شنو جان کی سیکس جوانی

Tuesday, March 24, 2026

پتی نے شادی کرلی

 میری شادی کو تین سال ھو گئے پتی نے دوسرے ملک میں شادی کی ھوئی تھی پتی تو آتا نہیں تھا میں سسرال میں رہتی تھی مجھے زندگی کا سکون نہیں مل رہا تھا میں اپنی زندگی کو گرم مصالحے کا تڑکا لگانا چاہتی تھی مگر سسرال میں ایسا ممکن نہیں تھا اور میں بہت ھی مایوس ھو گئی سسرال کے گھر میں فضول رہتی تھی ممی سے بہت بار بولی مجھے طلاق چاھیئے مگر ممی ہمیشہ مجھے منع کرتی رھی ایک دن مجھے اسپتال سے کال آئی لیڈی ڈاکٹر تھی اور ممی کی طبیعت خراب تھی تو میں نے سوچ لیا کے اب واپس نہیں آؤں گی ساس کو بتا دیا کے اب میں واپس نہیں آؤں گی اور میں دوسرے شہر میں ممی کے گھر آئی گاڑی کھڑی کی اور اسپتال قریب تھا میں پیدل چلی گئی لیڈی ڈاکٹر سے ملی اور ممی کو گھر لے جانے کا بولی اور آرام زیادہ کرنے کا بولی پھر ممی کو گھر لائی ممی کے روم میں سلایا میں اپنے پرانے روم میں آئی بہت گرم تھی سوچ رھی تھی کے کاش کوئی مل جائے کچھ دیر بعد ڈور بیل بجی تو میں ڈور کھولی تو


سامنے پڑوسی فیملی تھی ایک لڑکا پندرہ سال کا اور ایک چھوٹی بچی اور ان کے ممی پاپا تھے میری ممی کا پوچھنے آئے تھے میں ان کو بیٹھا کر کولڈرنک لائی اور پھر ممی کو دیکھایا اور سب پوچھ کر پڑوسن بولی کسی چیز کی ھیلپ ھو تو بتانا لڑکے کا نام ارجن تھا اور مجھے دیکھے جارہا تھا میں بھی نظریں ملا لیتی مسکرا دیتی پھر جانے کیلئے اٹھے تو میں ارجن سے بولی مجھے کچھ داوائیاں منگوانی ہیں تم لا دو گے بولا لاتا ھوں ارجن کے گھر والے چلے گئے میں پرچی دی کچھ دیر بعد لایا ارجن صوفے پر بیٹھا تھا میں داوائیاں ممی کے روم میں رکھ کر آئی اور ارجن کہا یہاں آنا میں اپنے روم میں لائی ارجن کو بیٹھنے کو بولی ارجن بیڈ پر بیٹھا میں ارجن کے ساتھ بیٹھی اور بہت گرم تھی میری چُوت بہت ٹائٹ اور گرم تھی بولی ارجن میری شادی کو دس ھونے والے ہیں مگر پتی نہ آیا نہ کوئی جواب آیا ھے میرا کوئی دوست بھی نہیں ھے مجھے تم بہت اچھے لگے ھو تو تم سے باتیں کر رھی ھوں کسی کو بتاؤ گے تو نہیں ارجن نے کہا فکر نہ کریں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا میں بولی میں سسرال چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے آئی ھوں کیا تم میرے دوست بنو گے ارجن نے کہا ہاں دوست بنوں گا پھر میں بولی ارجن میں بہت گرم ھوں کہے کر ارجن کے منہ میں منہ دیا ارجن بھی چوسنے لگا اور مجھے باھوں میں بھر لیا مجھے مزہ آرہا تھا میں نے ارجن کا لن پکڑ لیا بہت موٹا لمبا تھا ارجن میرے بڑے مموں کو دبانے لگا میرے منہ سے ارجن نے اپنا منہ نکال کر کہا اب میں تم کو پیار کروں گا میں چوم کر بولی کرو پیار ارجن نے میری نائٹی اتار کر میرے بڑے مموں کو چوسنے دبانے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں ارجن کا کھڑے لن کو سہلا رھی تھی پھر ارجن نے مجھے لیٹا کر میرے اوپر آکر مجھے میرے ھونٹ زبان بڑے مموں کو چوسنے دبانے چومنے لگا میں ارجن کو باھوں میں بھر کر مستی میں پیار کر رھی تھی دس سال بعد مجھے زندگی کا مزہ مل رہا تھا ارجن مجھے چومتا ھوا میری چڈی پر میری چُوت کو چومنے چاٹنے لگا پھر میری چڈی اتار کر میری چُوت کو بس مستی میں چاٹتا رہا ایسا مزہ تو مجھے پتی نے بھی نہیں دیا نہ ھی پتی نے کبھی مموں کو چوسا دبایا ارجن نے مجھے مست کیا ھوا تھا بہت دیر بعد ارجن میری چُوت کو چاٹتا رہا پھر میرے اوپر آکر مجھے باھوں میں بھر کر مجھے اپنے اوپر کیا اور کہا اب تم اپنی مستی دیھاؤ میں مستی میں ارجن کو چومتی ھوئی ارجن کے لن کو چوسنے لگی اور بہت دیر تک لن چوستی رھی پھر میں گھوڑی بن کر بولی چدائی کرو ارجن میری چوت میں لن ڈالنے لگا مجھے مزہ آرہا تھا پھر ارجن نے بہت چدائی کی جھٹکے لگاکر چدائی کی پھر مجھے اوپر آنے کو کہا میں ارجن کے اوپر آکر چدائی کی بہت دیر بعد میں فارغ ھوئی ارجن چدائی کرتا رہا اور صبح ھو گئی ارجن چدائی کرنے میں مست تھا میری چُوت میں فارغ ھوا کہا نیند آرھی ھے میں بولی یہی سو جاؤ پھر سو گیا میں نائٹی پہن کر ممی کو دیکھ کر ارجن کے ساتھ سو گئی دوپہر میں اٹھی ارجن تو ننگا لیٹا تھا لن کھڑا تھا ارجن پیارا لگ رہا تھا میں ارجن کے ھونٹوں کی چمی لی لن کو سہلایا کچھ دیر چوس کر پھر ناشتہ بناکر ممی کو کراکر داوائی دےکر روم میں ناشتہ لائی لن فل کھڑا تھا نائٹی اتار کر اپنی چُوت میں لن لےکر چدائی کرنے لگی کچھ دیر بعد ارجن آٹھ گیا خوب چدائی کی میں بولی پہلے ناشتہ کر لو پھر چدائی کر لینا پھر ناشتہ کے بعد دن بھر چدائی کرتے رھے ارجن گیا ھی نہیں رات بھر چدائی کی اسی طرح ارجن ایک ہفتہ میرے ساتھ دن رات پھر رات کو گھر گیا مجھے نیند نہیں آرھی تھی ارجن کی کال آئی کہا آؤں میں بولی آجاؤ 


