میری بھابھی کا بچہ ھونے والا تھا تو بھائی نے مجھے آنے کو کہا دوسرے شہر میں رہتے تھے میں اپنے بیٹے کو ساتھ لےکر بھائی کے گھر آئی سب سے ملے بھائی کی چار سال کی بیٹی تھی اور بہت پیاری تھی باتیں بھی پیاری پیاری کرتی تھی بھائی کے گھر میں دو روم تھے ایک میں خود رہتے تھے اور مجھے دوسرا روم رہنے کو دیا پھر رات کو ھم سب نے مل کر کھانا کھایا کھانا کھاتے باتیں کی پھر دونوں چلے گئے
صرف میں اور بھابھی بیٹھی تھیں میں بھابھی سے بولی مجھے تم کو پیار کرنا ھے اور تمہاری چُوت کا رس چاٹنا ھے تو بھابھی مجھے ٹیوی روم میں لائی میں اور بھابھی چومنے لگی میں اور بھابھی ننگی ھو گئی بھابھی کو گھوڑی بننے کو بولی بھابھی گھوڑی بنی میں بھابھی کی چوت چاٹنے لگی
بھابھی سے پوچھی ابھی بھی تم بھائی سے چدائی کرتی ھو بولی ہاں یار جب بھائی آتا ھے تو بہت چدائی کرتا مجھے بہت مزہ آتا ھے دونوں کے ساتھ میں پوچھیں دونوں بولی ہاں شوہر اور بھائی میں بولی ایک ساتھ بولی ہاں میں پوچھی وہ کیسے ھوا بھابھی نیچے لیٹ گئی میں بھابھی کے اوپر آکر چومنے لگی بھابھی بولی یہاں
جب ھم آئے تو شوہر سے بولی مجھے تم اور بھائی ایک ساتھ کرو تو شوہر نے کہا مجھے گانڈ چودنے دے چوت کی سیل تو تم نے بھائی سے کھلوا لی تھی میں بولی اچھا کرلو پھر گانڈ کی سیل کھولی
بولا ایک مہینے بعد بلا لینا پھر ایک مہینے بعد بلایا پھر دونوں کے ساتھ کرتی تھی تین مہینے بعد بھائی چلا گیا
پھر بولی ایک دن بیٹی نے مجھے کسی اور کے ساتھ چدائی کرتی دیکھ لیا میں پوچھی وہ کون تھا بھابھی بولی دو دوست ہیں میں بولی اف بھابھی تم تو بہت مزے کرتی ھو بھابھی بولی بیٹی نے اپنے ابو کو بتا دیا وہ سن کر مجھے بہت ڈانٹ دیا کہا بچی سے تو پردہ کیا کرو
بھابھی بولی کے ان میں سے ایک اچھی چدائی کرتا تھا ایک رات میں نے اسے رات رہنے کو بولی شوہر سے اجازت لےکر شوہر چدائی کرکے فارغ ھوتا تو میں اس کے پاس چلی جاتی وہ فارغ ھوتا تو اس کے بعد اسی طرح پھر شوہر نے کہا صبح جلدی کام پر جانا ھے
میں پوچھی بھائی بیٹی کو پیار کرتا ھے بولی ہاں بیٹی کی چُوت چاٹتا ھے لن چسوایا ھے بھابھی پوچھی تم سناؤ تیرا آبو اب بھی ویسی چدائی کرتا ھے میں بولی نہیں یار ابو بہت بوڑھا ھو گیا ھے اب تو ابو کا لن کھڑا نہیں ھوتا پھر پوچھی داماد سے تو کرتی تھی میں بولی وہ بھی چلے گئے بولی اب کس سے کرتی ھوں میں بولی
بھابھی اب تک کوئی ملا نہیں بھابھی بولی تم بیٹے سے کرلو بات ختم میں بولی یار کبھی بیٹے نے مجھے اس طرح سے چھوا تک نہیں پوچھی کبھی بیٹے کا کھڑا لن دیکھی میں بولی ہاں وہ تو روز صبح کو دیکھتی ھوں بولی کیسا ھے
