شنو جان کی سیکس جوانی

Tuesday, November 11, 2025

پیاسی خالہ جوان بھانجا

 پیاسی خالہ جوان بھانجا


ایک دن صبح کو ایسا ھوا کے میں ناشتہ تیار کرکے بھانجے کو اٹھانے گئی وہ بیڈ پر نہیں تھا تو واشروم سے مجھے شاور سے پانی برسنے کی آواز آئی واشروم کا ڈور کھلا تھا تو سامنے بھانجا شاور کے نیچے اپنا کھڑا لن سہلا رہا تھا میں بھانجے کا لن دیکھ کر خود کو روک نہ پائی اور اندر آئی تو بھانجا مجھے دیکھ کر چونکہ میں نے آکر بھانجے کے لن کو پکڑ لیا میرے کپڑے بھیگ گئے اور میں بھانجے کے لن کو چومتی چوستی رھی اوپر سے پانی برس رہا تھا بہت دیر تک میں مست رھی آخر بھانجے کا لن کا سارا پانی میرے منہ میں نکلا میں سارا پانی پی کر اٹھی اور بھیگی ھوئی اپنے رام میں آئی اور واشروم میں شاور کے نیچے کھڑی ھو گئی اور پانی برسنے لگا میں ننگی ھوگئی اور خود کو ملامت کرنے لگی کے یہ میں نے کیا کر دیا اپنے بھانجے کے ساتھ توبہ توبہ کرتی میں اپنے منہ پر طمانچے مارنے لگی اور نہا کر باہر آئی اور ناشتہ لگا کر میں شرمندگی سے اپنے روم چلی آئی بھانجے کا سامنا نہیں کر پا رھی تھی میں اپنے روم میں سدھ مدھ لیٹی ھوئی تھی کے یہ مجھ سے کیا ھو گیا پھر بہت دیر بعد میں باہر آئی بھانجا ناشتہ کرکے جا چکا تھا پورا دن میں خود کو ملامت کرتی اور کوستی رھی سوچتی بہن کو پتا چلا تو کس منہ سے جاؤں گی اور کیا جواب دوں گی پھر سوچی صبح بھانجے کے سامنے آنے کی ہمت بھی نہیں تھی بس اب نہیں کروں گی سارا دن کشمکش میں رھی پھر شام ھونے لگی تو مجھے بھانجے کا لن آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگا میں خود کو کہتی نہیں یہ نہ سوچ مگر اس سوچ میں گرم ھو گئی بھانجے کا لن مجھے بہت پسند آیا تھا پھر روم میں آکر ننگی ھو کر اپنی چوت میں انگلی مارتی اپنے بڑے مموں کو چوسی مگر پہلے سے زیادہ گرم ھو گئی اور بھانجے کا موٹا لمبا لن میری آنکھوں میں آگیا میں اپنے مموں کو چوستی چوت میں انگلی کرتی ذہن میں ایا کے بھانجے کا موٹا لمبا لن میری اس چوت میں جائے گا تو کتنا مزہ آئے گا میں سوچنے لگی آخر میں سوچی کے بھانجے کو میں سمجھا دوگی کے وہ کسی کو نہ بتائے میں بھی کیا کرتی تین بیٹوں کے بعد شوہر چل بسا پھر تینوں بیٹے جوان ھو گئے اور شادیاں کرکے الگ الگ رہنے لگی میں پانچ سال سے اکیلی رہتی تھی بچے کبھی پلٹ کر نہ آئے تو مجھے اکیلی پن میں شوہر کی چدائی اور لن کی یادیں بہت گرم کر دیتی پہلی بار میں ننگی ھوکر سیکس کیا پھر اس کے بعد میں بہت سیکس کرتی اور گھر میں ننگی رہتی تھی من بہت کرتا لن لینے کو مگر ۔۔۔۔ من بہت کرتا لن لینے کو مگر بدنامی سے ڈر لگتا کوئی مرد مجھے پسند آتا تو اس کے نام کی سیکس کرکے چوت کا پانی نکال دیتی سوچتی اس کا لن چوس رھی ھوں وہ میرے مموں کو چوس رہا ھے میری چوت کی چدائی کر رہا ھے اور اسی طرح میں بہت سے مرد کے نام سے سیکس کرتی اور چوت کا پانی نکالتی میرا من بھی بہت کرتا تھا کے کسی کو سیکس کا بولوں مگر بول نہیں پاتی تھی کہیں بدنام نہ ھو جاؤں مگر میں لن لینا چاہتی اور بہت تڑپ اور پیاسی ھو گئی لن لینے کو مررھی تھی اور اسی طرح پانچ سال ھو گئے میں نے لن کو دیکھا بھی نہیں تھا اور لن کیلئے ترس بھی گئی تھی جب بہن نے اپنے بیٹے کا بولی تو میں سمجھی میرا بیٹا ھے مگر بھانجے کو دیکھ کر میرے من میں کبھی کوئی ایسا خیال نہیں تھا بھانجے کو تین مہینے ھو گئے تھے میرے ساتھ رہتے ھوئے مگر بھانجے کا کبھی نہیں سوچی تھی مگر میں سیکس ہر رات کرتی تھی بس دل سے لن کو یاد کرتی تھی کے صرف ایک بار لن کا دیدار تو ھو پندرہ سال سے لن کی شکل نہیں دیکھی تھی میری خواہش لن کا دیدار کرنے کی پوری تو ھوئی مگر لن بھانجے کا تھا پھر من میں آیا کیا کے بھانجے کا لن کتنا پیارا ھے موٹا ھے لمبا ھے لن کا ٹوپہ تو بہت موٹا ھے من میں آیا کے بھانجے کو سمجھا دوں گی کے گھر کی بات گھر میں رھے پھر بھانجے کا لن زہن میں آنے لگا سوچی ھے تو بھانجا سمجھ دار بھی ھے بھانجے سے کر لوں گی کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا پھر میں سوچی کے آج رات ایک بار کروں گی اسی کشمکش میں سات بج گئے اور میں بھی بھانجے کا لن لینے کا ارادہ پکا کر لیا تھا پھر کچھ دیر بعد بھانجا بھی آگیا میری نظر جب بھانجے کے چہرے پر پڑی تو مجھے بھانجہ بہت پیارا لگا من میں آیا کے اب بھانجا ھی میری پیاس بجھایا کرے گا آج ھی بھانجے کو جنت کی سیر کراتی ھوں یہ سوچ کر میں بہت گرم ھو گئی پھر کھانے کیلئے بھانجا بیٹھا تو میں نے پوچھا آج کا دن کیسا گزرا بھانجا بتانے لگا بہت اچھا گزرا میں نے گرم گرم روٹی لائی اور بھانجے کے کندھے میں مموں کو دبا دیا اور روٹی آگے رکھی بھانجا مجھے دیکھنے لگا میں نے کہا کھانا کھا لو پھر میرے روم میں چلنا بھانجے نے کہا کوئی کام ھے میں نے کہا ہاں ھے مگر پہلے کھانا آرام سے کھاؤ جب بھانجے نے کھانا کھا لیا تو میں چلنے کو بولی پھر میرے ساتھ بھانجا میرے روم میں آیا میں بھانجے کو اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھایا میں نے کہا صبح جو ھوا وہ کسی کو نہیں بتانا یہ بات ھم دونوں کے بیچ میں رھے گھر کی بات گھر میں رھے تو بہتر ھے بھانجے نے کہا خالہ آپ بےفکر رہیں میں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا میں بھانجے سے پوچھی کے ایک بات سچ بتاؤگے بھانجے نے کہا جی خالہ سچ بتاؤں گا میں بھانجے کے قریب ھوکر بولی صبح تم مٹھ کیوں مار رھے تھے بھانجا شرماکر مسکرانے لگا میری نظر بھانجے کے لن پر پڑی بھانجے کی چڈی میں کھڑا تھا میں بھانجے کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ کے اوپر رکھ کر اپنے ہاتھ کو نیچے کیا تو بھانجے کے لن پر رکھا بھانجے کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا میرا ہاتھ نیچے لن پر تھا بھانجے نے کہا خالہ سچ تو بات یہ ھے کے میں آپ کو سیکس کرتے دیکھتا تھا رات کو تمہں سیکس کرتی بہت گرم ھو گیا اور صبح بھی گرم تھا تمہارے نام کی مٹھ مار رہا تھا تو اچانک آپ آگئی یعقین جانی خالہ میں بہت خوش ھوا اور بہت مزہ آیا میں نے کہا میں تمیں اتنی پسند ھوں بھانجے نے کہا ہاں خالہ من کرتا ھے آپ کو زندگی بھر پیار کروں میں بھانجے کا لن پکڑ کر اپنا منہ بھانجے کے منہ دیا اور ھم ھونٹ زبان چومنے چوسنے لگے میں بھانجے کے لن کو مٹھ مار رھی تھی بھانجا میرے بڑے مموں کو دبا رہا تھا پھر میں بیڈ پر سیدھی ھوکر بیٹھ رھی تھی بھانجا بھی بھانجے نے کہا خالہ آپ بہت ھوٹ ھو بھانجا بیڈ پر گھٹنوں کے بل کھڑا تھا میں نے بھانجے کی چڈی نیچے کی اور بھانجے کے لن کو چومنے لگی منہ لیا چوسا پھر بھانجے نے مجھے لیٹا کر میری چوت دیکھ کر بہت تعریف کی میں بہت گرم تھی کے اب آئے گا مزہ بھانجا میری چوت کو چومتا چوستا چاٹتا رہا میں فل مزے میں بھانجے کو پیار کرتی بہت دیر تک بھانجا میری چوت کو پیار کرتا رہا پھر بھانجا میری چوت پر لن کا ٹوپا رگڑنے لگا میں تو مستی میں تھی پھر بھانجا میری چوت میں لن ڈالنے لگا اور بڑی مشکل سے پورا لن اندر گیا بھانجے نے کہا خالہ تمہاری تو بہت تنگ ھے میں نے کہا تمہارا لے رھی ھوں پھر ھم نے زبردست چدائی کی بھانجا چدائی کرتے میرے بڑے مموں کو دباتا چوستا چومتا مجھے چومتا میرے ھونٹ گال چومتا ھوا زبردست چدائی کر رہا تھا میں بھی مستی میں بھانجے کو چومے جارھی تھی بہت دیر بعد میں بھانجے کے اوپر آگی اور چوت میں لن لےکر چدائی کرتی بھانجے کو چومتی چومتی بھانجا ماموں کو چومتا دباتا چوستا ھوا نیچے سے چدائی کر رہا میں اوپر سے چدائی کر رھی تھی کچھ دیر بعد میں فارغ ھوکر بھانجے پر گر پڑی بھانجا چدائی کرتا رہا میری چوت میں پڑوچ پڑیچ کی آوازیں آرھی تھی میں پھر گرم ھو گئی مجھے بھانجے کے ساتھ بہت مزہ آرہا تھا پھر بھانجے نے مجھے گھوڑی بننے کو کہا میں کچھ دیر بھانجے کا لن چوسی پھر گھوڑی بن گئی بھانجا نے ایسی چدائی کی میں مست ھو گئی بہت دیر بعد بھانجے نے مجھے نیچے لیٹا کر چدائی کرتا میرے اوپر آگیا چومتے چدائی کر رہا تھا میں فل مستی بھانجے کو چوم رھی تھی سیکس میں میری گرم آوازیں تھی پھر میں فارغ ھوئی تو بھانجا بھی میری چوت میں فارغ ھو گیا اور میرے اوپر گر پڑا اور اچانک ہمیں سکون کی ننگے نیند آگئی اور صبح میری آنکھ کھلی تو ھم ننگے تھے میں بہت خوش ھوئی کے چلو گھر کی بات گھر میں رھی اب روز مزے کروں گی جوان بھانجے کا جوان لن ھے میں بھانجے سے چپک گئی بھانجا بھی جاگ گیا پھر بھانجے نے مجھے دو بار فارغ کیا بھانجا فارغ ھوا تو میں ناشتہ بنانے کچن میں ننگی آئی اور مجھے آدھا گھنٹہ ھوا کے کچھ دیر بعد بھانجا بھی ننگا آگیا اور پیچھے