شنو جان کی سیکس جوانی

Monday, December 8, 2025

بہو کا بھائی میرے گھر رہنے آیا

 اکچھ دنوں کیلئے بہو کا بھائی میرے گھر رہنے آیا تھا 


میں سوچی بہوں کے بھائی سے چدائی کروں گی


بہو کو میں بولی کے اپنے بھائی کیلئے روم صاف کرلو بہو بولی کے نہیں امی بھائی میرے ساتھ رھے گا ھم بہت باتیں کرتے ہیں میں بولی ٹھیک ھے


رات کے کھانے کے بعد بہوں اپنے بھائی کو اپنے روم لے گئی میں اپنے روم میں آئی بہت گرم تھی نیند بھی نہیں آرھی تھی سوچی کے جاکر ان سے باتیں کروں میں بہو کے ڈور پر 


آئی تو اندر سے پٹخ پٹخ اور بہو کی سیکس آوازیں آرھی تھی میں آوازیں سنتی گرم ھو گئی سوچی بہن بھائی چدائی تو نہیں کر رھے میں ھیڈل گھمایا


مگر لاک تھا میں جلدی سے دوسری چابی لائی اور آرام سے ڈور کھول کر دیکھی دونوں ننگے تھے بہو بھائی کے اوپر چوت میں لن لے کر زبردست چدائی کر رھی تھی میں تو دیکھتی گرم ھو گئی من میں آیا کے یہی باتیں کرنی تھی 


بہو بولی تم کو میری یاد نہیں آئی ایک سال بعد آئے ھو بہو میرے بیٹے کا بولی کے شادی سے پہلے تو تم دونوں میری بہت چدائی کرتے تھے میں من میں کہنے لگی اچھا بیٹے کو پتا ھے پھر بھائی نے کہا آپی کام میں بیزی رہتا ھوں پھر بولا آپی آج تو گانڈ چودنے دو بہو بولی کر لینا پہلے میں فارغ ھو جآؤ بولا آپی درد برداش کرلو گی میرے بیٹے کا بولی کے اس نے سوہاگ رات گانڈ کی منائی تھی میری چوت کی سیل تو تم نے کھول دی تھی تو شوہر نے 


میری گانڈ کی سیل کھولی پھر بولی گانڈ میں کل کرنا تمہیں صبح ضروری میٹنگ میں جانا ھے بھائی نے کہا ٹھیک ھے میں دن میں جلدی آجاؤ گا بولی ٹھیک ھے تب کر لینا بہو لن چوستی چدائی کرتی اپنی چوت بھائی کے منہ پر رکھتی وہ چاٹتا من میں بولی یہ تو بہت سیکسی ہیں خوش اس پر ھوئی کے چلو بہو کا ایک سال بعد پتا تو چلا دونوں چدائی کرکے ننگے سو گئے میں بنا لاک کیئے ڈور بند کر کے چابی لگی چھوڑ کراپنے  روم میں آکر چوت کا رس نکال سو گئی 


صبح میں دیر سے اٹھی تو بہو میرے روم میں چائے لےکر آگئی بہوں بولی امی آپ رات کو آئی تھی میں چونک گئی کے اسے کیسے پتا میں بولی کیا ھوا بولی رات کو ڈور کھلا تھا 


اور چابی بھی لگی ھوئی تھی میں بولی رات کو مجھے نیند نہیں آرھی تھی تو سوچی تم دونوں سے باتیں کروں مگر آگے تم مستی میں تھے دیکھنے کو من ھوا چابی سے کھول کر تم دونوں کو دیکھی 


بہو مجھے چومنے لگی بولی امی آپ کرلو بھائی سے میں بولی ہاں کرا دو بولی ابھی آئے گا تو تم کرتی رہنا پھر ھم چومتی چومتی ننگی ھو گئی اور سیکس کیا چوت کا رس نکلا تو مزہ آیا




پھر بہو نے کہا امی جب بھائی آئے تو تم روم میں ننگی چوت میں انگلی کرتی رہنا جب بھائی روم میں تمہیں دیکھے گا تو بہت مزے کی چدائی کرے گا


پھر بہو کا بھائی آیا میں روم آکر ننگی ھو کر چوت میں انگلی مارتی آ اف کر رھی تھی تو بہو کا بھائی آیا مجھے دیکھ کر کہا بہت ھوٹ ھو میں آنے کا بولی آکر میری چوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا 


میں تو مستی میں آگئی اور زبردست چدائی کی فارغ ھوئی مگر بہو کا بھائی مجھے چودتا رہا میں دو بار فارغ ھوئی تو میری چوت میں فارغ ھوا میں چومنے لگی مجھے بہت مزہ آیا 


پھر ایک ساتھ بہو کے بھائی نے مجھے اور بہو کی چدائی کی 


پھر بہو کا بھائی چلا گیا 


میں اور بہوں ساتھ سوتی سیکس کرتی 


ایک رات بہو نے کہا امی ھم یہ آڈر کریں میں بولی کیا چیز بہو نے مجھے موبائل میں ایک فوٹو دیکھائی نکلی لن اور بیلڈ کی پھر ایک لڑکی نے بیلڈ میں لن لگا کر بیلڈ باندھ لیا اور دوسری لڑکی کی چدائی کرنے کی فوٹو تھی میں دیکھ کر بہو کو چومتی بولی ہاں یہ اپنے بہت کام آئے گا آڈر کرو


پھر بہوں نے آڈر کیا اور کچھ دن بعد میں اور بہوں دوپہر میں گرم ھو گئی اور ننگی ھو گئی تو بہوں کو کال آئی کے آڈر آیا ھے بہوں نے خوش ھوکر بتایا پھر ھم نائٹی پہن کر باہر آئیں اور آڈر لےکر ھم اندر آئیں بہوں نے پارسل کھولا پہلے لن نکال کر چوم کر میرے منہ میں دیا میں چوسنے لگی پھر بیلڈ نکال کر دیکھایا ساتھ میں دوسرا بھی لن تھا اس اور لن کو باندھنے کی فوٹو تھی میں دیکھ کر بولی ایک چوت میں ڈال کر باندھنا ھوگا 


دوسرے سے چدائی کرنا ھے بہو بولی فوٹو دیکھاؤ دیکھ کر بولی ہاں امی تم سہی کہے رھی ھوں میں بولی پہلے تم مجھے باندھو اپنی بیٹی کی چدائی کرتی ھوں بہوں بولی ہاں ٹھیک ھے بہوں نے دونوں لن باندھے میں کھڑی ھو گئی


ایک میری چوت میں ڈال کر بیلڈ کو اچھی طرح ٹائٹ کرکے باندھ دیا اور ھم پیار کرنے لگی  پھر بہوں بولی امی صبر نہیں ھو رہا گھوڑی بن کر بولی ڈال کر دونوں سوراخوں میں چدائی کرو میں چوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگی میری چوت والا لن بھی اندر سے حرکت کرتا بہوں کو بتائی بولی کچھ دیر بعد بہوں فارغ ھو گئی پھر بہوں کو باندھ کر بہوں مجھے چودنے لگی بہت مزہ آیا اس کے بعد ھمارا جب دل کرتا ھم باندھ کر بہت چدائی کرتی مرد کی طرح مزہ آتا 


بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر 

 

No comments:

Post a Comment