Monday, November 24, 2025

دوست کے ساتھ دوست کے گھر میں

 دوست کے ساتھ دوست کے گھر میں 


شام کو گھنٹی بجی گھر کا مالک ناصر آیا میں بولی کپڑے پہن لوں بولا نہیں یہ نائٹی لایا ھوں یہی پہن لو تم پھر


ھلیودوستو میرا نام سلمیٰ ھے میں تھوڑی سانولی ھوں میرے بڑے مموں سے میرا فگر بہت ھوٹ لگتا ھے میری چوت بھی بہت مزے کی ھے میں صحت مند بھی ھوں اور میری گانڈ بھی پلی ھوئی ھے 


میری مما بہت خوبصورت ھے اور میری مما کا نام مہوش ھے میری مما میری سب سے اچھی دوست بھی ھے میرے پاپا کا اپنا بزنس ھے ممآپاپا کی میں اکلوتی بیٹی ھوں


تو دوستو میں اپنے سیکس  کے بارے میں شیر کرتی ھوں


کالج میں میری دوستی اشرف سے ھوئی اشرف مجھے بہت چوستا دباتا چومتا تھا میں بھی اشرف کو بہت چومتی اشرف کے لن کو مٹھیں مارتی تھی اشرف کے لن کا پانی نکل جاتا اشرف تو پانی نکلوا کر سکون میں آجاتا مگر میں بہت گرم رھے جاتی اور میرا چدائی کرنے کو بہت من کرتا 


جب میں گھر میں ھوتی تو مجھے اشرف کا 


چومنا چوسنا چوت کو سہلانا میں لن کی مٹھ مارتی یہ سب مجھے یاد آتا تو میں بہت گرم ھو جاتی اور اپنے مموں کو دباتی اور اپنی چوت میں انگلی کرکے چوت کا رس نکال دیتی 


میں بہت گرم ھو گئی تھی ایک دن اشرف مجھے کالج کے کونے میں بہت گرم کیا ھوا تھا میرے مموں دباتا ھوا مجث چوم چوس رہا تھا


میں اشرف کے لن کی مٹھ مار رھی تھی اشرف میرے مموں کو نکال کر دباتا ھوا چوسنے لگا میرا من کر رہا مجھ سے صبر نہیں ھوا تو آخر اشرف میں بولی اشرف یار چدائی کا کوئی پروگرام کروں نہ مجھ سے صبر نہیں ھوتا اشرف نے کہا کیا کرے گی پھر میں بولی تمہارے لن کو بہت چوسنا چاہتی ھوں اور بہت چدائی کرنا چاہتی ھوں اشرف نے کہا سلمیٰ تم بہت ھوٹ ھو میں بولی ہاں اس لیئے تو بول رھی ھوں کوئی پروگرام کروں نہ پلز


 اشرف نے کہا تمہارے گھر اجاؤں میں بولی نہیں یار کسی اور جگہ پر مگر جگہ محفوظ ھو اشرف نے کہا پھر تم کو کل بتاؤں گا اشرف کے لن کا پانی چڈی میں نکل گیا پھر اشرف نے اپنی پینٹ بند کی اور میں اپنے مموں کو برا میں کرکے قمیض میں مموں کو سہی کیا پھر ہفتہ اتوار کو کالج کی چھٹی ختم ھوئی پھر کالج گئے تو اشرف نے بتایا کے میرا ایک دوست ناصر ھے اس کی فلیٹ ھے اکیلا رہتا ھے مگر اس کے سامنے شرمانا نہیں کچھ وہ دیکھے گا تو پھر اپنی جگہ پکی ھوگی میں بولی ٹھیک ھے تم بس اس سے پتا کرو کب چلیں بولا کے فرائیڈے کو مجھے چابی دے گا میں بولی ٹھیک ھے میں مما کو بتا دوں گی کے پارٹی ھے پھر فرائیڈے کو میں نے مما کو پارٹی کا بول کر میں تیار ھوکر کالج آئی چوت بہت گرم تھی   پھر اشرف ملا اور مجھے کہا سلمیٰ یہ دیکھو مجھے چابی دیکھائی میں چابی دیکھ کر بہت خوش ھو گئی اشرف نے کہا آج فرائیڈے ھے تو کالج جلدی بند ھو گا ھم سیدھا ناصر کی فلیٹ پر چلیں گے میں بہت خوش ھوئی کے چلو آج میری سیل کھلے گی مزے کروں گی پھر چھٹی ھوئی تو میں اشرف کے ساتھ فلیٹ پر آگئی اشرف نے چابی سے ڈور کھولا 