میں بولی یار چڈی کے اندر تو بہت موٹا لمبا لگتا ھے بولی کبھی بیٹے کے لن کو پکڑی میری ہنسی نکل گئی میں بولی نہیں یار میں بھابھی کی چُوت مستی میں چاٹ رھی تھی بھابھی بولی یار تم بھائی سے کر لو میں بولی کبھی بھائی نے مجھے پکڑا نہیں ھے کیسے کروں پھر بھابھی کی چُوت نے رسیلا رس چھوڑ دیا میں بھابھی کی چُوت کا سارا رس اندر تک چاٹ گئی بھابھی کو
نیند آئی تھی میں بھابھی کو کپڑے پہنا کر خود پہن کر بھابھی کو اٹھایا پھر ھم چلتی چلتی چومتی ھوئی بھابھی کے ڈور پر آئی بھابھی اندر چلی گئی میں بہت گرم تھی من کر رہا تھا بس لن مل جائے
میں اپنے روم میں آئی بیٹے کو دیکھی بیٹا چڈی پہن کر خراٹے لیتا سو رہا تھا مگر بیٹے کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا میں دیکھ کر بولی بیٹا سو رہا ھے اور بیٹے سپاہی جاگ رہا ھے
پھر میں بیٹے کی طرف کمر کر کے لیٹ گئی سینگل بیڈ تھا اور ھم دو تھے میں لیٹ کر مموں کو دبانے لگی میری چُوت بہت گرم تھی سوچی ایک مما نکال کر چوسوں اتنی دیر میں بیٹا میری طرف ھوا اور بیٹے کا لن میرے ھیپ میں گھس گیا ایک ہاتھ میرے مموں پر رکھا اف
پھر کچھ جھٹکے لگائے مجھے مزہ آرہا تھا میں نے اپنی گانڈ اور پیچھے کی بیٹے کے لن کا ٹوپا میری چُوت کے ھونٹوں میں رگڑ ھونے لگی مموں کو دبا رہا تھا میں تو فل مزے سے لیٹی رھی بہت دیر تک لن رگڑتا رہا پھر اچانک حرکت بند ھو گئی میں سوچنے لگی بیٹا فارغ
تو نہیں ھو گیا میں پیچھے سے ہاتھ کرکے بیٹے کی لن کو پکڑ کر چیک کیا تو نہیں نکلا تھا مگر میں مستی میں آگئی آج پہلی رات تھی میں سیدھی ھوکر بیٹے کو باھوں میں بھرا
اپنے چوتڑوں میں بیٹے کا لن لیئے لیٹی بیٹے کو بہت چومی چُوت لن پر رگڑتی رھی بیٹا حرکت نہیں کر رہا تھا بیٹے کے لن کو ہاتھ میں پکڑی بیٹے کا لن بہت موٹا اور لمبا تھا بہت دیر تک بیٹے کے ساتھ مست رھی بہت گرم تھی نیند آگئی
پھر دن میں بیٹا ماموں کے ساتھ باہر چلا گیا تو بھابھی اور میں نے زبردست سیکس کرکے چُوتوں کا رس نکال کر چاٹی پھر کھانا بنایا پھر بیٹا آگیا میں بہت گرم تھی بھابھی
بار بولتی کے بیٹے سے کرلو اور بولی کچھ دن میں شوہر کو تین مہینے کی چھٹی ملنے والی ھے پھر تمہاری چدائی کراؤں گی ایک مہینے بعد میرا بھائی بھی آئے گا پھر مل کر کرینگے میں بولی ٹھیک ھے
پھر رات کو میں بھابھی کی بات کو ذہن میں رکھیں بیٹے سے کر لو میں بہت گرم تھی اور سوچی آج رات کو ھی کر لیتی ھوں رات کو کھانا کر
میں روم میں آئی بیٹا سویا تھا اور بیٹے کا لن بھی سویا تھا میں ننگی ھو کر بیٹے کی طرف منہ کرکے لیٹ گئی میں نے مموں کو سامنے سہی کیا میرا جسم بہت گرم تھا میری چُوت بہت گرم تھی یہ سوچ کر کچھ دیر میں مزہ آنے والا ھے میں نے بیٹے کو
