Sunday, December 21, 2025

ابو کیا کر رھے چھوڑو مجھے میں بیٹی ھوں تمہاری

 میری باجی کی شادی ھوئی کچھ مہینوں میں ابو کے کہنے پر باجی نے طلاق لےلی اور گھر رہنے لگی


اس وقت میں چھوٹی تھی کچھ مہینوں بعد ایک دن میں چائے پینے کیلئے باجی کے پاس کچن میں آئی تو دیکھی باجی کھڑی کھانا بنا رھی ھے ابو نے صرف چڈی پہنی ھے جو بلکل پتلی سی تھی ابو باجی کو پیچھے سے پکڑ کر دھکے لگا رہا ھے باجی بولتی ابو نہ کرو میں تمہاری بیٹی ھو چھوڑو مجھے 


مگر ابو دھکے لگاتا باجی کے مموں کو دباتا دھکے لگانے لگا باجی زور لگا کر ہٹی تو چڈی میں ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا ابو فل مستی میں تھا باجی کو پھر پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر باجی کو چومنے لگا اور گانڈ 


آگے پیچھے کر رہا تھا باجی بولتی ابو بس کرو میرا بولی وہ دیکھ لے گئی ابو نے کہا پھر مان جا باجی بولی نہیں تم ابو ھو پھر باجی زور سے ہٹی اور مجھ سے ٹکرائی مجھے دیکھ کر جھک کے بولی کیا چاھیئے میں ابو پیچھے سے باجی کو لگا ھوا تھا میں بولی چائے باجی ہلتی ھوئی بولی بیٹھو بناتی ھوں میں بیٹھی ابو کا لن کھڑا ھوا تھا باجی کھڑی ھوئی تو ابو باجی کو باھوں میں بھر کر مموں کو دباتا پیچھے دھکے لگا رہا تھا باجی بولی ابو نہ کرو دیکھ رھی ھے باجی چھڑا کر پھر باجی چینی پتی دودھ ڈالنے لگی ابو باجی کو پھر پیچھے سے پکڑ کر ابو باجی کو دیکھے لگاتا چومتا مموں دباتا لن رگڑتا باجی منع کرتی خود کو چھڑاتی بار بار میرا بولتی دیکھ رھی ھے مگر ابو کہاں


سننے والا تھا ابو باجی کو  بولتا مان جا تیری ہر خواہش پوری کروں گا باجی بولتی نہیں آپ ابو ھو مگر ابو باجی سے مزے کرتا رہا مجھے چائے دی میرے ساتھ بیٹھ گئی ابو اپنے روم چلا گیا باجی سے میں پوچھی ابو کیا کر رہا تھا باجی بولی کچھ نہیں ابو کھیل رہا تھا کچھ دیر بعد ابو نے باجی کو آواز دی باجی کی آنکھیں باہر آگئی نہیں گئی پھر ابو نے باجی کو آواز دی اندر آنے کو بلایا مگر باجی پھر بھی  نہیں گئی پھر ابو نے غصے سے


آواز دی تو باجی چلی گئی میں اٹھ کر پیچھے آرھی تھی باجی روم کا ڈور کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئی میں آکر چھپ کر دیکھی ابو نے باجی کو بیڈ پر لیٹا کر اوپر آکر چومنے لگا باجی بار بار ابو کو منع کر رھی تھی ابو بولا تجھے پیسوں کی کبھی کمی نہیں ھونے دوں گا 


تجھے گاڑی بھی لےکر دوں گا بس تم مان جاؤ باجی بولی آپ ابو ھو کسی کو پتا چلا تو پتا ھے کیا ھوگا ابو نے کہا ھم کسی کو گھر کی باتیں بھلا کیوں بتائینگے پاپا باجی کے مموں کو نکال لیا چوسنے لگا باجی ایک دم زور لگا کر نکلی مموں کو اندر کیا ابو نے 


پھر پکڑ لیا باجی بولی پہلے گاڑی لےکر دو پھر کروں گی ابو نے کہا ٹھیک ھے تیار ھوجاؤ ابھی لینے چلو پھر ھم گاڑی لینے گئے باجی نے گاڑی پسند کی ابو نے باجی کے نام گاڑی 


