بیٹے کے لن سے مجھے بیٹی کا حمل ھو گیا
ھیلو دوستو میرا نام شگفتہ آنٹی ھے میں بچن سے ھی بہت خوبصورت ھوں اور صحت مند بھی ھوں جب میری شادی ھوئی تو میں اس وقت تیرا سال کی تھی جب پہلی بار مجھے ماہواری آئی تو ممآپاپا نے میری شادی کرا دی سوہاگ رات میں بوڑھے شوہر نے مجھے بہت پیار کیا اور میری سیل کھولی اس کے بعد تو میں چدائی کی شوقین ھو گئی شوہر کا لن چوستی شوہر میری چوت چاٹتا اور سوہاگ رات کو ھی پریگننٹ ھو گئی نو مہینے تو شوہر سے بہت چدائی کی پھر مجھے بیٹا ھوا چودا سال کی ھونے میں ابھی تین مہینے رہتے تھے پھر بیٹا ھوا بیٹا بہت پیارا تھا بیٹے کو دودھ پلانے کے ساتھ شوہر بھی میرے مموں سے دودھ پیتا ایک مہینے تک شوہر نے میرے مموں کا دودھ پیا پھر تو آفس کے کام میں بیزی رہتے گھر کم دن رہتے زیادہ تر باہر رہتا بیٹے کو دودھ پلاتی تو میں گرم ھو جاتی اپنے مموں کو دباتی اپنی چوت میں انگلی کرتی بیٹا دودھ پی رہا ھوتا میں بیٹے کو پیار کرتی کبھی کبھی بیٹے کی للی کو بھی کھڑا کر لیتی سوچتی ایک دن بیٹے کی للی لن ھوگا کبھی سوچتی جب بیٹا بڑا ھوگا تو بیٹے سے مزے کروں گی جب شوہر گھر ھوتا تو میں شوہر سے چدائی کرتی بیٹا ہمارے ساتھ سوتا کبھی جاگ جاتا تو ہمیں دیکھتا میں نے بھی بیٹے کا دودھ نہ چھڑانے کا فیصلہ کر لیا اسی طرح بیٹے کے ساتھ ننگی سوتی بیٹا بڑا ھو رہا تھا کبھی کبھی جب بیٹے کی للی کھڑی ھوتی تو میں جیسے کہتی ویسے کرتا مجھے بہت مزہ آتا بیٹے کو منع کرتی کی گھر کی باتیں کسی کو نہیں بتاتے پاپا کے سامنے کچھ نہ کیا کرو جب بیٹا تیرا سال کا ھوا مجھے کچھ دن ماہواری رھی میں بہت گرم تھی میں ننگی چادر لے کر بیڈ پر لیٹی آنکھیں بند کر کے آرام کرنے لگی کچھ دیر بیٹا اندر آیا اور ننگا میرے پیچھے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا میں آنکھیں بند کیئے مزے لینے لگی بیٹا بہت گرم بھی تھا مجھے مزہ آرہا تھا بیٹے کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا بیٹے نے میری چوت میں پورا لن ڈال دیا میری ہلکی سی اف نکل گئی مزہ آیا تھا پھر بیٹے نے زبردست چدائی کی اور قریب ایک گھنٹہ لگا رہا میں دوسری بار فارغ ھونے والی تھی کے بیٹے نے مجھے الٹا کر دیا پھر لن ڈال کر چدائی کرنے لگا پھر مجھے گھوڑی بناکر چدائی کرنے لگا میں پھر فارغ ھو گئی پھر بیٹا میرے آوپر آگیا چدائی کرتا مجھے چومنے لگا میں بھی بیٹے کو چوم رھی تھی بیٹا بہت تھک گیا تھا پھر اچانک میری چوت میں بیٹے کے لن کا گرماگرم پانی پہلی بار نکلنے لگا بیٹا میرے اوپر لن ڈالے لیٹا رہا جب بیٹے کے لن کا گرماگرم پانی میری چُوت میں نکلا تو مجھے سکون آیا بیٹے میرے اوپر لیٹا تھا میں بیٹے کو باھوں میں بھر لیٹی تھی صبح کے سات بج گئے تھے اور ہمیں نیند آگئی کچھ دیر بعد مسلسل ڈور بیل بجنے لگی ٹائم دیکھی آٹھ بج رھے تھے ماسی کام والی تھی ڈور کھول کر اندر لائی ماسی کو بولی پہلے تم سارا کام کر لو پھر دوپہر کے سالن کیلئے مسالا کاٹنے کو بولی کے اس کے بعد ناشتہ بناکر مجھے اٹھا کر چلی جانا میں پھر سونے آئی روم میں بیٹا ننگا سویا تھا میں نائٹی اتار کر بیٹے کو باھوں میں لےکر ننگی سو گئی
