میری باجی کی شادی ھوئی کچھ مہینوں میں ابو کے کہنے پر باجی نے طلاق لےلی اور گھر رہنے لگی
اس وقت میں چھوٹی تھی کچھ مہینوں بعد ایک دن میں چائے پینے کیلئے باجی کے پاس کچن میں آئی تو دیکھی باجی کھڑی کھانا بنا رھی ھے ابو نے صرف چڈی پہنی ھے جو بلکل پتلی سی تھی ابو باجی کو پیچھے سے پکڑ کر دھکے لگا رہا ھے باجی بولتی ابو نہ کرو میں تمہاری بیٹی ھو چھوڑو مجھے
مگر ابو دھکے لگاتا باجی کے مموں کو دباتا دھکے لگانے لگا باجی زور لگا کر ہٹی تو چڈی میں ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا تھا ابو فل مستی میں تھا باجی کو پھر پکڑ کر اپنے سینے سے لگا کر باجی کو چومنے لگا اور گانڈ
آگے پیچھے کر رہا تھا باجی بولتی ابو بس کرو میرا بولی وہ دیکھ لے گئی ابو نے کہا پھر مان جا باجی بولی نہیں تم ابو ھو پھر باجی زور سے ہٹی اور مجھ سے ٹکرائی مجھے دیکھ کر جھک کے بولی کیا چاھیئے میں ابو پیچھے سے باجی کو لگا ھوا تھا میں بولی چائے باجی ہلتی ھوئی بولی بیٹھو بناتی ھوں میں بیٹھی ابو کا لن کھڑا ھوا تھا باجی کھڑی ھوئی تو ابو باجی کو باھوں میں بھر کر مموں کو دباتا پیچھے دھکے لگا رہا تھا باجی بولی ابو نہ کرو دیکھ رھی ھے باجی چھڑا کر پھر باجی چینی پتی دودھ ڈالنے لگی ابو باجی کو پھر پیچھے سے پکڑ کر ابو باجی کو دیکھے لگاتا چومتا مموں دباتا لن رگڑتا باجی منع کرتی خود کو چھڑاتی بار بار میرا بولتی دیکھ رھی ھے مگر ابو کہاں
سننے والا تھا ابو باجی کو بولتا مان جا تیری ہر خواہش پوری کروں گا باجی بولتی نہیں آپ ابو ھو مگر ابو باجی سے مزے کرتا رہا مجھے چائے دی میرے ساتھ بیٹھ گئی ابو اپنے روم چلا گیا باجی سے میں پوچھی ابو کیا کر رہا تھا باجی بولی کچھ نہیں ابو کھیل رہا تھا کچھ دیر بعد ابو نے باجی کو آواز دی باجی کی آنکھیں باہر آگئی نہیں گئی پھر ابو نے باجی کو آواز دی اندر آنے کو بلایا مگر باجی پھر بھی نہیں گئی پھر ابو نے غصے سے
آواز دی تو باجی چلی گئی میں اٹھ کر پیچھے آرھی تھی باجی روم کا ڈور کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئی میں آکر چھپ کر دیکھی ابو نے باجی کو بیڈ پر لیٹا کر اوپر آکر چومنے لگا باجی بار بار ابو کو منع کر رھی تھی ابو بولا تجھے پیسوں کی کبھی کمی نہیں ھونے دوں گا
تجھے گاڑی بھی لےکر دوں گا بس تم مان جاؤ باجی بولی آپ ابو ھو کسی کو پتا چلا تو پتا ھے کیا ھوگا ابو نے کہا ھم کسی کو گھر کی باتیں بھلا کیوں بتائینگے پاپا باجی کے مموں کو نکال لیا چوسنے لگا باجی ایک دم زور لگا کر نکلی مموں کو اندر کیا ابو نے
پھر پکڑ لیا باجی بولی پہلے گاڑی لےکر دو پھر کروں گی ابو نے کہا ٹھیک ھے تیار ھوجاؤ ابھی لینے چلو پھر ھم گاڑی لینے گئے باجی نے گاڑی پسند کی ابو نے باجی کے نام گاڑی
