ھیلو دوستو میری بیٹی جب آٹھ سال کی تھی تو میرا شوہر گزر گیا میں اپنی بیٹی کے مستقبل کیلئے بہت محنت کرنے لگی آور ایک آفس میں کام کرتی تھی میں بیٹی کو پڑھانے کیلئے لنڈن بھیج دیا اور زندگی کے سفر میں اکیلی ھو گئی لیکن بیٹی کی وجہ سے میں بہت خوش تھی میری بیٹی ھی میری سب کچھ تھی بیٹی چودا سال کی ھونے والی تھی جس آفس میں جاب کرتی تھی اس آفس میں ایک لڑکا امر کرتا تھا جو مجھے آنٹی جی کہتا تھا امر بہت سمارٹ تھا مجھے بھی اچھا لگتا تھا اور امر سے میری دوستی ھو گئی اور ھم آپس میں ایک اچھے دوست بن گئے تھے امر کبھی کبھی میری بہت تعریف کرتا تھا میں نے اپنی بارے میں امر کو سب کچھ بتا دیا تھا امر نے بوئے فرینڈ کا پوچھا تو میں نے کہا کوئی نہیں ھے امر کے ساتھ تھیٹر میں فلمیں دیکھتی تھی آفس میں ھم ساتھ میں کھانا کھاتے اور امر مجھے چھونے بھی لگا میں بھی امر کو چھونے لگی امر ایک دن میری بڈے مجھے سرپرائز کی جو بہت مزے کی تھی اسی دوران امر نے مجھے سیکس کی فرمائش کی یہ بھی کہا کے میں ہمیشہ تمہارا خیال رکھوں گا مجھے کچھ بولنے کے الفاظ نہیں مل رھے تھے امر نے کہا یہ صرف ھم دونوں کے بیچ میں رھے گا ویسے بھی ھم دوست ہیں اور ایک دوسرے کی پسند کا پورا خیال رکھتے ہیں امر پر مجھے غصہ تو نہیں آیا تھا لیکن امر کی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا میں چپ رھی اور گھر آگئی اور صرف امر کی باتیں میرے ذہن میں گردش کر رھی تھی پھر آفس آئی تو امر ملا اور دوست کی طرح مجھے ہنسانے لگا میں نروس بہت تھی اور کوئی فیصلہ نہیں کر پا رھی تھی اور اتنے سالوں سوئے ارمان بھی جاگ رھے تھے اب مجھے امر پہلے سے کچھ زیادہ چھونے لگا تھا اور امر کو میں منع نہیں کر سکتی امر کے ہاتھوں جب میرے جسم کو چھوتے تو میرے اندر کرنٹ دوڑنے لگتا کچھ دن بعد ھم فلم دیکھنے گئے تو فلم دیکھتے امر نے میری گال کو چوم لیا میں امر کو دیکھنے لگی امر مسکرانے لگا پتا نہیں امر پہلے سے زیادہ اب مجھے بہت پیارا لگتا ایک دن آفس میں ھم کھانا کھا رھے تھے تو امر نے کہا آنٹی آپ نے جواب نہیں دیا اور میرے ھونٹ کو چمہ کیا میں ہسنے لگی امر نے میری ہنسی کی تعریف کی ایک رات کو امر نے فون کیا کہا یار بھوک بہت لگی ھے کچھ پکایا ھے میں نے کہا تم نے کھانا نہیں کھایا کیا کہا ہاں یار میں بولی اچھا پھر آجاو کھانا کھلاتی ھوں پھر میں تیار ھونے لگی چوت بھی گرم ھو رھی تھی چوت پر ہاتھ رکھ کر کہا تجھے کیا ھو رھا ھے پھر سوچی میں امر کیلئے تیار کیوں ھو رھی ھوں میں اکیلی رہتی تھی امر کو بھی پتا تھا آج کھانا کھانے آرہا ھے من میں خیال آیا کے امر جو کرتا جائے تم روکوں گی نہیں پھر امر آیا مجھے دیکھ کر گلے لگا کر چوم کر میری تعریف کی پہلے امر کو بیٹھا کر کھانا دیا امر کھانا کھانے کے بعد کہا یار مجھے تم