میرا نام سحر ھے میری امی کا نام ماہین ھے میری تین بہنیں ہیں میرے سے چھوٹی بہن کا نام سدرہ ھے اور اس سے چھوٹی کا نام سونیا اور اس سے چھوٹی کا نام سائرہ ھے اور ھم سب بہنوں سے چھوٹا بھائی سعد ھے
میرا پاپا بہت اچھا تھا پاپا نے مجھے پڑھانے کیلئے بہت قرضہ اٹھا لیا تھا میں پڑھ لکھ تو گئی مگر قرضے والوں نے حد کر دی اس وجہ سے پاپا کے دماغ کی نس۔ پھٹ گئی اور پاپا کی ڈیتھ ھو گئی ہمارے پاس کچھ کھانے کو نہیں تھا پاپا ہمیں قرض دار کر گئے آیا دن قرض دار امی کو اور مجھے تنگ کرنے لگے مجھے نوکری کی اشد ضرورت تھی ایک بہت بڑی کمپنی میں جاب کا پتا چلا تو میں بھی تیار ھو کر گئی وہاں بہت سی لڑکیاں تھی جو جاب کیلئے آئی تھی میں ایک کونے میں بیٹھی ایک ایک کرکے لڑکی انٹرویو دے رھی تھی مجھے چار گھنٹے ھو گئے جہاں انٹرویو ھو رہا تھا تو ڈور کھلتا تھا میں دیکھتی تین باس کیوٹ سے انٹرویو لے رھے تھے میں من میں کہے رھے تھے کاش یہ جاب مجھے مل جائے اور اسی طرح سب لڑکیاں چلی گئی آخر میں رھے گئی تو میں اندر آئی تو تینوں باس مجھے دیکھ کر کھڑے ھو گئے مجھے بیٹھنے کو کہا میں بیٹھی پھر انٹرویو شروع ھوا ایک باس نے کہا میرا نام عثمان ھے دوسرے باس نے کہا میرا نام طارق ھے تیسرے باس نے کہا میرا نام عمر ھے
میں نے فائیل دینا چاہ لیکن انہوں نے منع کیا اور ایک بوس نے کہا دیکھو آپ کو بتاتے ہیں کے سیلری ھوگی پچاس ہزار ھے اور کھانا پانی نوکر چاکر گاڑی رہنے کی جگہ پیٹرول سب کمپنی دے گی میں یہ سب سن کر خوش ھو گئی دوسرے باس نے کہا اس جاب کا مقصد یہ ھے کے ہم تینو سے صرف سیکس کرنا ھوگا۔ اور کوئی کام کچھ نہیں ھوگا پھر تیسرے باس نے کہا میرا نام طارق ھے دیکھو تم خوبصورت ھو اس لیئے آپ کو بتا دیا ھے ورنہ جو بھی آئی تھی ہمیں پسند نہیں آئی اب آپ سوچ لو جاب چاہیئے تو بتاؤ میں نے کہا جی بلکل مجھے جاب چاھیئے پھر طارق سر نے مجھے مبارکباد دی اور میرا اقرار نامے پر سائن کرایا کے میں اپنی رضامندی سے جاب کر رھی ھوں پھر تینو باس نے مجھے چوم کر پچاس ہزار دینے لگے میں بولی اگر آپ تینوں کو میں اتنی پسند ھوں تو میرا ایک کام کرو طارق باس نے کہا بتاؤ میں نے کہا مجھے دس لاکھ دے دو قرضہ دینا ھے تینوں باس ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو طارق باس نے کہا دے دیا پھر طارق باس نے رات کو تم ہمارے ساتھ چلوگی ایک نے کہا طارق پہلے اس کا قرضہ دیتے ہیں عمر تم کیا کہتے ھو عمر نے کہا ٹھیک ھے طارق باس نے مجھ سے پوچھا کے کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا ھے تو میں نے بتایا کہ میں ابھی کنواری ھوں تو طارق نے میرے ھونٹ چوس لیئے پھر کہا تم مجھے ھی نہیں عمر عثمان کو بھی بہت پسند ھو خیر پھر تینوں پیسے لےکر میرے ساتھ آئے میری گھر کو دیکھا پھر قرض والوں کو اپنے ہاتھوں سے قرضہ لوٹایا پھر مجھے شوروم لے گئے اور گاڑی دی پھر مجھے بنگلہ دیکھانے کیلئے لائے دو باس آگے بیٹھے تھے میں طارق باس کے ساتھ پیچھے بیٹھی تھی طارق باس مجھے چومے رہا تھا میں بھی ساتھ دے رھی تھی پر نروس تھی خیر گھر کے پاس