تنویر تھا تو میرا محلے دار مگر تنویر چلاک بہت تھا

 تنویر کے ساتھ تو میں شادی سے پہلے چدائی کرتی تھی تنویر میری بہت چدائی کرتا تھا مگر میری شادی ھوگئی تنویر کے بڑے بھائی سعد سے


پہلے میں شادی سے پہلے کی بات بتاتی ھوں تنویر تھا تو میرا محلے دار مگر تنویر چلاک بہت تھا تنویر کا میرے گھر آجا جانا تھا لیکن تنویر کی فیملی میں کسی کو میں نہیں جانتی تھی ایک دن تنویر گھر آیا ممی سو رھی تھی جب تنویر کو بتایا تو تنویر نے مجھے پکڑ لیا میں بھی تنویر پر گرم تھی وہ ایسے کے ایک دن میرا بڑا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ ہمارے گھر آیا اس وقت ہمارا گھر توڑ پھوڑ کا تھا صرف میرا روم ٹھیک تھا تو بھابھی بھائی میرے روم میں سو گئے میں بھی ساتھ لیٹی تھی کچھ دیر کیلئے مجھے نیند آگئی بیڈ کے گدے کے ہلنے سے میں جاگ گئی آنکھیں کھلیں تو میں دوسری طرف کروٹ پر تھی اور گدا ہلنے سے میں بھی ہل رھی تھی میں آنکھیں بند کرکے دوسری طرف کروٹ لےکر لیٹی تھی پھر آہستہ سے تھوڑی آنکھ کھول کر دیکھی تو 


دونوں ننگے چدائی میں مست ھو گئے پوری چدائی دیکھی بھائی کا لن دیکھا اس کے بعد میرا من کرتا کے کسی سے کروں تو مجھے تنویر یاد آیا میں تنویر کو بھرپور ایکشن دیتی تنویر بھی گرم ھو گیا تھا بس موقعہ نہیں مل رہا تھا اس دن موقعہ ملا تو میں نے چدائی کرلی سیل کھلنے پر چوت لن خون سے بھر گئی 


اس کے بعد تنویر کے ساتھ صرف چومنا یا دباتا پکڑ لیتے چومنے لگ جاتے ایک دن تنویر گھر لے گیا ھم چدائی کرکے آگئے مجھے مزہ بہت آتا تنویر مجھے ننگی فلمیں سینڈ کرتا میں بہت گرم ھو جاتی پھر ایک بار میرے گھر چدائی کر لی مگر بال بال بچ گئے تھے میں نے اپنے گھر چدائی سے انکار کر دیا تنویر کو بولی تم اپنے گھر لیکر چلو تنویر نے کہا سعد بھائی گھر ھے میں بولی کچھ بھی کرو بس کرو تنویر نے کہا ٹھیک تم تیار ھو جاوں میں آتا ھوں میں تیار ھو گئی تنویر آیا مجھے گھر لے گیا آگے تنویر کا بھائی سعد بیٹھا ھوا تھا تنویر جب مجھے لےکر آرہا


تھا تو بول رہا تھا یار سمشہ دعا کرو بھائی ہمیں دیکھ نہ لے میں بولی دیکھ لے گا تو کیا ھوگا تنویر نے کہا یار اس نے کسی کو بتا دیا تو میں بولی یار کچھ نہیں ھوگا تم بول دینا فرینڈ ھے تنویر نے کہا یہی تو مسلا ھے میں بولی اچھا جو ھوگا دیکھا جائے گا آگے سعد تھا تنویر کو بلایا ھم گئے تنویر بھائی کو لےکر گیا بات کرنے سعد بھی اچھا لڑکا نظر آرہا تھا کچھ دیر بعد دونوں آئے تو تنویر نے کہا یہ سمشہ میری دوست ھے اس بات کا ممی پاپا۔کو۔پتا نہ چلے سعد ہنسنے لگا بولا مجھے کیا ملے گا میں نے کہا آپ کو کیا چاھیئے بولا میں تمہیں چوسنا چاہتا ھوں تنویر نے منع کیا تو سعد نے کہا پھر تم جاؤ تنویر مجھے دیکھ کر بولا تم کیا بولتی ھو بولی ٹھیک ھے مگر زندگی میں کسی  کو نہیں بتاؤ گے بولا وعدہ پھر کہا پہلے تم جس کام۔کیلئے آئے ھو وہ کر لو تم فارغ ھونا تو بتانا میں اور تنویر روم میں آئے آکر شروع ھو گئے بہت دیر بعد ھم فارغ ھوئے تنویر نے کہا کب چلنا ھے میں بولی رات کو 