کرائی شوروم والوں نے کل گاڑی پہنچا دینگے کہا پھر ھم گھر آئے ابو نے باجی سے کہا اب تم خوش ھو نہ اب مجھے خوش کرو باجی بولی ابھی گاڑی ملی کہاں ھے ابو نے کہا کل اجائے گی باجی بولی کل دیکھوں گی
ابو نے باجی کو پکڑ لیا باجی بولی ابو تنگ نہ کرو کل گاڑی آئے گی تو تم کر لینا ابو نے کہا کل پھر تیار ھوکر رہنا باجی بولی ٹھیک ھے پھر شام کو باجی کی گاڑی آگئی باجی بہت خوش ھوئی پھر شام کو ابو آگیا آتے باجی کو چومنے لگا
باجی ابو کو اب روک نہیں رھی تھی ابو نے کہا آج سے کرو گی نہ باجی بولی ہاں کروں گی ابو نے کہا پیسوں کی فکر نہ کرنا پھر رات کو باجی تیار ھوئی میکپ کیا پھر کھانے کے بعد باجی ابو کے روم گئی بہت دیر بعد میں آکر دیکھی باجی اور ابو ننگے ہیں اور چدائی کر رھے ہیں کبھی ابو باجی کی چوت چاٹ لیتا کبھی باجی لن چوس لیتی اور چدائی میں مست تھے اس کے بعد تو باجی ابو کے ساتھ ھی سونے لگی لگی پھر باجی ابو کے لن سے پریگنٹ ھو گئی اور باجی کو بیٹا ھوا ابو نے اپنے دوست کے ساتھ شادی کرا دی میں جوان ھو گئی تھی باجی کو دوسرا گھر لےکر دیا باجی اپنے شوھر کے ساتھ دوسرے گھر میں رہنے لگی باجی کو بزنس بھی کھول کر دیا ابو
جب باجی کو بلاتا تو باجی آجاتی ابو جب کہتے جاؤ تو چلی جاتی ابو باجی کو پیسے بھی دیتا ابو کے پاس پیسہ بہت تھا اور ابھی بھی بہت ھے
میں باجی سے زیادہ خوبصورت تھی باجی کے مموں سے میرے بڑے ممے تھے میں کالج میں ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی تو باجی کو بولی میں شادی کرنا چاہتی ھوں ابو کو بتاؤ باجی بولی میں کل آکر بتاؤں گی پھر باجی آئی اور ابو سے چدائی کی میں ویٹ کرنے لگی کب فری ھونگے بہت دیر بعد باجی
باہر آئی بولی ابو بولتا ھے میری پسند کے لڑکے سے شادی کرو گی ورنہ کچھ نہیں دوں گا شوہر کے گھر میں رہنا میں سن کر چپ ھو گئی اور لڑکے سے کورٹ میرج کر لیا چند مہینوں
میں سسرال والوں نے مجھے شوہر کے ساتھ گھر سے نکال دیا پھر ھم کرائے پر رہنے لگے نہ کام نہ نوکری اور مکان کا کرایا تک دینے کو نہیں تھا ایک مہنہ تو باجی سے پیسے لےکر کھاتے رھے پھر
باجی نے منع کر دیا اور ابو کا بولی میں ابو کے آگے رونے لگی ابو نے کہا تم نے کورٹ میرج کیا ھے اب تیرا شوہر تجھے بھوکا مار رہا ھے نہ تمہیں تو سسرال والوں نے نکال دیا میں
بولی ابو میری مدد کرو ابو نے کہا تیرا سارا خرچہ میں اٹھاتا ھوں تم شوہر سے طلاق لےلو ورنہ میرے پاس کبھی نہیں آنا میں روتی ھوئی شوہر کے پاس
