کے بارے میں خیال نہیں آیا مگر میں گرم بہت تھی شوہر بھی ٹوٹکے استعمال کرتا مگر کچھ فرق نہ پڑتا اور بیٹی بھی ایک سال کی ھوگئی میں چڑچڑی سی ھوگئی شوہر بزنس میں بیزی ھو گیا میں بہت گرم رہتی

اُس رات جب میں نے دیور کی  یہ بات سُنی کہ بھابھی کے بڑے ممے پسند ہیں دبانا چوسنا چاہتا ھے تو یہ سن کر مجھ سے راہ نہیں گیا اور میں بہت گرم ھو گئی اور خوشی سے روم میں آگئی دیور نے مجھے دیکھ کر کال کٹ کر دی اور میں دیور سے بولی

تم کس سے بات کر رھے تھے کہا دوست سے میں دیور کو مست بھری نظروں سے دیکھ کر بولی تم اپنی بھابھی کی باتیں دوستوں سے شیر کرتے ھو میں سیدھی بول دی کہ اس طرح تو تمہاری خواہش پوری نہیں ھو سکتی دیور نے چونکہ اور دیور نے مسکرا کر شرماکر بولا بھابھی آپ نے سن لیا میں نے کہا ہاں سب سن لیا دیور نے بھی شرما کر بولا بھابھی سچ میں آپ کے بڑے ممے مجھے بہت پسند ہیں میں بولی دیکھو ایک شرط پر تم جو چاہتے ھو کر سکتے ھو بولا ہاں بھابھی آپ شرط بتاؤ

میں بولی تم کسی کو میری باتیں نہیں بتاؤ گے دیور نے کہا بھابھی میں وعدہ کرتا ھوں آج کے بعد کسی کو نہیں بتاؤں گا میں بولی یہ باتیں گھر کی ہیں گھر میں رہیں کہا جی بھابھی اب ایسا کبھی نہیں ھوگا تو میں دیور سے بولی اب تمہارا جو من کرے کر سکتے ھو اور ہاں خاص بات یہاں تک کہ  تمہارے بھائی کو بھی پتا نہ چلے بولا بھابھی قسم سے بھائی کو شق بھی نہیں ھونے دوں گا میں نے دیور کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے بڑے مموں پر رکھ کر مستی میں بولی

جو چاہتے ھو وہ کرو دیور میرے بڑے مموں کو دباتے کہا بھابھی کیا کمال کے بڑے ممے ہیں آپ کے ایسے ممے میں نے آج تک کسی لڑکی کے نہیں دیکھے پھر کہا دیکھو نہ کتنے نرم اور ٹائٹ ممے ہیں آپ کے میں بولی سچ میں کہا ہاں بھابھی پھر کہا بھابھی باہر نکال لوں میں نے کہا جو تیرا من کرے وہ کر پہلے ڈور لاک کرکے آؤ کوئی آگیا تو مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا ھونٹ زبان چوسے پھر لاک کرکے آیا دیور کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا لمبا موٹا لگ رہا تھا میری چُوت گرم ھو گئی

دیور نے آتے ھی مجھے لیٹا دیا میرے اوپر لیٹ گیا میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میرے چہرے کو چومنے لگا مجھے بہت مزے کا سکون مل رہا تھا دیور کا چڈی میں کھڑا لن میری چُوت پر چُوتڑوں میں تھا دیور نے میری نائٹی کی ڈوری کھول کر میرے بڑے مموں کو دیکھ کر کہا بھابھی اف کیا ممے ہیں آپ کے میں بولی اب تمہارے لیئے ہیں پھر مموں کو چوسنے لگا چومنے لگا دبانے لگا چُوتڑوں میں لن رگڑنے لگا میں دیور کو مستی میں چوم لیتی باھوں میں دباتی بالوں میں دیور کے انگلیاں پھیرتی میری مموں کی نپلوں کو چوستا آج پہلی بار میں کسی غیر کی بانہوں میں تھی ایسا مزہ میں کبھی سوچی نہیں تھا بس مزے میں مست تھے بہت دیر بعد میں بولی تم اپنا دیکھاؤ دیور نے مجھے باھوں میں دبا کو چوم کر کہا اف بھابھی یہ بھی بہت تڑپتا ھے تمہارے لیئے میں مسکرا کر چوم کر بولی پھر دیکھاؤ دیور نے چڈی اتار کر

