یار کل چلیں گے آج تھک گئی ھوں
"ھیلو دوستو، میرا نام صدف ہے۔ میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، تینوں شادی شدہ ہیں۔ میرا شوہر کسی کمپنی میں جاب کرتا ہے۔
شروع شروع میں ٹھیک تھا، لیکن تین بچوں کے پیدا ہونے کے بعد شوہر جلدی فارغ ہو جاتا تھا، اور میں گرم رہ جاتی تھی۔ مگر یہ بات میں نے کبھی کسی سے نہیں کہی۔ سوچتی تھی گھر کی بات گھر میں ہی رہے۔
پھر بچوں کی شادیاں ہو گئیں۔ بیٹیاں اپنے گھر چلی گئیں، گھر میں اب بیٹا، بہو اور شوہر ہی رہ گئے۔ لیکن شوہر کا وہی حال رہا، جلدی فارغ ہو جاتے۔
ایک دن میں نے شوہر سے کہا 'پہلے تو تم اتنا وقت لگاتے تھے، اب ایسا کیوں؟'
تو بولے 'اب وہ جوانی کہاں رہی صدف'۔
اس کے بعد میں نے کبھی شوہر کو عنہ نہیں دیا۔ چپ کر کے رہی۔
دل میں کبھی کبھی خیال آتا تھا، لیکن سوچتی تھی اگر کسی سے کچھ کیا اور بچوں کو پتا چل گیا تو ساری عزت مٹی میں مل جائے گی۔ اس لیے دل کی بات دل میں ہی دبا لی۔"
"ارے بھائی، سچ بتاؤں؟ میں تو گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہو کر رہ گئی تھی۔
سارا دن گھر، وہی کچن، وہی ٹی وی... دل کر رہا تھا کہیں نکل جاؤں۔
پھر ایک دن میری بڑی بہن کی کال آئی۔
لو جی، شروع ہو گئی تانے دینے! بولی 'ہم تو تمہارے پاس آتے ہیں، تم کبھی ہماری طرف نہیں آتیں'۔
میں نے سوچا ارے واہ، اب تو بہانہ بھی مل گیا گھر سے نکلنے کا!
ادھر میرے بیٹے، بہو اور شوہر نے بھی کہہ دیا 'اماں، بہن کے ہاں کچھ دن رہ کر آؤ، تم بھی خوش ہو جاؤ گی'۔
بس پھر کیا تھا، میرا بھی ارادہ بن گیا۔
فوراً بہن کو کال ملائی اور کہا 'سنو، میں آ رہی ہوں... کچھ دن تمہارے پاس رہنے'۔
اور سچ کہوں تو کال کٹتے ہی میرا موڈ ایسے فریش ہو گیا جیسے بارش کے بعد موسم ہو جاتا ہے!"
"میں اپنی بہن سے ملنے کراچی آئی۔ بہن کا گھر چھوٹا سا تھا، صرف دو روم تھے۔
ایک روم میں میری بہن اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی، اور ایک روم میں ان کا بیٹا وسیم، جو پندرہ سال کا تھا۔
اب تیسرا روم تو تھا نہیں، تو میں نے کہا 'چلو کوئی بات نہیں، میں وسیم کے ساتھ ہی سو جاؤں گی'۔
وسیم بھی ہاں کر گیا،
بس پھر رات کو...