کرائی شوروم والوں نے کل گاڑی پہنچا دینگے کہا پھر ھم گھر آئے ابو نے باجی سے کہا اب تم خوش ھو نہ اب مجھے خوش کرو باجی بولی ابھی گاڑی ملی کہاں ھے ابو نے کہا کل اجائے گی باجی بولی کل دیکھوں گی 


ابو نے باجی کو پکڑ لیا باجی بولی ابو تنگ نہ کرو کل گاڑی آئے گی تو تم کر لینا ابو نے کہا کل پھر تیار ھوکر رہنا باجی بولی ٹھیک ھے پھر شام کو باجی کی گاڑی آگئی باجی بہت خوش ھوئی پھر شام کو ابو آگیا آتے باجی کو چومنے لگا 


باجی ابو کو اب روک نہیں رھی تھی ابو نے کہا آج سے کرو گی نہ باجی بولی ہاں کروں گی ابو نے کہا پیسوں کی فکر نہ کرنا پھر رات کو باجی تیار ھوئی میکپ کیا پھر کھانے کے بعد باجی ابو کے روم گئی بہت دیر بعد میں آکر دیکھی باجی اور ابو ننگے ہیں اور چدائی کر رھے ہیں کبھی ابو باجی کی چوت چاٹ لیتا کبھی باجی لن چوس لیتی اور چدائی میں مست تھے اس کے بعد تو باجی ابو کے ساتھ  ھی سونے لگی لگی پھر باجی ابو کے لن سے پریگنٹ ھو گئی اور باجی کو بیٹا ھوا ابو نے اپنے دوست کے ساتھ شادی کرا دی میں جوان ھو گئی تھی باجی کو دوسرا گھر لےکر دیا باجی اپنے شوھر کے ساتھ دوسرے گھر میں رہنے لگی باجی کو بزنس بھی کھول کر دیا ابو 

جب باجی کو بلاتا تو باجی آجاتی ابو جب کہتے جاؤ تو چلی جاتی ابو باجی کو پیسے بھی دیتا ابو کے پاس پیسہ بہت تھا اور ابھی بھی بہت ھے 


 میں باجی سے زیادہ خوبصورت تھی باجی کے مموں سے میرے بڑے ممے تھے میں کالج میں ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی تو باجی کو بولی میں شادی کرنا چاہتی ھوں ابو کو بتاؤ باجی بولی میں کل آکر بتاؤں گی پھر باجی آئی اور ابو سے چدائی کی میں ویٹ کرنے لگی کب فری ھونگے بہت دیر بعد باجی 


باہر آئی بولی ابو بولتا ھے میری پسند کے لڑکے سے شادی کرو گی ورنہ کچھ نہیں دوں گا شوہر کے گھر میں رہنا میں سن کر چپ ھو گئی اور لڑکے سے کورٹ میرج کر لیا چند مہینوں 


میں سسرال والوں نے مجھے شوہر کے ساتھ گھر سے نکال دیا پھر ھم کرائے پر رہنے لگے نہ کام نہ نوکری اور مکان کا کرایا تک دینے کو نہیں تھا ایک مہنہ تو باجی سے پیسے لےکر کھاتے رھے پھر


باجی نے منع کر دیا اور ابو کا بولی میں ابو کے آگے رونے لگی ابو نے کہا تم نے کورٹ میرج کیا ھے اب تیرا شوہر تجھے بھوکا مار رہا ھے نہ تمہیں تو سسرال والوں نے نکال دیا میں 


بولی ابو میری مدد کرو ابو نے کہا تیرا سارا خرچہ میں اٹھاتا ھوں تم شوہر سے طلاق لےلو ورنہ میرے پاس کبھی نہیں آنا میں روتی ھوئی شوہر کے پاس 


