شنو جان کی سیکس جوانی

Tuesday, March 24, 2026

شرابی بھائی

 امیں پانچ مہینے سے طلاق لے کر گھر بیٹھی تھی اور بہت گرم بھی رہتی تھی


 میں کسی کا بھی لن لینا چاہتی تھی میں یہ بھی چاہتی تھی کے میری بدنامی نہ ھو مگر غیر مرد سے ڈر بھی لگتا تھا کہیں مجھے بدنام نہ کر دے اور میں گرم بھی بہت رہتی تھی میرے شوہر نے سوہاگ رات کے بعد مجھے کبھی بھی ٹچ تک نہیں کیا تھا اور آخر مجھے طلاق دے کر کہا میں دوسری سے شادی کرنا چاہتا ھوں میں بھی گھر آکر رہنے لگی سوہاگ رات کو شوہر نے بتی بند کی اور میری شلوار سے چوت نکال کر میری سیل کھول دی پھر صبح تک بنا چومے صرف چدائی کرتا جب میری چوت میں فارغ ھوتا تو کچھ دیر باہر جاتا پھر آکر چدائی کرتا یقین جانو مجھے بہت مزہ آرہا تھا من میں تھا اب تو شوہر روز چدائی کرے گا باقی کا مجھے پتا نہیں تھا شوہر نے نہ مجھے چوما نہ مموں کو دبایا کچھ نہیں بس میری چوت میں لن ڈال کر بہت دیر تک چدائی کرتا اسی طرح میں بھی فارغ بہت بار ھوئی جب شوہر چدائی کر کے باہر جاتا تو میں ویٹ کرتی جب آتا تو چوت نکال لیتی صبح جب شوہر چدائی کرکے گیا تو پھر نہ ٹچ ھوا طلاق لے کر میں بہت غم زدہ تھی،



میرا بھائی مجھ سے ایک سال بڑا ھے اور میرا بھائی شرابی تھا شراب بہت پیتا تھا اس شراب کی وجہ سے بھائی کو بیوی چھوڑ گئی تھی گھر میں صرف ممی بھائی اور میں تھے میں اپنا غم بھلانے کیلئے گھر سنبھال لیا بھائی آفس جاتا تھا ممی بوڑھی تھی اپنے روم میں رہتی تھی،



 جب رات کو آفس سے بھائی گھر آتا تو شراب کے نشے میں ٹن ھوتا میں سہارا دے کر اسے بیڈ پر سلاتی دیتی مجھے ایک مہنہ ھو گیا بھائی نشے میں ھوتا تو میں بھائی کے ایک بازو کو اپنے کندھے پر رکھتی اور بائی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر روم بیڈ پر سلاتی بھائی کا خیال رکھتی، 

1


ایک رات بھی شراب کے نشے میں ٹن تھا میں سہارا دے کر روم میں لائی بھائی نے مجھے باھوں دبا لیا اور باھوں میں بھر کر دباتا مجھے چومنے لگا میں مسکراتی کھڑی رھی


وہ اس لیئے کہ بھائی کو نشے میں دیکھتی تو افسوس ھوتا اور وقت گزرتا رہا ہر رات کو بھائی شراب پی کر آتا اور میں بھائی کو روم میں لاتی بھائی نشے میں ھوتا تھا بھائی جو کچھ میرے ساتھ کرتا صبح اسے یاد نہیں رہتا تھا میں بھی منع نہیں کر پاتی تھی،

2


 ایک رات بھائی شراب پی کر آیا میں سہارا دےکر اسے روم میں لائی بھائی نے مجھے بیڈ پر لیٹا کر میرے اوپر آیا مجھے بہت چوما میرے ھونٹوں کو بہت چوما اور میرے مموں کو دبایا میں نے بھائی کو منع نہیں کیا بس جلدی سے نیچے سے نکل گئی مجھے یہ سین بار بار یاد آتا رہا صبح میں بھائی کو یاد نہیں رہا ناشتہ کیا آفس چلا گیا ٹھنڈ بھی تھی

3


 ایک رات بھائی شراب کے نشے میں آیا میں سہارا دے کر روم میں لائی بھائی کو بیڈ پر لیٹا کر اوپر رضائی دی تو بھائی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے رضائی میں قابو کیا اور بہت چوما چوسا میرے اوپر آگیا میرے مموں کو نکال کر چوسنے دبانے لگا میں کچھ دیر پڑی رھی بھائی میری شلوار اتارنے لگا تو میں نے رضائی سے ٹانگیں باہر کی اور موقعہ پاتے ہیں میں نکل گئی بھائی رضائی میں پڑا رہا میں اپنے مموں کو بلوز میں کیا قمیض سہی کی بال سہی کرکے بھائی کو دیکھی بھائی کو نیند آگئی تھی میں اپنے روم میں آکر سو گئی اور اسی طرح بھائی شراب پی کر آتا 


4


ایک رات بھائی کو روم میں لائی تو بھائی میری گانڈ کے ھیپ کو دبا کر کہا بہت پال کر رکھی ھو بھائی کی یہ بات سن کر میری ہنسی نکل گئی بھائی کو بیڈ پر بٹھائی تو بھائی نے مجھے پکڑ کر اپنی باھوں میں بھر کر مجھے اپنی گود میں بٹھایا نیچے سے بھائی کا کھڑا تھا بھائی میرا چہرہ چومے جارہا تھا میں چپ تھی صرف نکلنے کا موقعہ ملا تو میں اٹھ کر کھڑی ھو بولی بھائی اب لیٹ جاؤ بھائی لیٹ گیا میں اپنے روم میں آگئی سو گئی 