میں روم میں سونے آئی تو وسیم بولا 'خالہ آپ بے فکر ہو کر سو جائیں میں لیٹ گئی وسیم بھی سونے لگا بہت دیر ھو گئی میں دوسری طرف کروٹ پر منہ کرکے لیٹی تھی ابھی میں کچی نیند میں تھی مگر وسیم گہری نیند میں سو رہا تھا اچانک پیچھے سے وسیم مجھ سے چپک گیا وسیم کا آلہ میرے ھیپ میں گھس گیا وسیم کا آلہ ایک دم فل ٹائٹ تھا اور موٹا لمبا بھی لگ رہا تھا
اف میری تو نیند ھی اڑ گئی کچھ دیر وسیم کا ایک ہاتھ میرے بڑے مموں پر آیا اور میرے اوپر والے ممے کو پکڑ لیا میں تو مستی میں لیٹی رھی کچھ مموں کو سلوسلو دباتا رہا میں گرم تھی اور پیچھے ھوئی تو وسیم کے سینے سے اپنی کمر لگائی اور گانڈ پیچھے کرکے وسیم کے لن سے دبا دی کچھ دیر میں وسیم لن کو رگڑنے لگا پھر وسیم نے ہاتھ ہٹاکر میری گانڈ کو سہلاتا میری چوت کو سہلانے لگا میں من کہے رھی وسیم تم ڈالوں گے تو کچھ نہیں کہوں گی کچھ دیر بعد وسیم میری شلوار اتارنے لگا نیچے سے شلوار پھنس رھی تھی میں بہت گرم تھی میں تھوڑی اوپر ھوئی تو وسیم نے شلوار سے میری ننگی گانڈ باہر نکال لی اور میری ننگی گانڈ پر ہاتھ پھیرتا میری چوت میں انگلی کرنے لگا میری چوت نے لیس چھوڑ کر چکنی ھو گئی وسیم سمجھ گیا کے میری چوت آب تیار ھو گئی ھے تو وسیم نے میری چوت میں لن کا ٹوپہ ڈالا
اندر باہر کرتے کرتے آدھا لن اندر ڈال دیا اندر باہر کرنے لگا قریب دس منٹ لگا پھر وسیم نے جھٹکا لگایا تو پورا لن اندر گیا میری ہلکی سی سیکس آہ نکلی جسے وسیم نے سن لیا وسیم سمجھ گیا کے میں جاگ رھی ھوں اور مزے لے رھی ھوں وسیم نے لیٹے لیٹے ایسی چدائی کی کے میں فارغ ھو گئی میں فل مزے میں تھی وسیم نے ایک ہاتھ سے میرے ممے نکال کر دباتا ھوا تیز تیز چدائی کر رہا تھا پھر وسیم اوپر ھوکر میرے مموں کو چوسنے لگا میں تو بس وسیم کے پیار میں چپ رھی میں دو بار فارغ ھو گئی مجھے بہت مزہ آرہا جب میں تیسری بار فارغ ھوئی تو وسیم بھی میری چوت میں فارغ ھو گیا میری چوت میں لن ڈالے پڑا رہا میں بھی پڑی رھی ہمیں نیند آگئی
صبح میں جلدی اٹھی تو میری شلوار نیچے تھی ممے باہر تھے وسیم ننگا تھا لن فل کھڑا تھا مجھے برداش نہیں ھو رہا تھا مگر میں نے خود پر کنٹرول کیا شلوار اوپر کی مموں کو اندر کیا وسیم کے لن پر چادر دے کر میں باہر آئی من میں آیا کے رات کو بہت مزہ آیا باہر اآئی تو ماھی ناشتہ بنا رھی تھی مجھے دیکھ کر مسکرائی
میں بھی مسکرائی بہن بولی وسیم نے تنگ تو نہیں کیا میں بولی نہیں مجھے بولی نہالو جب تک ناشتہ تیار ھو جائے میں بولی بعد میں نہاؤں گی میں بھی بہن کے ساتھ ہیلپ کرنے لگ گئی
ماھی کا شوہر ناشتہ کرکے آفس چلا گیا کچھ دیر بعد وسیم آیا مجھے وسیم پہلے سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا کیوں وسیم نے مجھے مزہ دیا تھا وسیم کالج چلا گیا مجھے سارا دن رات کا انتظار تھا میں پندرہ دن رہنے آئی اور پہلے دن ھی مجھے مزہ مل گیا میری آنکھوں میں سیکس بھرا تھا اور سیکسی آنکھیں ھوئی میں سوچنے لگی