آکر رونے لگی شوہر نے کہا ہمارے لیئے یہ بہتر ھے کے ھم الگ ھو جائیں ہمیں گھر والے قبول نہیں کر رھے میں بولی ٹھیک ھے جیسے تم بولو میں نے ابو سے طلاق کی بات کی تو ابو بولا جگہ بتاؤ میں تمہیں لینے آتا ھوں میں اور شوہر نے طلاق نامے پر سائن کیا لڑکے کو بولی تم چلے جاؤ میرا ابو تمہیں دیکھ کر غصہ ھو جائے گا مالک مکان کو میں کرایا چابی دے دوں گی وہ چلا گیا کچھ دیر بعد ابو آیا مالک مکان کو کرایا چابی دے کر ابو مجھے اپنے گھر لایا تین مہینے 


بعد ایک دن صبح کو کچن میں آٹا گوندھ رھی تھی تو ابو چڈی پہنے کچن میں آیا میری نظر ابو کی چڈی پر پڑی ابو کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا 


کچھ دیر بعد ابو میرے پیچھے سے میری کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میری گانڈ کے ھیپ میں لن رگڑنے لگا میرے ہاتھ آٹے سے بھرے تھے میں چھڑانے کیلئے ہلنے لگی بولتی رھی ابو کیا کر رھے چھوڑو مجھے میں بیٹی ھوں تمہاری ابو کی پکڑ بہت مظبوط تھی ابو نے بہت دیر تک لن رگڑتا رہا میں چھڑانے کیلئے ہلتی رھی پھر ایک دم 


میں ہٹ گئی ابو سے بولی ابو پلز ایسا نہ کرو ابو بولا بیٹی کیا ھوا تمہیں ہر چیز دوں گا پھر میں آٹا گوندھنے لگی پھر ایک دم ابو نے میری لاسٹک کی شلوار نیچے کی میری چُوت میں پورا لن ڈال کر زبردست چدائی کرنے لگا مجھے چھڑانا 


مشکل پڑ گیا کافی دیر بعد ابو کی پکڑ ڈھیلی ھوئی تو میں زور لگا کر ہٹی شلوار اوپر کرکے بھاگی تو ابو نے مجھے صوفے کے پاس پکڑ لیا ابو ننگا 


تھا مجھے صوفے پر لیٹا دیا میری شلوار اوپر کرکے میری چُوت میں لن ڈال چُدائی کرنے لگا ابو نے مجھے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا میرے مموں کو باہر نکال کر دباتا چوستا چدائی کر رہا تھا 


میرے منہ میں منہ دیتا تو میں ہٹا لیتی کچھ دیر بعد ابو نے لن نکالا میں جلدی اٹھ کر بیٹھ گئی شلوار پہن لی ابو بولا ناشتہ بناؤ میں ابو کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی ابھی نہیں کرنا پھر ابو نے کچھ نہیں کیا 


میں روم میں آئی اور باجی کو کال ہر بتایا کے ابو نے ایسا کیا میں رونے لگی باجی بولی تو کیا ھے تم ابو کی بات مان لو میں نے کال کٹ کر دی مجھے  وھی باجی کی پرانی یادیں آنے لگی 


کچھ دن تو ابو نے کچھ نہیں کیا آرام سے آتے جاتے کھانا کھاتے میں شکر کیا کے پھر ایک رات کھانا کھاکر ابو اپنے روم چلا گیا میں برتن دھو کر اپنے روم میں آئی کچھ دیر بعد 


ابو وھی چڈی پہنے روم میں آیا میں دیکھی ابو کا لن کھڑا تھا اب میں کیا کرتی بھاگ کر کہاں جاتی بیٹھی رھی ابو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے چوم کر کہا بیٹی تم کو کیا مسلا ھے بولو گاڑی لےکر دیتا ھوں بزنس کرنے کیلئے پیسا دیتا ھوں یہ گھر بھی تیرے نام کرتا ھوں ضد چھوڑ دے مان جا میں بولی نہیں ابو 