ھم اندر آئے اشرف نے ڈور لاک کرکے مجھے چومنے لگا میں بھی اشرف کو چوم رھی تھی پھر اشرف مجھے چومتا ھوا ٹیوی روم میں لایا صوفے پر لیٹا کر میرے اوپر آکر میرے مموں کو دبانے لگا میرے ھونٹ چوسنے لگا میں نے اپنی ٹانگیں کھول کر اشرف کو ٹانگوں میں لیا اشرف میری شلوار پر میری چُوت پر اپنا لن رگڑنے لگا اف میں بہت مستی میں اشرف کو چومنے لگی اشرف نے کہا سلمیٰ جان سیل ٹوٹنے میں تھوڑا درد ھو گا برداش کرنا میں بولی تم فکر نہ کرو اشرف نے کہا ناصر نے بتایا تھا کے چادر واشنگ مشین میں ھے میں لاتا ھوں اشرف چادر لانے گیا میں مموں کو دباتی چوت کو سہلانے لگی سوچی اشرف کو ساری رات چدائی کروں گی پھر اشرف چادر لےکر آیا میں صوفے سے اٹھ کر اشرف کے ساتھ صوفے پر موٹی چادر بچھانے لگے میں بولی یہ کیوں کہا سیل کھلے گی تو خون نکلے گا میں بولی ہاں یہ تو ھے میں پوچھی کے یہ چادر کا  ناصر نے کہا ھے بولا ہاں صوفے پر خون لگ جائے گا میں بولی ناصر کو پتا ھے میری سیل نہیں کھلی بولا ہاں سب پتا ھے پھر اشرف مجھے چومنے لگا اور میری قمیض اتار کر اپنی قمیض اتار دی میرے مموں کو بہت زیادہ چوسا دبایا چوما پھر میں نے اشرف کے لن کو پکڑ لیا اور ناڑہ کھول کر لن نکال کر بولی تم لیٹ جاؤ اشرف شلوار اتار کر ننگا ھو گیا پھر اشرف نے میری شلوار اتار دی پھر میں اشرف کا لن چومتی چومتی منہ میں لےکر لن کو چوسنے لگی


 مجھے لن چوسنے میں بہت مزہ آرہا تھا اور میں لن چوستی ٹوپہ کو چوستی چومتی چاٹتی ھوئی مستی میں تھی قریب آدھا گھنٹہ میں لن کو پیار کرتی رھی پھر اشرف نے میری ٹانگیں اٹھا لی میں لیٹ گئی پھر اشرف میری چوت کو چومنے چوسنے چاٹنے لگ گیا اف میں تو مستی میں آوازیں اور گرم گرم ھوکے بھرنے لگی پہلی بار مجھے ایسا مزہ مل رہا تھا اشرف نے کہا سلمیٰ تیری چوت بھی تیری طرح بہت ھوٹ ھے بہت پیاری بھی ھے پھر میری چوت کو پیار کرنے میں مست ھوگیا اشرف نے بھی کوئی آدھا گھنٹہ میری چُوت چاٹتا رہا پھر میری چوت میں لوشن لگا کر لن کو لوشن لگا کر میری چوت میں لن اندر باہر کرنے لگا جیسے جیسے لن میری چوت میں اندر باہر ھوتے ھوئے اندر جارہا تھا میں مستی میں اشرف کو پیار کر رھی تھی اشرف بولتا سلمیٰ تیری چوت بہت گرم ھے میں بولی اپنے لن سے ٹھندی کرو اشرف نے کہا ابھی کرتا ھوں پھر اشرف نے ایک دم زور کا دھکا لگایا کے مجھے صرف ہلکہ سا درد ھوا اشرف کا پورا لن میری چوت میں تیز تیز اندر باہر ھو رہا تھا مجھے اتنا مزہ آرہا تھا کے میں بیان نہیں کر سکتی میں بہت مستی میں مست تھی اشرف چدائی کرتا مجھے چومتا چہرے کو چومتا ھونٹ چوستا مموں کو دباتا چوستا میں اشرف کو مستی میں پیار کر رھی تھی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی تو اشرف بھی میری چُوت میں فارغ ھو گیا کچھ دیر اشرف میرے اوپر لیٹا رہا میں اشرف کو پیار کر رھی تھی کے آج اشرف نے مجھے بہت خوشی دی پھر اشرف مجھے اٹھا کر واشروم لایا میری چوت خون سے بھری تھی اشرف کا لن بھی خون سے بھرا اشرف نے میری چوت کو دھویا پھر میں نے اشرف کے لن کو دھوکر لن چوسنے لگی اور لن کی تعریف بھی کرتی رھی کچھ دیر بعد اشرف نے کہا سلمیٰ وہ چادر بھی خون سے بھری ھے میں نے کہا ہاں یار پھر ھم باہر آئے تو میں دیکھا چادر پر بہت خون تھا میں بولی اتنا خون نکلا اشرف بولا جو لڑکی بہت گرم ھوتی ھے تو اس کا خون زیادہ نکلتا ھے تم بھی تو گرم کم ھو پھر ھم نے چادر ہٹا دی پھر ھم نے زبردست چدائی کی اسی طرح ھم نے تین بار چدائی کی پتا نہ چلا کے ناصر کے آنے کا وقت ھو رہا ھے ھم ننگے چوم رھے تھے اور مین ڈور کی گھنٹی بجی تو اشرف نے کہا ناصر آگیا ھے میں بولی اب سارے کپڑے پہنوں کیا اشرف نے مجھے کہا یہ نائٹی پہن لو کل لی تھی تمہارے لیئے میں ڈور کھولتا ھوں اشرف گیا میں صرف نائٹی پہنی تو میرا سارا جسم کچھ کچھ صاف نظر آرہا تھا 


میں سوچی کے ناصر کا بھی موڈ بن جائے تو دونوں مل کر میری چدائی کریں تو بہت مزہ آئے گا میں اپنے مموں کو دباتی چوت کو سہلانے لگی 