شوہر نے تو مجھے زندگی میں ایک چدائی میں دو بار فارغ نہیں کیا اور وسیم نے تو مجھے ایک ھی چدائی میں تین بار فارغ کر دیا ابھی تو شوہر ایک بار بھی فارغ نہیں کر پاتا پھر سوچی وسیم کا تو بہت موٹا ھے اور لمبا بھی ھے چوت میں پھنس کر جاتا ھے اور کتنا ٹائٹ ھے چدائی بھی مست کرتا ھے یہ سوچ کر میں اڑ گئی
اس بات پر کے اگر میں رات کو سوئی تو وسیم کو پتا چل گیا ھے کے میں جاگ رھی تھی اب تو وسیم چھوڑے گا نہیں کیا کروں شام تک چلی جاؤں کسی کو پتا چلا تو مجھ پر تھوکیں گے بھانجے سے چدائی کرتی ھے تانے مارے گے
چھوڑو شام کو چلی جاتی ھوں بہن کو بولنے آرھی تھی تو من میں آیا چلی گئی تو کسی کو پتا نہیں چلے گا میں تو کسی کو بتاؤں گی نہیں وسیم کو بول دوگی پھر کسی کو پتا نہیں چلے گا اسی کشمکش میں بہن کے ساتھ کھانے پکانے کی ہیلپ کی میں لگ گئی
ایک بجے وسیم آگیا وسیم کو دیکھ کے میرے دل میں ٹھنڈک آگئی اور میرے لبوں پر مسکراہٹ آگئی وسیم بھی مسکرایا اپنے روم چلا گیا اپنی ممی کو کھانے کا بول کر اب میں خوش تھی کوئی تانے بانے والی بات ذہن میں نہیں آئی بس کھانا کھاتے باتیں ھونے لگی تو وسیم نے مجھے کہا خالہ رات کو نیند میں اگر کچھ برا لگا ھوں تو معاف کرنا
بولی میں ایسی کوئی بات نہیں تم میرے بھانجے ھو مجھے تم نے کوئی پریشان نہیں کیا مجھے تو پتا ھی نہیں چلا کے صبح ھو گئی گھر میں تو میرا وقت ھی نہیں گزرتا تھا ماھی بولی وسیم خالہ جب سوئے تو ہینڈفری موبائل فون میں لگا لیا کروں وسیم نے کہا ممی رات تو مجھے مزے کی نیند آئی یہ سن کر میری چوت میں آگ لگ گئی من میں بولی سچ بول رہا ھے یہ بہت ھی پیارا ھے وسیم پھر ماھی اور میں رشتے داروں کی باتوں میں لگ گئی کھانا کھا لیا وسیم باہر چلا گیا کسی کام سے برتن دھوکر گپ شپ کی پھر میں سونے روم میں آگئی آنے کیلئے سفر میں تھی نہ سوئی وسیم کی ایک چدائی نے صبح کرا دی میں بیڈ پر لیٹ گئی مجھے نیند آگئی سات بجے ماھی نے اٹھایا چائے دی ھم نے کھانا بنا لیا نو بجے وسیم آیا ماھی کا شوہر آیا ھم نے کھانا کھایا ماھی برتن سمیٹ کر شوہر کے پاس چلی گئی
وسیم پہلے روم میں جا چکا تھا میں برتن دھو رھی تھی ماھی برتن سمیٹ رھی تھی من میں تھا روم میں کیا کروں گی نروس بھی تھی گرم بہت تھی کام ختم ھوا ھم آئیں ماھی اپنا ڈور کھول کر اندر گئی میں وسیم کے ڈور پر آئی سوچ لیا کے وسیم نے گرم کیا تو میں کھل کے مزے کروں گی ڈور کھولی تو وسیم دوسری طرف کروٹ پر تھا میں اندر آئی بولی وسیم سو گئے کیا وسیم سیدھا ھوا بیڈ کی چادر کو لن نے تنمبو بنایا ھوا تھا کہا نہیں خالہ کچھ چاھیئے تو حکم کرو میں مسکراتی بیڈ پر وسیم کے ساتھ لیٹ گئی میں بولی وسیم تم بہت اچھے ھو بولا نہیں خالہ ابھی کچھ لینا ھے تو حکم کرو میں مسکرا کے کہے دیا وہی جو رات کو ھوا مگر،