میرے مموں کو دبانے لگا میں ابو کا ہاتھ جھٹک دیا اور میں اپنے دونوں گھٹنوں کو اپنے مموں سے لگا کر دونوں گھٹنو کو ہاتھوں میں زور سے دبا لیا مگر ابو نے نیچے سے میری چُوت کو سہلانے لگا میں نے اپنے پاؤں کی ایڑی کو اپنی چُوت رکھ دیا


مگر ابو سیدھا ھوکر اپنی ٹانگیں پھیلا کر میں اپنے گھٹنوں کو زور سے جپھی ڈالے مموں سے لگائی بیٹھی تھی ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر اپنی گود میں بیٹھایا نیچے سے آبو کا لن کھڑا تھا میری گانڈ میں دبا ھوا تھا ابو نے مجھے زور سے دبایا میری گھنٹے دبنے سے مجھے درد ھوا تو میں اپنی ٹانگیں پھیلائی تو ابو میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھا مجھے گود میں بیٹھایا ھوا تھا مجھے دبانے لگا ابو کے 


سینے میں میرے ممے دب رھے تھے ابو نے میری نائٹی اتار دی میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں منع کرتی رھی مگر ابو کہاں رکنے والا تھا پھر ابو نے مجھے لیٹا دیا اور میری چڈی اتار کر میری چُوت چاٹنے لگا پھر میری چُدائی کرنے لگا میں آنکھیں بند کیئے لیٹی رھی بہت دیر بعد میری چُوت کا پانی نکل گیا ابو نے مجھے زبردستی گھوڑی بنایا میں گانڈ اوپر کرکے لیٹی رھی ابو چدائی کرتا رہا پھر میں فارغ ھوئی تو ابو میری چُوت میں فارغ ھو گیا اور چڈی اٹھا کر ننگا چلا گیا میں اٹھی چادر گیلی ھو گئی چادر ہٹادی چُوت کو دھوکر دوسری چادر بچھا کر لیٹ گئی سوچنے لگی کیا کروں


مجھے نیند آگئی کچھ دن بعد پھر ابو گرم تھا میں سمجھ گئی کے آج رات ابو پھر کرے گا میں موبائل کو ریکارڈ پر لگا بولی میرا ابو میرے ساتھ گناہ کرتا میری مدد کرو میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی کچھ دیر بعد 


ابو ننگا آیا لن کھڑا کیئے میں بولی پلز ابو نہ کرو شرم کرو میں آپ کی بیٹی ھوں ابو چدائی کرنے لگا میں ہٹتی بچتی ابو کی پکڑ مظبوط تھی ابو فارغ ھو کر چلا گیا میں نے دھندلی ویڈیو کرکے فیس بک پر اپلوڈ کر دی پھر کچھ دن بعد باجی کا فون آیا مجھے بہت ڈانٹی میں بھی نہیں مانی 


اینکر سب میری ویڈیو بناتے میں بتاتی کے ابو کیا کرتا ھے میری باجی ابو کو خوش کرتی ھے ابو کو تھانے دے دیا گیا باجی بولی اب سکون آیا ابو کو تھانے بھیج کر اس طرح تو کسی کو پتا نہیں چلتا تونے اپنے ساتھ میری بھی بدنامی کر دی تمہیں سوائے پچھتاوے کچھ نہیں ملنے والا بڑی مہان بن گئی اپنی اور ہماری بدنامی کرکے پھر کچھ دن گزرے گھر میں کھانا کچھ نہیں راشن نہیں نہ میرے پاس پیسے تھے میں پانی پی کر سو جاتی مجھے چکر آنے لگے میں رونے لگی ایک لڑکی اینکر آئی میں رو پڑی کے میں نے کچھ دنوں سے کھانا نہیں کھایا لڑکی نے کھانا منگوایا میرا انٹرویو لےکر بولی اب تم کیا چاہتی ھو تمہارے ابو کو پھانسی دی جائے پھانسی کا نام سن کر میں کانپ کر بولی پھانسی نہیں میرا ابو ھے مجھے پال پوس کر بڑا کیا ھے اینکر بولی