آکر رونے لگی شوہر نے کہا ہمارے لیئے یہ بہتر ھے کے ھم الگ ھو جائیں ہمیں گھر والے قبول نہیں کر رھے میں بولی ٹھیک ھے جیسے تم بولو میں نے ابو سے طلاق کی بات کی تو ابو بولا جگہ بتاؤ میں تمہیں لینے آتا ھوں میں اور شوہر نے طلاق نامے پر سائن کیا لڑکے کو بولی تم چلے جاؤ میرا ابو تمہیں دیکھ کر غصہ ھو جائے گا مالک مکان کو میں کرایا چابی دے دوں گی وہ چلا گیا کچھ دیر بعد ابو آیا مالک مکان کو کرایا چابی دے کر ابو مجھے اپنے گھر لایا تین مہینے
بعد ایک دن صبح کو کچن میں آٹا گوندھ رھی تھی تو ابو چڈی پہنے کچن میں آیا میری نظر ابو کی چڈی پر پڑی ابو کا لن چڈی میں فل ٹائٹ کھڑا تھا
کچھ دیر بعد ابو میرے پیچھے سے میری کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میری گانڈ کے ھیپ میں لن رگڑنے لگا میرے ہاتھ آٹے سے بھرے تھے میں چھڑانے کیلئے ہلنے لگی بولتی رھی ابو کیا کر رھے چھوڑو مجھے میں بیٹی ھوں تمہاری ابو کی پکڑ بہت مظبوط تھی ابو نے بہت دیر تک لن رگڑتا رہا میں چھڑانے کیلئے ہلتی رھی پھر ایک دم
میں ہٹ گئی ابو سے بولی ابو پلز ایسا نہ کرو ابو بولا بیٹی کیا ھوا تمہیں ہر چیز دوں گا پھر میں آٹا گوندھنے لگی پھر ایک دم ابو نے میری لاسٹک کی شلوار نیچے کی میری چُوت میں پورا لن ڈال کر زبردست چدائی کرنے لگا مجھے چھڑانا
مشکل پڑ گیا کافی دیر بعد ابو کی پکڑ ڈھیلی ھوئی تو میں زور لگا کر ہٹی شلوار اوپر کرکے بھاگی تو ابو نے مجھے صوفے کے پاس پکڑ لیا ابو ننگا
تھا مجھے صوفے پر لیٹا دیا میری شلوار اوپر کرکے میری چُوت میں لن ڈال چُدائی کرنے لگا ابو نے مجھے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا میرے مموں کو باہر نکال کر دباتا چوستا چدائی کر رہا تھا
میرے منہ میں منہ دیتا تو میں ہٹا لیتی کچھ دیر بعد ابو نے لن نکالا میں جلدی اٹھ کر بیٹھ گئی شلوار پہن لی ابو بولا ناشتہ بناؤ میں ابو کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی ابھی نہیں کرنا پھر ابو نے کچھ نہیں کیا
میں روم میں آئی اور باجی کو کال ہر بتایا کے ابو نے ایسا کیا میں رونے لگی باجی بولی تو کیا ھے تم ابو کی بات مان لو میں نے کال کٹ کر دی مجھے وھی باجی کی پرانی یادیں آنے لگی
کچھ دن تو ابو نے کچھ نہیں کیا آرام سے آتے جاتے کھانا کھاتے میں شکر کیا کے پھر ایک رات کھانا کھاکر ابو اپنے روم چلا گیا میں برتن دھو کر اپنے روم میں آئی کچھ دیر بعد
ابو وھی چڈی پہنے روم میں آیا میں دیکھی ابو کا لن کھڑا تھا اب میں کیا کرتی بھاگ کر کہاں جاتی بیٹھی رھی ابو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے چوم کر کہا بیٹی تم کو کیا مسلا ھے بولو گاڑی لےکر دیتا ھوں بزنس کرنے کیلئے پیسا دیتا ھوں یہ گھر بھی تیرے نام کرتا ھوں ضد چھوڑ دے مان جا میں بولی نہیں ابو
میرے مموں کو دبانے لگا میں ابو کا ہاتھ جھٹک دیا اور میں اپنے دونوں گھٹنوں کو اپنے مموں سے لگا کر دونوں گھٹنو کو ہاتھوں میں زور سے دبا لیا مگر ابو نے نیچے سے میری چُوت کو سہلانے لگا میں نے اپنے پاؤں کی ایڑی کو اپنی چُوت رکھ دیا