 پھر کچھ دیر بعد اشرف آیا مجھے چومنے لگا میں بولی تمہارا دوست نہیں آیا بتایا کے وہ چینج کرنے گیا ھے اشرف نے کہا تم تین کپ کافی بناؤ میں بولی میں چائے پیتی ھوں کہا ٹھیک ھے بناؤ جب تک میں ٹیوی دیکھتا ھوں اشرف نے پھر کہا سلمیٰ ناصر سے شرمانا نہیں میں نے کہا تم بےفکر رھو پھر اشرف نے ٹیوی چلائی میں کچن میں آئی سامان کا تو پتا نہیں تھا بس کچن میں آگئی اور اتنی دیر میں ناصر کچن میں چڈی پہنے آیا ناصر کو دیکھا تو ناصر بہت ھی کیوٹ تھا مجھے ناصر بہت پسند آیا مجھے ھائے کیا بولا کیا آپ سلمیٰ ھو میں بولی جی میں سلمیٰ ھوں ناصر نے کہا آپ کو کیا چاھیئے میں بولی آپ دونوں کیلئے کافی اپنے لیئے چائے بنانی تھی تو ناصر نے کہا اسے اپنا گھر سمجھو پھر سامان دیکھایا اشرف نے فریج کھول کر پانی پینے لگا دو گھونٹ پی کر کہا سلمیٰ آپ بہت کیوٹ ھو میں شکریہ کیا پھر کہا آپ پر نائٹی میں بہت ھوٹ لگ رھی ھو میں مسکرانے لگی میرے من میں آیا کے ناصر سے نمبر لوں پھر میں بولی آپ اپنا نمبر دوگے کبھی بات کرنی پڑ جائے ناصر نے کہا جی بلکل پھر میں اپنے موبائل میں نمبر سیو کیا پھر میں نے کافی چائے بنالی اور ناصر ٹرے نکال کردی اور اشرف کے پاس چلا گیا میں کپوں میں چائے کافی ڈال کر ٹرے میں رکھ کر اٹھائی روم میں آئی تو ٹیوی پر ننگی فلم لگی ھوئی تھی دو لڑکے ایک لڑکی سے چدائی کر رھے تھے میں بھی سوچی کے یہاں بھی دو ہیں دونوں کو کافی دی میں بیچ میں اشرف کے ساتھ بیٹھ گئی اشرف نے کہا سلمیٰ یہ فلم مجھے بہت پسند ھے شروع سے لگاؤں میں نے کہا ہاں شروع سے لگاؤں پھر ننگی فلم شروع سے لگائی اشرف نے ناصر کے سامنے مجھے باھوں میں لےکر چومنے لگا پھر فلم کا سین آیا ایک گھر کی ڈور بیل بجی ایک لڑکے نے ڈور کھولا تو سامنے ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی پھر دونوں اندر آئے لڑکے نے لڑکی کا تعارف کرایا لڑکا لڑکی کو چومتے کہا تمہارا فگر ھوٹ ھے پھر تینوں روم میں آئے تو اسی وقت اشرف کو کال آگئی اشرف بات کرتا باہر چلا گیا دونوں لڑکے لڑکی کو چومنے لگے لڑکی بھی دونوں کو چوم رھی تھی میں تو پہلے گرم تھی فلم دیکھتی زیادہ گرم ھو رھی تھی من سوچی دونوں مجھے بھی شروع ھو جائیں پھر اشرف آیا مجھے چومتے میری نائٹی اتار کر میرے مموں کو چومنے لگا فلم میں دونوں لڑکے لڑکی کو ننگی کرکے مموں کو چوس رھے تھے کچھ دیر بعد اشرف نے میرے مموں کو منہ سے نکال کر کہا سلمیٰ جان مجھے دو تین گھنٹے کیلئے جانا ھے ارجنٹ ھے میں بولی میں گھر سے آئی ھوئی ھوں تم کو ارجنٹ کام ھے میری نظر ناصر سے ٹکرا گئی اشرف مینتیں کرنے لگا من میں آیا کے اچھا ناصر سے کرلوں گی پھر اشرف سے میں بولی اچھا جلدی آنا پھر میں اشرف کو باھوں میں بھر کر چومنے لگی اشرف مجھے چوم کر کہنے لگا جلدی چھوڑو گی تو جلدی آؤں گا میں بہت گرم تھی پھر اشرف چلا گیا ننگی فلم میں چدائی چل رھی تھی لڑکی دو لن سے بہت مزے کر رھی تھی میں ننگی اٹھ کر ناصر کے ساتھ بیٹھی لڑکی گانڈ میں بھی چدائی کروا رھی تھی میں ناصر سے بولی آپ مجھے بہت پسند ھو ناصر نے کہا سچی میں نے ناصر کے کھڑے لن کو چڈی پر پکڑ لیا میں ننگی تھی ناصر نے مجھے باھوں میں بھر لیا میں نے ناصر کے منہ میں اپنا منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے ناصر میرے مموں کو دباتے میری چوت کو سہلانے لگا پھر میں نے ناصر کے لن کو چڈی سے نکال کر دیکھی تو اشرف کے لن سے زیادہ موٹا لمبا لن تھا میں تو لن کو چوسنے لگی پھر ناصر نے میری چوت چاٹی پھر ناصر نے میری چُوت میں لن ڈالا موٹا لن تھا بڑی مشکل سے اپنی جگہ بنا لیا اف ناصر نے ایسی چدائی کی کے مجھے بہت مزہ آیا میں فارغ ھو گئی ناصر نے کہا پیچھے لیا ھے میں بولی نہیں یہ فسٹ ٹائم ھے پھر مجھے الٹا کرکے میری موٹی گانڈ کے ھیپ میں لن رگڑنے لگا اور سوراخ میں ٹوپہ ڈال دیا ناصر نے مجھے بہت گرم کر دیا تھا پھر میں گھوڑی بن گئی ناصر نے چوت میں لن ڈال کر ایسی چدائی کی کے کچھ دیر چوت کا رس نکل گیا ناصر لگا رہا پھر میں ناصر کے اوپر آکر زبردست چدائی کرتی رھی کے میں پھر فارغ ھو گئی پھر میں سیدھی لیٹ گئی ناصر میری ٹانگوں کو میرے کانوں تک کیا میری گانڈ چوت اوپر ھو گئی ناصر نے مجھے ٹانگیں پکڑنے کو کہا میں اپنی ٹانگیں کانوں سے لگا کر پکڑی ھوئی تھی پھر جو ناصر نے چدائی کی کے میری مستی میں مزے کی چیخیں نکلنے لگی ناصر نے کہا تم بہت ھوٹ ھو یار جو تمہارا شوہر ھوگا وہ بہت مزے کرے گا میں فارغ ھوئی تو ناصر میری چُوت میں فارغ ھو گیا کچھ دیر میں ڈور کی گھنٹی بجی ناصر نے کہا اشرف آگیا ھے میں نے کہا اشرف کو نہیں بتانا پھر ناصر ڈور کھولنے گیا میں نائٹی لےکر واشروم آکر اپنی چوت کو دھونے لگی اور بہت خوش تھی کے چلو ناصر سے بھی چدائی ھو گئی پھر میں فریش ھوکر واشروم سے ٹیوی روم میں آئی اشرف نے اٹھ کر مجھے چومنے لگا اور نائٹی اتار دی اور چدائی شروع کر دی ناصر بھی ہمیں دیکھ کر بہت گرم ھو رہا تھا اشرف فارغ ھوا تو واشروم گیا تو میں ناصر کو کرنے کا بولی ناصر چدائی کرنے لگا اور اشرف واشروم سے روم میں آکر میرے منہ میں لن ڈالنے لگا ناصر زبردست چدائی کر رہا تھا پھر دو دن اشرف ناصر مجھے چودتے رھے اور میں اشرف ناصر سے چدائی کرتی رھی مجھے بہت مزہ آیا دونوں کے ساتھ مزہ آیا 


