Tuesday, August 26, 2025

میری چوت میں بجھی آگ بھڑک اٹھی

 ھیلو دوستو میری بیٹی جب آٹھ سال کی تھی تو میرا شوہر گزر گیا میں اپنی بیٹی کے مستقبل کیلئے بہت محنت کرنے لگی آور ایک آفس میں کام کرتی تھی میں بیٹی کو پڑھانے کیلئے لنڈن بھیج دیا اور زندگی کے سفر میں اکیلی ھو گئی لیکن بیٹی کی وجہ سے میں بہت خوش تھی میری بیٹی ھی میری سب کچھ تھی بیٹی چودا سال کی ھونے والی تھی جس آفس میں جاب کرتی تھی اس آفس میں ایک لڑکا امر کرتا تھا جو مجھے آنٹی جی کہتا تھا امر بہت سمارٹ تھا مجھے بھی اچھا لگتا تھا اور امر سے میری دوستی ھو گئی اور ھم آپس میں ایک اچھے دوست بن گئے تھے امر کبھی کبھی میری بہت تعریف کرتا تھا میں نے اپنی بارے میں امر کو سب کچھ بتا دیا تھا امر نے بوئے فرینڈ کا پوچھا تو میں نے کہا کوئی نہیں ھے امر کے ساتھ تھیٹر میں فلمیں دیکھتی تھی آفس میں ھم ساتھ میں کھانا کھاتے اور امر مجھے چھونے بھی لگا میں بھی امر کو چھونے لگی امر ایک دن میری بڈے مجھے سرپرائز کی جو بہت مزے کی تھی اسی دوران امر نے مجھے سیکس کی فرمائش کی یہ بھی کہا کے میں ہمیشہ تمہارا خیال رکھوں گا مجھے کچھ بولنے کے الفاظ نہیں مل رھے تھے امر نے کہا یہ صرف ھم دونوں کے بیچ میں رھے گا ویسے بھی ھم دوست ہیں اور ایک دوسرے کی پسند کا پورا خیال رکھتے ہیں امر پر مجھے غصہ تو نہیں آیا تھا لیکن امر کی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا میں چپ رھی اور گھر آگئی اور صرف امر کی باتیں میرے ذہن میں گردش کر رھی تھی پھر آفس آئی تو امر ملا اور دوست کی طرح مجھے ہنسانے لگا میں نروس بہت تھی اور کوئی فیصلہ نہیں کر پا رھی تھی اور اتنے سالوں سوئے ارمان بھی جاگ رھے تھے اب مجھے امر پہلے سے کچھ زیادہ چھونے لگا تھا اور امر کو میں منع نہیں کر سکتی امر کے ہاتھوں جب میرے جسم کو چھوتے تو میرے اندر کرنٹ دوڑنے لگتا کچھ دن بعد ھم فلم دیکھنے گئے تو فلم دیکھتے امر نے میری گال کو چوم لیا میں امر کو دیکھنے لگی امر مسکرانے لگا پتا نہیں امر پہلے سے زیادہ اب مجھے بہت پیارا لگتا ایک دن آفس میں ھم کھانا کھا رھے تھے تو امر نے کہا آنٹی آپ نے جواب نہیں دیا اور میرے ھونٹ کو چمہ کیا میں ہسنے لگی امر نے میری ہنسی کی تعریف کی ایک رات کو امر نے فون کیا کہا یار بھوک بہت لگی ھے کچھ پکایا ھے میں نے کہا تم نے کھانا نہیں کھایا کیا کہا ہاں یار میں بولی اچھا پھر آجاو کھانا کھلاتی ھوں پھر میں تیار ھونے لگی چوت بھی گرم ھو رھی تھی چوت پر ہاتھ رکھ کر کہا تجھے کیا ھو رھا ھے پھر سوچی میں امر کیلئے تیار کیوں ھو رھی ھوں میں اکیلی رہتی تھی امر کو بھی پتا تھا آج کھانا کھانے آرہا ھے من میں خیال آیا کے امر جو کرتا جائے تم روکوں گی نہیں پھر امر آیا مجھے دیکھ کر گلے لگا کر چوم کر میری تعریف کی پہلے امر کو بیٹھا کر کھانا دیا