Monday, December 8, 2025

ابو ہر روز امی کی چدائی کرتا میں دیکھ کر بہت گرم ھو جاتی

 ابو ہر روز امی کی چدائی کرتا میں دیکھ کر بہت گرم ھو جاتی تھی ابو سے چدائی کرنے کا میرا من بہت کرتا تھا


ابو کا لن مجھے بہت پسند تھا من کرتا کبھی موقعہ ملا تو ابو کے لن سے بہت میرے کروں گی ابو امی چیخیں نکال دیتا تھا امی کی آوازیں سن کر میں چھپ کر چدائی دیکھتی تھی 


بہت بار ابو کے لن کے نام کی چوت کا رس نکالی تھی پر میں موقعہ کی تلاش میں تھی بڑے دنوں بعد مجھے موقعہ ملا تھا جسے میں گوانا نہیں چاہتی تھی ھوا ایسا کے ایک دن


امی کو کال آئی کے اس کا بھائی بہت بمار ھے امی کا بھائی غریب تھا تو امی اپنے بھائی کا علاج کرانے کیلئے امی ماموں کے ہاں کچھ دن کیلئے چلی گئی میں بہت خوش ھوئی کے آخر مجھے موقعہ مل ھی گیا اور میرا من آیا کے موقعہ اچھا ھے رات کو کھانے کے بعد ابو کو اتنا گرم کر دو گی کے بس چدائی کرنے لگ جائے پھر رات کو ابو آفس سے گھر آیا ابو کو دیکھ کر میں بہت گرم ھو گئی ابو نے امی کا پوچھا چلی گئی میں بولی ہاں چلی گئی ابو نے کہا کھانا لگا دو میں نے کھانا لگایا اور ھم کھانا کھانے لگے ابو کھانا کھا کر اپنے  روم چلا گیا میں اٹھی


میں بہت گرم تھی اور ابو کے روم میں آئی آبو کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی ابو کو چومنے لگی ابو نے کہا بیٹا کیا ھو گیا ھے


 میں بولی ابو مجھے کرنا ھے آبو بولا کیا کرنا ھے میں بولی وہ جو آپ امی کے ساتھ کرتے ھوں بولا نہیں میں بولی کیوں کوئی وجہ بولا نہیں تو نہیں 


میں بولی میں تو کروں گی بولا بیٹی نہیں میں بولی میرے ساتھ کرنے میں کیا ھے کیا میں آپ کو اچھی نہیں لگتی آبو کے اوپر آکر اپنی نائٹی اتار دی اور ابو کے لن پر اپنی چوت ہلانے لگی ابو نائٹی اٹھا کر بولا بیٹی یہ اچھی بات نہیں ھے اسے پہن لو میں نے اپنے دونوں مموں کو ابو کے منہ میں دیتی بولی ابو چوسو  مگر ابو نے نہیں بول کر اپنا منہ ہٹادیا ابو سے پوچھی کے ابو آپ کیوں نہیں کر رھے کہا تم بیٹی ھو یار میں بولی تو کیا ھوا اندر نہیں جائے گا کیا بولا وہ بات نہیں ھے میں آبو کے ھونٹ چوسنے لگی اور نیچے سے آبو کا لن بھی کھڑا ھو گیا من میں بہت خوش ھوئی کے ابو گرم ھو گیا ھے میں بولی ابو کرو میں امی کو نہیں بتاؤں گی اور نہ ھی کسی اور کو بتاؤں گی 


آبو نے مجھے باھوں میں بھر لیا میں ابو کو بولی میرا کرنے کو بہت من ھے آپ کا بھی کھڑا ھو گیا ھے ابو نے کہا ٹھیک ھے تم امی کو نہیں بتانا میں بولی 


بول رھی ھوں کے امی تو کیا کسی کو نہیں بتاؤں گی ابو بولا تم بہت پیاری ھو پھر آبو نے میری چُوت کی سیل کھولی ابو کو میں نے آفس نہیں جانے دیا ابو سے دن رات چدائی کرتی رھی پندرہ دن بعد امی اگئی


بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر شیر کیا جائے گا 


No comments:

Post a Comment