بہت پیاری لگتی ھو اور مجھے چومنے لگا اور میرے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا اور چوسنے لگا میرے مموں کو دبانے لگا میں نے کہا امر مجھے جی بھر کے پیار کرو کبھی نہیں چھوڑنا امر نے کہا کبھی نہیں چھوڑو گا آنٹی اور ھم بیڈ پر لیٹ کر چومنے لگے مجھے بہت مزہ آرہا تھا امر کے ساتھ امر ھی وہ شخص تھا جس نے شوہر کے بعد سیکس کیا کبھی امر پر میں اوپر ھوتی کبھی امر میرے اوپر ھوتا ھم مستی میں ایک دوسرے کو چوم چوس رھے تھے امر نے میرے بڑے مموں کو باہر نکال کر چوسنے لگا تعریف کرتا میں تو فل مستی میں تھی سالوں سے پیاسی تھی امر نے مجھے ننگا کر کے چومنے لگا مموں کو دباتا چوستا میں امر کو مستی میں چوس رھی تھی پھر میں امر کو لیٹا کر امر کے اوپر آگئی امر میرے بڑے مموں کو دبانے چوسنے لگا میں امر کے لن پر چوت رگڑنے لگی اور امر کی ہینڈ اتار کر چڈی سے لن نکالا دیکھ کر میں بولی اتنا بڑا اور موٹا امر نے کہا تمہارا ھے میں لن کو چومنے لگی لن کو منہ لے کر چوپہ لگایا امر کی سی نکلی پھر میں لن چوسنے میں مست ھو گئی پھر میں لیٹ کر ٹانگیں کھول کر امر کو اپنی چوت دیکھائی میں نے کہا سالوں سے پیاسی ھے اب تیرے حوالے ھے امر نے میری چوت کو اتنا چاٹا کے مت پوچھو کے بس میری چوت نے پانی نکال دیا پھر میں چاٹتا رہا اور چوت کا پانی ختم ھوا تو میرے اوپر آیا کہا اب دونوں بچو کو ملانے کا وقت ھے میں نے مستی میں امر کو پکڑ کر مموں سے لگایا پھر امر میری چوت میں لن ڈالنے لگا اور آخر پورا لن چوت میں چلا گیا پھر امر نے زبردست چدائی بہت دیر بعد امر کو میں نیچے کرکے میں لن کی سواری کرنے لگی پوری رات تک امر اور میں ننگے چدائی کرتے رھے پھر میں نے امر کو میرے ساتھ رہنے رہنے کا بولی امر مان گیا پھر جب ھم گھر میں ھوتے تو بس چدائی بہت کرتے ساتھ سوتے تھے کھاتے پیتے تھے امر سے مجھے محبت ھو گئی امر نے شروع میں سیکس کی دعوت دی تھی شادی کی نہیں کیونکہ امر کو پہلے بتا چکی تھی کے شادی نہیں کروں گی میری بیٹی ھے بس شوہر مر چکا ھے میں بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی میں بار بار پریگنٹ ھونے لگی لیکن امر سے بہت چدائی کرتی تھی امر اب میری جان تھا اور امر بھی مجھے بہت چاہتا تھا اور جی بھر کے چدائی کرتا جب کبھی بیٹی کا فون آتا تو ھم چدائی میں مست ھوتے میری سانسیں تیز ھوتی امر جھٹکوں سے چدائی کر رہا ھوتا تو میری آ او آآ نکل جاتی بیٹی طبیت پوچھتی میں کہتی ورزش کر رھی ھوں تب امر مجھے پاگل کر دیتا تھا پھر ایک دن ایسا ھوا کے میری بیٹی پڑھ کر واپس آنے والی تھی اور میں نے امر کو بتایا کے تم میری جان ھو تم کو دور نہیں کر سکتی بیٹی کو کچھ ایسا بتاؤ تمہارا کے اسے شک نہ ھوں کے ھم چدائی کرتے ہیں میں امر کا لن چوت میں لیئے امر کے اوپر لیٹی بول رھی