مگر ابو سیدھا ھوکر اپنی ٹانگیں پھیلا کر میں اپنے گھٹنوں کو زور سے جپھی ڈالے مموں سے لگائی بیٹھی تھی ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر اپنی گود میں بیٹھایا نیچے سے آبو کا لن کھڑا تھا میری گانڈ میں دبا ھوا تھا ابو نے مجھے زور سے دبایا میری گھنٹے دبنے سے مجھے درد ھوا تو میں اپنی ٹانگیں پھیلائی تو ابو میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھا مجھے گود میں بیٹھایا ھوا تھا مجھے دبانے لگا ابو کے
سینے میں میرے ممے دب رھے تھے ابو نے میری نائٹی اتار دی میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں منع کرتی رھی مگر ابو کہاں رکنے والا تھا پھر ابو نے مجھے لیٹا دیا اور میری چڈی اتار کر میری چُوت چاٹنے لگا پھر میری چُدائی کرنے لگا میں آنکھیں بند کیئے لیٹی رھی بہت دیر بعد میری چُوت کا پانی نکل گیا ابو نے مجھے زبردستی گھوڑی بنایا میں گانڈ اوپر کرکے لیٹی رھی ابو چدائی کرتا رہا پھر میں فارغ ھوئی تو ابو میری چُوت میں فارغ ھو گیا اور چڈی اٹھا کر ننگا چلا گیا میں اٹھی چادر گیلی ھو گئی چادر ہٹادی چُوت کو دھوکر دوسری چادر بچھا کر لیٹ گئی سوچنے لگی کیا کروں
مجھے نیند آگئی کچھ دن بعد پھر ابو گرم تھا میں سمجھ گئی کے آج رات ابو پھر کرے گا میں موبائل کو ریکارڈ پر لگا بولی میرا ابو میرے ساتھ گناہ کرتا میری مدد کرو میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی کچھ دیر بعد
ابو ننگا آیا لن کھڑا کیئے میں بولی پلز ابو نہ کرو شرم کرو میں آپ کی بیٹی ھوں ابو چدائی کرنے لگا میں ہٹتی بچتی ابو کی پکڑ مظبوط تھی ابو فارغ ھو کر چلا گیا میں نے دھندلی ویڈیو کرکے فیس بک پر اپلوڈ کر دی پھر کچھ دن بعد باجی کا فون آیا مجھے بہت ڈانٹی میں بھی نہیں مانی
اینکر سب میری ویڈیو بناتے میں بتاتی کے ابو کیا کرتا ھے میری باجی ابو کو خوش کرتی ھے ابو کو تھانے دے دیا گیا باجی بولی اب سکون آیا ابو کو تھانے بھیج کر اس طرح تو کسی کو پتا نہیں چلتا تونے اپنے ساتھ میری بھی بدنامی کر دی تمہیں سوائے پچھتاوے کچھ نہیں ملنے والا بڑی مہان بن گئی اپنی اور ہماری بدنامی کرکے پھر کچھ دن گزرے گھر میں کھانا کچھ نہیں راشن نہیں نہ میرے پاس پیسے تھے میں پانی پی کر سو جاتی مجھے چکر آنے لگے میں رونے لگی ایک لڑکی اینکر آئی میں رو پڑی کے میں نے کچھ دنوں سے کھانا نہیں کھایا لڑکی نے کھانا منگوایا میرا انٹرویو لےکر بولی اب تم کیا چاہتی ھو تمہارے ابو کو پھانسی دی جائے پھانسی کا نام سن کر میں کانپ کر بولی پھانسی نہیں میرا ابو ھے مجھے پال پوس کر بڑا کیا ھے اینکر بولی
