مجھے آج بھی وہ رات نہیں بھولی اس رات میں اپنے چھوٹے بھائی کے قریب ھوئی
میری ممی تو بہت بوڑھی تھی پاپا کے گزرنے کے بعد تو ہمارے فاقے شروع ھو گئے اور مما کے علاج کیلئے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے ھم پائی پائی کے محتاج ھونے لگے رشتے داروں نے آنا چھوڑ دیا کہیں پیسے نہ مانگ لیں بہت بڑی مشکل سے ہمارے دن رات گزر رھے تھے ایسی غربت میں میری ممی بھی چل بسی پھر تو ہمارے لیئے جینا دشوار ھو گیا بھائی پندرہ سال کا تھا اور میں بیس سال کی تھی غربت میں میری شادی تو کیا کسی نے پسند نہیں کیا میرا بھائی شروع سے ذہن تھا مجھے گھر سے نکلنے کو منع کیا کرتا تھا کیونکہ
میں جوان اور بہت خوبصورت ھوں میرے بڑے مموں سے میرا فگر ھوٹ لگتا ھے میرے 38 سائز کے بڑے مموں سے میں مست لگتی ھوں میری گانڈ موٹی ھے گانڈ کے ھیپ موٹے اور نرم اور لچکدار ہیں
بھائی نے پندرہ سال کی عمر میں چھوٹا سا بزنس کیا اور بھائی کو بزنس میں دن بہ دن بہت منافع ھونے لگا اور ہمارے دن اچھے ھونے لگے پانچ سال میں بھائی نے بہت ترقی کی💝
ایک دن ایسا ھوا کے میری ایک پڑوسن سہلی تھی جو کہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ان کے گھر گئی تو گیٹ لاک نہیں تھا میں اندر آئی تو انٹر ڈور بھی لاک نہیں تھا میں اندر آئی اور میری سہلی مستی میں چیخ رھی تھی میں جاکر دیکھی سہلی ننگی گھوڑی بنی ھے سہلی کا شوہر ننگا چُوت اور گانڈ کی زبردست چدائی کر رہا ھے میں سمجھ گئی کے مستی میں لاک کرنا بھول گئے اس سے پہلے میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا مجھے دیکھنے میں مزہ آنے لگا اور دیکھتی دیکھتی میں گرم ھونے لگی سہلی لن کو چوس لیتی شوہر چوت چاٹتا چدائی کرتا پھر سہلی شوہر کے اوپر آکر سہلی نے زبردست چدائی کی میرا جسم تو آگ کی طرح گرم ھو گیا مجھے سردی کا پتا نہیں چلا بس دیکھتی رھی دونوں فل مستی میں تھے اور میں ان کو دیکھ کر بہت گرم تھی پھر سہلی کے منہ میں فارغ ھوا سہلی پی گئی اور میں چپکے سے واپس اپنے گھر آنے لگی کے راستے میں بارش ھونے لگی میں بھیگ گئیں مگر لن میری آنکھوں کے سامنے چدائی کرتا نظر آنے لگتا میری چُوت بہت گرم تھی گھر آئی تو بارش تیز ھو گئی کپڑے اتار کر آئنے کے سامنے کھڑی ھو گئی خود کو ننگی دیکھی اپنے بڑے مموں کو دبایا چوما چوسا تو آفس سے بھائی آیا ڈور بیل بجی میں نائٹی پہن کر باہر آئی بھائی تو پورا بھیگ گیا تھا میں نے بھائی کو ٹاول سے صاف کیا پھر کھانا کھا کر اپنے روم میں گیا میں اپنے روم میں آئی سچ میں یار میں بہت گرم تھی سمجھ نہیں آرھی تھی کے کچھ ایسا ھو کے مزہ آجائے بس میں مموں کو دبانے لگی ہلکے ہلکے بادل گرجنے لگے اور بارش مسلسل ھوتی رھی قریب گیارہ بجے کے بعد پھر جو زور زور سے ایسے بادل گرجے کے میرا کلیجہ پھٹنے کو آیا مجھے ایسا لگ رہا تھا کے بادل میرے اوپر گرنے والا ھے اور میں بادل کی گرج سے بہت ڈر گئی اور بھائی کو چیخ کر آوازیں دیتی ھوئی اپنے روم سے باہر بھاگ کر چھوٹے بھائی کے روم میں آئی بھائی رضائی میں تھا سر باہر نکال کر کہا دیدی کیا ھو گیا ھے میں بھائی کو دیکھی اور ٹھنڈ بھی بہت تھی ٹھنڈ اور ڈر سے میں کانپنے لگی پھر زور سے بادل گرجہ اور میں جلدی سے بھائی کی رضائی میں گھس گئی اور بھائی سے پوری چپک گئی بھائی کو باھوں میں بھر لیا اور بادل بہت گرجنے لگے بھائی صرف چڈی میں تھا میں نے لمبی نائٹی ڈوری والی پہنی تھی ڈر کے مارے میری ٹانگیں بھائی کی ٹانگوں میں تھی میری چُوت بھائی کے سوئے لن سے دبی ھوئی تھی میں بہت کانپ رھی تھی کچھ دیر میں بھائی نے مجھے باھوں میں بھر لیا میرے بڑے ممے بھائی کے سینے میں دبے ھوئے تھے کچھ دیر بعد بھائی کی چڈی میں بھائی کا لن کھڑا ھونے لگا شاید بھائی گرم ھو گیا تھا میری کمر کو سہلانے لگا مجھے دبانے لگا بھائی کے اس طرح کرنے سے مجھے مزے کی گرمی ھو رھی تھی میں بھی بھائی کو اپنی باھوں میں دبانے لگی پھر میری چُوت پر بھائی کا لن فل کھڑا ھو گیا جب بھائی کا لن میری چُوت پر دبا تو میرے اندر ایک گرمی کی چنگاری اٹھی اور مجھے گرم کر دیا بھائی لن رگڑتا میرے مموں کو دبانے لگا میں مستی میں آرھی تھی مجھے کپکپی تو ختم ھو گئی مگر گرمی چڑھ گئی میں نے نائٹی کی ڈوری کھولی تو بھائی میرے مموں کو چوسنے لگا میں نے بھائی کی چڈی میں ہاتھ ڈال کر لن پکڑ کر سہلانے لگی اتنی دیر میں بھائی میرے اوپر آگیا اور تھوک لگا کر پورا لن میری چوت میں ڈال دیا مجھے درد بلکل نہیں ھوا مجھے بہت اچھا فیل ھوا پھر چدائی میں ھم مگن ھو گئے ایک دوسرے کو چومنے لگے بارش ختم ھو گئی ہمیں رضائی میں گرمی ھونے لگی پھر رضائی ہٹائی تو ھم دونوں ننگے مست تھے یہ لمحہ ہماری زندگی کا ایک خاص حصہ بن گیا بیڈ کی چادر خون سے بھر گئی بہت دیر تک ھم لگے رھے بڑی مشکل سے ھم فارغ ھوئے تو ہمیں نیند آگئی اس کے بعد