پھر تم انصاف کیا لینا چاہتی ھو میں بولی بس ابو مجھے تنگ نہ کرے اینکر بولی اگر وہ مان جائے تو اسے چھوڑ دیں میں بولی ہاں بلکل میرا ابو ھے پھر اینکر مجھے ابو سے ملانے لےکر آئی آبو رونے لگا ابو کو روتا دیکھ کر مجھے ابو پر ترس آگیا آخر میرا ابو تھا 


اینکر نے ابو سے قسم لی کے تم دوبارا بیٹی کو تنگ نہیں کروگے ابو نے وعدہ کیا پھر ابو کو چھوڑ دیا ابو گھر آتے ھی بمار ھو گیا باجی بھی آگئی باجی مجھ پر بہت غصہ تھی بولتی کیا ملا تم کو اگر کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اگر تم چپ رہتی تو کیا ھوتا کچھ دیر میں ایمبولینس آئی آبو کو استعمال لے گئے چار گھنٹے بعد ابو کو گھر لائے باجی ساری رات ابو کے ساتھ رھی تین دن میں ابو بلکل ٹھیک ھو گیا اور آفس چلا گیا مجھ سے بات نہیں کرتا تھا میں چپ رہتی تھی 


میں خود اپنے پر شرمندہ تھی کے میں نے یہ کیا کر دیا گھر کی باتیں باہر لائی ابو میری طرف دیکھتا نہیں تھا نہ بات کرتا تھا باجی کو کال کی میں سوری کرتی رونے لگی باجی بولی اچھا اب جو ھوا آگے سے ایسا نہیں کرنا میں بولی ابھی 


ایسا نہیں کروں گی باجی بولی ابو سے سوری کر لے اور اس کو خوش کر دینا ابو مان جائے گا کرے گی ابو سے میں بولی ہاں زندگی بھر کروں گی بولی ٹھیک ھے تیار ھو جانا ابو کی الماری میں نائٹی پڑی ھے میکپ کرکے پہن لینا رات کو ابو کو سوری کرتی گرم کر لینا


میں بولی ٹھیک ھے آپ ناراض تو نہیں ھو باجی بولی ابو مان گیا تو میں بھی مان گئی کال کٹ کر دی سوچ کر میں اٹھی اور واشروم گئی میری چُوت کے بال بڑے ھو گئے تھے چُوت کے بال صاف کرتی مجھے ابو کی پچھلی چدائی چھیڑ چھاڑ لن رگڑنا یاد آیا ابو کا موٹا لمبا طاقتور لن یاد آیا میں گرم ھو


گئی اور اپنی چُوت میں انگلی کرنے لگی بولی اف ابو آج سے میں آپ سے بہت چدائی کیا کروں گی باجی کے سوا کسی کو نہیں بتاؤں گی خیر چُوت کے بال صاف کرکے میں میکپ کیا اور ابو کی الماری میں سے نائٹی نکال کر پہنی تو میں تو ہوری کی پوری ننگی نظر آرھی تھی میں بہت گرم ھو گئی


میرا شوہر جلدی فارغ ھو جاتا تھا میری سیل کھولتے بھی فارغ ھو جاتا تین دن بعد میری سیل کھولی اور فارغ ھو گیا شوہر کو بولی کوئی گولی کھاؤ شوہر گولی کھاتا پھر بھی زیادہ دیر نہ ٹک پاتا تھا شوہر کا لن بھی پتلا اور چھوٹا تھا 


شوہر میری چُوت چاٹ کر مجھے فارغ کر دیتا تھا پہلی بار جب ابو نے لن ڈالا تو ایسا لگا کے واقعی میری چُوت میں لن گیا ھے پھر مجھے صوفے پر جو چدائی کی تھی پھر روم میں چدائی کی وھی نظارے اب مجھے مزے کے لگ رھے تھے میں ابو کا ویٹ کر رھی تھی ابو بہت ناراض بھی تھا مجھے ابو کو آخر منانا بھی تھا 


ڈور بیل بجی میں جاکر ڈور کھولی مسکرا کر ابو کو دیکھی ابو نے مجھے دیکھا تک نہیں ابو اپنے روم کی طرف جا رہا تھا میں ڈور بند کرکے ابو کے آگے آکر آبو کو بانھوں میں بھر 