سعد آیا تو تنویر کو کہا تم کچھ دیر باہر جاؤ سعد میرے لیئے اجنبی تھا لیکن کیوٹ سا تھا تنویر نے کہا بھائی بعد میں آنا سعد نے ضد نہیں کی چلا گیا پھر ھم چدائی کر رھے تھے تو سعد اندر آیا میں تنویر کے اوپر تھی مستی میں چدائی پٹک پٹک کرتی چود رھی تھی سعد کو دیکھی تو مسکرائی سعد نے میرے منہ میں اپنا منہ دیا اور مموں کو دبانے لگا مزہ بہت آرہا تھا تنویر نے کہا بھائی آپ جاؤ اس کے بعد انا مزہ خراب نہ کرو تو سعد باہر گیا ھم چدائی مست ھو گئے تنویر نے کہا سعد بھائی کیسا ھے میں بولی اچھا ھے یار تیرا بھائی ھے کیوٹ بھی ھے پھر ھم فارغ ھو گئے تو تنویر نے کہا میں شراب لاتا ھوں جب تک سعد بھائی بھی فارغ ھو جائے گا میں بولی ٹھیک ھے تنویر کپڑے پہن کر باہر چلا گیا کچھ دیر بعد سعد آیا میری بہت تعریف کی مجھے ننگی کرکے میرے جسم کو بہت دبایا چوما چوسا چاٹا بولا لن ڈالوں میں بہت گرم ھو گئی سعد بھی اچھا لگا میں بولنے والی تھی کے ڈالو اتنی دیر میں تنویر آگیا سعد باہر چلا گیا کچھ دیر بعد برف کی فریج سے برفی اور گلاس لایا دونو شراب پینے لگے اور تنویر مجھے چومنے لگا اور سعد کے سامنے چدائی کی سعد بھی مجھے چوم رہا شراب ختم ھوئی تو سعد چلا گیا پھر تنویر نے زبردست چدائی کی پھر شام ھو گئی تنویر نے مجھے گھر چھوڑ گیا پھر ایک دن سعد ملاقات ھو گئی بولا میں تمہیں پسند کرتا ھوں تم سے شادی کرنا چاہتا ھوں تم بولو تو رشتہ بھیجوں میں نے کہا میرا دوست تو تنویر ھے سعد نے کہا کہ یہ راز صرف ھم جانتے ہیں بس میں تمہیں کبھی منع نہیں کروں گا لیکن میں نے ہاں نہیں کی نہ ھی منع۔کیا مسکرا کر چل پڑی تنویر کو کسی نے بتایا کے میں سعد کے ساتھ تھی تنویر غصہ سے آیا بولا کے اب تم بھائی سے شروع ھو میں بولی سعد مجھے شادی کا بول رہا تھا تنویر نے کہا جھوٹ تم چدائی کی ھوگی غصے سے چلا گیا 


بلاتی تو منع کر دیتا میں بھی بہت گرم تھی کچھ دن بعد مجھے پتا چلا کے سعد کے ساتھ میرا رشتہ ھونے والا ھے دوسرے دن تنویر آیا اور سوری کی بولا موڈ ھے یا نہیں میں بولی ہاں یار موڈ ھے پھر مجھے اپنے گھر لایا ھم نے ایک چدائی کرکے روم سے باہر آئے میں بہت گرم تھی تو سعد مل گیا سعد نے تنویر کو کچھ دیر جانے کا کہا تنویر چلا گیا سعد