مجھے اپنا موٹا لمبا صحت مند لن دیکھایا میں نے دیور کے لن کی تعریف کی ہاتھ میں لیا بہت سخت اور نرم ملائم بھی تھا لن کو چومنے لگی پھر مستی میں لن کو منہ میں لےکر چوسنے لگی دیور میرے بڑے مموں کو خوب دباتا بہت دیر بعد دیور نے کہا بھابھی اوپر سے آؤ ھم دونوں ننگے تھے اور مزے میں تھے مجھے دیور بہت پیارا لگ رہا تھا میں دیور کو مستی میں پیار کرتی اوپر آکر

بولی اندر کرو گے دیور نے چوم کر بولا جیسے آپ کا من ھو بھابھی میں دیور کو چوم کر بولی میں لیتی ھوں اپنی چُوت کے سوراخ کو دیور کے لن کے موٹے ٹوپہ پر رکھ کر اندر لینے لگی مگر دیور کا لن موٹا تھا میری چُوت میں جا نہیں رہا تھا میں کوشش کی دیور کو چوم کر مسکرا کر بولی تم کچھ کرو دیور نے کہا بھابھی ابھی بھی سیل پیک ھو کیا میں بولی نہیں تمہارا بہت موٹا ھے میں روم سے ویزلین لاتی ھوں وہ لگا کر ڈالنا یہ سن کر دیور مستی میں چومنے لگا مجھے لیٹا کر میری چُوت دیکھی کہا اف بھابھی تمہاری چُوت تو بہت مزے کی ھے میری چُوت کو چومنے چاٹنے لگا بہت تک میری چُوت کو چاٹتا رہا بولی تم ڈال کر دیکھوں مگر دیور سے بھی نہیں جا رہا تھا میں بولی ویزلین لاتی ھو کام آسان ھو جائے گا دیور نے کہا بھابھی جلدی آنا لن کو سکون نہیں ھے

میں بولی چُوت تو میری مری کا رھی لینے کو میں نائٹی پہن کر روم میں آئی ویزلین لی اور دیور کے پاس آئی میں لاک کرکے نائٹی اتار دی دیور بہت گرم تھا میں بھی بہت گرم تھی پھر میں نے لن پر ویزلین لگائی دیور نے میری چُوت میں ویزلین لگائی ایک زبردست دار جھٹکے سے دیور نے میری چُوت میں پورا لن ڈال دیا پھر چدائی کی مجھے اتنا مزہ آرہا تھا کے میں کیا بتاؤ بس میں مستی میں مست تھی پونے گھنٹے بعد میں فارغ ھو گئی مگر دیور مستی میں تھا پونے گھنٹے بعد میں پھر فارغ ھو گئی مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر میں فارغ ھوئی تو دیور میری چُوت میں فارغ ھو گیا کچھ دیر بعد پھر میں گرم ھو

گئی دیور کو بولی ابھی میں اوپر آتی ھوں اب دیور کے لن نے جگہ بنالی تھی تو آرام سے چلا گیا پھر میں مستی چدائی کرنے لگی پٹک پٹک کی آوازیں تھی بیڈ بھی ہل رہا تھا میں پونے گھنٹے سے لگی تھی فارغ ھوئی دیور پر لیٹ گئی دیور نیچے سے مست چدائی کر رہا تھا پھر میں گھوڑی بن گئی اف کیا کمال کی دیور نے چدائی کے مزے سے چیخیں نکلنے لگیں پھر ھم دونوں ساتھ میں فارغ ھو گئے اور ہمیں ننگے ساتھ میں نیند آگئی

اس کے بعد تو دن رات میں دیور کے چدائی کرتی جب شوہر گھر ھوتا تو شوہر کے بعد دیور سے چدائی کرکے شوہر کے ساتھ سو جاتی کچھ مہنے میں دیور کے لن سے پریگننٹ ھو گئی دیور نے گانڈ کی فرمائش کی میں ہاں کر دی گانڈ میں لن تو چلا گیا مگر بہت درد ھوا لیکن پھر کبھی نہیں ھوا پھر مجھے بیٹا ھوا دو سال دیور سے چدائی کی من کرتا بس

دیور چدائی کرتا رھے دیور کی شادی کی تیاریاں ھونے لگی دیور نے وعدہ کیا کے بھابھی تمہیں خوش رکھا کروں گا پھر دیور کی شادی ھو گئی سوہاگ رات کو پہلے میری چُوت کی آگ بجھائی پھر بیوی کے پاس گیا بہت دیر بعد میں جاکر چھپ کر دیکھی دیورانی سوہاگ رات کو گانڈ میں لیا ھوا ھے پھر صبح دیور نے کچن میں میری چدائی کی بیوی کا بولا بھابھی وہ تو پہلے سے گانڈ میں لیتی ھے دیورانی سے دوستی ھو گئی دیورانی نے بتایا کے وہ اپنے ججو سے چدائی کرتی رھے ھے ججو زیادہ تر گانڈ چودتا تھا بولی ابھی بھی کرتی ھوں

