شنو جان کی سیکس جوانی

Monday, December 8, 2025

امی بولی رخسانہ درد ھو تو بتانہ

 ھیلو دوستوں کیسے ہیں آپ میرا نام رخسانہ ھے میں 


 گھر میں مجھے ابوامی سے وہ سب کچھ ملا جو کسی بیٹی کو اپنے گھر میں شاید کبھی نہیں ملا


میں اس وقت دس سال کی تھی امی ابو کے ساتھ سوتی تھی ابو بیچ میں سوتا تھا میں ابو کے ساتھ سوتی تھی اور


 ابو مجھے بہت پیار کرتا تھا مجھے دباتا چومتا میرے ھونٹ چوستا ابو کا لن بھی میری ٹانگوں میں کھڑا ھوتا


 ابو کی میں ہر بات مانتی 

 ابو مجھے بہت پیار کرتا ابو جو کہتا میں سب کرتی کیونکہ ابو کے پیار میں مجھے بہت مزہ آتا 


جب ابو کی دو دن کی چھٹی ھوتی تو ابو مجھے چھوڑتا نہیں تھا امی گھر کا کام کر رھی ھوتی تھی ابو کا سارا دن لن کھڑا ھوتا مجھے اپنی گود میں بٹھاتا میں بیٹھتی تو ابو لن کو لیٹاتا میں گود میں بیٹھتی مجھے بہت مزہ آتا ابو مجھے باھوں میں دباتا چومتا ھوٹ چوستا جب امی ابو چدائی کرتے تو امی مجھے بہت پیار کرتی امی فارغ ھوکر سو جاتی ابو مجھے پیار کرنے لگ جاتا


ایک دن صبح کو ابو مجھے چوم رہا تھا میں ابو کی طرف گانڈ کرکے لیٹی تھی ابو میری ھیپ میں لن رگڑتا میری چڈی میں ہاتھ ڈال کر میری چُوت کے ھونٹوں میں اپنی انگلی رگڑنے لگا اف مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر ابو نے میری چڈی اتار کر اپنا ننگا لن میری ھیپ میں رگڑنے لگا مجھے چوم کر بولا رخسانہ الٹی ھونا میں الٹی ھو گئی ابو میرے اوپر آکر ابو نے میری ھیپ میں بہت دیر تک لن رگڑتا رہا میں بھی مزے میں لیتی تھی


ایک رات کو امی جلدی سو گئی ابو مجھے اپنے اوپر لیٹا کر چوم رہا تھا ابو نے اپنی ٹانگوں سے میری ٹانگوں کو آہس میں ملایا ھوا تھا اور میری چوتڑوں میں ابو کا لن تھا ابو سلوسلو لن کی حرکت کرتا مجھے چومتا چاھو میں دبا رہا تھا


 میں اپنی گانڈ اوپر نیچے تیز تیز کرنے لگی ابو کا لن میری چوتڑوں میں اندر باہر ھو رہا تھا ابو میری گانڈ کے ھیپ دبا رہا تھا میری چوت کو سہلاتا


ابو سے میں بولی ابو مجھے پینا ھے ابو نے پوچھا کیا پینا ھے میں بولی وھی جو آپ امی کو ہلاتے ھو ابو بولا کیا پلاتا ھوں میں ابو کا لن پکڑ کر بولی اس کا رس پینا ھے ابو نے کہا رخسانہ بیٹی سیدھا کہو کے تمہیں لن کا رس پینا ھے میں بولی ہاں تو ابو نے کہا اچھا بیٹی ٹھیک ھے پہلے ھم پیار کریں پھر تم چوس کر رس پی لینا میں بولی ٹھیک ھے ابو نے کہا یہاں تمہاری آوازوں سے تیری امی کی نیند خراب ھو جاتی ھے ھم ایسا کرتے ہیں دوسرے روم میں چلتے ہیں میں بولی ٹھیک ھے ابو چلو پھر میں ابو کے سینے سے چپک گئی ابو مجھے چومتا اپنے روم سے باہر نکلا میں ابو کو چومتی بولی ابو امی بولتی ھے آپ کا رس دیر سے نکالتا ھے ابو نے کہا ہاں بیٹی اس لیئے تو دوسرے روم میں جارھے ہیں تاکہ بہت دیر تک میں رخسانہ بیٹی کو پیار کروں 


ابو مجھے اٹھایا ھوا روم میں آیا بیڈ پر مجھے چومتا بٹھا کر بولا لن چوسے گی میں بولی ہاں بولا چوس کر رس پی لے پھر میں ابو کا لن چوسنے لگی اور ابو میری چوت چاٹنے لگا میری چوت گانڈ پر لن رگڑتا رہا پھر میں لن چوسنے لگی ابو کے لن کا سارا رس میرے منہ میں گرماگرم نکلا میں مزے سے ہی گئی ابو نے پوچھا مزہ آیا رس پینے کا میں بولی بہت مزہ آیا 