میں ھوٹ اور بیٹے کا بچپنا
دوستو میں نے اپنے بیٹے کو بچپن میں میرے ساتھ سیکس کی عادت ڈالنی شروع کی وہ ایسے کے
پانچ سال کے بیٹے سے میں سیکس کرنا شروع کیا وہ بھی بیٹے کی سالگرہ پر تو چلو میں بتاتی ھوں
میں بہت دنوں بہت گرم تھی سوچی کے بیٹا اب پانچ سال کا ھونے والا ھے کیوں نہ بیٹی کی پانچویں سالگرہ پر بیٹے سے سیکس کروں یہ سوچ کر میں اور گرم ھو گئی پھر بیٹے کی سالگرہ تھی دوپہر میں بیٹے کے ساتھ میں دو کیک لائی ایک چوٹا اور دوسرا بڑا اور بڑا کریم والا کیک تھا چھوٹا چاکلیٹ۔ کیک تھا جو بیٹے کیلئے تھا بڑا کریم کیک بیٹے کی سالگرہ کا تھا میں فریج کے ساتھ رکھنے کھڑی ھوئی۔ تو بیٹا میری گانڈ میں ہاتھ لگا کر دبانے لگا مجھے مزہ آرہا تھا کچھ دیر کھڑی رھی پھر فیرج کھول کر گھوڑی بن کر کیک رکھنے لگی تو بیٹا میری شلوار پر میری چوت کو سہلانے لگا مستی کرتے ھوئے مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا کچھ دیر میں گھوڑی بنی رھی اور تھک کر سیدھی ھوکر بیٹے کو چومتی بولی آج میرے بیٹے کی سالگرہ ھے آج مما اپنی جان کو بہت پیار کرے گی تم مما کو پیار کرو گے بیٹے نے کہا ہاں پھر رات کو کیک بیڈ پر رکھ کر میں ننگی ھو گئی اور بیٹا کو ساتھ بٹھا کر کیک کٹواکر کچھ بیٹے نے کھایا پھر میں بیٹے کو چومنے بیٹے کی للی کو سہلانے لگی بیٹے کے منہ میں ممے دیتی بیٹا میرے مموں کو چوستا دباتا بیٹے کی للی کھڑی ھو گئی بیٹے کو پیار کرتی بیٹے کو ننگا کیا بیٹے کو بولی مما تمہاری للی پر کیک لگا کر کھائے تو بیٹے نے ہاں کی میں نے بیٹے کی للی ہر کیک لگا کر للی کو چاٹتے چوسنے لگی پھر میں نے چوت پر کیک لگایا بیٹا چاٹنے لگا انگلی کرتا ہنستا بھی پھر میں بیٹے کو لیٹا کر میں اوپر آکر اپنی چوت میں بیٹے کی للی لےکر اپنی چوت کو تیز تیز اوپر نیچے کرکے بیٹے کی للی کو اپنی چوت سے چودنے لگی مجھے بہت مزہ آرہا تھا بیٹے کو چوم رھی تھی بیٹا میرے مموں سے کھیلتا چوستا چومتا بہت دیر تک میں لگی رھی بیٹے کو بولی للی کو اوپر کر کے چوت میں ڈالو بیٹا نیچے سے چدائی کرنے لگا پھر میں گھوڑی بن گئی بیٹے کو سیکھایا بیٹے نے میری چوت میں للی ڈالی میں پیچھے سے بیٹے کو ہلانے لگی پھر بیٹا بہت دیر تک کرتا رہا کبھی میری گانڈ میں للی ڈال کر چدائی کرتا مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا پھر میں سیدھی ھوکر لیٹ کر بیٹے کو بولی میری چوت میں ہاتھ ڈالو بیٹے نے پورا ہاتھ میری چوت میں ڈال دیا چوت کے اندر اپنی انگلیاں کھولتا گھمانے لگا اف میں تو مستی میں تھی اور بہت مزہ آرہا تھا پھر میں نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت میں اندر باہر کرنے لگی بیٹے کو بولی ایسے کرو بیٹا اپنا پورا ہاتھ میری چُوت میں اندر باہر کرنے لگا مجھے اتنا مزہ آیا کے میری چوت نے رس چھوڑ دیا میں بیٹے کو مستی میں چومنے لگی پھر اسی طرح کچھ دن چھوڑ کے بیٹے کے ساتھ سیکس کرکے فارغ ھو جاتی بیٹا بہت کچھ سیکھ گیا مجھے بہت مزے دیتا کبھی کبھی ضد بھی بہت کرتا مار بھی کھاتا بچارا پھر ایک دن میرا شوہر آگیا بیٹے کو بولی پاپا کے سامنے نہ کرنا اب بیٹا تو بچہ تھا ضد کرنے لگا کے مجھے کھیلنا ھے تو میں تھپڑ مار دی بیٹا روتا ھوا اپنے روم میں جاتے کہا اب میں تم سے بات نہیں کروں گا میں شوہر کے پاس آئی اور شوہر نے چدائی کی پھر میں بیٹے کے پاس آئی اور بیٹا ناراض تھا میں بولی بیٹا جو ھم پیار کرتے ہیں وہ کسی کو نہیں بتانا اور نہ کسی کے سامنے کرنا چاھیئے بیٹا بولا کیوں میں بولی وہ اس لیئے کے مما بیٹے کا پیار ھوتا ھے اس لیئے کسی کے سامنے نہیں کرنی چاہئے پھر میں بیٹے کو پیار کرنے لگی اور بیٹے نے وہ کیا جو کرتا تھا مجھے بہت مزہ آیا پھر میں نائٹی پہن کر بیٹے کو بولی کے تم روز روز نہیں کیا کرو کہا کیوں میں نے کہا بمار ھو جاؤگے بولا سچ مما میں بولی ہاں بیٹا جب مما بولے تب کرنا کیونکہ مما کو سب پتا ھے بیٹے نے کہا ٹھیک ھے مما جب بولو گی تب کروں گا اس طرح میرا بیٹا ہر بات سمجھتا ھوا بڑا ھو رہا تھا بیٹا صحت مند بھی ھو رہا تھا بیٹے کی للی بھی موٹی لمبی ھو رھی تھی اس طرح بیٹے سے مزے کرتی چوت کا رس نکالتی ھوئی وقت دن مہنے سال گزرنے لگے پھر جب
میرا بیٹا دس کا ھوا بہت مزہ آتا
میرا بیٹا دس کا ھوا دس کا ھوا تو بیٹے کی اب للی نہیں تھی شوہر کے جتنا لن تھا تھا مجھے بہت مزہ آتا پہلے مہنے میں ایک بار کرتی اب میں مہنے میں چار بار کرتی بیٹے کی صحت کا بھی خاص خیال رکھتی کہیں لن یا جسم سے کمزور نہ ھو جائے ایک رات بیٹے کی دسویں سالگرہ پر پھر میں چدائی کی کا سوچی کیونکہ ہر سالگرہ پر چوت لن پر لگا کر چاٹ کر کھاتے تھے ظاہر سی بات ھے بیٹا دس سال کا ھے سمجھ دار چلاک اور پڑھنے مثبھی ذہن تھا اور اپنی مما کو بہت خوش رکھتا پیار کرتا تو بیٹے نے سالگرہ کیلئے مجھ سے کہا مما اس سالگرہ پر پورا کیک لگا کر چاٹینگے میں نے کہا ٹھیک ھے پھر کیک لائے اور پہلے میں بیٹے کے لن کو کیک لگا کر چاٹتی کھانے لگی پھر بیٹے کو مموں پر کیک لگا کر کھلایا پھر بیٹا میری چوت پر کیک لگا کر چاٹتا پھر چدائی ھونے لگی مجھے بہت مزہ آتا میری چوت کا پانی نکال دیتا
میرا بیٹا تیرا سال میں جوان ھو گیا
پھر جب بیٹا تیرا سال کا ھوا تو اس رات میں روم میں ننگی چادر لے کر لیٹی تھی بیٹا باہر تھا میں بہت گرم تھی اور آنکھیں بند کر کے کروٹ پر لیٹی تھی کچھ دیر بعد بیٹا میرے پیچھے سے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا
No comments:
Post a Comment