آکر چوت میں لن ڈال کر چدائی کرنے لگا ناشتہ بنا تو میں فارغ ھو گئی پھر بھر کچھ دیر بھانجے کا لن چوستی رھی پھر ناشتہ کیا اس کے بعد میں اور بھانجا بیت چدائی کرتے کچھ مہنے ھو گئے ایک رات بھانجے نے گانڈ کی فرمائش کی میں نے بھانجے کو گانڈ چودنے دیا درد بہت برداشت کیا پھر بھانجا میری گانڈ چوت کی بہت چدائی کرتا میں بھانجے کو بہت پیار کرتی اب بھانجا میری جان بن گیا تھا اور دو سال تک بھانجے سے جی بھر کے چدائی کی پھر بھانجا گاؤں چلا گیا بھانجے کے جانے کے بعد کچھ دن مجھ سے برداش نہ ھوا میں نے پھر سے خود سے سیکس کیا مگر مزہ بلکل نہ آیا میں بہت گرم ھو گئی پھر میں نے بڑی بہن کو بتایا کے میں کچھ مہینوں کیلئے آجاؤں بہن نے کہا آجاؤں پھر بھانجے سے بات ھوئی بھانجے نے کہا خالہ جلدی سے آجاؤ پھر میں گاؤں آئی سب سے ملی پھر رات کو سونے کیلئے میں اپنے روم میں آئی اور کچھ دیر بعد بھانجا نے پیچھے سے مجھے پکڑ لیا مجھے پیار کرنے لگا میں بھانجے کو پیار کرتی دو پڑی بھانجے نے پوچھا تو میں نے کہا تمہارے لیئے تم مجھ سے دور ھو گئے پھر بھانجے نے کہا آپ کچھ کرو میں آپ کے ساتھ چلنا چاہتا ھوں پھر میں خوش ھو گئی اور بھانجے کو جی بھر کے پیار میں خوش کیا پھر صبح ھوتے ھیں بھانجا اپنے روم میں چلا گیا مجھے نیند آگئی پھر کچھ دن بھانجے سے چدائی کرتی رھی پھر کچھ دن بعد میں نے بہن کو بھانجے کا کہا مجھے دے دو میں اسے بزنس کرے میں کسی طرح بھانجے کو ساتھ رکھنا چاہتی تھی مگر بہن نہیں مانی پھر کچھ دن بعد بہن نے کہا تم بھانجے پر اتنی مہرباں کیوں ھو میں بولی میرا بھانجا ھے بس بہن بولی بس کر تم بھانجے کو پسند کرتی ھو میں ہڑبڑائی بہن نے کہا گھبراؤں نہیں اس رات تم دونوں مست تھے میں نے کہا جیسے بھی ھوا اب مجھے دے بہن نے کہا جب سے وہ یہاں آیا تھا مرجھایا ھوا تھا تیرے آنے سے پھر کھل اٹھا ھے میں بولی میں سب کچھ تو دوں گی کسی لڑکی سے بولے گا شادی بھی کراؤں گی میری آنکھوں سے آنسو بہے رھے تھے میری بہن نے میرے آنسو صاف کرتی مجھے گلے لگا کر بولی تو رو نہ لےجانا مجھ سے زیادہ خیال رکھنا میں بولی کے زندگی بھر شکایت کا موقعہ نہیں دوں گی پھر بہن بولی رات کو کرنا تو لاک لگا لینا وہ تو کوئی نہیں ھے یہاں تو سب ہیں میری جگہ اور کوئی آتا تو بدنامی ھو جاتی بہن نے کہا تم کل ھی چلے جاؤ پھر رات کو بھانجا آیا اور لاک لگا کر بھانجے کو بتائی بھانجا اٹھارہ سال کا تھا میں بولی چل کے تیرا سالگرہ کروں گی پھر ھم واپس آئے اور سالگرہ کی تو میں بھانجے کے لن کو کیک سے پر دیا پھر ٹاتی رھی بھانجے نے میری چوت پر کیک لگا کر چاٹتا کھاتا رہا بھانجے کی صحت کا بھی خیال رکھتی تھی اور ھم کہیں ھوتے تو لوگ مجھے بھانجے کی بڑی بہن سمجھتے جب سے بھانجے کا لن ملا تو مجھے جوان کر دیا اب بھانجا میرے ساتھ رہتا ھے ۔

No comments:

Post a Comment