امر نیچے سے چدائی کر رہا تھا مجھے چوم کر کہا میری جان بات کو لے کر پریشان ھے تم بول دینا کے میں تمہاری فرینڈ کا بیٹا ھوں کچھ مہنو میں چلا جائے گا کہنا کل آیا ھے میں نے امر کو چوم کر اپنی گانڈ کو ہلانے لگی میں بولی ہاں سہی ھے میں گانڈ کو اوپر نیچے تیز تیز کرنے کچھ ھی دیر میں ھم دونوں فارغ ھو گئے امر سے کہا بیٹی کے سامنے مجھے پکڑنا نہیں جب میں تمہاری باھوں میں ھوں تب مرضی امر کو سب بتا دیا کے چدائی ھم رات میں کیا کریں گے پھر بیٹی آئی تو امر کو ساتھ لےگئی بیٹی کو بتایا کے امر میری فرینڈ کا بیٹا ھے پھر رات کو بیٹی سونے چلی گئی میں امر کے پاس آئی کچھ دیر زبردست رومانس کیا پھر میں بیٹی کو دیکھنے آئی بیٹی سوئی ھوئی تھی پھر میں امر کے روم میں میں آئی ننگی ھو کر چڑھ گئی امر بھی ننگا ھوکر شروع ھو گیا امر نے کہا آج دو بار کروں گا میں نے کہا کر لینا پھر دو بار امر فارگ ھوا تو گانڈ میں لن ڈالنے کو کہا میں نے کہا پھر کسی دن پھر میں اپنے روم میں سو گئی کچھ دن بیٹی سو جاتی تو میں امر کو اپنے روم میں چلا لیتی امر سے رومانس کرتی بیٹی کو بھی چیک کرتی ہے کافی تو نہیں امر میری گانڈ میں لن ڈالتا رہتا مجھے درد ھوتا تو نکال کر اپنی چوت میں ڈال دیتی ایک رات امر نے پورا لن میری گانڈ میں ڈال دیا مجھے بہت درد ھوا امر کیلئے براش کیا دو دن میں میری گانڈ کی بہت چدائی کی لیکن میری چوت میں زیادہ آگ لگ گئی رات میں بہت گرم تھی رات کا سوچی کے چوت سے نکالنے نہیں دوں گی اور اسی رات بیٹی کا اے سی خراب ھو گیا میرے روم میں ساتھ سو گئی میں بہت گرم تھی کچھ دیر بعد باہر جاتی امر کے روم میں آکر امر سے رومانس کرتی پھر بیٹی کچھ دیر لیٹ کر مجھ باتیں کرنے لگی میں بھی باتیں کرنے لگی بیٹی پھر رات کے دو بجے بیٹی سو گئی تو میں امر سے رومانس کیا میں بیٹی دیکھنے کا بول کر آئی بیٹی سو رھی تھی امر میری چوت کا پانی نکالتا رہا میری گانڈ بھی چودتا رہا امر کیتا تم کو جتنا چودتا ھوں دل نہیں بھرتا میں بولتی میرا بھی میں نے کہا تمہاری جب شادی ھوئی تو تم مجھے چھوڑ دو گے امر نے کہا پھر تم اپنی بیٹی سے شادی کرا دو تم دونوں کو خوش رکھوں گا ہمیشہ ساتھ رہینگے یہ سن کر میری بولتی بند کر دی میں اس کا جواب کیا دو غصہ بھی مجھے نہیں ھے اگر امر کے گھر والے آمر کی شادی کرا دینگے تو امر مجھ سے الگ ھو جائے گا اگر بیٹی سے شادی کرا دوں تو امر ہمیشہ ہمارا ھو جائے گا بات تو یہ تھی کے بیٹی کو بھی پسند ھو یا کسی اور کو پسند کرتی ھو میں بہت سوچنے لگی پھر ایک بار بیٹی سے پوچھی کے تم کس کو پسند کرتی ھو بیٹی نے بولی مما یہ کیا آپ جس سے بولو گی کر لوں گی ایک رات امر چدائی کرتے کہا مان جاؤ میں بولی کیا مان جاؤ کہا بیٹی سے میری شادی کرا دو میں تم کو کھونا نہیں چاہتا میں بولی کر تو دوں