 جو بھی بھائی میرے ساتھ کرتا تھا نہ ھی مجھے برا لگتا نہ ھی بھائی کو منع کرتی نہ شکایت کرتی لیکن یہ سین مجھے کچھ کرنے پر تڑپاتے اور میں سوچنے لگی مگر سمجھ نہیں آتی کے کیا کروں بھائی کو منع نہیں کرتی تھی کہیں بھائی کو برا نہ لگے نہ ڈانٹنے کو من کرتا بس موقعہ ملتا تو نکل جاتی تھی

5


 ایک رات بھائی شراب پی کر آیا میں روم میں لائی بھائی نے مجھے لن نکال کر دیکھایا کہا بہت بھوکا ھے بھائی کا لن بہت موٹا لمبا تھا اور بہت ھی پیارا تھا بھائی کے لن کو دیکھ کر میں چونک گئی بھائی نے میرا ہاتھ پکڑ میرے ہاتھ میں دیا میں دبانے لگی بھائی اپنی قمیض اتار کر مجھے باھوں میں بھرنے والا تھا تو میں ہستی ھوئی آٹھ گئی ڈور بند کرکے باہر آکر میں اپنے روم میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی اور میں من میں سوچنے لگی کیا کرو بھائی نے لن کا کہا بہت بھوکا ھے یہ سوچتی میرا ہاتھ میری چوت پر آیا چوت کو سہلاتی من میں بولی چوت تو میری بھی بھوکی ھے مجھے نیند آگئی اور میں سو گئی


6


ایک دن شام کو ایسا ھوا کے میں اپنی چُوت کے بال صاف کر رھی تھی بھائی کی وہ بات یاد آگئی، جب بھائی نے مجھے اپنا لن دیکھا کر کہا بہت بھوکا ھے تو میں نے چوت کے بال صاف کرتی اپنی چوت میں انگلی ڈال کر من میں بولی میری بھی تو بہت بھوکی ھے بال صاف کرکے اپنی چکنی پنک چوت کو آئینے میں دیکھ کر بولی میری بھی تو بہت بھوکی ھے من میں آیا کے بھائی کو نشے یاد نہیں رہتا تو کیا کروں من میں آیا کے آج صرف نائٹی پہنوں آگے جو ھوگا دیکھا جائے گا چوت میں کچھ دیر انگلی کی پھر نہاکر روم میں آکر اپنی نائٹی پہن لی اور ڈوری نہیں باندھی من میں آیا کے میکپ بھی کرلوں بھائی کو اچھا لگے گا میں میکپ کیا سرخی لگا گرم بھی تھی میں بھائی کا بےصبری سے انتظار کر رھی تھی


 کچھ دیر ڈور کی گھنٹی بجی میں خوش ھوکر ڈور کھولی بھائی ڈور سے ٹیک لگا کر شراب کے نشے میں آنکھیں بند کیئے کھڑا تھا بھائی کا ایک بازوں میں اپنے کندھے پر رکھ کر دوسرا ہاتھ بھائی کی کمر میں کر کر اندر لائی ڈور بند کیا


7


 بھائی نے مجھے دیکھ کر کہا بہت پیاری لگ رھی ھو میرے ھونٹ چوس لیئے میں نے کہا بھائی روم میں چلو آپ نشے میں ھو کہا میں نشے میں نہیں ھو میرے ننگے مموں کو نائٹی میں پکڑ کر سہلانے لگا میں چلتی ھوئی بھائی کو اپنے روم ڈور کے اندر لائی


بھائی نے مجھے باھوں میں بھر لیا میری گانڈ کے ھیپ دبائے میری چوت میں انگلی کی ھونٹ چوسے مموں کو دبایا چوسا میں ہلتی ہلاتی بھائی کو بیڈ پر لیٹایا تو بھائی مجھے پکڑ کر اپنے اوپر باھوں میں بھر کر خوب چومنے لگا من میں آیا کے بھائی ھی وہ ھے بدنامی نہیں ھو گی اور میری نائٹی اتار کر پھینک دی میں ننگی ھو گئی اور مستی میں تھی پھر بھائی میرے اوپر 



آکر مجھے چومنے لگا ھونٹوں مموں کو چوسنے لگا ایسا پیار مجھے بھائی دے رہا تھا اور میں مزے میں تھی میں تو بھائی کے پیار میں مگن تھی پھر بھائی نے میری چوت چاہئے لگا اوف مجھے ایسا مزہ ملا کے میں بھائی کے پیار کو انجوائے کر رھی تھی قریب آدھے گھنٹے بعد میری چوت کا رس نکلا مگر بھائی میری چوت چاٹتا رہا اور بھائی بھی ننگا ھو گئی پھر میرے اوپر آیا


مجھے لن دیکھا کر میرے ھونٹوں پر لن پھیرنے لگا اور منہ کھولنے کو کہا میں نے منہ کھولا تو چوسنے کو کہا میں چوسنے لگی پھر میرے مموں کو چودا پھر لن کو کریم لگائی میری چوت کو لگائی پھر میری چوت میں آرام آرام سے پورا لن اندر چلا گیا پھر جو بھائی نے چدائی کی کے مستی میں چیخنے لگی بھائی کو چومنے لگی صبح تک ھم نہ سوئے نو بجے ھم ننگے ساتھ بہؤش ھوکر سو گئے 



اس کے بعد تین دن بھائی آفس نہیں گیا ھم بس چدائی میں مست رھے پھر ھم ساتھ سوتے بہت چدائی کرتے 

No comments:

Post a Comment