 نے مجھے بہت گرم کر دیا سعد سفید شلوار قمیض میں تھا سعد نے اپنی قمیض اتار کر مجھے باھوں میں بھر کر میرے منہ میں منہ دیا مجھے باھوں میں دبا رہا تھا سعد کا لن کھڑا میرے چوتڑوں میں تھا پھر میرے مموں کو دبانے لگا پھر میری قمیض اتار دی میرے مموں کو دبانے چوسنے چومنے لگا اف میں تو مست ھو گئی اور سعد کو چومنے لگی سعد نے میری شلوار نیچے کی اور میری گانڈ کے ھیپ دباتے لن سے رگڑ رہا تھا میں پھر میری چوت میں انگلی کی پھر میری گانڈ میں انگلی کی پھر مجھے زور سے سینے سے دبا کر چوم کے کہا میں تمہیں پسند ھو کے نہیں میں بولی پسند ھو پھر سعد نے مجھے بیڈ پر بٹھا کر میرے جسم کو چومنے لگا میں سعد کے شلوار میں کھڑے لن کو پکڑ کر بولی کرنا ھے تو کر سکتے ھو سعد نے کہا وہ سوہاگ رات کو کرو گا تمہیں تنویر لایا ھے میں بولی ٹھیک ھے سعد لیٹا کر مجھے اپنے اوپر کیا میں اپنی چوت گانڈ کو سعد کی شلوار میں کھڑے لن پر چوت مسل رھی تھی میری گانڈ کے ھیپ دباتے اپنے سے رگڑ رہا تھا بولا کے کل تم تیار رہنا گھر والے آئے ھے میں اکیلے میں بات کرنے کا بولوں گا کچھ دیر پیار کر کے ہاں بول دیں گے پھر سعد نے مجھے نیچے لیٹا کر میری شلوار پر چوت پر لن رگڑنے لگا مموں کو دباتا چومتا چوستا میں بہت گرم ھو گئی کچھ دیر بعد 


تنویر آگیا بولا میری شلوار گیلی ھو گئی تنویر نے کہا سمشہ چلیں سعد نے کہا میں جارہا ھوں چلا گیا میں نے تنویر کو گرم کیا اور چدائی کرکے مجھے گھر چھوڑا دوسرے دن شام کو سعد اپنے گھر والوں کے ساتھ آگیا رشتے کی بات ھوگئی سعد میں اکیلے بات کرنے کا کہا پھر میں روم آئی سعد نے ننگا کر دیا بہت چوسا مجھے پندرہ منٹ لگ گئے میں کپڑے پہنی سعد نے قمیض من کرتا سعد میری چدائی کرے پھر ھم باہر آئے تنویر کو اشارے سے بتایا کے چدائی کرو گرم ھوں اشارہ کیا ایک منٹ کر لوں سعد گھر والوں میں مصروف ھو گیا میں تنویر کو آنے کا بول کر اٹھی اور دوسرے واشروم میں آئی تنویر آیا تو میں نے شلوار نیچے کرکے گھوڑی بن گئی تنویر نے لن ڈال کر مجھے دو منٹ میں فارغ کر دیا پھر ھم واپس آئے کچھ دیر بعد چلے گئے ایک ہفتہ شادی کو رہتا تھا تنویر کہتا تم میرے ساتھ سوہاگ کرنا میں نے دولہے کا سوٹ رکھا ھے بھائی کے سونے کے بعد ھم سوہاگ رات کرینگے 


میں بولی وہ کیوں سوئے گا تنویر نے کہا سعد بھائی نے باہر سے شراب منگائی ھے زیادہ ٹن ھوگا تو سو جائے گا نہیں سویا تو پھر سوچیں گے میں بولی ٹھیک ھے سعد کے ساتھ ھوتی تو بہت گرم کر دیتا بولتی کرو تو کہتا شادی کے بعد میں ضد نہ کرتی پھر میری شادی ھو گئی سعد فل نشے میں تھا 