رکے میں تو خوبصورت بنگلہ دیکھ کے بہت خوش ھوئی پھر ھم اندر آئے اس بار عمر نے مجھے پیچھے سے باھوں میں بھر لیا اور میرے مموں کو دباتے میرے گال چوم کر کہا بہت خوبصورت ھو یار ھوٹ فگر ھے تمہارا پھر نیچے کے روم دیکھائے پھر اوپر دیکھانے گئے تو عثمان نے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا مموں کو دبانے لگا بولا جس طرح تم سب خوش ھو نہ ہمیں بھی خوش رکھنا میں بولی آپ فکر نہ کریں عمر باس نے کہا ہمیں خوش کر تو پاؤ گی طارق باس نے کہا کیوں نہیں کر پائے گی عورت ھے مزے بھی کرے گی پیسہ بھی ملے گا پھر ھم نئے گھر میں شفٹ ھو گئے گھر والے سب خوش تھے تین دن بعد طارق باس کی کال آئی کہا رات کو تیار ھو جانا پھر میں تیار ھوئی چوت کے بال صاف کیئے پھر تینوں باس اپنے ساتھ مجھے ایک فام ہاؤس پر لے گئے میں بہت زیادہ نروس تھی کے تینو کیا حال کریں گے ھم فام ہاؤس پر آئے اور مجھے سیکسی ڈریس دیا کہا یہ پہن کر آؤ جب تک ھم پیگ بناتے ہیں میں روم میں آکر سیکس ڈریس پہنی ڈریس میں تو میرا ننگا بدن بکل صاف نظر آرہا تھا میں ڈریس پہن کر آئی تو تینوں کے منہ کھلے کہ کھلے رھے گئے اور میری تعریف کی طارق باس نے اٹھ کر مجھے چومنے لگا کہا کے بنا کپڑوں کے تمہارا فگر تو کمال کا لگتا ھے میں بھی طارق باس کو چومنے لگی پھر عمر باس اٹھا اور پیچھے سے عثمان بوس بھی اٹھ کر آیا اور مجھے تینوں باس چومنے لگے میں بھی گرم ھو گئی تینوں باس ننگے ھو گئے پھر مجھے ننگا کیا میں بہت گرم ھو گئی تینوں کے لن بہت موٹے اور لمبے تھے میں نے پہلے کبھی چدائی نہیں کی تھی تینو کے لن دیکھ کر میں مستی میں آئی اور تینو مجھے بہت چومنے چوسنے چاٹنے لگے میری چُوت کو ایک چاٹتا ھوا چھوڑتا تو دوسرا میری چوت چاٹنے لگ جاتا میرے مموں کو دباتے اور چوستے اور میری تعریف کرتے ایک نے عمر نے لن چوسنے کو کہا میں عمر کا لن چوسنے لگی طارق میری چُوت چاٹ رہا تھا عثمان میرے مموں کو دبا اور چوس رہا تھا کچھ دیر بعد بیل بجی تو طارق باس نے کہا جاؤ بھابھیاں آگئی پھر عمر عثمان ننگے اٹھ کر چلے گئے میں نے کہا بھابھی کون ہیں طارق باس نے کہا عمر عثمان کی بیویاں ہیں یہ بھی جاب کیلئے آئی تھی انہوں نے شادی کر لی ھے طارق باس نے مجھے چوم کر کہا میرا تم پر دل آگیا ایک تو تم بہت خوبصورت ھو دوسرا یہ کے تمہارا ننگا بدن مجھے بہت پسند آیا ھے میں نے کہا تم بھی ان کو کرتے ھوں کہا ہاں میں دیکھی عمر اپنی بیوی کو ننگی اٹھائے چوت میں لن ڈالے اٹھا کر لا رہا تھا پیچھے عثمان کی بیوی گھوڑی بنی چلتی آرھی تھی عثمان چدائی کرتا آرہا تھا پھر عمر نے اپنی بیوی کا تعارف کرایا کہا یہ ھے میری بیوی شمسہ مجھے بہت پسند ھے پھر عثمان نے کہا یہ ھے میری بیوی نور طارق نے کہا یہ خوبصورت سحر اس بات پر طارق میرے دل میں اتر گیا پھر مجھے اور طارق باس کو شمسہ نور عمر عثمان ایک روم میں لائے بیڈ پر سفید چادر تھی شمسہ اور نور آپس میں پیار کرنے لگیں اور تینوں باس مجھے مست کرنے لگے مجھے منٹوں میں بہت گرم کر دیا تینوں باس کے لن چوسے میری چُوت کو بہت چاٹا شمسہ اور نور نے