زور سے چٹی کاٹی میں اپنا ہاتھ لک پر سیدھا رکھ لیا تھوڑی سی آنکھ سے دیکھ رھی تھی زور سے چٹی کاٹنے سے بیٹا اٹھا اور مجھے دیکھا
بس پھر مجھے ننگی کو بس دیکھتا رہا بیٹے کا چڈی میں
لن کھڑا ھو گیا پھر ڈرتے ڈرتے میرے مموں کو ہاتھ لگایا تھوڑا سا دبایا میں مزے سے پڑی تھی پھر بیٹے نے چڈی سے اپنا لن نکالا میں دیکھ کر بہت گرم ھو گئی کے کچھ دیر میں کام ھونے والا ھے پھر میرے جسم پھر ہاتھ پھیرا میرے ھیپ دبائے پھر میرے ایک ممے کو اٹھا کر چوسنے لگا پھر چڈی اتار دی میں دوسری طرف کروٹ لےکر بیٹے کے لن پر گانڈ دبا دی بیٹا میری چُوت کے ھونٹوں کے بیچ میں لن کا ٹوپہ
رگڑنے لگا پھر بیٹے کا منہ سے تھوک نکلنے کی آواز آئی پھر تھوک کی آواز آئی اور میری چُوت پر تھوک لگایا میں نے اپنی چُوت کو لن کے نشانے پر سہی کیا پھر بیٹا میری چُوت میں لن کا ٹوپہ ڈال کر اندر باہر کرنے لگا مجھے چومتا مموں کو دباتا چومتا آدھا لن اندر چلا گیا میں نے اپنی گانڈ دھکے سے پیچھے کی بیٹے کا پورا لن میری چُوت میں اندر چلا گیا
بیٹا تیز تیز چدائی کرنے لگا مجھے چومنے لگا میں ایک ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ کر بیٹے کو چوم کر بولی امی کو
خوش کردو بولا امی ٹھیک ھے پھر
صبح کے آٹھ بج گئے بیٹا سو گیا میں چائے بنانے کچن میں آئی اتنے میں بھابھی آگئی مجھے چومنے لگی بولی ٹیوی روم میں چلیں پھر ھم ٹیوی روم میں آکر چومتی ننگی مست ھو گئی میں بھابھی سے
بولی بھابھی ایک بات بتاؤں بولی ہاں میری جان میں بولی رات کو بیٹے سے کر لیا بھابھی سن کر بہت خوش ھوکر مجھے چومتی بولی مزہ آیا میں بولی بھابھی اف مت پوچھو بہت مزہ آیا بھابھی بولی کتنا بڑا ھے میں ہاتھ سے بتائی کے اتنا لما اور موٹا ھے بھابھی مستی
میں آکر مجھے مست کرنے لگی میں بھابھی کو مست کر رھی تھی بھابھی بولی ٹائمنگ کیا ھے میں بولی یار مت پوچھو میں چار بار فارغ ھوئی تو پھر فارغ ھوا بیٹا ابھی سویا تو میں باہر آئی بھابھی بولی یار
میری بھی چدائی کرا دے میں بولی بھائی کو چھٹی ملنے دو تو پھر کرینگی بولی ٹھیک ھے پھر بہت مزہ آئے گا کچھ دن
بعد بھابھی بولی رات کو تیار رہنا رات کو بھائی کھانا کھا کر چلا گیا بیٹا میری بھابھی کو چومنے لگا بولا مامی چلو نہ بھابھی بولی پہلے تیری امی کو بھیجوں گی پھر میں اور بیٹا بھابھی کو لائے بھابھی بولی پہلے تم اندر جاؤ میں ڈور کھولی اندر آکر ڈور بند کیا