وسیم نے کہا مگر کیا میں بولی اپنا رشتہ اچھا ھے میں تمہاری سگی خالہ ھوں مگر تم کسی کو بتایا تو بہت بدنامی ھوگی،
وسیم نے کہا خالہ وعدہ کرتا ھوں میں کسی کو نہیں بتاؤں گا پھر وسیم آگے ھو کر مجھے چوم۔لیا کر بولا خالہ تم بہت کمال ھو مست فگر ھے آپ کا میں بھی چومنے لگی بولی تم بہت شرارتی ھو اپنی خالہ سے وسیم نے کہا خالہ تم بہت گرم ھو ھے خالوں سے لگتا ھے کچھ نہیں ھوتا ھو گا میں وسیم کے لن کو پکڑ کر سہلانے لگی وسیم میرے میری قمیض اتار دی میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں فل مستی آگئی اور وسیم کے لن دیکھی تو بولی وسیم تیرا لن بہت مزے کا ھے چوس لوں وسیم نے کہا دل کھول کے انجوائے کر
میں بیٹھی گھوڑی بن کر لن چوسنے لگی وسیم میری چوت گانڈ کو چاٹنے ھیپ دبانے لگا وسیم کا لن بہت ملائم بہت ٹائٹ تھا لن ٹوپہ موٹا پنک تھا ن چوسنے میں بہت مزہ آتا اوپر سے وسیم میری چوت چاٹ رہا تھا گانڈ چاٹ رہا تھا چوت گانڈ میں انگلی کر رہا تھا
کچھ دیر بعد میں سیدھی ھو گئی اور وسیم کو چومنے لگی وسیم نے کہا خالہ تم اوپر آجاؤ فل انجوائے کرو میں مسکراتی چوم کر بولی وسیم اپنی خالہ کی مستی دیکھ میں اوپر آکر وسیم کے لن کو اپنی چوت لیا اور مست ھو گئی وسیم میرے ممے دبانے لگا روم میں میری پٹخ پٹخ کی آوازیں تھی ؤسیم مستی میں دیکھ کر مستی چدائی کر رھی تھی مجھے زندگی کا فل مزہ آرہا تھا پھر میں فارغ ھو کر وسیم پر گر پڑی
وسیم نے باھوں میں بھر کر ایسی چدائی کی کے میں مستی میں آگئی وسیم فارغ نہیں ھوا تھا وسیم نے کہا خالہ گھوڑی بنوگی میں مسکرا کر بولا ہاں بن گئی وسیم میری چوت چاٹنے لگا گانڈ بھی چاٹنے لگا مجھے مزہ آرہا تھا گانڈ میں انگلی کرتا چوت چاٹ رہا تھا من میں آیا آج چوت کے مزے لوں کل گانڈ میں لوں گی دیکھا جائے گا
وسیم میری چوت میں لن ڈال کو مست چدائی کرنے لگا کمر پکڑ کر جھٹکے لگاتا ممے دباتا چدائی کر رہا تھا میں گھوڑی بنی مزہ لے رھی تھی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی تو تھک گئی نیچے لیٹ گئی وسیم میری گانڈ میں ٹوپہ ڈال کر چوت کی زبردست چدائی کرتا جیسے چارج ھو گیا ھو پھر میں سیدھی ھوئی وسیم اوپر آکر چدائی کرنے لگا مموں کو دباتا بہت ٹائم ھو گیا میں فارغ ھوئی تو وسیم میری میں فارغ ھو گیا پتا نہیں چلا ھم ویسے ھی سو گئے صبح کو میں اور وسیم ننگے ایک دوسرے کو باھوں میں بھر کر چادر میں تھے تو ماھی نے مجھے اٹھا کر بولی دن کے بارہ بجے ہیں ابھی تک سو رھی ھے چائے پی لے ماھی