بھی میری چوت بہت چاٹی لیکن ابھی صرف شمسہ اور نور کی تینوں باس زبردست چدائی کر رھے تھے پھر عمر نے کہا طارق اب راستہ کھولو پھر طارق نے میری سیل کھولی زبردست چدائی کی بیڈ کی سفید چادر خون سے بھر گئی عمر نور کی اور عثمان شمسہ کی چدائی کر رہا تھا پھر ہمارے نیچے سے شمسہ اور نور نے بیڈ کی چادر نکال دی طارق چدائی میں مست تھا پھر شمسہ نے میری چُوت سے طارق کا لن نکال کر کہا اب دھو لو میں چادر بچھاتی ھوں پھر طارق اٹھا کر چدائی کرتا واشروم لایا میری چوت دھو کر چاٹنے لگا پھر میں نے طارق کا لن دھویا طارق نے میری چوت میں لن ڈال کر مجھے اٹھا کر لایا آگے شمسہ اور نور گھوڑی بنکر اپنی گانڈ چدوا رھی تھی کبھی عثمان عمر کی بیوی شمسہ کی چدائی کرتا کبھی اپنی بیوی نور کی چدائی کرتا عمر بھی نور کی اور شمسہ کی چودائی کر رہا تھا دونوں گانڈ چود رھے تھے طارق لیٹ گیا میں اوپر آکر مست چدائی کرنے لگی کچھ دیر بعد شمسہ طارق کو چومنے لگی اور عثمان مجھے پیچھے سے اوپر کیا میری چُوت سے طارق کا لن نکل گیا اور عثمان نے لن ڈال کر مجھے اٹھا کر سائٹ پر کرکے زبردست چدائی کرنے لگا شمسہ طارق کے اوپر زبردست چدائی کر رھی عمر نور کی چیخی نکال رہا تھا کچھ دیر بعد پھر نور نے طارق کو چومنے لگی عثمان نے شمسہ کو پکڑ لیا اور مجھے عمر چودنے لگا کچھ دیر بعد پھر طارق مجھے چودنے لگا عمر نے نور کی ٹانگیں اٹھا کر چود رہا تھا مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر شمسہ نور کہنے لگیں فارغ ھوئی پھر عمر نے نور کے منہ میں فارغ ھوا عثمان شمسہ کے منہ میں فارغ ھوا میں فارغ ھوئی تو طارق میری چُوت میں فارغ ھوا جب طارق کے لن کا پانی میری چُوت میں نکلا تو مجھے بہت مزہ آیا میں نے طارق کو باھوں میں بھر کر چومنے لگی پھر تینوں شراب لینے گئے اور کھانے بنانے کا بول کے گئے تو شمسہ نور ننگی کچن چلی گئی میں روم میں اکیلی تھی بور ھو گئی تو میں بھی ننگی باہر آکر کچن آئی تو شمسہ مجھے دیکھ کر اکے مجھے باھوں میں بھر لیا میری گانڈ کے ھیپ دباتی مجھے چومتی بولی سحر سچ میں یار تم بہت خوبصورت ھو تمہارا ننگا بدن تو ایک دم قیامت ھے بہت ھوٹ فگر ھے اتنی دیر میں نور نے مجھے پیچے سے باھوں میں بھر کر میرے مموں کو دباتی بولی مجھے تو تمہارے بڑے مموں کو چوسنا دبانا مزہ آتا ھے چوت تو بہت پیاری ھے میں بولی یار کچھ بنا لو وہ آجائیں گے شمسہ بولی مل کر بنائینگے میں پوچھی کے تم دونوں میں پہلے کون آئی تو شمسہ نے کہا پہلے میں آئی تھی تو مجھے عمر نے پسند کر لیا تینوں سے تین مہینے چدائی کرتی مجھے بہت مزہ آتا عمر مجھے بہت پیار کرنے لگا پھر ایک رات تینوں نور کو لائے نور کا پہلا دن تھا پھر شادی کر لی پھر تینوں آگئے اور کھانے کے بعد چدائی شروع ھو گئی پھر دن کو طارق مجھے گھر چھوڑنے آیا تو میرا موڈ بن گیا چدائی کا بولی چلو پھر طارق کو اندر لائی اور امی سے ملوایا میری امی مجھ سے زیادہ خوبصورت ھے میں سیم کاپی ھوں اپنی امی کی فگر بھی سیم ھے طارق کو میری امی بہت پسند آئی اپنی بہنوں سے ملوایا پھر روم میں زبردست چدائی کی میں