ایک دن میں نے ناصر کو کال کی اور بولی تمہارے ساتھ اکیلے میں دو دن گزارنا چاہتی ھوں اشرف کو پتا نہ چلے تو ناصر نے کہا ٹھیک ھے میں نے کہا آجاؤ پھر میں نے چڈی اور برا پہن کر اوپر برقہ پہن لیا پھر ناصر آیا پھر ھم فلیٹ پر آئے ناصر اپنے کپڑے اتارنے لگا میں برقہ اتاری تو ناصر نے مجھے چڈی برا میں دیکھ کر کہا سچ میں سلمیٰ تم بہت ھوٹ لڑکی ھو پھر میں ناصر کو بولی میری گانڈ کی سیل تم کھولو اشرف نے چوت کی کھولی ھے ناصر نے کہا ٹھیک ھے آخر گانڈ کی سیل کھل گئی ناصر نے دو دن میں مجھے حد سے زیادہ خوش کیا میں نے ناصر سے کہا فرائیڈے کو میں کالج سے چھٹی کروں گی تم مجھے صبح سات بجے لینے آنا ایک دن اور ایک رات تم سے کروں گی پھر ہفتے کو اشرف آئے گا تو تم دونوں نے مجھے بہت چودنا ھے ناصر نے کہا ٹھیک ھے پھر میں گھر کیلئے تیار ھوئی میکپ کیا تو ناصر مجھے دیکھ کر گرم ھو گیا اور مجھے گرم کر دیا ناصر سے بولی میری چوت کی آگ نہیں بجھتی جلدی سے لن ڈالو پھر میں مزے سے چدائی کی فارغ ھوئی میرے گھر کے پاس آکر ناصر نے گاڑی روکی ناصر مجھے چومنے لگا برقے سے مموں کو نکال کر چوسنے لگا میں گرم ھو گئی ناصر نے کہا چوس کر پانی نکالو رات کے دس بج رھے تھے اسٹریٹ میں سناٹا تھا میں ناصر کا لن نکال کر چوسنے لگی ناصر میری چوت گانڈ میں تیز تیز انگلی کر رہا تھا ناصر کو بولی تم سیٹ کو نیچے لیٹا دو ناصر نے سیٹ کو نیچے لیٹا دیا میں ناصر کے اوپر آکر چوت میں لن لےکر چدائی کرنے لگی میں فارغ ھو گئی پھر ناصر کا لن چوسنے لگی کچھ دیر بعد ناصر کے لن کا پانی میرے منہ میں نکلتا رہا میں پی کر سائٹ پر ھوئی ناصر نے لن کو پینٹ میں کر کے زپ بند کی مجھے باھوں میں لیتے کہا اف سلمیٰ تم جیسی ھوٹ لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی کچھ دیر میں نے ناصر کو پیار کیا پھر مجھے چھوڑ کر چلا گیا میں گھنٹی بجائی تو مما نے ڈور کھول کر کہا آگئی میں بولی ہاں مما پھر میں روم میں آکر اشرف کو کال کرکے بولی تم ہفتے کو شام میں آجانا مجھے ناصر لے جائے گا فرائیڈے کو کالج نہیں اؤں گی مما کے ساتھ کچھ کام ھے اشرف نے کہا ٹھیک ھے میں نے کہا تم دونوں نے بہت کرنا ھے میں بہت گرم رہتی ھوں اج کل اشرف نے کہا ٹھیک ھے پھر کال بند کی میری چوت بہت گرم تھی انگلی مارنے لگی پھر فریج سے ناصر کے لن کے جیسا موٹا کھیرا لائی اور چوت میں مارنے لگی پھر میں فارغ ھوکر سو گئی پھر فرائیڈے کو صبح میں جلدی اٹھ کر چوت کے بال صاف کیئے نہا کر میں مکیپ کیا اوپر صرف برقہ پہن لیا اندر ننگی تھی بہت گرم تھی سوچتی کے نصیب بھی ایسے کھلتا ھے ایک کے ساتھ ایک فری ناصر کو کال کی بولا باہر ھوں آجاو پھر میں باہر آئی اور ناصر نے کہا آج کیا پہنا ھے میں بولی کچھ نہیں کچھ دیر ناصر نے مجھے گرم کیا میں بولی جلدی چلو وھی سب کریں پھر ھم آکر شروع ھو گئے سارا دن ساری رات ناصر اور میں چدائی کرتے رھے سوئے نہ تھے پھر دن میں ھم سو گئے پھر شام کو اشرف آیا تو دونوں سے ایک ساتھ چدائی میں مست ھو گئی بہت چدائی کرتے ایک بار ایسا ھوا کے میرا آیک ہفتہ دونوں کے ساتھ رہنے کا پروگرام بنایا اور جب وقت آیا تو مجھے ماہواری آگئی میں گرم بھی بہت تھی سارا پلان خراب ھو گیا میں نے اشرف اور ناصر کو بتایا میں بولنے لگی میں ایک تو گرم بہت ھوں ایک دن بعد آجاتے ناصر نے کہا سلمیٰ کوئی بات نہیں کچھ دن بعد ھی سہی پھر میں نے مما کو بتایا کے پارٹی چینج ھو گئی ھے اگلے ہفتے ھے پھر بڑی مشکل سے دن گزرے تو ماہواری ختم ھوئی پھر ایک ہفتہ ایک ساتھ دونوں سے چدائی کرتی رھی پھر کچھ دن بعد مجھے ہلکے پھلکے چکر آنے لگے تو لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کے میں پریگننٹ ھوں پھر یہ بات میں نے اشرف ناصر کو بتائی دونوں نے کہا سلمیٰ تم فکر نہ کرو ھم ہیں نہ پھر میرا اباشن کرایا اس کے بعد میں سات بار پریگنٹ ھوئی  



