مجھے خود پر گھن آنے لگی
میرا داماد مجھ پر ٹھرکی تھا جب بیٹی نے پہلی بار ملوایا تو مجھ سے کہا مجھے تم بہت پسند ھو مجھے گھر داماد چاھیئے تھا پھر بیٹی کے ساتھ آنے لگا موقعہ کا فائیدہ اٹھاتا میرے قریب آنے کو کبھی مل بھی جاتا داماد مجھے پسند آگیا پھر بیٹی کی شادی ھو گئی داماد گھر رہتا میں بھی گھر ھوتی بیٹی کو آفس دے دیا میں ویسے جاتی لیکن دماد سے وقت گزرتا تو دماد نے ایک دن بول دیا کے مجھے پیار کرنا چاہتا ھے میں بہت سمجھائی
دماد نے مجھے گلے لگا لیا میں گرم ھو تو گئی لیکن کنٹرول کر گئی دماد کو ہٹاکر بولی یہ غلت ھے اب دماد بھی سمجھ گیا کے میں چاہتی ھوں مگر ڈر لگتا ھے ایک دن بیٹی دوسرے ملک گئی ھوئی تھی اس رات میں روم میں تھیں اور گرم بہت تھی دماد آگایا اور مجھے چومنے لگا میں منع کرتی مستی میں آگئی اور صبح تک چدائی کی میں بھی مستی لگی رھی دماد نے اپنی طرف سے بہت خوش کیا تھک کر سو گئے صبح اٹھی تو دماد کے ساتھ ننگی تھی مجھے خود پر گھن آنے لگی کے یہ کیا کیا میں نے ملامت بھی خود کو کرتی رھی ناشتہ بنایا دماد کو اٹھانے گئی دماد نے پکڑ لیا میں نے کہا بس ابھی نہیں دماد مجھے سمجھ گیا تھا کچھ ھی دیر میں مجھے گرم کر دیا پھر میں مستی میں کرتی رھی فارغ ھوکر ناشتہ کیا دماد کو بولی تم بیٹی کو دوسرے گھر میں رکھوں دماد نے کہا تم اکیلی ھو جاؤ گی تم فکر نہ کرو اسے پتا نہیں چلے گا
Comments
Post a Comment