سے محسوس ھوا کے ماھی نے ماننڈ نہیں کیا اب میں زیادہ پریشان ھو گئی یہ آخر کیا ھو گیا میرے ہاتھ میں وسیم کا کھڑا لن تھا میں جلدی سے اٹھی کپڑے پہن کر باہر کچن میں آئی مجھے دیکھ کر مسکراتے لگی بولی شرمندہ ھونے کی ضرورت نہیں یہاں نیند پوری نہیں ھوتی مجھے پتا ھے میں بولی کیا مطلب بولی وسیم سے تنگ تو نہیں ھو گئی میں بولی نہیں بولی پھر دن کے بارہ بچے مگر وسیم چھوڑے تو میں بولی تمہاری بات میری سمجھ میں نہیں آئی بولی چائے پی کر اسے اٹھا کر فرش ھوجا شاپنگ کو جانا ھے میں بولی یار کل چلیں گے آج تھک گئی ھوں،
ماھی ہنس کر بولی پوچھوں تو بولتی وسیم سونے دے تو وہ۔ھے ایسا میں کچھ کچھ سمجھنے لگی ماھی بولی وسیم بھی کیا یاد کرے گا خالہ ملی ھے میں شرما کر بولی جب تمہیں پتا ھے تو صاف بتا بولی وسیم جب شروع ھو جاتا۔ھے پھر رکتا نہیں ھے بس سونے نہیں دیتا،
میں بولی کس کو چپ ھو گئی میں مسکرا کر بولی تم کچھ کہنا چاہتی ھو کہیں تم ماھی شرماکر مسکرائی میں بولی سچ میں بولی ہاں اس لیئے وسیم کو تم سے ملوایا
میں بولی میں نہیں مانتی تو ماھی بولی نہیں مانتی میں بھی بولی تھی مگر وسیم نے موقع نہیں دیا تھا وسیم بچپن سے ایسا تھا مجھے پیار کرتا جب بڑا ھوا تو میرے ساتھ سوتا مجھے گرم کر دیا کام ھونے کے بعد پتا چلا سونے نہیں دیتا تھا
بیٹے نے تمہاری بات کی اس رات ھم چدائی کر رھے تھے جب تجھے کال کی میں مطمین تب ھوئی جب تم نے وسیم کے ساتھ سونے کا بولی میں سمجھ گئی صدف بھی گئی
ماھی کی باتوں پر پہلے تجب کیا پھر خود کو کر انجوائے کرنے لگی
میں جائے پینے لگی ماھی سبزی کاٹنے لگی ماھی بولی تم شوہر کا بتاؤ ٹائم لگاتا ھے یا ختم ھے میں بولی ماھی کسی کام کا بھی نہیں وہ کہتا ھے بوڑھا ھو گیا
میں بہت پریشان تھی ماھی بولی اب کیسا ھے یہاں میں بولی ماھی مزہ تو بہت ھے ماھی بولی وسیم پر مجھے کبھی غصہ نہیں آیا بہت تیز ھے میں ماں ھو سمجھ سکتی ھو میں بولی ہاں بچوں کو چلاک ھونا چاھیئے ورنہ کہیں پھنس نہ جائے ماھی بولی وسیم کو پتا نہ چلے کے مجھے پتا نہیں ھے میں بولی کیوں بولی میرے سامنے تمہیں شروع ھو جائے گا میں ہسنے لگی ماھی بولی ھم دونوں کو شروع ھوگا میں ہانس کر بولی ٹھیک ھے میں تیار ھوں ماھی بولی تم فل انجوائے پر ھو میں بولی تم دونوں نے مجھے چناتو تو اس میں میری غلتی ھے ماھی بولی یہی کہانی وسیم کو بتانا پھر دیکھ کیا ھوتا ھے
پھر رات کو چدائی کے دوران میں بولی تم اپنی ماں کے ساتھ کرتے ھو وسیم نے شرماکر ہاں کیا میں چوم کر بولی تیری ممی نے ہمیں دیکھ لیا ھے وسیم نے کہا اچھا ممی کو پتا چل گیا چدائی کرتے صبح سے پہلے سو گئے پھر دوسری رات ماھی کا شوہر گھر نہیں تھا تو ماھی بولی مل کر کریں میں بولی ٹھیک ھے