کر چومتی چومتی ابو سے بولتی ابو سوری یہ میری پہلی اور آخری نادانی سمجھ کر مجھے معاف کر دو مگر ابو مجھ سے ہٹ گیا اور روم میں چلا گیا میں اپنے روم میں آکر 


تھوڑا میکپ سہی کرکے ابو کے روم میں آئی آبو وھی چڈی پہن کر بیٹھا تھا میں آکر ابو





کو بانھوں میں بھر کر چومتی بولنے لگی ابو مجھے معاف کر دو ابو چپ ےتھا میں ابو کو بانھوں میں بھری بھری ابو کی گود میں بیٹھ گئی ابو کے سوئے لن پر اپنی گانڈ ہلاتی ھوئی ابو کو چومتی بولی ابو میں صرف اب آپ سے کیا کروں گی مجھے معاف کر دو اور مان جاؤ ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا ھو گیا میں نے ابو کی چڈی سے لن نکال کر میں اپنی چُوت میں لن لے کر چدائی کرتی ابو کے منہ میں منہ دیا کچھ دیر بعد ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا میں بولی اف ابو سوری اب


دن رات صرف آپ کو خوش رکھوں گی پھر میں نے آبو کی چڈی اتار کر ابو کا لن دیکھی ابو کا لن تو بہت موٹا اور لمبا تھا مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا اور میری چُوت میں فٹ تھا


میں ابو کے لن کو چومنے لگی ابو بھی مستی میں میرے مموں کو دباتا چُوستا چُومتا میں ابو کے لن کو چوپے لگانے لگی مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر میں گھوڑی بن گئی ابو نے ایسی چُدائی کی کے بہت دیر بعد میں فارغ ھو گئی مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا ابو پھر چدائی کرنے لگا پھر میں فارغ ھوئی ابو نے کہا کھانا لگاؤ میں ننگی کچن میں آئی کچھ دیر بعد ابو آیا اور چدائی کرنے لگا میں کھانا گرم کرنے لگی میں پھر فارغ ھو گئی کھانا کھا کر پھر صبح تک چدائی کی ابو کو آفس نہیں گیا میں نے باجی کو بتا دیا کے ابو سے میں نے کر لیا ھے باجی سن کر خوش ھوکر بولی تجھے مزہ آیا میں بولی اف بانی صرف مزہ مجھے نہیں پتا تھا کے ابو کے لن میں اتنا بہت مزہ ھے باجی بولی ہاں یار ابو کا لن بہت مزے کا ھے پھر مجھے ابو کے لن کی ایسی لت لگی کے بس مت پوچھو 


میں ابو کے لن کے بنا نہ رھے پاتی تھی دن رات ابو سے بس چدائی کرتی رہتی ابو کا لن کھڑا رہتا ابو دیر سے فارغ ھوتا 


ایک مہینے بعد مجھے ماہواری شروع ھو گئی میری چُوت پر ابو نے پیڈ لگایا چڈی پہنائی پھر میں ابو کے لن سے مست ھو گئی ابو نے مجھے نیچے کیا میرے اوپر آکر مجھے میرے مموں کو دباتے چوستے کہا


بیٹی گانڈ چودنے دو گی میں بولی ابو چود لینا ماہواری ختم ھو جائے پہلے چوت کی چدائی کرنا ابو نے کہا بیٹی تمہاری گانڈ کھولوں گا اور تجھے درد 


بھی نہیں ھوگا میں بولی سچ میں ابو تو کہا اپنی باجی سے پوچھ لینا پھر ابو کو کچھ سامان لینے جانا تھا ابو کپڑے پہن کر گیا کچھ دیر باجی کی کال آئی میں بولی باجی ابو نے جب تمہاری گانڈ ماری تھی درد 