امر کھانا کھانے کے بعد کہا یار مجھے تم بہت پیاری لگتی ھو اور مجھے چومنے لگا اور میرے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا اور چوسنے لگا میرے مموں کو دبانے لگا میں نے کہا امر مجھے جی بھر کے پیار کرو کبھی نہیں چھوڑنا امر نے کہا کبھی نہیں چھوڑو گا آنٹی اور ھم بیڈ پر لیٹ کر چومنے لگے مجھے بہت مزہ آرہا تھا امر کے ساتھ امر ھی وہ شخص تھا جس نے شوہر کے بعد سیکس کیا کبھی امر پر میں اوپر ھوتی کبھی امر میرے اوپر ھوتا ھم مستی میں ایک دوسرے کو چوم چوس رھے تھے امر نے میرے بڑے مموں کو باہر نکال کر چوسنے لگا تعریف کرتا میں تو فل مستی میں تھی سالوں سے پیاسی تھی امر نے مجھے ننگا کر کے چومنے لگا مموں کو دباتا چوستا میں امر کو مستی میں چوس رھی تھی پھر میں امر کو لیٹا کر امر کے اوپر آگئی امر میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں امر کے لن پر چوت رگڑنے لگی اور امر کی ہینڈ اتار کر چڈی سے لن نکالا دیکھ کر میں بولی اتنا بڑا اور موٹا امر نے کہا تمہارا ھے میں لن کو چومنے لگی لن کو منہ لے کر چوپہ لگایا امر کی سی نکلی پھر میں لن چوسنے میں مست ھو گئی پھر میں لیٹ کر ٹانگیں کھول کر امر کو اپنی چوت دیکھائی میں نے کہا سالوں سے پیاسی ھے اب تیرے حوالے ھے امر نے میری چوت کو اتنا چاٹا کے مت پوچھو کے بس میری چوت نے پانی نکال دیا پھر میں چاٹتا رہا اور چوت کا پانی ختم ھوا تو میرے اوپر آیا کہا اب دونوں بچو کو ملانے کا وقت ھے میں نے مستی میں امر کو پکڑ کر مموں سے لگایا پھر امر میری چوت میں لن ڈالنے لگا اور آخر پورا لن چوت میں چلا گیا پھر امر نے زبردست چدائی بہت دیر بعد امر کو میں نیچے کرکے میں لن کی سواری کرنے لگی پوری رات تک امر اور میں ننگے چدائی کرتے رھے پھر میں نے امر کو میرے ساتھ رہنے رہنے کا بولی امر مان گیا پھر جب ھم گھر میں ھوتے تو بس چدائی بہت کرتے ساتھ سوتے تھے کھاتے پیتے تھے امر سے مجھے محبت ھو گئی امر نے شروع میں سیکس کی دعوت دی تھی شادی کی نہیں کیونکہ امر کو پہلے بتا چکی تھی کے شادی نہیں کروں گی میری بیٹی ھے بس شوہر مر چکا ھے میں بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی میں بار بار پریگنٹ ھونے لگی لیکن امر سے بہت چدائی کرتی تھی امر اب میری جان تھا اور امر بھی مجھے بہت چاہتا تھا اور جی بھر کے چدائی کرتا جب کبھی بیٹی کا فون آتا تو ھم چدائی میں مست ھوتے میری سانسیں تیز ھوتی امر جھٹکوں سے چدائی کر رہا ھوتا تو میری آ او آآ نکل جاتی بیٹی طبیت پوچھتی میں کہتی ورزش کر رھی ھوں تب امر مجھے پاگل کر دیتا تھا پھر ایک دن ایسا ھوا کے میری بیٹی پڑھ کر واپس آنے والی تھی اور میں نے امر کو بتایا کے تم میری جان ھو تم کو دور نہیں کر سکتی بیٹی کو کچھ ایسا بتاؤ تمہارا کے اسے شک نہ ھوں کے ھم چدائی کرتے ہیں میں امر کا