بھائی اندر چڈی پہنے لیٹا تھا مجھے دیکھ کر اٹھ کے بیٹھ گیا میں بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بھائی کے ساتھ بیٹھ گئی بھائی کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا میں بہت گرم تھی کے آج بھائی سے کروں گی بھائی نے مجھے باھوں میں بھر کر دباتے چومنے لگا اور اپنے سینے پر مجھے لیٹا دیا چومتے کہا باجی سیدھی ھو جاؤ میں سیدھی ھوکر بھائی کے اوپر لیٹ گئی بھائی کے لن کو اپنی چوتڑوں میں لیا بھائی مجھے
چومتا بولا باجی جب تم نانا سے اور بہنوئی سے اور آنکل سے چدائی کرتی تھی میرا بہت دل کرتا تم سے کرنے کو میں بھائی کو بولی تم بول دیتے کہا باجی مجھے شرم آتی تھی میں بولی اچھا ابھی بھائی کو
فل مزے دوں گی پھر ھم نے چدائی کی بھائی نے کہا باجی چائے بنا دو میں ننگی باہر آئی ہلکی آنچ پر چائے رکھ کر میں بیٹے اور بھابھی کو دیکھنے آئی بھابھی تو فل مزے سے چدائی کر رھی تھی لن کی بہت تعریف کرتی پھر دن میں بھابھی اور میں نے بیٹے کے ساتھ کیا پھر بیٹا سو گیا تو بھائی کے ساتھ ھم دونوں نے کہا پھر بھائی اور بیٹے نے میری چدائی کی پھر دونوں نے بھابھی کی چدائی کی ایک مہینہ ھو گیا پھر بھابھی کا بھائی آیا ھم تینوں سے کرتی کبھی میں تینوں سے کرتی کبھی بھابھی کرتی کبھی مل کر کرتی پھر بھابھی کا بھائی چلا گیا بھابھی کی طبیعت خراب ھوئی ڈاکٹر کے پاس لے گئے بولے کل تم لوگ آجانا میں بھائی بیٹا گھر آئے میں دونوں سے شروع ھو گئی پھر صبح دوپہر میں بھابھی کو بیٹا ھوا بھابھی بہت خوش تھی پھر بھابھی کو گھر لائے بھابھی نے
پہلے میرے بیٹے کو اپنے مموں کا دودھ پینے کو کہا بیٹے نے پیٹ بھر کر دودھ پیا پھر میں نے دودھ پیا بیٹے کا بھابھی لن چوس رھی تھی پھر بھائی نے دودھ پیا پھر بھائی مجھے روم
میں لایا چدائی کی مزے کی بولا باجی اچھا ھوا تم نے مجھ سے کر لیا بھابھی تمہاری تو ابھی نہیں کر سکتی چدائی کرکے میں کچن اسے پتیلی لےکر بیٹے کے روم میں آئی بیٹا مموں کو چود رہا تھا بیٹھا مجھے دیکھ کر اٹھ کر مجھے گھوڑی بناکر چدائی کرنے لگا
میں پتیلی میں بھابھی کے مموں کا دودھ نکال رھی تھی آئے بنانے کیلئے آدھی پتلی ھو گئی میری چُوت نے رس چھوڑ دیا میں دودھ لےکر کچن میں آئی پتی چینی ڈال کر چولہے پر رکھی تو بھائی آگیا اور پیچھے سے چدائی کرنے لگا پھر اسی طرح ہمیں تین مہینے ھو گئے بھابھی نے ایک دن دو لڑکوں کو بلایا ھم سارا دن چدائی کی مجھے بہت مزہ آیا ایک دن بھابھی بولی میرا بیٹا بڑا ھوگا تو میں بیٹے سے بہت چدائی کیا کروں گی
پھر بیٹے کے ساتھ ھم اپنے گھر آئے بیٹے کو بولی اب تم کو بہت پیار کروں گی بیٹے نے کہا گانڈ دو میں بولی کل تیاری کروں گی دن میں کر لینا پھر دن میں بیٹے سے تیل منگوائی اور گانڈ کی سیل کھولی
۔۔۔۔۔۔نیکسٹ پارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
No comments:
Post a Comment