 دونوں مجھے بہت خوش کرتے اسی طرح میں دونوں کے ساتھ بہت چدائی کرتی آرھی پھر اشرف چلا گیا کچھ مہنے ناصر سے کرتی رھی پھر ناصر کا آفس سے تبادلہ ھو گیا وہ دوسرے شہر چلا گیا 


میں بہت گرم رہتی اور کبھی کبھی جب بہت گرم ھوتی تو کھیرے سے اپنی چوت کا رس نکالتی 


میں ایک دن مما سے غصہ ھو پڑی


 میری شادی کیوں نہیں کرا رھے ھو پہلے مما بولی تم ابھی بچی ھو میں بولی بچی نہیں ھوں من میں آیا کے دو دو کا لیتی تھی اب ایک نہیں ھے مما سے بولی میں بچی نہیں جوان ھوں من میں سوچی سات اباشن کروائے ہیں پھر مما بولی کوئی رشتہ آئے تو بات ھوگی میں بولی ہاں سب سہیلیوں کی شادی ھو گئی میرے لیئے رشتہ نہیں آتا بڑے افسوس کی بات ھے مما بولی کیوں آگ لگی ھے کیا میں ہنسنے لگی مما کی بات پر میں بولی ایسا سمجھ لو مما بولی اچھا میں تیرے پاپا سے بات کروں گی


 میں بولی مما نہیں تو میں پھر کسی کے ساتھ کر لوں گی مما ہنس کر بولی پہلے کسی سے کیا ھے میں مسکرانے لگی مما بولی اچھا تو بیٹی اب کنواری نہیں ھے میں مسکراتی سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا مما بولی مزہ آیا تھا میں بولی ہاں مما بولی تو اسی سے کرلو شادی میرے منہ سے نکل گیا میں بولی دونوں چلے گئے مما بولی ھیں دونوں سے کرتی تھی میں مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا مما مجھے باھوں میں بھر کر میرے ھونٹ چوم کر بولی ایک ساتھ کرتی تھی دونوں سے میں ہاں بولی مما بولی دو کے ساتھ بہت مزہ آتا ھے نہ میں بولی مما آپ نے بھی دو سے کیا ھے مما چونک گئی میں مما کو چومتی بولی میری پیاری مما بتاؤ نہ  اتنی دیر میں 