پھر تم انصاف کیا لینا چاہتی ھو میں بولی بس ابو مجھے تنگ نہ کرے اینکر بولی اگر وہ مان جائے تو اسے چھوڑ دیں میں بولی ہاں بلکل میرا ابو ھے پھر اینکر مجھے ابو سے ملانے لےکر آئی آبو رونے لگا ابو کو روتا دیکھ کر مجھے ابو پر ترس آگیا آخر میرا ابو تھا
اینکر نے ابو سے قسم لی کے تم دوبارا بیٹی کو تنگ نہیں کروگے ابو نے وعدہ کیا پھر ابو کو چھوڑ دیا ابو گھر آتے ھی بمار ھو گیا باجی بھی آگئی باجی مجھ پر بہت غصہ تھی بولتی کیا ملا تم کو اگر کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اگر تم چپ رہتی تو کیا ھوتا کچھ دیر میں ایمبولینس آئی آبو کو استعمال لے گئے چار گھنٹے بعد ابو کو گھر لائے باجی ساری رات ابو کے ساتھ رھی تین دن میں ابو بلکل ٹھیک ھو گیا اور آفس چلا گیا مجھ سے بات نہیں کرتا تھا میں چپ رہتی تھی
میں خود اپنے پر شرمندہ تھی کے میں نے یہ کیا کر دیا گھر کی باتیں باہر لائی ابو میری طرف دیکھتا نہیں تھا نہ بات کرتا تھا باجی کو کال کی میں سوری کرتی رونے لگی باجی بولی اچھا اب جو ھوا آگے سے ایسا نہیں کرنا میں بولی ابھی
ایسا نہیں کروں گی باجی بولی ابو سے سوری کر لے اور اس کو خوش کر دینا ابو مان جائے گا کرے گی ابو سے میں بولی ہاں زندگی بھر کروں گی بولی ٹھیک ھے تیار ھو جانا ابو کی الماری میں نائٹی پڑی ھے میکپ کرکے پہن لینا رات کو ابو کو سوری کرتی گرم کر لینا
میں بولی ٹھیک ھے آپ ناراض تو نہیں ھو باجی بولی ابو مان گیا تو میں بھی مان گئی کال کٹ کر دی سوچ کر میں اٹھی اور واشروم گئی میری چُوت کے بال بڑے ھو گئے تھے چُوت کے بال صاف کرتی مجھے ابو کی پچھلی چدائی چھیڑ چھاڑ لن رگڑنا یاد آیا ابو کا موٹا لمبا طاقتور لن یاد آیا میں گرم ھو
گئی اور اپنی چُوت میں انگلی کرنے لگی بولی اف ابو آج سے میں آپ سے بہت چدائی کیا کروں گی باجی کے سوا کسی کو نہیں بتاؤں گی خیر چُوت کے بال صاف کرکے میں میکپ کیا اور ابو کی الماری میں سے نائٹی نکال کر پہنی تو میں تو ہوری کی پوری ننگی نظر آرھی تھی میں بہت گرم ھو گئی
میرا شوہر جلدی فارغ ھو جاتا تھا میری سیل کھولتے بھی فارغ ھو جاتا تین دن بعد میری سیل کھولی اور فارغ ھو گیا شوہر کو بولی کوئی گولی کھاؤ شوہر گولی کھاتا پھر بھی زیادہ دیر نہ ٹک پاتا تھا شوہر کا لن بھی پتلا اور چھوٹا تھا
شوہر میری چُوت چاٹ کر مجھے فارغ کر دیتا تھا پہلی بار جب ابو نے لن ڈالا تو ایسا لگا کے واقعی میری چُوت میں لن گیا ھے پھر مجھے صوفے پر جو چدائی کی تھی پھر روم میں چدائی کی وھی نظارے اب مجھے مزے کے لگ رھے تھے میں ابو کا ویٹ کر رھی تھی ابو بہت ناراض بھی تھا مجھے ابو کو آخر منانا بھی تھا
ڈور بیل بجی میں جاکر ڈور کھولی مسکرا کر ابو کو دیکھی ابو نے مجھے دیکھا تک نہیں ابو اپنے روم کی طرف جا رہا تھا میں ڈور بند کرکے ابو کے آگے آکر آبو کو بانھوں میں بھر