ایک دن صبح کو ابو مجھے چوم رہا تھا میں الٹی لیٹ گئی ابو میرے اوپر اکر میری گانڈ کو اوپر کیا تو میں گھٹنوں کے بل ھو گئی ابو میری چُوت چاٹنے لگا اف میں تو امی کی طرح سیکسی آوازیں نکالنے لگی ابو سے کہتی ابو بہت مزہ آرہا میری آواز سن کر امی اٹھ گئی مجھے مستی میں دیکھ کر میرے پاس ھوکر مجھے چومنے لگی بولی مزہ آرہا ھے کیا میں بولی ہاں امی بہت مزہ آرہا ھے امی بولی اچھا تم کھیلو میں ناشتہ بناتی ھوں ابو نے امی کو کہے کر پکڑ لیا تو کہاں جاتی ھے امی کی چدائی کرنے لگا میری چوت کو چاٹتے چاٹتے بہت مزہ آرہا تھا 


ایک رات ایسا ھوا کے امی فارغ ھوکر کپڑے پہن کر سو گئی ابو مجھے پیار کرنے لگا میرے جسم کو سہلانے لگا میری گانڈ کے ھیپ دبانے لگا میری چوت پر انگلی رگڑتا مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا میں ابو کو باھوں میں بھر کر چوم رھی تھی ابو نے مجھے چوم کر کہا رخسانہ تمہاری چڈی اتاروں میں خوش ھوکر بولی اتار دو


ابو اٹھا واشروم سے لوشن کی بوتل لایا میرے منہ کے پاس کھڑا ھوا اور ابو نے اپنی چڈی اتاری تو ابو کا کھڑا لن دیکھ کر میں نے پکڑ لیا اور ابو کو دیکھ کر مسکرانے لگی ابو نے دیکھ کر بولا کیا ھوا رخسانہ میں بولی بہت پیارا ھے میں ابو کے لن کو چومنے لگی پھر منہ میں لیا ابو بھی سلوسلو میرے منہ کو چودنے لگا ابو کا لن چوسنے میں مزہ آرہا تھا ابو جھک کر میری گانڈ اور چوت کو سہلانے لگا امی اٹھی دیکھ کر ابو کو بولی کہیں چوت میں نہ ڈال دینا ابو نے کہا میں تو اپنی بیٹی کو پیار کر رہا ھو امی بولی لوشن کیوں لائے ابو نے کہا گانڈ کیلئے لایا ھوں امی بولی پھر ٹھیک ھے 


پھر کہا مگر خیال رکھنا ابھی بچی ھے پاپا نے کہا مجھے پتا ھے ابھی بارہ سال کی ھے امی بولی اچھا تم کھیلو میں پیشاب کرتی ھوں میں تو ابو کا لن چوستی رھی آبو بھی میرے منہ میں لن اندر باہر کرتا رہا پھر امی آکر ہماری طرف منہ کرکے لیٹ گئی ابو نے کہا امی کی طرح گھوڑی بنو میں گھوڑی بنی ابو میری چوت چاٹنے لگا اف مجھے اتنا مزہ آیا کے امی کی طرح اف ھائے مزہ آرہا ھے امی بولی اف میری بیٹی کو مزہ آرہا ھے میں بولی ہاں امی 


پھر ابو میری گانڈ کی مساج کرنے لگا گانڈ چوت کی مساج کرنے لگا میں نے امی کو پکڑ لیا امی میرے پاس ھوکر مجھے چومنے لگی پھر ابو میری گانڈ کے سوراخ میں ٹوپہ ڈالنے لگا 


امی بولی آرام سے ڈالنا بچی کو درد ھوگا ابو نے کہا تمہیں درد ھوا تھا امی ہنس کر بولی نہیں تو مگر رخسانہ ابھی بچی ھے ابو نے کہا آرام سے ڈالوں گا 


امی بولی رخسانہ درد ھو تو بتانہ میں بولی ہاں امی تو ابو آرام آرام سے اپنے لن کو میری گانڈ میں اندر کرتا اندر باہر کرتا اندر کر رہا تھا امی مجھے چوم رھی تھی اور میری چوت کو سہلا رھی تھی ابو کا آدھا لن میری گانڈ میں چلا گیا تھا اور


امی باربار درد کا پوچھتی مجھے تھوڑا تھوڑا درد ھو رہا تھا میں امی کو نہیں بتائی ابو نے ایک زور کا جھٹکا لگایا تو پورا لن میری گانڈ کے اندر چلا گیا مجھے درد ھوا لیکن برداش کیا امی کو پتا نہیں چلنے دیا 


ابو تو زبردست میری گانڈ کی چدائی کر رہا تھا میری گانڈ میں ابو کا پورا لن اندر باہر ھو رہا تھا اور مجھے بہت مزہ آرہا تھا امی بولی ابو کے لن کا رس پیوں گی میں ہاں بولی امی نے 


ابو سے کہا فارغ ھونا تو رخسانہ کے منہ میں ھونا ابو نے کہا ہاں بہت دیر تک ابو نے چدائی کی پھر کہاں پیو رخسانہ میں جلدی سے لن کو منہ میں لیا اور رس پی گئی 


پھر میں جوان ھو گئی ابو میرے مموں کو بہت چوستا دباتا ایک رات مجھے پیرڈ آگئے 



بقیہ حصہ کمنٹ کرنے پر شیر کیا جائے گا


No comments:

Post a Comment