شام کو وسیم آیا تو ماھی بار بار کہتی صدف تم میری بہن ھو اس لیئے بتایا ھے کسی اور سے ذکر نہ کرنا میں بولی ماھی میں تمہاری بات کیوں کسی کو بتاؤں گی تو مجھ پر بھروسہ کر میں بولی میرا پیچھے کروانے کا موڈ ھے ماہی ہنس کر بولی برداش کر لو گی میں بولی ہاں پھر ماھی نے کہا جب شوہر گھر نہیں ھوتا تھا تو وسیم میرے ساتھ سوتا تھا ایک دم گرم کر دیتا تھا لیکن کنڑول کر لیتی خود کو
ماھی اور میں بیڈ پر بیٹھی تھی وسیم آگیا مجھے چومنے لگا ماھی سے کا مام آج خالہ کو بہت مزہ آئے گا میں مسکرا کر بولی بیٹا ماھی بھی گرم ھے ھے وسیم نے کہا دونوں کو کروں گا ماھی اور میں وسیم شروع ھو گئے ماھی بہت گرم تھی وسیم کو چودنے کا بولی وسیم نے کچھ دیر چدائی کی پھر وسیم میرے پر ٹوٹ پڑا ماھی تھوڑی دبلی پتلی تھی
میں صحت مند بڑے ممے موٹی گانڈ وسیم تو میری بہت تعریف کرکے چدائی کرتا پھر ماھی نے گانڈ میں چدائی کروائی بےدردی سے ماھی کی گانڈ مار رہا تھا میں ماھی کو چومتی نیچے سے ماھی کی چوت چاٹ لیتی ماھی بھی چوت چاٹ لیتی پھر ماھی وسیم کے اوپر آکر بولی صدف میرا بیٹا کتنا پیارا ھے میں بولی ماھی سچ میں تمہارا بیٹا بہت قسمت والا ھے ماں خالہ کا پیار ملا ھے ماھی فارغ ھو گئی تو بولی تم چاھو تو جاکر کر سکتے ھو
وسیم نے چدائی کرتے مجھے اٹھا لیا میں وسیم کو باھوں سے بھر لیا وسیم کھڑا ھوگیا میری چُوت میں وسیم کا لن تھا مجھے کہا مام سو رھی ھم روم میں چلی چلا میں ماھی کو دیکھی تو مسکرائی میں بھی باہر آکر مجھے صوفے پر لیٹا کر چودنے لگا میں بھی مستی میں تھی کچھ دیر بعد پھر وسیم نے لن ڈالے مجھے اٹھایا چدائی کرتا روم لایا میں بولی پیچھے کرو بولی کبھی لیا ھے میں بولی نہیں بولا کے مام کی گانڈ بھی میں نے کھولی ھے میں نے کہا میری کھول دو دل کر رہا ھے
بولا۔ گھوڑی بنو پھر مزے سے میری گانڈ کھول کر چدائی کی درد بھی کم ھوا وسیم نے کہا پاپامام کی چدائی بہت دیکھی ممی بہت پسند تھی جب ساتھ سوتا تو ممی کو بہت چومتا کے مستی میں آجاتی ایک رات خود بولی تھوڑا سا ڈالو بول کر پورا لےلیا لیکن ڈانتی بہت ھے بولتی ھے زیادہ کرو گے تو کمزور ھو جاؤ گے،
میں بولی مٹھ مارنے سے ھوتا ھے وسیم نے خالو کا پوچھا میں بتاکر وسیم کو مست کر دیا وسیم نے سونے نہیں دیا ننگے ھم سو گئے
صبح میں اٹھی تو وسیم کا کھڑا لن دیکھ کر چوسنے لگی وسیم اٹھا تو ھم شروع ھو گئے میں فارغ ھوئی تو ماھی آگئی میں مست دیکھ وسیم کا لن چوسنے لگی
وسیم ماھی کی زبردست چدائی کرنے لگا ہماری دونوں کی ٹانگیں اٹھا کر باری باری چودنے لگا پھر ھم فارغ ھو گئی ناشتہ بنآیا وسیم چلا گیا ماھی بولی ھم کریں میں بہت گرم ھوں تم دونوں کو دیکھ کے میں بولی ہاں پھر ماھی اور میں شروع ھو گئی
اس کے بعد وسیم تو مجھے چھوڑتا نہیں میں بھی فل کھل کر چدائی کرتی بہت مزے کا وقت گزرا پتا نہ چلا۔
پندرہ دن ھو گئے وسیم سے دل نہیں بھر رہا واپس جانے کو من نہیں تھا مجھے بیٹے نے کال کی کے بہو کی طبیعت خراب ھے ماھی کو بتائی میں بولی مجھے جانا ھوگا