پاپا کے کھانسنے کی آواز آئی 


مما بولی رات میں تم بھی بتانا میں بھی بتاؤں گی میں بولی ٹھیک ھے دوست کے ساتھ دوست کے گھر 


 پھر رات کو میں ننگی ھوکر صرف نائٹی پہن کر لیٹ گئی 


 پاپا سو گیا تو مما میرے روم میں آئی میں مما کو دیکھی مما ننگی نائٹی میں تھی میں اٹھ کر بیٹھ گئی مما بیڈ پر آکر


مجھے اپنی باھوں میں بھر کر زور سے دبایا اور مجھے چومنے لگی


بولی آج میں اپنی سلمیٰ بیٹی کو بہت پیار کروں گی مما مجھے باھوں میں دباتی میرے ھونٹ چوسنے لگی مجھے مزہ آرہا تھا میں مما کا ساتھ دے رھی تھی میں بھی مما کو چوم رھی تھی مما بولی


سلمیٰ بیٹی پہلے تم بتاؤ دونوں سے کیسے ملی میں بولی نہیں پہلے آپ بتاؤ بولی اچھا میں بتاتی ھوں کہے کر پھر میرے ھونٹ چوس کر بولی سلمیٰ تم بہت پیاری ھو 



پھرمما۔مجھے بولی سلمیٰ تم میری گودی میں لیٹ جاؤ میں مما کی گود میں لیٹ گئی مما مجھے چومتی میرے مموں کو دباتی بولی


 سلمیٰ میرے مموں سے تمہارے ممے بڑے ہیں میں بولی ممے تو آپ کے بھی کم نہیں ہیں پھر میں بولی مما اب بتاؤ بھی مما بولی اچھا بتاتی ھوں 


 میرے جسم کو ہاتھ سے سہلاتی بولی


 وہ کالج کا زمانہ تھا جب میری دوستی کالج کے دو دوست سے ھو گئی اور ھم تینوں اچھے دوست بن گئے 


کالج میں دونوں مجھے بہت گرم کر دیتے تھے مجھے چومتے مموں کو دباتے میری چُوت کو بہت سہلاتے میں بہت گرم ھو جاتی تھی 


میں بھی کبھی کبھی ان کے لن کو چوس کر پانی پی جاتی تھی کالج کے واشروم میں بہت ٹائم گزارتی پہلے میں مانتی نہیں جب مان جاتی تو پھر دونوں چھوڑتے نہیں تھے چدائی کرنے کو بہت کہتے مگر میں نہ مانتی باقی سب ھو جاتا تھا 


 پھر کالج کی چھٹیوں میں ہمارا گھومنے کا موڈ بن گیا اور ھم لنڈن چلے گئے لنڈن آئے تو بہت ٹھنڈ تھی 


مجھے بہت ٹھنڈ لگ رھی تھی اور میں کانپ رھی تھی

 

میں نے کہا مجھے ٹھنڈ لگ رھی ھے کچھ کروں پھر مجھے بیڈ پر لیٹا کر رضائی اوڑھ دی مگر پھر بھی میں کانپ رھی تھی میں بولی تم بھی آجاؤ پھر دونوں رضائی میں آگئے میں بیچ میں تھی پھر


مما میرے مموں کو دباتی میری نائٹی کی ڈوری کھول کر میرے مموں کو دیکھ کر بولی اف سلمیٰ تمہارے ممے بہت پیارے ہیں مموں کو دباتی چوسنے لگی میں بھی مستی مما کو چوم لیتی مما کے مموں کو دبا لیتی مما سے مستی میں بولی اف مما آگے بتاؤ


 مما بولی دونوں سے میں بولی مجھے اپنے جسم کی گرمی دو بولے کیا میں بولی مجھے گرم کرو جو کرنا چاھتے ھو کرو


مما مستی میں میرے مموں کو دباتی چومتی بولی


دونوں نے مجھے باھوں میں بھر لیا مما کی یہ بات سن کر میری اف نکل گئی


مما بولی دونوں مجھے چومنے لگے میں بہت گرم ھو رھی تھی میرے مموں کو چوستے دباتے میرے جسم کو سہلا رھے تھے دونوں کے لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑے تھے میں دونوں کے لن کو مٹھ مارتی دونوں کو چوم رھی تھی


مما میرے مموں پر ہاتھ سہلاتی میری نائٹی کے دونوں دامنون کو ہٹا کر میری چوت کو سہلانے لگی مما نے مجھے بہت گرم کر دیا مما بولی


 میں بہت گرم ھو گئی دونوں نے مجھے ننگا کیا ایک میری چُوت چاٹنے لگا دوسرا میرے مموں کو چوس رہا تھا


مما میری چوت میں زور زور سے انگلی کرنے لگی میری اف آ مما تم بہت پیاری ھو کہے رھی تھی مما بتاتی بولی


 رضائی میں گرمی ھونے لگی میں نے کہا رضائی ہٹا دو پھر رضائی ہٹا دی ھم تینوں ننگے تھے میں بولی چودو مجھے