کر چومتی چومتی ابو سے بولتی ابو سوری یہ میری پہلی اور آخری نادانی سمجھ کر مجھے معاف کر دو مگر ابو مجھ سے ہٹ گیا اور روم میں چلا گیا میں اپنے روم میں آکر
تھوڑا میکپ سہی کرکے ابو کے روم میں آئی آبو وھی چڈی پہن کر بیٹھا تھا میں آکر ابو
کو بانھوں میں بھر کر چومتی بولنے لگی ابو مجھے معاف کر دو ابو چپ ےتھا میں ابو کو بانھوں میں بھری بھری ابو کی گود میں بیٹھ گئی ابو کے سوئے لن پر اپنی گانڈ ہلاتی ھوئی ابو کو چومتی بولی ابو میں صرف اب آپ سے کیا کروں گی مجھے معاف کر دو اور مان جاؤ ابو کا لن فل ٹائٹ کھڑا ھو گیا میں نے ابو کی چڈی سے لن نکال کر میں اپنی چُوت میں لن لے کر چدائی کرتی ابو کے منہ میں منہ دیا کچھ دیر بعد ابو نے مجھے باھوں میں بھر کر چومنے لگا میں بولی اف ابو سوری اب
دن رات صرف آپ کو خوش رکھوں گی پھر میں نے آبو کی چڈی اتار کر ابو کا لن دیکھی ابو کا لن تو بہت موٹا اور لمبا تھا مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا اور میری چُوت میں فٹ تھا
میں ابو کے لن کو چومنے لگی ابو بھی مستی میں میرے مموں کو دباتا چُوستا چُومتا میں ابو کے لن کو چوپے لگانے لگی مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر میں گھوڑی بن گئی ابو نے ایسی چُدائی کی کے بہت دیر بعد میں فارغ ھو گئی مجھے ابو کا لن بہت پسند آیا ابو پھر چدائی کرنے لگا پھر میں فارغ ھوئی ابو نے کہا کھانا لگاؤ میں ننگی کچن میں آئی کچھ دیر بعد ابو آیا اور چدائی کرنے لگا میں کھانا گرم کرنے لگی میں پھر فارغ ھو گئی کھانا کھا کر پھر صبح تک چدائی کی ابو کو آفس نہیں گیا میں نے باجی کو بتا دیا کے ابو سے میں نے کر لیا ھے باجی سن کر خوش ھوکر بولی تجھے مزہ آیا میں بولی اف بانی صرف مزہ مجھے نہیں پتا تھا کے ابو کے لن میں اتنا بہت مزہ ھے باجی بولی ہاں یار ابو کا لن بہت مزے کا ھے پھر مجھے ابو کے لن کی ایسی لت لگی کے بس مت پوچھو
میں ابو کے لن کے بنا نہ رھے پاتی تھی دن رات ابو سے بس چدائی کرتی رہتی ابو کا لن کھڑا رہتا ابو دیر سے فارغ ھوتا
ایک مہینے بعد مجھے ماہواری شروع ھو گئی میری چُوت پر ابو نے پیڈ لگایا چڈی پہنائی پھر میں ابو کے لن سے مست ھو گئی ابو نے مجھے نیچے کیا میرے اوپر آکر مجھے میرے مموں کو دباتے چوستے کہا
بیٹی گانڈ چودنے دو گی میں بولی ابو چود لینا ماہواری ختم ھو جائے پہلے چوت کی چدائی کرنا ابو نے کہا بیٹی تمہاری گانڈ کھولوں گا اور تجھے درد
بھی نہیں ھوگا میں بولی سچ میں ابو تو کہا اپنی باجی سے پوچھ لینا پھر ابو کو کچھ سامان لینے جانا تھا ابو کپڑے پہن کر گیا کچھ دیر باجی کی کال آئی میں بولی باجی ابو نے جب تمہاری گانڈ ماری تھی درد