بولی تم مجھ سے شادی کر لو میں تم سے پیار کرتی ھوں طارق نے کہا تم بہت پیاری ھو میں بھی یہی سوچتا ھوں لیکن تم کو میرے ساتھ ایک ورمعدہ کرنا ھوگا میں بولی بتاؤ کہا اگر ایسا ھوا تو مزہ آئے گا میں نے کہا بتاؤ کہا تمہاری امی بہت پیاری ھے کسی دن تم امی سے چدائی کرا دو میں تم سے شادی کروں گا اور تیری امی کو گاڑی دوں گا باقی تیری بہنیں وہ بعد کی بات ھے میں بولی میں امی سے بات کرنے کی کوشش کروں گی پھر دوسرے دن میں نے امی سے بات کی پہلے تو امی نے انکار کیا مگر مشکل سے مان گئی پھر میں نے طارق کو کال کرکے بتایا کے تم اجاؤ امی مان گئی ھے پھر میں نے امی کو بار بار بولی کے امی فل انجوائے کرکے مزے کرنا اور مزے دینا امی نروس تھی خیر میں امی کو چوت کے بال صاف کرنے کو بولی تو چوت کے بال صاف کرکے نہاکر کر آئی اور امی کو تیار کرنے لگی خاص امی کیلئے سیکسی ڈریس طارق نے دیا تھا امی فل تیار ھو گئی تو طارق آگیا امی کو دیکھ کر بہت تعریف کی امی کو چوما ھونٹ چوسے مموں کو دبایا پھر امی اسے روم لے گئی میں طارق کی پسند کا کھانا بنانے لگی ہانڈی چولہے پر چڑھا دی آگ جلا دی سوچی امی کو دیکھوں کیا ھوا امی کا میں آرام سے ڈور کھول کر دیکھی امی تو گانڈ میں بھی لے رھی تھی طارق نے امی سے کہا آپ بیٹیوں کی فکر نہ کریں ان کا کی بھی زندگی اچھی ھو جائے گی بس جب جوان ھوتی جائے میں سیل کھولتا جاؤں گا امی نے کہا اگر وہ نہ مانی تو طارق نے کہا تم دونوں تو ھو پھر میں کھانا بناکر فارغ ھوئی پھر دونوں کپڑے پہن کر آئے طارق نے بھائی سعد سے کہا تم کہاں پڑھنا چاہتے ھو کہاں لنڈن میں پھر سعد کو خوشی سے لنڈن پڑھنے چلا گیا طارق نے بھیجا پھر طارق نے شادی کر لی بس فام ہاؤس پر جب جاتی تو میں اکیلی جاتی تینوں میں کسی کا موڈ ھوتا تو فام ہاؤس مجھے کبھی عمر بلاتا کبھی عثمان تو کبھی دونوں جب میں نہ جاتی تو شمسہ نور ھوتی یا مل کر رات گزرتی طارق میری بہنوں کو بہت پیار کرنے لگا سدرہ تو طارق کا لن چوسنے لگی کبھی کبھی طارق کے ساتھ میں امی اور سدرہ ایک ساتھ ھوتی اور ھم سب ننگی ھوتی سدرہ بھی بہت گرم ھو جاتی ایک رات سدرہ کے کہنے پر سیل کھول دی طارق چدائی کا مست پاپی تھا بہت چدائی کرتا ایک دن مجھے عمر کیلئے امی سے وہ بھی دے گا امی مان گئی عمر فام ہاؤس لے گیا سدرہ طارق سے بہت چدائی کرتی پھر کالج میں شروع ھو گئی کچھ دن میں پریگننٹ ھو گئی پتا چلے پر زایا کیا پھر سمجھ آگئی پھر ایک لڑکے سے محبت ھو گئی تو شادی کر دی پھر سونیا مستی میں جوان ھو رھی تھی طارق فل مزے کرتا میں بہت گرم رہتی طارق شوہر تو میرا تھا مگر گھر میں چوتیں بہت تھی جس کی وجہ سے میں بہت گرم ھو گئی تھی میں عمر عثمان کو ملنے کو کیتی تو دونوں سے پوری رات کرتی کبھی شمسہ سے سیکس کرتی کبھی نور سے کرتی کبھی امی سے کر لیتی اب سونیا سے بھی کرتی ھوں سائرہ بھی نکھر رھی تھی ایک رات میں نے سائرہ کو اپنے ساتھ سلائی اور چوت چاٹی سیکس کیا سائرہ کو بہت مزہ آیا شمسہ نے ایک دن بتایا کے وہ اپنے بھائی سے کرتی ھے سیل بھائی نے کھولی تھی شمسہ نے کہا ایک رات بھائی