Thursday, January 15, 2026

ایک دن میں نے دیور کو مٹھ مارتے پکڑ لیا

 ایک دن میں نے دیور کو مٹھ مارتے پکڑ لیا


کچھ دنوں سے میں بہت گرم تھی شوہر ملک سے باہر تھا میری چُوت بہت بہت رہتی انگلی کر کر کے تھک گئی سوچتی کوئی یار ھوتا تو بلا لیتی شوہر 6 مہنے سے باہر تھا مجھے انگلی سے بلکل مزہ نہیں آتا تھا ایک رات میں بہت زیادہ گرم ھو گئی کیونکہ میں نے اپنی گرمی مٹانے کیلئے ننگی فلم دیکھ لی تھی بلکہ میں بہت گرم ھو گئی شوہر تو ملک سے باہر تھا کیا ھو سکتا تھا مجھے ساس نے آواز دی اور چائے بنانے کا بولی میں کچن میں آئی اور سب کیلے میں چائے بنانے لگی کچن میں اکیلی تھی اپنے مموں کو دبانے لگی چُوت میں انگلی کرنے لگی پھر نائٹی کی ڈوری کھول کر اپنے بڑے مموں کو چوسنے لگی اتنی دیر میں ساس آئی مجھے مموں کو چوستی دیکھ کر مسکرا دی میں نے دو کپ چائے ٹرے میں رکھ کر ساس کو دی ساس نے کہا وسیم کو چائے دیتی جانا میں بولی ہاں دے دوں گی ساس چائے لےکر چلی گئی میں سوچی اپنی چائے میں اپنے روم میں پیوں گی چھوٹے دیور کو چائے دے کر اپنے روم چلی جاؤں گی میں نے دو کپ چائے ٹرے میں رکھ کر اٹھا کر چھوٹے دیور وسیم کے ڈور پر آئی اور  میں سوچی سویا تو نہیں ھوا تو میں ڈور کو آرام سے کھول کر میں کیا دیکھتی ھوں کے وسیم موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا اور وسیم ننگا تھا اور وسیم کا لن کھڑا تھا اور وسیم موبائل پر کچھ دیکھتا ھوا لن کی مٹھی مار رہا تھا میں وسیم کا لن دیکھ کر بولی او تیری اتنا موٹا اور لمبا میں خود سے بولی وسیم تو ابھی بچہ ھے اور ابھی سے اتنا لمبا موٹا لن ھے میں پہلے گرم تھی وسیم کا لن دیکھ کر میں تو بہت گرم ھو گئی سوچی چلو میرا کام تو بن گیا وسیم کو گرم کرتی ھوں میں آرام سے اندر آئی دیور فلم دیکھتا لن کو مٹھ مارتا ھوا مست تھا می  بولی وسیم یہ 


کیا کر رھے ھو وسیم مجھے دیکھ کر ڈر گیا اور اپنے اوپر چادر لےلی میں میں کرتا موبائل بند کیا میں ساتھ بیٹھ کر بولی بولو کیا کر رھے تھے بتاتے ھو یا تیری امی ابو کو بتاؤں وسیم میرے پاؤں پڑ گیا بولا بھابھی تم جو بولو گی میں کرنے کیلئے تیار ھو مگر


 کسی کو بتانا نہیں میں بولی اچھا اپنا موبائل مجھے دو دیا پاس ورڈ بتایا کھلا تو سامنے ننگی فلم تھی میں نے پلے کی تو چدائی کر رھے تھے میں تو گرم ھو گئی میں موبائل رکھ کر دیور سے بولی اچھا اب بتاؤ تم کیا کر رھے تھے بولا بھابھی یہ فلم دیکھ کر میں گرم ھو گیا تھا میں بولی پھر بولا پھر مٹھی مارنے لگا میں بولی تمہاری کوئی دوست نہیں ھے کیا بولا نہیں ھے بھابھی اگر ھوتی تو مٹھی مارتا میں بولی اچھا یہ بتاؤں تم فارغ ھوئے بولا نہیں بھابھی میں بولی کیا میں تمہارا دیکھ سکتی ھوں بولا بھابھی کسی کو بتاؤ گی تو نہیں میں ہنس کر بولی کبھی نہیں بتاؤں گی میں نے وسیم کا چادر پر لن پکڑ لیا میں نے کہا چادر اتارو چادر ہٹائی تو دیور کا لن پکڑ کر بولی ابھی تم بچے ھو اور لن تو موٹا لمبا رکھا ھے مسکرایا