ھوا تھا باجی بولی ہاں یار مجھے درد نہیں ھوا تھا بولی تم گانڈ دینے والی ھو کیا میں بولی ہاں ابو کی فرمائش ھے باجی بولی آج دو گی میں بولی ابھی تو ماہواری چل رھی ھے ختم ھوگی تب باجی بولی ابو
تمہاری بہت تعریف کرتا ھے میں بولی سچی بولی ہاں میں بولی ابو کیا کہتا ھے بولی ابو کہتا ھے تم بہت خوش رکھتی ھو ٹائم پر دوائیاں دیتی ھوں
اور بس ابو کو مست رکھتی ھوں ابو تم سے بہت خوش ھے پھر کال ختم کی کچھ دیر بعد ابو آگیا ابو کو بولی آج مجھے لن کا پانی پلاؤ بولا ٹھیک ھے
پھر ابو کے لن کو بہت گھنٹے چوستی چومتی رھی ابو کے لن کا پانی بہت نکلا میں سارا پانی پی گئی ابو سے بولی صرف کے لن کا پانی پیا ھے اور کسی کا پانی نہیں پیا پھر کچھ دن بعد ماہواری ختم
ھوئی تو رات کو ابو نے میری گانڈ آرام آرام سے کھول دی پھر گانڈ اور چوت کی چدائی کرتا رہا میں تو دن رات لگی رہتی اور چوت پانی نکالتی
رہتی اور میں چدائی کرتی رہتی میرا من نہیں بھرتا تھا ابو شروع سے سے حکیمی معجون کشتہ گولیاں کھاتا تھا اس لیئے ابو کا لن ساری ساری رات کھڑا رہتا میں لن سے مست رہتی اور ابو کا تین چار گھنٹے بعد لن سے پانی بہت نکلتا تھا مگر میں بار بار پانی چھوڑ دیتی پھر کچھ دن میری طبیعت خراب ھونے لگی مگر
میں چدائی کرتی چوت پانی پانی ھوتی رہتی ایک دن کچن میں ابو پیچھے سے میری چوت گانڈ کی زبردست چدائی کر رہا تھا مجھے بہت مزہ آرہا تھا طبیعت بھی خراب تھی مجھے چکر آنے لگے میں گرنے لگی ابو اٹھا کر مجھے روم میں لایا بولا ڈاکٹر کے پاس چلو میں بولی پہلے مجھے فارغ کرو پھر ابو نے مجھے فارغ کیا مجھے
لیڈی ڈاکٹر کے پاس لایا مجھے کہا تم ابو نہیں کہنا ھم دوست ہیں میں بولی ٹھیک ھے پھر ڈاکٹر نے چیک کرکے میری طبیعت کا بتایا کے اسے کمزوری آگئی ھے سیکس بہت کرتی ھو تھوڑا کنٹرول کرو میں بولی میں نہیں رھے پاتی
ڈاکٹر بولی اچھا پھر ایسا کرو میں کچھ داوائیاں لکھ کر دیتی ھو مگر اس میں آپ کو صرف ایک ہفتہ کنٹرول کرنا ھوگا اس کے بعد تم چاھے چوبیس گھنٹے لگی رھوگی گی
کمزوری نہیں آئے گی ابو سے بولی کے اس کا خیال رکھو کشش کرو ایک ہفتہ تم اسے کنٹرول کرو ورنہ اس کی جان بھی جا سکتی ھے ابو نے کہا میں عمل کروں گا پھر ابو نے
مجھے ایک ہفتہ کچھ نہیں کرنے دیا باجی بھی مجھے منع کرتی ایک ہفتہ تو ھے پھر کرنا ھے بس ایک ہفتہ مجھے ایک ایک مہینے کا لگتا لگتا آخر ختم ھوا پھر مجھے ماہواری آگئی باجی ہنس کر بولی چلو کوئی بات نہیں ایسا ھو جاتا ھے پھر جب ماہواری ختم ھوئی تو چدائی کی اور کچھ دن بعد میں پھر چکر کھانے لگی ڈاکٹر کے پاس گئے تو پتا
چلا میں پریگنٹ ھوں ابو سے بولی مجھے بچہ جننا ھے ابو مان گیا باجی مان گئی
No comments:
Post a Comment