ارجن آیا تو میں ڈور کھول کر اندر روم میں لائی ارجن کو مستی میں چومنے لگی ارجن نے کہا مجھے گانڈ چودنے دوگی میں مسکرا کر بولی چود لو کہا درد ھوگا میں بولی تمہارے لیئے سہے لوں گی پھر ارجن نے میری گانڈ کی سیل کھول دی اس کے بعد ارجن سے بہت چدائی کرتی جب پیرڈ آتے تو ارجن میرے مموں اور منہ میں فارغ ھوتا ارجن کے لن کا پانی بھی پیتی ارجن سے کرتی کرتی تین مہینے ھو گئے بس ہر روز دن رات بہت چدائی کرتے میں ارجن کے لن سے پریگنٹ ھو گئی ارجن کو بتایا تو ارجن ناراض ھونے لگا ابوشن کرانے کا بولا میں بولی اسے میں جنم دوں گی خود پرورش کروں گی  میں اور ارجن چدائی کرتے ہیں یہ بات ارجن کے گھر والوں کو پتا چل گئی مجھے تو کچھ نہیں بولے ارجن سے بولے شادی کر لوں لیکن ارجن کچھ نہ کہتا بس رات ھم چدائی میں مست کرتے پھر میرا بڑا پیٹ ھونے لگا اور ارجن دوسرے ملک چلا گیا پھر مجھے بیٹا ھوا جب بیٹا بھاگنے دوڑنے لگا میں پھر سے پہلے سے زیادہ گرم ھو گئی تھی اپنی چُوت کا بہت رس نکالتی کھیرے بہت استعمال کرتی لن کیلئے ترس گئی ایک دن بیٹے کے ساتھ شاپنگ کر رھی تھی تو بیٹے کو گاڑی سے ایک مرد نے بچایا میرا موڈ بن گیا میری تعریف کی تو میں بولی کیا آپ میرے ساتھ کچھ وقت گزار سکتے ھو کہا جی بلکل پھر میں اسے گھر لائی بیٹے کو روم میں جانے کا بولی چلا گیا پھر میں اسے اپنے روم میں لائی میں اسے باھوں میں بھر کر بولی میں بہت گرم ھوں مجھے ٹھنڈا کر دو بس پھر ھم ننگے ھو گئے اور دو گھنٹے تک چدائی کی انکل کو بار بار پتنی کی کال آرھی تھی جانے کا بولا میں بولی کاش تم میرے ساتھ رہتے تو انکل نے کہا میرا ایک دوست ھے اس کے پاس رہنے کی جگہ نہیں ھے اپنے پاس رکھو اور مزے کرو میں بولی ٹھیک ھے رات کو بھیج دو بولا ٹھیک ھے میں ابھی کال کر کے آنانے کا بولتا ھوں کال کی اور کہا تمہارا رہنے کا بندوست ھو گیا ایڈریس دیا پھر چلا گیا میں جلدی سے تیار ھو گئی ایک گھنٹہ بعد آگیا پہلے اسے روم لائی چدائی کی پھر کھانا کھاکر صبح تک چدائی کی پھر شام کو انکل نے کہا میں آرہا ھوں میں بولی آجاؤں پھر دونوں کے ساتھ چدائی کی اسی طرح ایک سال لڑکا رہا پھر چلا گیا پھر سے میں مستی میں کچھ دن گزرے پھر میں شاپنگ کرنے گئی تو تین لڑکے مجھے لائین دینے لگے میں بولی جگہ ھے تو چلو پھر مجھے بلڈنگ میں لائے اور تینوں سے چدائی کی پھر گھر آئی