پھر میں واپس آئی بہو سہی ھو گئی رات کو شوہر نے گرم کیا۔بنا کچھ نہیں اپنا کام کرکے سو گیا مجھے وسیم ماھی یاد آنے لگا مجھے وسیم کا فون آیا ننگی باتیں کی میں بولی تم میرے پاس آجاو کچھ دن رہنا میں ساتھ آؤں گی ماھی بولی میں بھی آجاؤ میں بولی ٹھیک
پھر ماھی اور وسیم آگئے ماھی وسیم کو روم دیا رات کو میں آئی تو ماھی وسیم لگے ھوئے تھے ماھی نے ڈور کھول کر بتایا ڈور لاک کر کے میں وسیم پر چڑھ گئی،
وسیم نے زبردست چدائی کی فارغ کر دیا میں گانڈ میں لیا وسیم نے زبردست چدائی کی ماھی کی چوت چاٹتی میں فارغ ھوئی پھر وسیم ماھی کو شروع ھو گیا میں ماھی کی چوت گانڈ سے لن نکال کر چوس لیتی صبح میں شوہر کے ساتھ سو گئی،
صبح کو ناشتہ بنانے لگی تو ماھی آگئی بولی وسیم کا فل ٹائٹ ھے جاؤ سو رہا ھے ناشتہ میں بناتی ھوں میں آکر شروع ھو گئی فارغ ھو کر باہر آئی تو ناشتہ سب تیار تھا کچھ دیر بعد بہو بیٹا آگیا بہو نے وسیم کا پوچھا،
ماھی نے کہا آتا ھوگا وسیم آگیا ناشتہ کیا مل کر وسیم نے چپکے کہا خالہ اکیلے ملوں میں بولی ٹھیک ھے وسیم کو پیچھے آنے کو بولی وسیم آیا یعقین جانو کے میری چیخیں نکال دی بولا خالہ تم سے چدائی کرنے کا بہت مزہ ھے
رات پھر ماھی بولی اپنے روم لے جا میں سو رھی ھوں میں آکر دیکھی بہو بیٹا سو رھے ہیں میں وسیم کو اپنے روم لائی اور وسیم کی چدائی کی صبح ھو گئی وسیم کو ماھی کے روم چھوڑ کر میں اپنے روم میں سو گئی دن کو بہو باہر گئی تو وسیم مجھے کچن میں شروع ھو گیا بہت مست چدائی کی کچھ دیر بعد ماھی آئی وہ بھی شروع ھو گئی ماھی فارغ ھوئی تو بولی تم روم میں فارغ ھو کر اؤ روم میں آکر شروع ھو گئے
پھر رات کو ماھی نے وسیم دے دیا رات کو اپنے ساتھ سولا لیا صبح لن کھڑا دیکھ کے شروع ھو گئی فارغ ھوئی تو وسیم ماھی کے پاس چلا گیا میں فریش ھو کر جاکے دیکھی ماھی لن چوس رھی ھے بول رھی ھے میں دو بار تمہیں صدف ملوایا ھے اب تو بات مان لو جب بولو گے صدف سے مل سکتے ھوں بولا ٹھیک ھے میں دوست کو لاؤں گا بات تم کرنا ماھی بولی وہ مجھ پر چھوڑ دے میں گرم کر دوں گی
ماھی بولی تیرے پاپا کی کال ھے بولی ھیلو کیا ہمیں آج نکلنا ھوگا اچھا ٹھیک ھے وسیم نے کہا ہمیں آج جانا ھوگا تیرا پاپا آرہا ھے میں کچھ میں ناشتہ بنانے لگی ماھی آگئی میں بولی کس لڑکے کی بات ھو رھی تھی مسکرا کر بولی وسیم کا دوست ھے میں چدائی کرنا چاہتی تھی تو وسیم کو پتا چل گیا ہھر دونوں تیاری کرکے چلے گئے