 میں بولی تم میرے ساتھ کروگے فلم۔کی طرح مزہ دوں گی دیور بولا ہاں بھابھی میں کسی کو نہیں بتاؤں گا میں بولی ٹھیک ھے 


پھر ھم چومنے لگے اور ننگے ھو گئے دیور مجھ سے زیادہ گرم تھا میری چُوت کو مزے لے لے کر چاٹتا رہا مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر میں دیور کے لن کو چومنے چوسنے چاٹنے لگی میں بہت مزے سے لن چوستی رھی


پھر دیور سے بولی تم کو کون سا اسٹائل پسند ھے بولا گھوڑی بناکر کر میں بولی اٹھو پھر میں گھوڑی بنی دیور لن ڈال کر چدائی کرنے لگا بہت دیر تک چدائی کرتا رہا میرے بالوں سے پکڑ کر چدائی کرتے دھکے اور جھٹکے لگا رہا تھا مجھے بہت مزہ آرہا تھا میں مستی میں آگئی میں لیٹ گئی دیور کو اپر کیا بہت دیر بعد میں اوپر آئی زبردست چدائی کی اور ھم دونوں فارغ ھو گئے ھم ساتھ میں سو گئے اس کے بعد دیور مجھے چھوڑتا نہیں تھا ایک دن ماہواری شروع ھو گئی دیور نے مجھے کچن میں پکڑ لیا میری نائٹی کھول کر مجھے مست کیا ھوا تھا اچانک ساس آگئی اور ہمیں دیکھ کر واپس چلی گئی دیور ڈر کر روم چلا گیا کچھ دیر بعد ساس آئی میں چپ تھی ساس نے بس اتنا کہا تھوڑا خیال رکھا کرو پھر چلی گئی ساس سمجھدار تھی کے شوہر گھر نہ ھونے سے مجھ پر کیا بیتتی ھے دیور ڈرا ھوا تھا میں بتانے آئی بولی ڈرنے کی بات نہیں ھے تمہاری امی بول رھی تھی خیال رکھا کرو دیور نے کہا بھابھی پانی نکال دو بہت گرم ھوں میں بولی تم اگر کچھ دن صبر کرو روم کے سیوا تو میں تمہیں گانڈ چودنے دوں گی بولا بھابھی آپ نے گانڈ میں لیا ھے میں بولی نہیں تم کو صرف بول رھی ھوں بولا ٹھیک ھے بھابھی اب صرف روم میں کیا کروں گا پھر میں دیور کے لن کو چوس کر مموں میں چدائی کروا کر دیور کو فارغ کیا تو میں پانی پی کر کچن کھانا لگانے لگی کچھ دیر بعد ساس کی مست چیخیں آنے لگی میں جاکر دیکھی سسر مست چدائی کر رہا تھا بولا صبح تک چودو گا کل چھٹی ھے ساس بولی دن میں بھی کرنا بولا ہاں یار وہ تو کروں گا میں ڈور نوک کر کے بولی کھانا لگا دیا ھے ساس بولی آرھے ہیں میں دیور کو بلانے گئی دیور کو چومنے لگی بولی تیری امی ابو چدائی کر رھے تھے دیکھ کے گرم ھو گئی ھوں میں لن چوسنے لگی کچھ دیر بعد ساس نے مجھے آواز دی تو میں دیور کے روم سے نکلی دیور بھی ساتھ تھا کھانا کھایا پھر روم میں پھر ماہواری ختم ھو گئی چدائی کی اور میں پریگننٹ ھو گئی شوہر کا پتا نہیں تھا آنے کا اسی طرح مجھے چوتھا پھر میرا پیٹ بڑا ھو گیا ساس بولی کوئی بات نہیں ھے جو بھی ھے آخر بیٹے کا ھے پھر مجھے بیٹا ھوا 

 


No comments:

Post a Comment