یہ بات بیٹی کو پتا چلی تو کیا سوچے گی امر بہت تیز تیز چدائی کرتا ھوا مجھے مست کیا ھوا تھا میں امر کے لن کے بنا نہیں رھے سکتی تھی سوچی بیٹی سے بات کر لوں ایک رات بیٹی جلدی سو گئی میں جاکر امر سے رومانس کرنے لگی پھر امر نے چدائی کرکے تھکا دیا مگر مزہ بہت آیا میں آکر بیٹی کو باھوں میں بھر لیٹ گئی مجھے نیند آگئی پھر میری آنکھ کھلی تو بیٹی نہیں تھی روم سے باہر آئی کچن میں دیکھی نہیں تھی تو امر کے روم کی طرف بڑھنے لگی تو بیٹی بول رھی تھی اگر مما ہماری شادی کیلئے مان گئی تو مما اور میں تم پر ایک ساتھ کیا کرینگی امر نے کہا میں تم دونوں کو پانی پانی کرتا رھوں گا بیٹی کی یہ بات سن کر میں بہت خوش ھوئی پھر میں اندر آئی بیٹی امر کے اوپر لن لیئے چدائی کر رھی تھی اور دونوں نگے تھے میں بیٹی کے سامنے آئی بیٹی مما کہے کر اٹھنے لگی میں نے لن لیئے بیٹھنے کو کہا اور بیٹی کا سر پکڑ کر اپنا منہ بیٹی کے منہ دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگی میں بیٹی کے مموں کو دبانے لگی بیٹی نے میری نیٹی اتار کر میرے بڑے مموں کو دبانے لگی نیچے سے امر بیٹی کی چدائی کر رہا تھا میں بیٹی کو بہت چومنے دبانے لگی امر پیچھے سے میرے ھیپ دباتے میری چوت میں انگلی کرنے لگا گانڈ میں بھی انگلی کرنے لگا پھر کچھ ھی دیر میں بیٹی اور امر فارغ ھو گئے بیٹی ننگی اپنے روم میں چلی گئی امر نے کچھ دیر پیار کیا مجھے پھر میں امر کو سونے کا بول کر بیٹی کے روم میں آئی بیٹی ننگی لیٹی تھی میں نیٹی اتار کر ننگی ھوکر بیٹی کو باھوں میں بھر کر چومنے لگی بیٹی سے کہا امر تمہیں پسند ھے بیٹی نے کہا ہاں پہلے بھی میں دو لڑکوں سے کر چکی ھوں لیکن امر بہت مزے کا ھے جب امر کو مجھ سے ملوایا تو تب سے امر مجھے پسند آگیا تھا میں بیٹی کو چومتی ھوئی بیٹی کے اوپر آکر چومتی کہا ایک بار میں امر پر چڑھ گئی تھی اور چدائی کی پھر جب میرا اےسی خراب ھوا تھا اس رات میں نے امر کے ساتھ آپ کو چدائی کرتی دیکھی تھی امر سے بات کی تو امر آپ سے پیار کرتا ھے مگر امر شادی کرنا چاہتا ھے اور شادی کرنا نہیں چاہتی تو میں اگر امر سے شادی کرلوں تو ھم تینوں ساتھ رہینگی زندگی بھر میں بیٹی کی چوت چاٹنے لگی بیٹی بھی مستی میں تھی بیٹی میری چوت اپنے منہ پر کرکے چاٹنے لگی چوت پر چوت رگڑی ھم ممابیٹی بہت مزے میں تھی کے کچھ دیر بعد امر آگیا اور ھم دونوں کو چودنے لگا فارغ ھوکر ھم ساتھ میں بیٹی کے روم میں سو گئے پھر بیٹی کی امر سے شادی کرا دی بیٹی نے مجھے دلہن بنا دیا اور بیٹی کی گانڈ کی سوہاگ رات ھوئی اور امر ھم کو پانی پانی کرتا رہا پھر ھم سو گئی اب میں بہت خوش ھوں امر ہمارے ساتھ ھے بیٹی میری شادی کرانا چاہتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ایسا ھواکے
No comments:
Post a Comment