Tuesday, August 26, 2025

میری ٹوٹی ٹوٹ گئی

 ایک دن ایسا ھوا کے میں نہانے گئی اپنے کپڑے اتار کر ننگی ھو گئی جیسے ھی میں نے ٹپ کو پانی سے بھرنے کیلئے ٹوٹی کھولی تو ٹوٹی ٹوٹ گئی میں نے بہت کوشش کی ٹوٹی لگانے کی مگر نہ لگی اور میں ساری بھیگ گئی میری لال رنگ کی پتلی نیٹی بھی بھیگ گئی میں بھیگی نیٹی پہن کر اپنے نوکر کو آواز دی نوکر نے واشروم سے باہر کہا جی بیبی جی میں بولی اندر آؤ ٹوٹی ٹوٹ گئی ھے نوکر جب اندر آیا تو بنین اور پتلی شلوار پہنی ھوئی تھی میں اور نیٹی بھیگ جانے سے میرا جسم صاف نظر آرہا تھا پھر نوکر ٹوٹی لگانے لگا نوکر بھی بھگ گیا تو نوکر کی شلوار سے لن نظر آیا جو لن سویا ھوا بھی لمبا موٹا لگ رہا تھا میں بھی نوکر کے ساتھ ٹوٹی لگانے لگی اور ھم بھیگ رھے تھے نوکر اور میرا جسم ایک دوسرے سے چپک رہا تھا نوکر میرے جسم کو بھی دیکھ لیتا میری نظر نوکر کے لن پر بھی پڑ جاتی پھر دیکھتے ھی دیکھتے نوکر کا لن کھڑا ھو گیا میں اتنا موٹا لن دیکھ کے گرم ھو گئی اور نوکر کے لن اگنور کیئے ہاتھ لگا لیتی نوکر کا لن میرے جسم سے بھی ٹکرا جاتا میں بہت گرم ھو گئی جیسے کیسے نوکر نے پانی بند کر دیا میں نوکر کا لن دیکھ من کر تھا کے نوکر پر چڑھ جاؤں نوکر نے کہا بیبی جی نل دوسرا لینا ھوگا اس کی چوڑی ٹوٹ گئی ہیں میں نے نوکر سے کہا بعد میں دیکھیں گے اور میں نے نوکر کا لن پکڑ لیا اور نوکر سے چپک گئی نوکر نے مجھے باھوں میں بھر چومنے لگا اور میری نیٹی اتار کر مجھے میرے مموں کو دبانے چومنے چوسنے لگا میں نے نوکر بنین اتار کر نوکر کی شلوار کا ناڑا کھولا تو شلوار نیچے گر گئی میں نوکر کا لن چوسنے لگی پھر کھڑی ھو کر کہا بیڈ پر چلو ھم دونوں ننگے تھے میں بہت گرم تھی نوکر مجھے اٹھا کر چومتا بیڈ پر لیٹا کر میری رس بھری گرم چوت کو چاٹنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا پھر نوکر نے اپنا لمبا موٹا لن میری چوت میں ڈال کر بیدری سے چودنے لگا مجھے پاگل کر دیا نوکر نے میں نوکر کو چوم رھی تھی نوکر بس چدائی کیئے جارہا تھا میں دو بار فارغ ھو گئی لیکن نوکر نے چوت سے لن نہیں نکالا مجھے بہت مزے دے رہا تھا پھر میری رس بھری چوت نے رس نکال دیا نوکر کے لن نے میری چوت میں پانی نکال دیا نوکر میرے اوپر گر گیا میں نوکر کو چوم رھی تھی پھر ھم اٹھے میں نے نوکر کو ٹوٹی لانے کو کہا نوکر ٹوٹی لینے چلا گیا نوکر ٹوٹی لےکر آیا تو میں پھر گرم ھو گئی اور چدائی کی میں نے ہر اسٹائل سے چدائی کی پھر ٹوٹی لگا دی 

No comments:

Post a Comment