لن چوت میں لیئے امر کے اوپر لیٹی بول رھی امر نیچے سے چدائی کر رہا تھا مجھے چوم کر کہا میری جان بات کو لے کر پریشان ھے تم بول دینا کے میں تمہاری فرینڈ کا بیٹا ھوں کچھ مہنو میں چلا جائے گا کہنا کل آیا ھے میں نے امر کو چوم کر اپنی گانڈ کو ہلانے لگی میں بولی ہاں سہی ھے میں گانڈ کو اوپر نیچے تیز تیز کرنے کچھ ھی دیر میں ھم دونوں فارغ ھو گئے امر سے کہا بیٹی کے سامنے مجھے پکڑنا نہیں جب میں تمہاری باھوں میں ھوں تب مرضی امر کو سب بتا دیا کے چدائی ھم رات میں کیا کریں گے پھر بیٹی آئی تو امر کو ساتھ لےگئی بیٹی کو بتایا کے امر میری فرینڈ کا بیٹا ھے پھر رات کو بیٹی سونے چلی گئی میں امر کے پاس آئی کچھ دیر زبردست رومانس کیا پھر میں بیٹی کو دیکھنے آئی بیٹی سوئی ھوئی تھی پھر میں امر کے روم میں میں آئی ننگی ھو کر چڑھ گئی امر بھی ننگا ھوکر شروع ھو گیا امر نے کہا آج دو بار کروں گا میں نے کہا کر لینا پھر دو بار امر فارگ ھوا تو گانڈ میں لن ڈالنے کو کہا میں نے کہا پھر کسی دن پھر میں اپنے روم میں سو گئی کچھ دن بیٹی سو جاتی تو میں امر کو اپنے روم میں چلا لیتی امر سے رومانس کرتی بیٹی کو بھی چیک کرتی ہے کافی تو نہیں امر میری گانڈ میں لن ڈالتا رہتا مجھے درد ھوتا تو نکال کر اپنی چوت میں ڈال دیتی ایک رات امر نے پورا لن میری گانڈ میں ڈال دیا مجھے بہت درد ھوا امر کیلئے براش کیا دو دن میں میری گانڈ کی بہت چدائی کی لیکن میری چوت میں زیادہ آگ لگ گئی رات میں بہت گرم تھی رات کا سوچی کے چوت سے نکالنے نہیں دوں گی اور اسی رات بیٹی کا اے سی خراب ھو گیا میرے روم میں ساتھ سو گئی میں بہت گرم تھی کچھ دیر بعد باہر جاتی امر کے روم میں آکر امر سے رومانس کرتی پھر بیٹی کچھ دیر لیٹ کر مجھ باتیں کرنے لگی میں بھی باتیں کرنے لگی بیٹی پھر رات کے دو بجے بیٹی سو گئی تو میں امر سے رومانس کیا میں بیٹی دیکھنے کا بول کر آئی بیٹی سو رھی تھی امر میری چوت کا پانی نکالتا رہا میری گانڈ بھی چودتا رہا امر کیتا تم کو جتنا چودتا ھوں دل نہیں بھرتا میں بولتی میرا بھی میں نے کہا تمہاری جب شادی ھوئی تو تم مجھے چھوڑ دو گے امر نے کہا پھر تم اپنی بیٹی سے شادی کرا دو تم دونوں کو خوش رکھوں گا ہمیشہ ساتھ رہینگے یہ سن کر میری بولتی بند کر دی میں اس کا جواب کیا دو غصہ بھی مجھے نہیں ھے اگر امر کے گھر والے آمر کی شادی کرا دینگے تو امر مجھ سے الگ ھو جائے گا اگر بیٹی سے شادی کرا دوں تو امر ہمیشہ ہمارا ھو جائے گا بات تو یہ تھی کے بیٹی کو بھی پسند ھو یا کسی اور کو پسند کرتی ھو میں بہت سوچنے لگی پھر ایک بار بیٹی سے پوچھی کے تم کس کو پسند کرتی ھو بیٹی نے بولی مما یہ کیا آپ جس سے بولو گی کر لوں گی ایک رات امر چدائی کرتے کہا مان جاؤ میں بولی کیا مان جاؤ کہا بیٹی سے میری شادی کرا دو میں تم کو کھونا نہیں چاہتا