سوہاگ رات 

رات کو سعد نشے میں آیا اور مجھے مست کر دیا ایسی چدائی کی کے میں سعد کی دیوانی ھو گئی تین گھنٹے تک سعد نے زبردست چدائی کی مجھے بہت مزہ آیا چار بار میں فارغ ھوئی سعد دو بار فارغ ھوا اتنی دیر میں سعد کو نید آگئی میں کپڑے پہن کر سعد پر چادر ڈال کر باہر آئی تو تنویر ویٹنگ پر تھا مجھے اپنے روم لایا اور ایک چدائی کرکے میں سعد کے ساتھ سو گئی،


سعد صبح اور رات کو چدائی کرتا مگر تنویر تو کچن میں بھی نہیں چھوڑتا تھا کبھی کبھی سعد کہتا کے تنویر تمہارا دیور ھی نہیں دوست بھی ھے ھیلپ کر دیا کرو ایک رات تنویر نے سعد سے کہا نیند نہیں آرھی سعد نے کہا سمشہ کے ساتھ سو جاؤ میں ننگی سعد نے مجھے جپھی ڈالی ھوئی تھی سعد بھی ننگا تھا پھر سعد نے کہا میں سو رہا ھوں سعد دوسری طرف منہ کر کے سو گیا اتنی دیر میں تنویر نے ایک دم میری چوت میں لن ڈال دیا میری آہ نکلی سعد لیٹا ھم جوش میں آرھے تھے تنویر نے زبردست چدائی کی سعد لیٹا رہا تنویر میرے اوپر فارغ ھو کر چلا گیا میں نے صاف کیا تو سعد نے کہا سمشہ میں تو گرم ھو گیا چدائی کرکے ھم سوگئے



تنویر نے مجھے ایک لڑکی کے ساتھ دو لڑکے کی ویڈیو دیکھائی میرا بھی من کرتا کے کیسے بولو کے مل کر چدائی کریں کبھی کبھی سعد تنویر کا پوچھتا تو میں بتاتی کے خوش رکھتا ھے ایک رات سعد کو بولی ھم تینوں مل کر کریں سعد نے کہا تنویر سے کہا میں بولی نہیں بولا میں کر لوں گا تم پتا کر لوں مان گا تو پھر کر لینگے پھر رات کو تنویر کو بولی تنویر نے کہا یار بھائی کے سامنے کیسے لن نکالوں گا میں بولی جیسے روم میں کر جاتے ھو بولا ٹھیک ھے جب بولو کرلوں گا بس بھائی کچھ نہ بولے میں بولی وہ نہیں بولے گا 


پھر رات کو سعد نے کہا بلا لو پھر دونوں کے ساتھ میں مست ھو گئی میں بولتی ایک ڈالے ایک نکالے یا ایک میرے سامنے ھو صبح تک مزے کرتے ساتھ سو گئے بس اس کے بعد تو مجھے گھر جنت لگنے لگا ایک ھی گھر میں دو لن سے مزے کرتی میں دونوں کی دیوانی تھی ایک رات شوہر نے گانڈ کھول دی پھر تو دونوں مل کرتے ایک ساتھ چوت گانڈ چودتے جب مجھے ماہواری ھوتی تو بہت مشکل ھوتی دونوں مجھے خوش رکھتے 


میں پریگننٹ ھوئی تو گھر والے بہت خوش ھوئے میں گرم بھی بہت ھوتی تھی۔ دونوں سے بہت چدائی کرتی بڑا پیٹ ھو گیا آخر مجھے بیٹی ھوئی






 


Comments

Popular posts from this blog

بھابھی ‏نے ‏چادر ‏ہٹاتے ‏ھوئے ‏کہا