ایک دن دیورانی کا ججو آگیا دیورانی بولی بھابھی کسی کو نہیں بتانا میں بولی نہیں بتاؤں گی دیورانی بولی ججوں کے جانے کے بعد میں تمہیں خوش کر دوں گی میں مسکراتی اپنے روم میں آئی کے یہ مجھے کیسے خوش کرے گی خیر تین گھنٹے میں دونوں فارغ ھو گئے تو وہ چلا گیا دیورانی مجھ سے شروع ھو گئی بول کر تمہیں خوش کرتی ھوں بس پھر روم بہت پر آئے ننگی ھو گئی بہت زیادہ مموں کو دبایا چوسا چُوت کو چاٹ چاٹ کر چُوت کا رس نکال دیا میں تو بہت گرم ھو گئی لن لینے کو من کرنے لگا اتنے میں دیور نے بیل بجائی ھم کپڑے پہن لیئے دیورانی سو گئی میں ڈور کھولی دیور کو بولی بہت گرم ھوں مگر دیور کو تیز بخار تھا روم چلا گیا دیورانی نے ٹیبلیٹ لی اور روم چلی گئی کچھ دیر بعد شوہر اچانک گھر آگیا مجھے روم لایا اور چدائی کرنے لگا بولا اب تمہیں پہلے فارغ کروں گا اف آج شوہر نے مجھے بہت مزہ دیا اس کے بعد شوہر کے لن کی ٹائمنگ ٹھیک ھو گئی

اب بھی کبھی کبھی دیور سے مزے کر لیتی ھوں دیور کے لن کے بعد میں نے کسی کا نہیں لیا میں اتنے میں بہت خوش ھوں شوہر اور دیور کا پیار پاکر اب میری دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں بڑی بیٹی جوان ھے بیٹی کبھی کبھی اپنے دوست کو رات میں بلا لیتی ھے خوب چدائی کرتی ھے میں چھپ کر دیکھی بیٹی کے دوست کا لن بہت کڑک ھے مگر دیکھتی ھوئے بیٹی کے دوست نے مجھے دیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے موقعہ پاتے مجھے پکڑ لیتا ھے بہت گرم کر دیتا پھر بیٹی کی شادی کرا دی

ایک دن ایسا ھوا گھر کوئی نہیں تھا سب باہر گئے ھوئے تھا تو دماد آگیا اور مجھے گرم کر دیا میرے مموں کو دبا دبا کر میں نے کہا بیڈ پر چلو پھر چار گھنٹے دماد کے ساتھ چدائی کی چلا گیا شوہر تو بزنس میں بیزی رہتا دیور اپنی سالی اور ساس کو بھی چود ڈالا جب ہماری چدائی ھوتی تو سب بتاتا لیکن میں نے کچھ نہیں بتایا جب دیور گھر ھوتا تو میں دماد کے ساتھ باہر چلی جاتی اور اپنی سہلی کے گھر چدائی کرکے آجاتی ایک بار سہلی نے کہا کے میرا شوہر تمہاری میرے ساتھ لینا چاہتا ھے کیا خیال ھے میں بولی ٹھیک ھے پر پروگرام بناکر ھم نے ایک دن سہلی کے ساتھ اس کے شوہر سے چدائی کی مزہ بہت آیا دیورانی ججو کے گھر جاتی تو کبھی میں دماد کو بلا لیتی تو کبھی سہلی کے شوہر کو بلا لیتی سارا دن چدائی کرتی

دماد نے مجھے لن کا پانی پینا سیکھایا دماد فل مزے کی چدائی کرتا جب شوہر ھوتا تو شوہر سے کرتی رہتی روم میں شوہر کو ننگا رکھتی بیڈ پر ناشتہ کھانا دیتی جب جاتا تو بہت دنوں بعد آتا

اب مجھے اجازت پھر کبھی موقع ملا تو اپنی دل کی باتیں شیر کروں گی اپنا خیال رکھنا تمہارے دل شاندار
سَنایا




Comments

Popular posts from this blog

بھابھی ‏نے ‏چادر ‏ہٹاتے ‏ھوئے ‏کہا