 دونوں بھیس کرنے لگے میں مما کے مموں کو دباتی بولی کیوں مما تو مما میری چوت میں انگلی کرتی بولی 


ایک بولا سیل میں کھولوں گا دوسرا بولا میں کھولوں گا میں بولی میری چوت لن لینے کو ترس رھی ھے تم بھیس کر رھے ھو ایسا کرو ٹاس کرو ٹاس کیا تو پہلے والے کے نام میری چوت نکلی


 میں دوسرے کو بولی کل تم میری گانڈ کی سیل کھول دینا یہ سن کر دوسرا خوش ھو گیا پھر میری سیل کھل گئی پھر دونوں نے میری بہت چدائی کی


مما مستی میں میرے اوپر آکر مجھے مستی میں چومنے لگی میرے ھونٹ چوسنے لگی بولی سلمیٰ تم بہت پیاری میں بولی مما پھر کیا ھوا مما بولی


میں دونوں کو بولی ایک ساتھ میری چُوت میں دونوں لن ڈالو میں کروٹ پر ٹانگ اٹھا کر لیٹی ایک میرے آگے تھا دوسرا میرے پیچھے تھا 


مما مجھے چومتی ھوئی میری چوت کو چومتی ھوئی بولی


پھر دونوں نے میری چُوت میں ایک ساتھ لن ڈالے پھر چدائی کرنے لگے 


مما میری چوت چاٹنے لگی مما کی زبان لمبی تھی اپنی پوری زبان میری چوت میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگی مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا میں بولی مما آپ نے گانڈ میں کب لیا مما بولی 


 دوسری رات دوسرے نے میری گانڈ کی سیل کھولی مجھے درد محسوس تک نہ ھوا


پھر ھم تین مہینے تک لنڈن رھے میں نے دونوں کے ساتھ تین مہینے دن رات بہت چدائی کی


پھر کلج میں بھی چدائی کر لیتے تھے جب کلج ختم ھوا تو دونوں چلے گئے پھر میری شادی تیرے پاپا سے ھو گئی 


مما نے میری چُوت کا رس نکال دیا میں مما کو پکڑ کر اپنے اوپر لیٹا کر مما کو چومنے لگی


 مما نے کہا سلمیٰ اب تم سناؤ 


میں مما کو چومتی بولی میں بھی اپنی ھوٹ مما کو پیار کرتی بتاتی ھوں مما کو باھوں میں بھر کر کروٹ لےکر مما کو نیچے کر کے مما پر آکر مما کو چومتی مما کی نائٹی اتار کر مما کے مموں کو دباتی بولی مما ہمارے مموں میں ایک نمبر کا فرق ھے


مما میرے مموں کو دباتی بولی اب تم بتاؤ میں مما کو ساری بات بتاتی چومتی چوستی بتائی اور مما کی چوت کا رس نکال دیا 


اس کے بعد مما مجھے بہت گرم کر دیتی تھی مما نے ایک دن سیکس کرتی بولی ایک دن تمہارے چاچو نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گرم کر دیا کچھ مہنے اس کے ساتھ چدائی ھوتی رھی پھر اس کی شادی ھو گئی تمہارا پاپا کام کے سلسلے میں باہر گیا ھوا تھا تو تمہارا چاچو آفس میں تھا تمہاری چچی مجھے پیار کرنے لگی اور پھر ھم ننگی ھو گئی میری چوت چاٹنے لگی تمہاری چچی نے بہت اچھا سیکس کیا بتایا کے وہ ھوسٹل میں تھی ایک لڑکی نے تمہاری چچی کو یہ سیکس سیکھائی تھی اب دونوں دوسرے مللک میں رہتے ہیں 


ایک دن مما نے مجھے شادی کا بتایا میں سن کر خوش ھو گئی پھر میری شادی ھو گئی شوہر کو آگے پیچھے کے مزے دیئے تو شوہر میرا دیوانہ ھو گیا تین مہینے بعد میں شوہر کے لن سے پریگنٹ ھو گئی شوہر بہت چودو تھا میری مستی میں چیخیں نکال دیتا پھر مجھے بیٹی ھوئی جب میرے چار بچے ھوئے تو شوہر کے لن کی ٹائمنگ بہت کم ھو گئی بچوں کے بعد تو میں پہلے سے زیادہ ھوٹ ھو گئی من کرتا بس میری چدائی ھوتی رھی لیکن   شوہر جلدی فارغ ھو جاتا

شوہر کو میں اپنی ساری باتیں بتائی مما کے ساتھ بھ


 سوچنے لگی کیوں نہ کوئی دوست بناؤ ایک رات شوہر نے میرا کام آسان کر دیا بولا سلمیٰ ایک بار اپنی مما سے کرا دو 


