Tuesday, December 30, 2025

بیٹی تین مہینے کی پریگننٹ تھی

 بیٹی تین مہینے کی پریگننٹ تھی


بیٹی سے میں پوچھی کے کس نے پریگننٹ کیا ھے بولی ابو نے مجھے شوہر پر بہت غصہ آیا من میں بولی رات کو اب میں بھی بیٹے سے کروں گی شوہر کو ایسا نہیں کرنا چاھیئے تھا 


ویسے بھی میرا بیٹا مجھے بہت گرم رکھتا تھا کچن میں مجھے چھوڑتا نہیں تھا اپنا لن رگڑتا رہتا اور میرے بڑے مموں کو دباتا بانھوں میں بھر کر دباتا مجھے چومتا میں بیٹے کا چڈی پر لن پکڑ لیتی اور مٹھ بھی مار دیتی جب شوہر رات کو گھر نہیں ھوتا تو بیٹا میرے روم میں آجاتا اور مجھے بہت مست کر دیتا بیٹا میرے ساتھ سو جاتا جب بیٹا میرے ساتھ میرے روم بیڈ پر ھوتا تو کبھی بیٹا مجھے اپنے اوپر کرتا کبھی مجھے نیچے کرتا کبھی میری ٹانگیں اوپر کر کے شلوار پر میری چُوت پر لن رگڑتا میں


اوپر ھوتی تو بیٹے کے لن پر اپنی چُوت بہت رگڑتی اور میں بیٹے کو چومتی بیٹے کے ھونٹ زبان چوستی بیٹے کو صرف کپڑوں کے اوپر اوپر سب کچھ کرنے دیتی بیٹا میری شلوار پر میری چُوت بہت چاٹتا چومتا قمیض پر میرے مموں کو بہت دباتا چومتا میرے چہرے کو چومتا میرے ھونٹوں کو چوستا میری زبان چوستا میں فارغ ھو جاتی میری شلوار گیلی ھو جاتی پھر بیٹا کبھی چڈی اور برا تب پہنتی جب بیٹا بہت گرم ھوتا یا میں گرم ھوتی بیٹا مجھے الٹا کر دیتا 


اور میری موٹی گانڈ کے موٹے ھیپ میں لن رگڑتا جب کبھی میں بہت گرم ھوتی تو بیٹے کو پتلی چڈی پہنے کو بولتی اور چڈی کے ساتھ بیٹے کے لن کو منہ لےکر چوستی بیٹا فارغ ھوتا تو لن کا پانی چڈی سے باہر نکلتا تو میں سارا پی جاتی 


 مجھے شوہر پر غصہ اس لیئے تھا کے شوہر سے میری بات یہ ھوئی تھی کے شوہر جب بیٹی کی چدائی کرے گا تو مجھے بتا کر کرے گا اگر میں بیٹے سے چدائی کروں گی تو شوہر کو بتا کر کروں گی مگر شوہر نے کر لیا مجھے غصہ اس بات کا تھا آج ویسے بھی ماں کا دن 


تھا اور میں بیٹے کو گفٹ میں چدائی سے خوش کروں پھر رات کو بیٹا میرے روم میں آیا اور مجھے ایک نائٹی گفٹ کی ساتھ میں کارٹ بھی تھا بولا امی ھیپی مادرس ڈے ھے تو آپ میرے لیئے یہ پہنو گی میں 


بولی کیوں نہیں ابھی پہن کر آتی ھوں میں واشروم جاکر پہنی میرا سارا بدن ننگا آرہا تھا میں باہر آئی بیٹے نے دیکھ کر تعریف کی مجھے چومنے لگا مموں کو دبایا پھر بولا امی وہ کارٹ پڑھو میں کارٹ اٹھاکر پڑی لکھا تھا امی آپ کو ماں کا 


دن مبارک ھو کیا ھم کپڑے اتار کر کرسکتے ہیں میں مسکرا کر بولی اف میرا بیٹا جو کرنا ھے کر لو پھر پھر بیٹے نے مجھے چومتے چومتے ننگا کر دیا مجھے چومتا دباتا ھوا میری چُوت چاٹنے لگا میں بہت گرم ھو گئی اور بیٹے کا لن چوسنے لگی پھر میں گھوڑی بنی اور بیٹا چدائی کرنے لگا میں چار بار فارغ ھوئی بیٹا دو بار فارغ 


ھوا اس کے بعد بیٹا اور میں روز روم میں چدائی کرتے کچن میں مجھے چھوڑتا نہیں تھا بس چدائی کرتا رہتا ایک دن کچن میں بیٹی آئی بہت گرم تھی اور بھائی سے لیپٹ گئی بولی مجھے چدائی کرنی ھے میں بولی تم روم میں چلے جاؤ 


میں کھانا بنالوں پھر بیٹا بیٹی روم چلے گئے کھانا بن گیا تو دونوں آگئے بیٹا آتے ھی میری چُوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا میں بولی ابھی من نہیں بھرا بولا امی آپ سے نہیں بھرتا بہت مزہ ھے آپ میں پتا نہیں ابو آپ سے دور کیوں ھے میں بولی بیٹا وہ ھم سب کیلئے کمائی کرتا ھے تم 


ھو نہ میرے پاس بیٹا بولتا ابھی جو مزہ تجھ میں ھے پتا نہیں میری بہن میں نہیں ھے ایک مہنہ بیٹے سے چدائی کی پھر ماہواری شروع ھو گئی ختم ھوئی تو بیٹے کے لن سے پریگننٹ ھو گئی ایک ہفتہ ھوا تھا شوہر بھی آگیا میں شوہر پر بہت غصہ ھوئی کے تم نے بنا بتائے کیوں کیا یہاں تک کے 


اسے پریگننٹ کر دیا شوہر نے کہا یار پتا ھے کیا ھوا تھا اس رات تم سوئی تھی تو بیٹی ننگی آکر مجھے چومنے لگی میرا لن چوسنے لگی بولی ابو چدائی کرو میں نے کہا تمہاری امی کو بتائے بنا کیسے کروں مگر بیٹی گرم تھی بولی امی کو میں نہیں بتاؤں گی چدائی کرو میں نے کہا تیرے روم میں چلتے ہیں بس پھر سیل کھول کر چدائی کرتا رہا اور پریگننٹ 


ھو گئی شوہر نے کہا تم بیٹے سے کرلو میں مسکرا کر بولی کر لیا ھے جب پتا چلا بیٹی پریگننٹ ھے اسی رات کر لیا 


۔۔۔۔۔بقیہ حصہ کمنٹ کریں۔۔۔۔ 

No comments:

Post a Comment