نے مجھے گرم کر دیا اور سیل کھول دی میں امی کو بت دیا امی کا سوتیلا بیٹا تھا پاپا کے گزرنے کے بعد امی نے بیٹے کے ساتھ چدائی کرنے لگی دو بچے ہیں بھائی سےنور نے بتایا کے ماموں نے سیل کھولی تھی ماموں کی ایک دن چدائی دیکھ لی مامی ننگی مجھے ماموں کے پاس لائی مجھے چومتی ننگا کیا پھر سیل کھلنے کے بعد روز ماموں چدائی کرتا ایک رات بھائی نے گرم کر دیا بھائی تو امی سے پہلے کرتا تھا بلکہ بھائی اور پاپا مل کر امی کی چدائی کرتے تھے پھر سونیا کی شادی ھو گئی پھر سائرہ کی طارق نے سیل کھولی پھر سائرہ کی شادی ھو گئی سعد بھی جوان ھو گیا تو میں لنڈن آگئی سعد سے ملنے سعد کی کالج سے چھٹی رات کیلئے لی کے میں تین مہینے رھوں گی ھوٹل میں روم لیا سعد کو روم میں لائی سعد سے بولی تمہاری آپی تم سے پیار کرنا چاہتی تم بھی مجھے پیار کرو بولا ٹھیک ھے پھر میں سعد کو چومنے لگی ننگی ھو گئی سعد شرما رہا تھا میں سعد کا دیکھی بہت موٹا لمبا تگڑا لن تھا میں سعد کو دیکھ دیکھ کر لن کو چوپہ لگانے لگی سعد مستی میں آگیا پھر زبردست چدائی کی سعد نے میری گانڈ میں لن ایک دم پورا اندر ڈال دیا میری آنکھوں میں آندھرا چھا گیا درد بہت تھا برداش کرکے لیٹی رھی پھر سعد میری چُوت اؤر گانڈ کی چدائی کرنے لگا درد ختم ھو گیا پھر زبردست چدائی کی تین مہینے رھی چدائی بہت کی سعد سے کہا بھائی یہ سال گزار کر آؤں گے تو دن رات چدائی کرینگے بھائی نے کہا ایک مہنہ اور رک جاؤ میں نے کہا مجھے جانا ھے سعد نے مجھے مست کر دیا میں تین مہینے تک گئی ایگزام شروع ھونے والے تھے سعد نے کہا اور رک جاؤ ساتھ چلیں گے روز چدائی کرینگے میں مان گئی سعد کالج سے آتے مجھے گرم کر دیتا کہتا آپی من کرتا ھے بس آپ کو کرتا رھوں عثمان کو بولی کالج میں دوست ھے تو بلاؤ پھر سعد کے دو دوست تھے ان کو لایا میں نے سعد کے ساتھ تینوں سے مزے کیئے پھر سعد فسٹ آیا میں بولی امی کو چودنا تو مجھے بھول نہیں جانا سعد نے کہا سحر آپی آپ کو ہمشہ پیار کروں گا پھر گھر آئے رات کو میں اور سعد چدائی کر رھے تھے تو امی آگئی سعد کا لن دیکھ کر خوش ھوکر چوس چوس کر چلی گئی میں فارغ ھوئی تو ننگا چلا گیا میں چڈی پہن کر باہر کچن میں سعد امی کو پیچھے سے چدائی کر رہا تھا میں جاکر چڈی اتاری سعد نے مجھے ٹیبل پر الٹا لیٹا کر چدائی کرنے لگا میں فارغ ھوئی امی کو روم لے گیا سارا دن سعد ہماری چدائی کرتا رہا پھر طارق آگیا طارق کھانا کھاکر مجھے روم لایا اور چدائی کی میں نے گانڈ میں لیا کہا کس نے کیا میں نے کہا میں غصے میں تھی تم مجھے چودتے نہیں تھے تو لنڈن سعد کے پاس چلی گئی اس پھسل کر اندر چلا گیا پھر طارق نے سوری کی پھر طارق میری بہت چدائی کرتا امی کی کم کرتا سعد امی کے ساتھ سوتا دن میں طارق نہیں ھوتا تو سعد سے چدائی کرتی پھر میرے کہنے پر امی کے عاشق سے بات کی کے ھم ماں بیٹی کو مزے دینا پھر امی نے اس سے شادی کر لی طارق سعد امی کا شوہر ھم مل کر چدائی کرتی ایک رات شمسہ آگئی سعد سے چدائی کی تو اپنی بہن سے شادی کرا دی میں پیٹ سے ھو گئی اور
No comments:
Post a Comment