ھوا تھا باجی بولی ہاں یار مجھے درد نہیں ھوا تھا بولی تم گانڈ دینے والی ھو کیا میں بولی ہاں ابو کی فرمائش ھے باجی بولی آج دو گی میں بولی ابھی تو ماہواری چل رھی ھے ختم ھوگی تب باجی بولی ابو


تمہاری بہت تعریف کرتا ھے میں بولی سچی بولی ہاں میں بولی ابو کیا کہتا ھے بولی ابو کہتا ھے تم بہت خوش رکھتی ھو ٹائم پر دوائیاں دیتی ھوں 


اور بس ابو کو مست رکھتی ھوں ابو تم سے بہت خوش ھے پھر کال ختم کی کچھ دیر بعد ابو آگیا ابو کو بولی آج مجھے لن کا پانی پلاؤ بولا ٹھیک ھے 


پھر ابو کے لن کو بہت گھنٹے چوستی چومتی رھی ابو کے لن کا پانی بہت نکلا میں سارا پانی پی گئی ابو سے بولی صرف کے لن کا پانی پیا ھے اور کسی کا پانی نہیں پیا پھر کچھ دن بعد ماہواری ختم 


ھوئی تو رات کو ابو نے میری گانڈ آرام آرام سے کھول دی پھر گانڈ اور چوت کی چدائی کرتا رہا میں تو دن رات لگی رہتی اور چوت پانی نکالتی 


رہتی اور میں چدائی کرتی رہتی میرا من نہیں بھرتا تھا ابو شروع سے سے حکیمی معجون کشتہ گولیاں کھاتا تھا اس لیئے ابو کا لن ساری ساری رات کھڑا رہتا میں لن سے مست رہتی اور ابو کا تین چار گھنٹے بعد لن سے پانی بہت نکلتا تھا مگر میں بار بار پانی چھوڑ دیتی پھر کچھ دن میری طبیعت خراب ھونے لگی مگر 


میں چدائی کرتی چوت پانی پانی ھوتی رہتی ایک دن کچن میں ابو پیچھے سے میری چوت گانڈ کی زبردست چدائی کر رہا تھا مجھے بہت مزہ آرہا تھا طبیعت بھی خراب تھی مجھے چکر آنے لگے میں گرنے لگی ابو اٹھا کر مجھے روم میں لایا بولا ڈاکٹر کے پاس چلو میں بولی پہلے مجھے فارغ کرو پھر ابو نے مجھے فارغ کیا مجھے 


لیڈی ڈاکٹر کے پاس لایا مجھے کہا تم ابو نہیں کہنا ھم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ھے پھر ڈاکٹر نے چیک کرکے میری طبیعت کا بتایا کے اسے کمزوری آگئی ھے سیکس بہت کرتی ھو تھوڑا کنٹرول کرو میں بولی میں نہیں رھے پاتی 


ڈاکٹر بولی اچھا پھر ایسا کرو میں کچھ داوائیاں لکھ کر دیتی ھو مگر اس میں آپ کو صرف ایک ہفتہ کنٹرول کرنا ھوگا اس کے بعد تم چاھے چوبیس گھنٹے لگی رھوگی گی 


کمزوری نہیں آئے گی ابو سے بولی کے اس کا خیال رکھو کشش کرو ایک ہفتہ تم اسے کنٹرول کرو ورنہ اس کی جان بھی جا سکتی ھے ابو نے کہا میں عمل کروں گا پھر ابو نے 


مجھے ایک ہفتہ کچھ نہیں کرنے دیا باجی بھی مجھے منع کرتی ایک ہفتہ تو ھے پھر کرنا ھے بس ایک ہفتہ مجھے ایک ایک مہینے کا لگتا لگتا آخر ختم ھوا پھر مجھے ماہواری آگئی باجی ہنس کر بولی چلو کوئی بات نہیں ایسا ھو جاتا ھے پھر جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور کچھ دن بعد میں پھر چکر کھانے لگی ڈاکٹر کے پاس گئے تو پتا


چلا میں پریگنٹ ھوں ابو سے بولی مجھے بچہ جننا ھے ابو مان گیا باجی مان گئی 


No comments:

Post a Comment