 میں بہت گرم ھو گئی تو شوہر کو بولی کے میں بہت گرم رہتی ھوں تم فارغ ھو جاتے ھو 


میں تمہارا کام کروں گی تم بھی میرا کام کرو گے شوہر نے کہا بولو میں بولی مجھے کسی سے دوستی کرنی ھے شوہر نے کہا دوستی چھوڑو سلمیٰ تم ایسا کرو ایک نوکر رکھ لو گھر کے کام کے ساتھ تمہارا بھی کام ھو جایا کرے گا میں بولی آپ بھی ساتھ کروگے بولا ٹھیک ھے جس کا تمہیں پسند آئے گا اس کے ساتھ پھر مل کر کریں گے میں بولی ٹھیک ھے میں مما سے بات کروں گی شوہر بولا مان جائے گی میں بولی منا لوں گی شوہر نے کہا پھر کچھ دن تک کیلئے بلانا میں بولی نوکر کہاں سے آئے گا شوہر بولا میں ایسا کرتا ھوں اخبار میں اشتہار دے دیتا ھوں میں بولی بولا ٹھیک ھے پھر شوہر نے کسی کو کال کی اور نوکر کے اشتہار کیلے بولا میں نے پھر شوہر کو بہت دے کر ھم سو گئے پھر صبح میں اٹھی تو اخبار اٹھاکر دیکھی تو اشتہار آیا تھا لکھا تھا گھر میں چوبیس گھنٹے کیلئے ایک صحت مند نوکر کی ضرورت ھے سیلری کے ساتھ میرے گھر کا ایڈریس لکھا تھا میں بہت خوش ھو گئی پھر روم میں آئی شوہر سو رہا تھا مجھے شوہر پر پیار آیا تو شوہر کو چومنے لگی شوہر نے مجھے گرم دیکھ کر زبردست چدائی کی پھر شوہر آفس چلا گیا گھر کا کام ختم کرکے میں نے مما کو کال کی 


مما کو بولی آپ کچھ دن میرے پاس آؤ مما بولی کیا خیریت ھے میں بولی ہاں وہ میرا شوہر آپ کو بہت پسند کرتا ھے مما بولی سچی میں بولی ہاں سچی وہ آپ سے ملنا چاہتا ھے اور میں بھی آپ سے پیار کرنا چاہتی ھوں آپ آجاؤ بس مما بولی ٹھیک ھے کل آجاؤں گی پھر ڈور بیل بجی پھر کال ختم کی میں ڈور سے دیکھی ایک لڑکا کھڑا میں اس کو اندر بلائی جب آیا تو اس نے نوکری کا بولا کے میں مجبور ھوں میرے سامنے رونے لگا اور کہنے لگا مجھے کام پر رکھ لوں لڑکا صحت مند ھونے کے ساتھ کیوٹ بھی تھا کوئی پندرہ سال کا تھا اس نے اپنا نام عمر بتایا عمر کی آنکھوں سے آنسو بہے رھے تھے عمر پر مجھے ترس آیا تو میں اٹھ کر عمر کو اپنے گلے سے لگاکر بولی آرے روتے نہیں ہیں میں پھر بولی دیکھو مجھے وہ نوکر چاھیئے جو گھر کے کام کے ساتھ 


مجھ سے سیکس بھی کرے عمر نے کہا میں سب کروں گا میں بولی ٹھیک ھے عمر کو چومنے لگی بولی کبھی سیکس کیا ھے بولا نہیں میں بولی مٹھ ماری ھے بولا نہیں میں بولی مطلب تم ایک دم فریش ھو بولا ہاں 


میں عمر کو اپنی نائٹی کر اپنے بڑے ممے دیکھائے عمر دیکھ کر میرے مموں کی تعریف کی میں بولی پیار کرو اف پھر عمر میرے مموں کو دبانے چومنے چوسنے لگ گیا عمر کا لن دیکھی تو شوہر کے لن سے موٹا اور لمبا تھا میں بہت خوش ھو کر لن کو چوسی پھر عمر کو اپنی چوت لن کے مزے دیئے 


عمر فارغ ھونے کا نام نہ لیا میں تین بار فارغ ھوئی شام ھونے والی تھی جب میں چوتھی بار فارغ ھوئی تو عمر میری چوت میں فارغ ھو گیا بچارہ بہت تھک گیا میں اوپر کو آرام کرنے کو بولی عمر آرام کرنے لگا پھر میں شوہر کو کال کرکے بتائی کے نوکر رکھ لیا ھے اور مما بھی کل آجائے گی پھر رات کو شوہر چدائی کرکے سو گیا تو میں عمر سے صبح تک لگی رھی پھر میں شوہر کے ساتھ سو گئی صبح شوہر آفس چلا گیا عمر کو میں پانچ ہزار جیب خرچ دے کر بولی مجھے اسی طرح خوش رکھنا تو کبھی نہیں نکالوں گی میں بولی میری مما آرھی ھے اگر مما بولے تو کر لینا جب صاحب گھر میں ھو تو مجھے نہیں چھونا جب نہ ھو تو جیسے دل کرے ویسے کرنا بولا ٹھیک ھے مما آئی مما سے سیکس کرکے عمر کو مما کے پاس بھیج دی پھر شام کو شوہر آیا پہلے مما اور شوہر نے چدائی کی پھر شوہر نے ھم دونوں کی چدائی کی شوہر کی دو دن چھٹی تھی مما کو خوش کرتا رہا میں عمر سے خوش ھوتی رھی مما ایک مہینے کے بعد چلی گئی میری بڑی بیٹی عمر سے مستیاں کرنے لگی میں عمر کو بولی کے اگر بولے کرنے کو تو کر لینا مگر ابھی کچھ مہنے رہتے ہیں بالغ ھونے میں 


بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر

 شیر کی جائے گی



 

No comments:

Post a Comment