من میں آیا کے ماھی بہت چالو ھے بیٹے کے دوست کو کرنا چاہتی ھے ایک میں صرف بدنامی کے ڈر سے چپ ھوں پھر وقت گزرنے لگے تین ماہ ھو گئے میری چوت میں آگ لگی تھی وسیم کا لن بہت یاد آنے لگا ایک دن بیٹے اور بہو میں لڑائی ھو گئی بہو لڑکر میکے چلی گئی کس بات پر لڑائی ھوئی نہیں بتایا بیٹا خوش تھا جیسے کچھ ھوا ھی نہیں روم چلا گیا بہو روتی ھوئی میکے چلی گئی صبح کا واقعہ میں بیٹے کو خوش دیکھ کر بھول گئی ناشتہ بناتے بہت وقت ھو گیا بیٹے کو اٹھانے روم میں آئی
کیا دیکھتی ھوں بیٹا صرف چڈی میں سویا ھے نیند میں ھے چڈی سے بیٹے کا لن کھڑا سائٹ سے نکلا ھوا ھے بلکل وسیم کے لن کی طرح جاندار تھا دیکھتی میں گرم ھو گئی خود کو روم نہ پائی آگے قدم اٹھایا تو بیٹا دوسری طرف کروٹ پر سو گیا بنا اٹھائے کچن میں آئی ماھی کو کال کی باتوں باتوں بہو بیٹے کا بتایا پھر یہ وقعہ بتایا ماھی بولی کر لے بولی بیٹے کی شادی کراؤں گی تب بھی کروں گی
ماھی بولی رات کو کسی طرح بیٹے کے ساتھ سو کر گرم کرو بس پھر بیٹا اٹھ کر آیا چڈی میں تھا ناشتہ کیا تیار ھوکر باہر گیا کھانے کے وقت آیا میں نے بہو کا پوچھی کہا خود آئے گی میں سمجھ گئی بہو نہیں آئی میں نے کھانا دیا کھاکر روم گیا میں فارغ ھوکر تکہ اٹھاکر بیٹے کے روم میں آئی بیٹا شراب پی رہا تھا بولا ممی
کیا ھوا یہاں سونا ھے میں بولی ہاں پنکھا نہیں چل رہا ھے صبح کسی کو بلانا بولا ٹھیک ھے ممی میں پی کر سوتا ھوں تم سو جاؤ میں گرم بہت تھی شرم بھی تھی مگر کرنا تھا میں تیاری کے ساتھ آئی تھی چادر لےکر دوسری طرف منہ کر کے لیٹی شلوار اتار دی چڈی میں لیٹی رھی بیٹا شراب پی کر واش گیا میں نے گانڈ سے چادر ہٹا دی سامنے آئنہ تھا میں ہلکہ اس میں دیکھ رھی تھی بیٹے کی نظر میری گانڈ پر پڑی شاید بیٹا سمجھ گیا تھا تبھی تو آکر مجھے لپٹ گئی لن ھیپ رگڑنے لگا میں پیچھے ھو کر گانڈ کو لن پر رگڑی بیٹے نے میری چوت میں لن ڈال دیا اور چدائی کرنے لگی ایسی چدائی کی کے بس میں خوش ھو گئی اور صبح ھو گئی بیٹے کو سونے کا بول کر میں اپنے روم میں سو گئی،
میں تین گھنٹے بعد اٹھی ناشتہ بناکر بیٹے کو اٹھانے گئی بیٹے نے پکڑ لیا اور چدائی ھو گئی بیٹے نے کہا میری بیوی کو پتا نہ چلے میں بولی تم نہیں ہتانہ بولا ٹھیک ھے چلا گیا میں نے خوشخبری ماھی کو سنائی ماھی بولی یار تو تو بندے کو اپنے فگر سے پاگل کر دیتی ھو بس مزے کر
اسی طرح بیٹے سے ایک ہفتہ ھو گیا بہو خود گھر آئی بیٹے کی بات مان لی بتایا نہیں میں بھی نہ پوچھی جب بہو سو جاتی تو کر لیتے شوہر ھوتا تو بس پھر کم مواقع ملتا بہو بڑے پیٹ سے تھی ایڈمٹ کیا ان دنوں شوہر کمپنی میں تھا
میں بیٹے سے مزے کرنے لگی اسپتال سے واپس چدائی میں لگ جاتے بیٹے نے کہا بیوی سے کہا ھے اپنی ماں جدوا میرے دوست سے جدواتی ھے بیوی نہ بولی بس پھر ماں کو مناکر گھر آگئی میں بولی بیٹا وہ ٹھیک ھے مگر اپنا کبھی نہیں بتانا بولا ممی آپ کی کبھی نہیں پھر بتایا کے ساس کی چدائی کی شوہر گھر تھا بیٹا بہوں میکے میں گئے تھے
Comments
Post a Comment