میں بولی کر تو دوں یہ بات بیٹی کو پتا چلی تو کیا سوچے گی امر بہت تیز تیز چدائی کرتا ھوا مجھے مست کیا ھوا تھا میں امر کے لن کے بنا نہیں رھے سکتی تھی سوچی بیٹی سے بات کر لوں ایک رات بیٹی جلدی سو گئی میں جاکر امر سے رومانس کرنے لگی پھر امر نے چدائی کرکے تھکا دیا مگر مزہ بہت آیا میں آکر بیٹی کو باھوں میں بھر لیٹ گئی مجھے نیند آگئی پھر میری آنکھ کھلی تو بیٹی نہیں تھی روم سے باہر آئی کچن میں دیکھی نہیں تھی تو امر کے روم کی طرف بڑھنے لگی تو بیٹی بول رھی تھی اگر مما ہماری شادی کیلئے مان گئی تو مما اور میں تم پر ایک ساتھ کیا کرینگی امر نے کہا میں تم دونوں کو پانی پانی کرتا رھوں گا بیٹی کی یہ بات سن کر میں بہت خوش ھوئی پھر میں اندر آئی بیٹی امر کے اوپر لن لیئے چدائی کر رھی تھی اور دونوں نگے تھے میں بیٹی کے سامنے آئی بیٹی مما کہے کر اٹھنے لگی میں نے لن لیئے بیٹھنے کو کہا اور بیٹی کا سر پکڑ کر اپنا منہ بیٹی کے منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگی میں بیٹی کے مموں کو دبانے لگی بیٹی نے میری نیٹی اتار کر میرے بڑے مموں کو دبانے لگی نیچے سے امر بیٹی کی چدائی کر رہا تھا میں بیٹی کو بہت چومنے دبانے لگی امر پیچھے سے میرے ھیپ دباتے میری چوت میں انگلی کرنے لگا گانڈ میں بھی انگلی کرنے لگا پھر کچھ ھی دیر میں بیٹی اور امر فارغ ھو گئے بیٹی ننگی اپنے روم میں چلی گئی امر نے کچھ دیر پیار کیا مجھے پھر میں امر کو سونے کا بول کر بیٹی کے روم میں آئی بیٹی ننگی لیٹی تھی میں نیٹی اتار کر ننگی ھوکر بیٹی کو باھوں میں بھر کر چومنے لگی بیٹی سے کہا امر تمہیں پسند ھے بیٹی نے کہا ہاں پہلے بھی میں دو لڑکوں سے کر چکی ھوں لیکن امر بہت مزے کا ھے جب امر کو مجھ سے ملوایا تو تب سے امر مجھے پسند آگیا تھا میں بیٹی کو چومتی ھوئی بیٹی کے اوپر آکر چومتی کہا ایک بار میں امر پر چڑھ گئی تھی اور چدائی کی پھر جب میرا اےسی خراب ھوا تھا اس رات میں نے امر کے ساتھ آپ کو چدائی کرتی دیکھی تھی امر سے بات کی تو امر آپ سے پیار کرتا ھے مگر امر شادی کرنا چاہتا ھے اور شادی کرنا نہیں چاہتی تو میں اگر امر سے شادی کرلوں تو ھم تینوں ساتھ رہینگی زندگی بھر میں بیٹی کی چوت چاٹنے لگی بیٹی بھی مستی میں تھی بیٹی میری چوت اپنے منہ پر کرکے چاٹنے لگی چوت پر چوت رگڑی ھم ممابیٹی بہت مزے میں تھی کے کچھ دیر بعد امر آگیا اور ھم دونوں کو چودنے لگا فارغ ھوکر ھم ساتھ میں بیٹی کے روم میں سو گئے پھر بیٹی کی امر سے شادی کرا دی بیٹی نے مجھے دلہن بنا دیا اور بیٹی کی گانڈ کی سوہاگ رات ھوئی اور امر ھم کو پانی پانی کرتا رہا پھر ھم سو گئی اب میں بہت خوش ھوں امر ہمارے ساتھ ھے بیٹی میری شادی کرانا چاہتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ایسا ھواکے

No comments:

Post a Comment