ایک بار پھر میں لن لینے کو ترس رھی تھی اور بہت گرم رہتی تھی اور بہت بور رہتی تھی کوئی مل ھی نہیں رہا تھا


 سنیل بھی تیرا سال کا ھوگیا اور سردیوں کے دن تھے بہت ٹھنڈ بھی تھی ایک رات میں بہت گرم اور بہت بور تھی تو سوچی سنیل بیٹے سے باتیں کروں میں سنیل کے روم میں آئی تو سنیل رضائی میں تھا میرے آنے کی آہٹ سن کر سنیل نے رضائی سے باہر سر نکال کر دیکھا میں مسکرا کو بولتی ھوئی رضائی میں آئی سنیل آج میں بہت بور ھوں سنیل صرف چڈی میں تھا میں نائٹی میں تھی ٹھنڈ بہت تھی میں سنیل کو باھوں میں بھر کر چوم کر بولی بیٹا مجھ سے باتیں کرو 


پھر ھم باتیں کرتے رھے میں پہلے ممی کی طرح پیار کر رھی تھی پھر اچانک میں گرم ھو گئی 


وہ ایسے کہ سنیل سیدھا لیٹا تھا اور میری بانھوں میں تھا سنیل کے سینے پر میرا ایک مما دبا ھوا تھا اور دوسرا مما سنیل کے کندھے میں دبا ھوا تھا اور 


میں سنیل کے سینے پر ہاتھ پھیرتی سنیل کو چومتی باتیں کرتی اچانک میرا ہاتھ سنیل کے کھڑے لن سے ٹکرا گیا میں گرم ھو گئی میں سمجھ گئی سنیل گرم ھو گیا ھے اس لیئے لن کھڑا ھو گیا


 میں نے نائٹی کی ڈوری کھول دی سنیل کو بولی سنیل بیٹا مجھے باھوں میں بھر کر دباؤ سینل میری طرف ھوا اور مجھے باھوں میں بھر خوب دبانے لگا میں مستی میں سنیل کو دباتی چومنے لگی اور میں بولی سنیل اپنی ٹانگوں کو میری ٹانگوں میں کروں سنیل لن آگے نہیں کر رہا تھا میں آگے ھوکر اپنی چُوت سنیل کے لن سے لگا دی میری چُوتڑوں میں سنیل کا لن گھس گیا میں مستی میں اپنی چُوت کو لن سے مسلنے لگی میں نے نائٹی کے دونوں پہلو ہٹاکر بولی سنیل ممی کو پیار کرو ممی بہت گرم ھے سنیل سلوسلو لن رگڑنے لگا میں مستی میں سنیل کی چڈی میں ہاتھ ڈال کر لن پکڑ کر سہلانے لگی اور سنیل مستی میں میرے مموں کو چوسنے لگا میں مستی میں سنیل کے لن کو اپنی چُوت کے سوراخ میں ٹوپہ اندر کرنے لگی تو سیل نے آرام سے پورا لن اندر کیا پھر مست چدائی کی میں تو بہت مستی میں تھی سنیل مجھے دوسری طرف کیا اور میری گانڈ میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا پھر میری چُوت گانڈ کی مست چدائی کی میں فارغ ھوئی تو سنیل میری چُوت میں فارغ ھو گیا


اس کے بعد سنیل بس میری چدائی بہت کرتا میں منع کرتی کے اتنی چدائی نہ کیا کرو کمزور ھو جاؤں گے مگر سنیل میری سنتا نہیں جب سنیل گھر ھوتا تو میکپ میں تیار رہتی سنیل مجھے تیار دیکھ کر مستی آجاتا اور چدائی کرتا رہتا میں بھی سنیل کو طاقتور چیزی کھلاتی جب سے سنیل بیٹے کا لن لیا ھے میں دوسروں کے لن بھول گئی سنیل کے لن سے پریگننٹ ھو گئی 

No comments:

Post a Comment